
Ibret Seraye Deher! by Irfan Siddiqui
10 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook



Categories : Irfan Siddiqui, Urdu Columnists
PNC Lok Virsa by Riaz ur Rehman
10 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ثقافت کی ترویج کا اک ادارہ
فعال اتنا ”پی این سی اے“ ہے بیچارہ
کہ ”شاکر“ کا ہو ”برتھ ڈے“ میوزیم میں
تو ”ڈی جی“ کا ہو کیمرے میں نظارہ
کبھی شاعری صوفیاءکی جو گائیں
گھرانوں کے بس کچھ گلوکار آئیں
مگر اس سے پہلے ہو پتلی تماشا
ثقافت ہو جس میں بھری بے تحاشا
ضرورت ہے کیا گاوں گاوں میں جاکر
وہ پھیلائے رنگ ثقافت کو لاکر
ہو ”پی این سی اے“ کہ وہ ہو لوک ورثہ
کسی نے ثقافت کا جوہر نہ ڈھونڈا
ہے محدود شہروں تلک کیا ثقافت؟
جو دیہات میں ہے ثقافت کی جنت
کبھی اس کی تصویر شہروں میں لائے؟
کبھی ایسے فن کار یہ ڈھونڈ پائے
ہیں بھیڑوں کے ریوڑ جو پھرتے چراتے
غضب کی مگر بانسری ہیں بجاتے
گلوکار ”مہدی حسن“ ”ریشماں“ سے
کئی میلوں ٹھیلوں میں اکثر ہیں گاتے
توقع تھی ان سے انہیں ڈھونڈ لاتے
چھپے پتھروں میں ہیں ہیرے دکھاتے
یہ پسماندہ لوگوں کو آگے بڑھاتے
مگر ان اداروں کو جو ہیں چلاتے
سفارش سے حکم تقرر ہیں پاتے
”گرانٹوں“ کو مل جل کے کھاتے لٹاتے
نہ ان کا تعلق ثقافت سے کوئی
نہ جوہر کی ان کو ضرورت ہے کوئی
فروعی تقاریب پر ہے گزارہ
فعال اتنا ”پی این سی اے“ ہے بے چارہ
فعال اتنا ”پی این سی اے“ ہے بیچارہ
کہ ”شاکر“ کا ہو ”برتھ ڈے“ میوزیم میں
تو ”ڈی جی“ کا ہو کیمرے میں نظارہ
کبھی شاعری صوفیاءکی جو گائیں
گھرانوں کے بس کچھ گلوکار آئیں
مگر اس سے پہلے ہو پتلی تماشا
ثقافت ہو جس میں بھری بے تحاشا
ضرورت ہے کیا گاوں گاوں میں جاکر
وہ پھیلائے رنگ ثقافت کو لاکر
ہو ”پی این سی اے“ کہ وہ ہو لوک ورثہ
کسی نے ثقافت کا جوہر نہ ڈھونڈا
ہے محدود شہروں تلک کیا ثقافت؟
جو دیہات میں ہے ثقافت کی جنت
کبھی اس کی تصویر شہروں میں لائے؟
کبھی ایسے فن کار یہ ڈھونڈ پائے
ہیں بھیڑوں کے ریوڑ جو پھرتے چراتے
غضب کی مگر بانسری ہیں بجاتے
گلوکار ”مہدی حسن“ ”ریشماں“ سے
کئی میلوں ٹھیلوں میں اکثر ہیں گاتے
توقع تھی ان سے انہیں ڈھونڈ لاتے
چھپے پتھروں میں ہیں ہیرے دکھاتے
یہ پسماندہ لوگوں کو آگے بڑھاتے
مگر ان اداروں کو جو ہیں چلاتے
سفارش سے حکم تقرر ہیں پاتے
”گرانٹوں“ کو مل جل کے کھاتے لٹاتے
نہ ان کا تعلق ثقافت سے کوئی
نہ جوہر کی ان کو ضرورت ہے کوئی
فروعی تقاریب پر ہے گزارہ
فعال اتنا ”پی این سی اے“ ہے بے چارہ
Categories : Riaz ur Rehman, Urdu Columnists
Taliban, Talbanization Aur Pakistan by Saleem Saafi
9 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Saleem Saafi, Urdu Columnists
Nizam Bredraan Aur Pakistani… by Dr Ajmal Niazi
9 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
یوم حمید نظامی پر ایک یادگار اور شاندار تقریب ہوئی، مقررین نے حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کے ذکر کو شامل کیا، نظامی صاحبان صحافی برادری کے لئے اعتبار، وقار اور جرا¿ت اظہار کی ایک زندہ روایت کی طرح ہیں۔ ممتاز شاعرہ، ادیبہ، خطیبہ، کالم نگار، ایم این اے اور بُلبلِ پاکستان بشریٰ رحمان نے کہا کہ نظامی وہ ہے جو نظام بدلنے کی آرزو اور ارادہ سے لبریز ہو۔ آرزو ہی ارادہ بنتی ہے تو قدرت اس کی مددگار ہو جاتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کی یاد سے مجید نظامی نے دلوں کو آباد رکھا ہے۔ 23 مارچ 2010ءکو نوائے وقت کی اشاعت کو 70 برس ہو رہے ہیں جس میں سے پچاس مجید نظامی کے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے (آمین)۔ حمید نظامی نوائے وقت کے بانی ہیں، نوائے وقت کے دور ثانی کے بانی مجید نظامی ہیں۔ نصف صدی کی حکایت کو حقیقت بنانے میں وہ سرخرو اور سرشار ہوئے ہیں۔
جنرل حمید گل نے مجید نظامی کو حمید نظامی کا تسلسل قرار دیا۔ جنرل حمید گل کو ریٹائرڈ جنرل کہنے کو جی نہیں چاہتا۔ شاہد رشید انہیں ”غازی پاکستان“ کہتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت صرف دو آدمیوں سے ڈرتے ہیں مجاہد ملت مجید نظامی اور جنرل حمید گل سے مجید نظامی کہتے ہیں کہ حمید نظامی میرے بڑے بھائی تھے۔ حمید گل میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ دونوں صاحب سیف وقلم ہیں….
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
ج: سے جج، جرنیل اور جرنلسٹ تو سنا تھا، جنرل حمید گل نے کہا کہ ج سے جہاد، جمہوریت اور جوہری صلاحیت بنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوائے وقت ایٹم بم ہے۔ مجید نظامی نے کئی بار کہا کہ میں ایٹم بم بن کر بھارت پر گِرنا چاہتا ہوں۔ وہ پاکستان میں جہاد اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ چیلنجز سے نبٹنے کے لئے حمید نظامی کی سوچ کو اپنایا جائے۔ مجید نظامی نے حمید نظامی کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ جنرل حمید گل نے بہت خوب بات انگریزی کے محاورے کے حوالے سے کی کہ King is dead Long live king بادشاہ مر گیا اللہ بادشاہ کی زندگی دراز کرے۔ حمید نظامی چلے گئے، مجید نظامی موجود ہیں اللہ انہیں دیر تک ہمارے درمیان موجود رکھے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔ سی پی این ای کے صدر لیڈر صحافی خوشنود علی خان نے کہا کہ اللہ کرے ہر کسی کو مجید نظامی جیسا بھائی ملے۔ حمید نظامی کی نظریاتی وراثت کو برادرانہ وراثت کی مسیحائی اور عظمت مجید نظامی نے عطا کی۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے 14 سال بعد فوت ہو گئے انہوں نے خود مجید نظامی کو انگلستان سے بلایا اور خود سب کچھ ان کے حوالے کر دیا وہ 50 سال سے اس عظیم وراثت کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ذاتی اثاثے نہیں بنائے سب کچھ قوم کے لئے وقف کر دیا۔ قوم نوائے وقت کی وارث ہے اور وہ مجید نظامی کے ساتھ ہے۔ اللہ نے حمید نظامی کو جتنا موقع دیا۔ انہوں نے اس سے بڑھ کر کام کیا۔ مجید نظامی نے اس کام کو کارنامہ بنا دیا ہے صحافی برادری میں نظامی برادران، جرا¿ت اظہار اور صداقت اظہار کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں۔ مجھے ہر روز کئی فون آتے ہیں۔ ملتان سے عبدالباسط خاکوانی نے کہا ہے کہ میری طرف سے علامہ اقبالؒؒ کا یہ شعر مجید نظامی صاحب کی خدمت میں پیش کریں….
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
خاکوانی صاحب کہتے ہیں کہ ”مجید نظامی ایک بیش بہا انسان ہیں ان کی بات سنی جاتی ہے، وہ دو قومی نظریہ کے فروغ کے لئے بھارت کی دشمنی سے لوگوں کو بچانے کے لئے امریکہ کو للکارنے کے لئے میدان میں ہیں۔ وہ ایک تھنک ٹینک بنائیں اور اس قوم کی رہنمائی کریں۔ امریکی میرین اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں، بھارت پانی بند کر کے پاکستان کو ریگستان بنا رہا ہے“ میں نے خاکوانی صاحب کو بتایا کہ یوم حمید نظامی پر لوگوں نے قائداعظمؒ ، علامہ اقبالؒ حمید نظامی اور مجید نظامی کے نعرے بلند کئے۔ تینوں تصویریں خاموش تھیں اور مجید نظامی کسی گہری سوچ میں گُم تھے۔
ہر مقرر حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کا ذکر ملائے چلا جا رہا تھا یہ ذکر اب ذکر خیر بن گیا ہے۔ مجید نظامی کی آرزو ہے کہ جو باخبر ہیں وہ اہل خبر بن جائیں، اہل خبر ہی اصل میں اہل خیر ہوتے ہیں۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ کی روحانی قیادت میں بہت لوگ محفل میں آئے تھے۔ فضا حق ھُو سے گونجنے لگی تھی۔ یہ کلمہ حق کی خوشبو ہے، کلمہ حق جہاد ہے۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ نے محفل کو زندہ کر دیا۔ روحوں کو گرمایا اور دلوں کو تڑپایا۔ یہ کام اس سے پہلے خوشنود علی خان نے کیا۔ حاضرین میں سے آواز آئی کہ خوشنود نے ”کڑاکے کڈھ“ دتے نیں۔ اس نے اپنے آپ کو خوش نصیب کہا کہ مجھے مجید نظامی کی قربت ملی ہے۔ وہ ”جناح“ کا چیف ایڈیٹر ہے اور اخبار کو محمد علی جناح کا اخبار بنانا چاہتا ہے۔
چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر کبیر علی شاہ عالمی مبلغ ہیں۔ پچھلے 50 سال سے اشاعت دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب تک کروڑوں بار درود شریف پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے جرا¿ت اظہار کے حوالے مجید نظامی کو اپنا رہنما تسلیم کیا۔ انہوں نے دستار فضلیت خود مجید نظامی کو باندھی۔ اس موقع پر تین اکابر حضرات قاضی حسین احمد، غوث علی شاہ اور سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔
صدر محفل کرنل امجد حسین حمید نظامی کے سب سے پرانے دوست ہیں۔ یہ بھی روایت قائم ہوئی کہ انہوں نے سب سے پہلے محفل سے خطاب کیا۔ اس لمحے کی گواہی دی جب علامہ اقبالؒ نے حمید نظامی کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے کی ہدایت کی، اور وہ ہی ایم ایس ایف کے پہلے صدر تھے۔ ایک شاندار بوڑھے کے بعد ایک شاندار نوجوان لیڈر خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا وہ مسلم سٹوڈنٹس کے سابق صدر ہیں ابھی تک سٹوڈنٹ لیڈر کی بے قراریاں اس کے وجود میں تڑپتی ہیں۔ اس نے سیاست میں بے مثال جدوجہد کی ہے۔ شاید اس وقت وہ مسلم لیگ ن میں سب سے اچھے مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ نوائے وقت سیاستدانوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور راستہ بھی دکھاتا ہے۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تو مسلم لیگ کو طاقت ملی۔ مجید نظامی حمید نظامی کے سچے جانشین ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پرنٹ میڈیا کے فٹ پرنٹس پر چلنا چاہئے۔ خواجہ صاحب، قاضی حسین احمد کو مجاہد پاکستان کہتے رہے میں قاضی حسین احمد کو بھی کبھی سابق امیر جماعت اسلامی نہیں کہتا۔ میں نے تو کبھی چیف جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال چیف جسٹس نہیں لکھا تھا۔ کسی سیاسی جماعت میں کوئی عام آدمی لیڈر نہیں بن سکتا۔ جماعت اسلامی میں ایک غریب آدمی بھی امیر جماعت ہو سکتا ہے۔ عمران خان دیر سے پہنچے ان کی تقریر دیر آید درست آید کے مصداق بہت پسند کی گئی۔ اس نے کہا کہ حمید نظامی میرے والد مرحوم کے دوست تھے اور میں نے گھر میں ان کا بڑا ذکر سنا ہے۔ میں نے مجید نظامی کو دیکھا ہے اور وہ اپنے بھائی کی مکمل تصویر ہیں وہ نظریئے کا جہاد کر رہے ہیں۔ جہاد سے بھی زیادہ قلم کے جہاد کی ضرورت ہے۔
تقریب کے لئے شاہد رشید اور ان کے ساتھیوں نے بہت محنت کی۔ شاہد رشید کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں کامیاب تقریبات کا بڑا تجربہ ہے۔ سلمان غنی اخبار کی طرف سے بہت سرگرم تھے۔ یہ نوائے وقت کی تقریب تھی اور حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام اجتماع یہ پہلا اجتماع تھا اس شاندار ابتداءپر لوگوں نے مجید نظامی کو مبارکباد دی۔
یوم حمید نظامی پر ایک یادگار اور شاندار تقریب ہوئی، مقررین نے حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کے ذکر کو شامل کیا، نظامی صاحبان صحافی برادری کے لئے اعتبار، وقار اور جرا¿ت اظہار کی ایک زندہ روایت کی طرح ہیں۔ ممتاز شاعرہ، ادیبہ، خطیبہ، کالم نگار، ایم این اے اور بُلبلِ پاکستان بشریٰ رحمان نے کہا کہ نظامی وہ ہے جو نظام بدلنے کی آرزو اور ارادہ سے لبریز ہو۔ آرزو ہی ارادہ بنتی ہے تو قدرت اس کی مددگار ہو جاتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کی یاد سے مجید نظامی نے دلوں کو آباد رکھا ہے۔ 23 مارچ 2010ءکو نوائے وقت کی اشاعت کو 70 برس ہو رہے ہیں جس میں سے پچاس مجید نظامی کے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے (آمین)۔ حمید نظامی نوائے وقت کے بانی ہیں، نوائے وقت کے دور ثانی کے بانی مجید نظامی ہیں۔ نصف صدی کی حکایت کو حقیقت بنانے میں وہ سرخرو اور سرشار ہوئے ہیں۔
جنرل حمید گل نے مجید نظامی کو حمید نظامی کا تسلسل قرار دیا۔ جنرل حمید گل کو ریٹائرڈ جنرل کہنے کو جی نہیں چاہتا۔ شاہد رشید انہیں ”غازی پاکستان“ کہتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت صرف دو آدمیوں سے ڈرتے ہیں مجاہد ملت مجید نظامی اور جنرل حمید گل سے مجید نظامی کہتے ہیں کہ حمید نظامی میرے بڑے بھائی تھے۔ حمید گل میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ دونوں صاحب سیف وقلم ہیں….
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
ج: سے جج، جرنیل اور جرنلسٹ تو سنا تھا، جنرل حمید گل نے کہا کہ ج سے جہاد، جمہوریت اور جوہری صلاحیت بنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوائے وقت ایٹم بم ہے۔ مجید نظامی نے کئی بار کہا کہ میں ایٹم بم بن کر بھارت پر گِرنا چاہتا ہوں۔ وہ پاکستان میں جہاد اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ چیلنجز سے نبٹنے کے لئے حمید نظامی کی سوچ کو اپنایا جائے۔ مجید نظامی نے حمید نظامی کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ جنرل حمید گل نے بہت خوب بات انگریزی کے محاورے کے حوالے سے کی کہ King is dead Long live king بادشاہ مر گیا اللہ بادشاہ کی زندگی دراز کرے۔ حمید نظامی چلے گئے، مجید نظامی موجود ہیں اللہ انہیں دیر تک ہمارے درمیان موجود رکھے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔ سی پی این ای کے صدر لیڈر صحافی خوشنود علی خان نے کہا کہ اللہ کرے ہر کسی کو مجید نظامی جیسا بھائی ملے۔ حمید نظامی کی نظریاتی وراثت کو برادرانہ وراثت کی مسیحائی اور عظمت مجید نظامی نے عطا کی۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے 14 سال بعد فوت ہو گئے انہوں نے خود مجید نظامی کو انگلستان سے بلایا اور خود سب کچھ ان کے حوالے کر دیا وہ 50 سال سے اس عظیم وراثت کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ذاتی اثاثے نہیں بنائے سب کچھ قوم کے لئے وقف کر دیا۔ قوم نوائے وقت کی وارث ہے اور وہ مجید نظامی کے ساتھ ہے۔ اللہ نے حمید نظامی کو جتنا موقع دیا۔ انہوں نے اس سے بڑھ کر کام کیا۔ مجید نظامی نے اس کام کو کارنامہ بنا دیا ہے صحافی برادری میں نظامی برادران، جرا¿ت اظہار اور صداقت اظہار کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں۔ مجھے ہر روز کئی فون آتے ہیں۔ ملتان سے عبدالباسط خاکوانی نے کہا ہے کہ میری طرف سے علامہ اقبالؒؒ کا یہ شعر مجید نظامی صاحب کی خدمت میں پیش کریں….
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
خاکوانی صاحب کہتے ہیں کہ ”مجید نظامی ایک بیش بہا انسان ہیں ان کی بات سنی جاتی ہے، وہ دو قومی نظریہ کے فروغ کے لئے بھارت کی دشمنی سے لوگوں کو بچانے کے لئے امریکہ کو للکارنے کے لئے میدان میں ہیں۔ وہ ایک تھنک ٹینک بنائیں اور اس قوم کی رہنمائی کریں۔ امریکی میرین اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں، بھارت پانی بند کر کے پاکستان کو ریگستان بنا رہا ہے“ میں نے خاکوانی صاحب کو بتایا کہ یوم حمید نظامی پر لوگوں نے قائداعظمؒ ، علامہ اقبالؒ حمید نظامی اور مجید نظامی کے نعرے بلند کئے۔ تینوں تصویریں خاموش تھیں اور مجید نظامی کسی گہری سوچ میں گُم تھے۔
ہر مقرر حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کا ذکر ملائے چلا جا رہا تھا یہ ذکر اب ذکر خیر بن گیا ہے۔ مجید نظامی کی آرزو ہے کہ جو باخبر ہیں وہ اہل خبر بن جائیں، اہل خبر ہی اصل میں اہل خیر ہوتے ہیں۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ کی روحانی قیادت میں بہت لوگ محفل میں آئے تھے۔ فضا حق ھُو سے گونجنے لگی تھی۔ یہ کلمہ حق کی خوشبو ہے، کلمہ حق جہاد ہے۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ نے محفل کو زندہ کر دیا۔ روحوں کو گرمایا اور دلوں کو تڑپایا۔ یہ کام اس سے پہلے خوشنود علی خان نے کیا۔ حاضرین میں سے آواز آئی کہ خوشنود نے ”کڑاکے کڈھ“ دتے نیں۔ اس نے اپنے آپ کو خوش نصیب کہا کہ مجھے مجید نظامی کی قربت ملی ہے۔ وہ ”جناح“ کا چیف ایڈیٹر ہے اور اخبار کو محمد علی جناح کا اخبار بنانا چاہتا ہے۔
چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر کبیر علی شاہ عالمی مبلغ ہیں۔ پچھلے 50 سال سے اشاعت دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب تک کروڑوں بار درود شریف پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے جرا¿ت اظہار کے حوالے مجید نظامی کو اپنا رہنما تسلیم کیا۔ انہوں نے دستار فضلیت خود مجید نظامی کو باندھی۔ اس موقع پر تین اکابر حضرات قاضی حسین احمد، غوث علی شاہ اور سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔
صدر محفل کرنل امجد حسین حمید نظامی کے سب سے پرانے دوست ہیں۔ یہ بھی روایت قائم ہوئی کہ انہوں نے سب سے پہلے محفل سے خطاب کیا۔ اس لمحے کی گواہی دی جب علامہ اقبالؒ نے حمید نظامی کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے کی ہدایت کی، اور وہ ہی ایم ایس ایف کے پہلے صدر تھے۔ ایک شاندار بوڑھے کے بعد ایک شاندار نوجوان لیڈر خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا وہ مسلم سٹوڈنٹس کے سابق صدر ہیں ابھی تک سٹوڈنٹ لیڈر کی بے قراریاں اس کے وجود میں تڑپتی ہیں۔ اس نے سیاست میں بے مثال جدوجہد کی ہے۔ شاید اس وقت وہ مسلم لیگ ن میں سب سے اچھے مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ نوائے وقت سیاستدانوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور راستہ بھی دکھاتا ہے۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تو مسلم لیگ کو طاقت ملی۔ مجید نظامی حمید نظامی کے سچے جانشین ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پرنٹ میڈیا کے فٹ پرنٹس پر چلنا چاہئے۔ خواجہ صاحب، قاضی حسین احمد کو مجاہد پاکستان کہتے رہے میں قاضی حسین احمد کو بھی کبھی سابق امیر جماعت اسلامی نہیں کہتا۔ میں نے تو کبھی چیف جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال چیف جسٹس نہیں لکھا تھا۔ کسی سیاسی جماعت میں کوئی عام آدمی لیڈر نہیں بن سکتا۔ جماعت اسلامی میں ایک غریب آدمی بھی امیر جماعت ہو سکتا ہے۔ عمران خان دیر سے پہنچے ان کی تقریر دیر آید درست آید کے مصداق بہت پسند کی گئی۔ اس نے کہا کہ حمید نظامی میرے والد مرحوم کے دوست تھے اور میں نے گھر میں ان کا بڑا ذکر سنا ہے۔ میں نے مجید نظامی کو دیکھا ہے اور وہ اپنے بھائی کی مکمل تصویر ہیں وہ نظریئے کا جہاد کر رہے ہیں۔ جہاد سے بھی زیادہ قلم کے جہاد کی ضرورت ہے۔
تقریب کے لئے شاہد رشید اور ان کے ساتھیوں نے بہت محنت کی۔ شاہد رشید کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں کامیاب تقریبات کا بڑا تجربہ ہے۔ سلمان غنی اخبار کی طرف سے بہت سرگرم تھے۔ یہ نوائے وقت کی تقریب تھی اور حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام اجتماع یہ پہلا اجتماع تھا اس شاندار ابتداءپر لوگوں نے مجید نظامی کو مبارکباد دی۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists
کچھ ”ایک رُوح کی سرشاری“ پر by Khalid Ahmad
9 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
علوم اور فنون کی تاریخ میں دو بھائی، دو بہنیں نام پاتے دکھائی دیتے رہے ہیں! ان دونوں دنیاﺅں میں میاں بیوی بھی نام وری کی انتہائیں چھوتے نظر آتے ہیں! باپ اور بیٹا، ماں اور بیٹی کی بھی مثالیں موجود ہیں! حتٰی کہ ایک بھائی ”علوم کی دنیا“ میں اور دوسرا بھائی ”فنون کی دنیا“ میں امر ہوتے بھی دکھائے دیتے ہیں! انسانی تاریخ کے ممتاز ترین سائنسدان گلیلیو اور معروف ترین مجسمہ ساز مائیکل اینجلیو آپس میں سگے بھائی تھے! مگر پیشہ¿ صحافت اور پیشہ¿ وکالت سے منسلک دو بھائی ایک ہی اخبار کے عروج میں تسلسل پیدا کرتے اور عروج کی ایک نئی داستان رقم کرتے کہیں اور کبھی یوں سامنے نہیں آئے جیسے ”نظامی برادران“ نوائے وقت کے روپ میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے! جناب مجید نظامی جناب حمید نظامیؒ کی علالت کی خبر ملتے ہی برطانیہ میں اپنی ہر شے چھوڑ
چھاڑ لاہور کی طرف لپکے اور جناب حمید نظامیؒ کے سرہانے آن کھڑے ہوئے! ”تم آگئے! اچھا کیا!“ جناب حمید نظامیؒ نے کہا اور آنکھیں موند لیں! مگر اس دن کے بعد جناب مجید نظامی نے سونا چھوڑ دیا! دن رات ایک کر دیئے! اُن دنوں نوائے وقت لاہور کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا! اور ”نوائے وقت“ جنابِ شورش کاشمیری کے مملوکہ پرےس چٹان پرنٹنگ پریس میں چھپا کرتا تھا! انہی دنوں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا! جسٹس اے آر کیانی کی تقاریر کی دھوم کا دور تھا! جنابِ کیانی نے ایک تقریر کی اور جنابِ مجید نظامی نے ان سے یہ تقریر نوائے وقت کےلئے مانگ لی جو انہوں نے بصد شوق انہیں عنایت کر دی! صبح کے نوائے وقت میں یہ تقریر لفظ بہ لفظ پورے ”متن“ کے طور پر درج ہونا تھی اور کوہستان لاہور کے رپورٹر جناب سعادت خیالی اپنی تمام ترفتنہ سامانیوں کے ساتھ شہر میں چکراتے پھر رہے تھے حتٰی کہ نوائے وقت کی کاپیاں طباعت کےلئے چٹان پریس میں پہنچ گئیں! طباعت شروع ہوئی تو باہر گلی میں ہنگامہ ہوگیا، ”چور چور“ کے شور کے ساتھ ایک گھبرایا ہوا لڑکا چٹان پریس میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے اسے پکڑنے والے تین آدمی داخل ہوئے! ان تینوں نے لڑکے کو جا لیا اور اسے بری طرح زدوکوب کرنے لگے اور پھر اسے گریبان سے پکڑ کر ”چٹان پریس“ سے باہر آگئے! اگلے روز ”نوائے وقت“ کے ساتھ ساتھ ”کوہستان“ میں بھی جناب اے آر کیانی کی پوری تقریر کا ”پورا متن“ لفظ بہ لفظ درج تھا!
یہ ”ہنگامہ“ صرف نوائے وقت کے مطلوبہ ”مطبوعہ صفحات“ اڑانے کےلئے گرم کیا گیا تھا! مگر اس واقعے نے جناب مجید نظامی کو اپنا ”پریس“ لگانے کا ہدف دے دیا! اور نوائے وقت اپنے پریس سے نکلنے لگا! دفتر اپنی ”عمارت“ میں شفٹ ہوگیا اور پھر ایک روز جناب مجید نظامی نے وہ ”دفتر“ اپنی ”عینک“ اُٹھا کر ہمیشہ کےلئے چھوڑ دیا! مگر ایک دن آیا کہ جناب مجید نظامی سے دوبارہ ”نوائے وقت، لاہور“ نکالنے میں مدد دینے کی درخواست کی گئی اور جناب مجید نظامی نے آئندہ دنوں میں آنے والے کسی بھی ”واقعے“ سے بچنے کےلئے تمام تر ”واجبات“ سمیت حتٰی کہ ”نوائے وقت، لاہور“ کی پیشانی کے حقوق سمیت ہر شے کی ”قیمت“ ادا کر دینے کے بعد ”اپنے دفتر“ میں قدم رکھا!
آج نوائے وقت، دی نیشن، ندائے ملت، فیملی میگزین اور پھول کے ساتھ ساتھ وقت ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی ندائے ملت (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
بات صرف یہ تھی اور ہے کہ جناب مجید نظامی ایک انتہائی اچھے منتظم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی اچھے ”مالیاتی منتظم“ بھی ہیں! ”نقدی کا بھاﺅ“ یا ”Cash Flow“ برقرار رکھنا اور اسے ایک حد سے نیچے نہ آنے دینا دن رات کی چوکسی اور دن رات کی متسلسل اور متواتر محنت کے بغیر ممکن نہیں! یوں بھی جناب مجید نظامی کے ہاتھ میں دولت اور شہرت کی لکیر اُن پر خدا کے انتہائی فضل کی دلیل بن کر دوسری لکیروں کے تقابل میں روشن تر ہے!
جناب مجید نظامی نے آج سے چار سال قبل ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ”مجلس پاکستان“ کے زیراہتمام برپا ہونے والی تقریب میں وزیر اطلاعات جناب محمد علی درانی کی موجودگی میں فرمایا تھا! ”ہم نے اتنی محنت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں لوگ بتائیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے؟ ہم اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ ہیں اور بس!“ اور اس روز ہمیں احساس ہوا کہ جب انہوں نے نواب آف کالا باغ سے کہا تھا ”YOU WILL NOT FIND ME A LESSER MAN!“ تو وہ کیا کہہ رہے تھے!
آج نشانِ جمہوریت کی سربلندی دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جنابِ حمید نظامیؒ کی رُوح جتنی سرشار اب ہوگی! ماضی میں کبھی نہ ہوئی ہو گی!
چھاڑ لاہور کی طرف لپکے اور جناب حمید نظامیؒ کے سرہانے آن کھڑے ہوئے! ”تم آگئے! اچھا کیا!“ جناب حمید نظامیؒ نے کہا اور آنکھیں موند لیں! مگر اس دن کے بعد جناب مجید نظامی نے سونا چھوڑ دیا! دن رات ایک کر دیئے! اُن دنوں نوائے وقت لاہور کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا! اور ”نوائے وقت“ جنابِ شورش کاشمیری کے مملوکہ پرےس چٹان پرنٹنگ پریس میں چھپا کرتا تھا! انہی دنوں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا! جسٹس اے آر کیانی کی تقاریر کی دھوم کا دور تھا! جنابِ کیانی نے ایک تقریر کی اور جنابِ مجید نظامی نے ان سے یہ تقریر نوائے وقت کےلئے مانگ لی جو انہوں نے بصد شوق انہیں عنایت کر دی! صبح کے نوائے وقت میں یہ تقریر لفظ بہ لفظ پورے ”متن“ کے طور پر درج ہونا تھی اور کوہستان لاہور کے رپورٹر جناب سعادت خیالی اپنی تمام ترفتنہ سامانیوں کے ساتھ شہر میں چکراتے پھر رہے تھے حتٰی کہ نوائے وقت کی کاپیاں طباعت کےلئے چٹان پریس میں پہنچ گئیں! طباعت شروع ہوئی تو باہر گلی میں ہنگامہ ہوگیا، ”چور چور“ کے شور کے ساتھ ایک گھبرایا ہوا لڑکا چٹان پریس میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے اسے پکڑنے والے تین آدمی داخل ہوئے! ان تینوں نے لڑکے کو جا لیا اور اسے بری طرح زدوکوب کرنے لگے اور پھر اسے گریبان سے پکڑ کر ”چٹان پریس“ سے باہر آگئے! اگلے روز ”نوائے وقت“ کے ساتھ ساتھ ”کوہستان“ میں بھی جناب اے آر کیانی کی پوری تقریر کا ”پورا متن“ لفظ بہ لفظ درج تھا!
یہ ”ہنگامہ“ صرف نوائے وقت کے مطلوبہ ”مطبوعہ صفحات“ اڑانے کےلئے گرم کیا گیا تھا! مگر اس واقعے نے جناب مجید نظامی کو اپنا ”پریس“ لگانے کا ہدف دے دیا! اور نوائے وقت اپنے پریس سے نکلنے لگا! دفتر اپنی ”عمارت“ میں شفٹ ہوگیا اور پھر ایک روز جناب مجید نظامی نے وہ ”دفتر“ اپنی ”عینک“ اُٹھا کر ہمیشہ کےلئے چھوڑ دیا! مگر ایک دن آیا کہ جناب مجید نظامی سے دوبارہ ”نوائے وقت، لاہور“ نکالنے میں مدد دینے کی درخواست کی گئی اور جناب مجید نظامی نے آئندہ دنوں میں آنے والے کسی بھی ”واقعے“ سے بچنے کےلئے تمام تر ”واجبات“ سمیت حتٰی کہ ”نوائے وقت، لاہور“ کی پیشانی کے حقوق سمیت ہر شے کی ”قیمت“ ادا کر دینے کے بعد ”اپنے دفتر“ میں قدم رکھا!
آج نوائے وقت، دی نیشن، ندائے ملت، فیملی میگزین اور پھول کے ساتھ ساتھ وقت ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی ندائے ملت (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
بات صرف یہ تھی اور ہے کہ جناب مجید نظامی ایک انتہائی اچھے منتظم ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی اچھے ”مالیاتی منتظم“ بھی ہیں! ”نقدی کا بھاﺅ“ یا ”Cash Flow“ برقرار رکھنا اور اسے ایک حد سے نیچے نہ آنے دینا دن رات کی چوکسی اور دن رات کی متسلسل اور متواتر محنت کے بغیر ممکن نہیں! یوں بھی جناب مجید نظامی کے ہاتھ میں دولت اور شہرت کی لکیر اُن پر خدا کے انتہائی فضل کی دلیل بن کر دوسری لکیروں کے تقابل میں روشن تر ہے!
جناب مجید نظامی نے آج سے چار سال قبل ایک پنج ستارہ ہوٹل میں ”مجلس پاکستان“ کے زیراہتمام برپا ہونے والی تقریب میں وزیر اطلاعات جناب محمد علی درانی کی موجودگی میں فرمایا تھا! ”ہم نے اتنی محنت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں لوگ بتائیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے؟ ہم اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ ہیں اور بس!“ اور اس روز ہمیں احساس ہوا کہ جب انہوں نے نواب آف کالا باغ سے کہا تھا ”YOU WILL NOT FIND ME A LESSER MAN!“ تو وہ کیا کہہ رہے تھے!
آج نشانِ جمہوریت کی سربلندی دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جنابِ حمید نظامیؒ کی رُوح جتنی سرشار اب ہوگی! ماضی میں کبھی نہ ہوئی ہو گی!
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists
Do Din Peteyaley Mien by Kishwer Naheed
8 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Categories : Kishwer Naheed, Urdu Columnists
Wazir-e-Azam Ka Pehla Radio Khitab by Dr Matloob Hussain
7 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Dr Matloob Hussain, Urdu Columnists
اور درویش کی صدا کیا ہے؟؟ by Bushra Rehman
7 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
حیرت ہوتی ہے جب چھوٹی چھوٹی باتوں کا مسئلہ بنا کر الیکٹرانک میڈیا پر گھنٹوں بحث جاری رہتی ہے۔ اور جو پاکستان کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔ ان کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
پروٹوکول کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے کوئٹہ شہر کے رکشے میں ایک بچہ پیدا ہو گیا۔ اس پر وہ لے دے ہوئی کہ الاماں الحفیظ۔ کیا پروٹوکول کوئی نیا مسئلہ ہے….؟ ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ کوئی صاحبِ بصیرت وہ پولیس میں سے ہوتے یا دانشوروں میں سے ہوتے یا سیاست دانوں میں سے ہوتے۔ یہ کہہ دیتے۔ کہ ایک موبائل ٹیم پولیس کی بنائی جائے۔ جسے گشتی ٹیم کہتے ہیں۔ جہاں گھنٹوں کے حساب سے عاقبت نااندیش حکمران رعایا کو مفلوج رکھتے ہیں۔ وہاں وہ ٹیم چاروں طرف رکے ہوئے ٹریفک کا جائزہ لے۔ کوئی بیمار ہو لاچار ہو‘ ایمرجنسی ہو تو اپنی گاڑی میں اسے راستہ دے کر ہسپتال پہنچا دیں۔ یہ بھی عوام کی ایک خدمت ہو گی مگر جہاں پیسہ بہت ہوتا ہے وہاں عقل کم ہوتی ہے۔ اسکا تدارک ڈھونڈنے کی بجائے پانچ لاکھ روپے دے کر بحث کا ڈھکن بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوئی نئی رسم نہیں ہے۔ ہر دور کے سربراہ اور وزرائے اعلیٰ ایسا ہی پروٹوکول مانگتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کی کہانیاں مشہور ہیں۔ جب چوبدار آوازہ لگاتے تھے۔ نگاہ روبرو…. باملاحظہ‘ ہوشیار‘ ظل اللہ‘ ظلِ الٰہی‘ عالم پناہ‘ ذی جاہ سلطانِ ہند…. تشریف لاتے ہیں…. سلطان بننے کی تمنا ہر پاکستانی سربراہ کے دل میں رہتی ہے۔ اور اب ہوشیار خبردار کرنے والے کام ہوٹر بردار کرتے ہیں۔ 1986ءمیں ہمارے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا۔ جبکہ جمہوریت کے علمبردار جناب محمد خان جونیجو وزیراعظم تھے۔ راوی روڈ پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔ اور ہمیں ایک عزیز کی فوتیدگی پر گجرات جانا تھا۔ جنازہ چار بجے اٹھنا تھا اور ہم پروٹوکول کی وجہ سے رات آٹھ بجے وہاں پہنچے تھے۔ زمانہ کوئی ہو۔ انداز ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک دن کا رونا ہے….
پھر یہ دیکھ کر اور بھی حیرت ہوئی کہ کئی دنوں تک میڈیا پر دوسری تیسری شادی کا مسئلہ مذاق بنا رہا۔ جو باتیں دائرہ اسلام اور ضابطہ اخلاق میں آ چکی ہیں۔ ان کو خواہ مخواہ متنازع اور مضحکہ خیز بنانے سے کیا حاصل…. جہاں انسان ہو گا وہاں مسائل تو ہر روز برآمد ہوں گے۔ میڈیا کا کام مسائل کو حل کرنا ہے مسائل کو ہوا دینا نہیں….
گذشتہ ہفتے جہاں اور بہت سے مسائل ابھرے وہاں نیشنل اسمبلی کے اندر پانی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو کسی نہ کسی صورت میں الیکٹرانک میڈیا پر جاری و ساری رہنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ساتھ پانیوں کے معاملے میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ اس کے تحت اب پاکستان تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت میں آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر جتنے دن یہ بحث ہوتی رہی۔ حکومتی بنچوں سے ذرا بھی اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ جو بھی رکن اٹھتا بس یہی کہتا کہ یہ ایک آمر نے کیا تھا۔ فلاں حکومت نے یہ معاملہ کیوں درست نہیں کیا اور فلاں حکومت کیوں خاموش رہی۔ موجودہ حکومت کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل ہے کہ نہیں ہے۔ مگر ہر مسئلے کا جواب اس کے پاس یہ ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کی کارستانیاں ہیں۔ دو سال تو اس نے سابقہ حکومتوں کو الزام دینے اور برا بھلا کہنے میں گزار دئیے۔ اب آئندہ اس کا کیا ارادہ ہے….؟
جانے والی حکومت کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لئے نئی حکومت آتی ہے۔ اور انہی وعدوں پر وہ ووٹ بھی لیتی ہے…. الزام تراشی کر کے اور بہتان بازی کر کے یہ لوگ کب تک ڈنگ ٹپائیں گے۔
حکومت وقت کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے شوریٰ ہمدرد کے تھنک ٹینک نے گذشتہ ہفتے پاک بھارت مذاکرات خدشات اور امکانات پر ایک بھرپور سیشن بلایا تھا۔
جس میں بطور خاص کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی جناب جماعت علی شاہ کو مدعو کیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی موجودہ صورت حال کی تفصیل بتائیں۔ ان کے ساتھ انجینئر سلیمان نجیب خاں کنوینر واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ کونسل‘ جناب ملک حبیب اللہ بھٹہ کنوینر سندھ طاس واٹر کونسل بھی بطور خاص بہاولپور سے تشریف لائے تھے۔ اور بہت سے دیگر ارکانِ شوریٰ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سوالات یہ اٹھائے گئے کہ….
کیا انڈس واٹر ٹریٹی کو Revise کیا جا سکتا ہے؟
اس کے لئے عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے؟
1960ءمیں انڈس‘ جہلم اور چناب میں جو پانی کی رفتار تھی۔ وہ اب ہے کہ نہیں تو کتنی ہے؟
بھارت کے ساتھ جو طے ہوا تھا کیا اس کے مطابق وہ ساڑھے تیرہ لاکھ رقبہ ہی سیراب کر رہے ہیں یا زیادہ پانی چرا رہے ہیں۔
بھارت ڈیم پہ ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ معاہدے کے مطابق کیا وہ پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اگر نہیں تو اس سے بازپرس کون کرتا ہے۔ اور کس انداز میں کرتا ہے۔
اس معاملے میں حکومتوں پر مسلسل بے حسی کیوں طاری ہے۔
بھارت نواز لابی پاکستان میں کالاباغ ڈیم کی مخالف کیوں ہے؟
اس کے متبادل مزید ڈیمز کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔
پچھلے دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر کا بیان اخبارات کی زینت بنا تھا کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو عالمی عدالت میں پیش کرے گا۔ اس وقت بھارت نے قلابازی کھائی اور اچانک مذاکرات شروع کرنے کی باتیں کرنے لگا۔ لیکن وفد میں سے ان افراد کو نکال دیا۔ جو پانی اور کشمیر پر بات کرنے آئے تھے۔ چناب میں فالتو پانی بھی چھوڑ دیا۔ جب پاکستان کی آواز کمزور ہوئی تو مذاکرات کو پھر سے دہشت گردی کے ایک نکتے پر محدود کر دیا اور مسدود کر دیا۔ اور چناب کو دوبارہ خشک کر دیا۔ باور ہو کہ ممبئی ڈرامے کے بعد بھارت نے پاکستان کے حوالے سے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ نہیں کہا تھا۔ پاکستان کی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے کشمیر کے پانیوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ مگر ہر قسم کی چیخ و پکار کے باوجود بھارت آبی دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا چلا جا رہا ہے…. کیا وہ پاکستان کو بوند بوند کے لئے ترسانے کا تہیہ کر چکا ہے…. خدانخواستہ…. پاکستان کی کسی بھی قیادت نے قومی سطح کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اسی لئے جن ارباب بست و کشاد کو ہمدرد شوریٰ میں بلایا گیا تھا۔ وہ بھی بس اپنی بے بسی پر آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے….
اگر ایک پرانی حکومت یہ غلطی کر کے چلی گئی۔ تو کیا کوئی جمہوری حکومت اس غلطی کو درست کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی….؟
جبکہ زرداری حکومت ہر روز نعرہ مستانہ لگاتی ہے کہ عوام کی اکثریتی طاقت سے آئے ہیں…. 2018ءتک نہیں جائیں گے۔ دما دم مست قلندر کر دیں گے وغیرہ وغیرہ….
مگر کس برتے پر….؟
اگر اتنی بڑی سیاسی و جمہوری حکومت کوئی کارنامہ کر دکھانے کی اہل نہیں ہے۔ تو کم از کم بھارت کے ساتھ پانی کا تصفیہ ہی کر کے دکھائے…. تصفیہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ تو اس مسئلے کو عالمی عدالت میں اٹھا کر دکھائے….
فرینڈز آف پاکستان کے آگے دستِ سوال کرنے والی حکومت کم از کم فرینڈز آف پاکستان کے ضمیر ہی جگا کر دکھا دے….!
پروٹوکول کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے کوئٹہ شہر کے رکشے میں ایک بچہ پیدا ہو گیا۔ اس پر وہ لے دے ہوئی کہ الاماں الحفیظ۔ کیا پروٹوکول کوئی نیا مسئلہ ہے….؟ ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ کوئی صاحبِ بصیرت وہ پولیس میں سے ہوتے یا دانشوروں میں سے ہوتے یا سیاست دانوں میں سے ہوتے۔ یہ کہہ دیتے۔ کہ ایک موبائل ٹیم پولیس کی بنائی جائے۔ جسے گشتی ٹیم کہتے ہیں۔ جہاں گھنٹوں کے حساب سے عاقبت نااندیش حکمران رعایا کو مفلوج رکھتے ہیں۔ وہاں وہ ٹیم چاروں طرف رکے ہوئے ٹریفک کا جائزہ لے۔ کوئی بیمار ہو لاچار ہو‘ ایمرجنسی ہو تو اپنی گاڑی میں اسے راستہ دے کر ہسپتال پہنچا دیں۔ یہ بھی عوام کی ایک خدمت ہو گی مگر جہاں پیسہ بہت ہوتا ہے وہاں عقل کم ہوتی ہے۔ اسکا تدارک ڈھونڈنے کی بجائے پانچ لاکھ روپے دے کر بحث کا ڈھکن بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوئی نئی رسم نہیں ہے۔ ہر دور کے سربراہ اور وزرائے اعلیٰ ایسا ہی پروٹوکول مانگتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کی کہانیاں مشہور ہیں۔ جب چوبدار آوازہ لگاتے تھے۔ نگاہ روبرو…. باملاحظہ‘ ہوشیار‘ ظل اللہ‘ ظلِ الٰہی‘ عالم پناہ‘ ذی جاہ سلطانِ ہند…. تشریف لاتے ہیں…. سلطان بننے کی تمنا ہر پاکستانی سربراہ کے دل میں رہتی ہے۔ اور اب ہوشیار خبردار کرنے والے کام ہوٹر بردار کرتے ہیں۔ 1986ءمیں ہمارے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا۔ جبکہ جمہوریت کے علمبردار جناب محمد خان جونیجو وزیراعظم تھے۔ راوی روڈ پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔ اور ہمیں ایک عزیز کی فوتیدگی پر گجرات جانا تھا۔ جنازہ چار بجے اٹھنا تھا اور ہم پروٹوکول کی وجہ سے رات آٹھ بجے وہاں پہنچے تھے۔ زمانہ کوئی ہو۔ انداز ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک دن کا رونا ہے….
پھر یہ دیکھ کر اور بھی حیرت ہوئی کہ کئی دنوں تک میڈیا پر دوسری تیسری شادی کا مسئلہ مذاق بنا رہا۔ جو باتیں دائرہ اسلام اور ضابطہ اخلاق میں آ چکی ہیں۔ ان کو خواہ مخواہ متنازع اور مضحکہ خیز بنانے سے کیا حاصل…. جہاں انسان ہو گا وہاں مسائل تو ہر روز برآمد ہوں گے۔ میڈیا کا کام مسائل کو حل کرنا ہے مسائل کو ہوا دینا نہیں….
گذشتہ ہفتے جہاں اور بہت سے مسائل ابھرے وہاں نیشنل اسمبلی کے اندر پانی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو کسی نہ کسی صورت میں الیکٹرانک میڈیا پر جاری و ساری رہنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ساتھ پانیوں کے معاملے میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ اس کے تحت اب پاکستان تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت میں آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر جتنے دن یہ بحث ہوتی رہی۔ حکومتی بنچوں سے ذرا بھی اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ جو بھی رکن اٹھتا بس یہی کہتا کہ یہ ایک آمر نے کیا تھا۔ فلاں حکومت نے یہ معاملہ کیوں درست نہیں کیا اور فلاں حکومت کیوں خاموش رہی۔ موجودہ حکومت کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل ہے کہ نہیں ہے۔ مگر ہر مسئلے کا جواب اس کے پاس یہ ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کی کارستانیاں ہیں۔ دو سال تو اس نے سابقہ حکومتوں کو الزام دینے اور برا بھلا کہنے میں گزار دئیے۔ اب آئندہ اس کا کیا ارادہ ہے….؟
جانے والی حکومت کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لئے نئی حکومت آتی ہے۔ اور انہی وعدوں پر وہ ووٹ بھی لیتی ہے…. الزام تراشی کر کے اور بہتان بازی کر کے یہ لوگ کب تک ڈنگ ٹپائیں گے۔
حکومت وقت کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے شوریٰ ہمدرد کے تھنک ٹینک نے گذشتہ ہفتے پاک بھارت مذاکرات خدشات اور امکانات پر ایک بھرپور سیشن بلایا تھا۔
جس میں بطور خاص کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی جناب جماعت علی شاہ کو مدعو کیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی موجودہ صورت حال کی تفصیل بتائیں۔ ان کے ساتھ انجینئر سلیمان نجیب خاں کنوینر واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ کونسل‘ جناب ملک حبیب اللہ بھٹہ کنوینر سندھ طاس واٹر کونسل بھی بطور خاص بہاولپور سے تشریف لائے تھے۔ اور بہت سے دیگر ارکانِ شوریٰ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سوالات یہ اٹھائے گئے کہ….
کیا انڈس واٹر ٹریٹی کو Revise کیا جا سکتا ہے؟
اس کے لئے عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے؟
1960ءمیں انڈس‘ جہلم اور چناب میں جو پانی کی رفتار تھی۔ وہ اب ہے کہ نہیں تو کتنی ہے؟
بھارت کے ساتھ جو طے ہوا تھا کیا اس کے مطابق وہ ساڑھے تیرہ لاکھ رقبہ ہی سیراب کر رہے ہیں یا زیادہ پانی چرا رہے ہیں۔
بھارت ڈیم پہ ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ معاہدے کے مطابق کیا وہ پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اگر نہیں تو اس سے بازپرس کون کرتا ہے۔ اور کس انداز میں کرتا ہے۔
اس معاملے میں حکومتوں پر مسلسل بے حسی کیوں طاری ہے۔
بھارت نواز لابی پاکستان میں کالاباغ ڈیم کی مخالف کیوں ہے؟
اس کے متبادل مزید ڈیمز کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔
پچھلے دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر کا بیان اخبارات کی زینت بنا تھا کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو عالمی عدالت میں پیش کرے گا۔ اس وقت بھارت نے قلابازی کھائی اور اچانک مذاکرات شروع کرنے کی باتیں کرنے لگا۔ لیکن وفد میں سے ان افراد کو نکال دیا۔ جو پانی اور کشمیر پر بات کرنے آئے تھے۔ چناب میں فالتو پانی بھی چھوڑ دیا۔ جب پاکستان کی آواز کمزور ہوئی تو مذاکرات کو پھر سے دہشت گردی کے ایک نکتے پر محدود کر دیا اور مسدود کر دیا۔ اور چناب کو دوبارہ خشک کر دیا۔ باور ہو کہ ممبئی ڈرامے کے بعد بھارت نے پاکستان کے حوالے سے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ نہیں کہا تھا۔ پاکستان کی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے کشمیر کے پانیوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ مگر ہر قسم کی چیخ و پکار کے باوجود بھارت آبی دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا چلا جا رہا ہے…. کیا وہ پاکستان کو بوند بوند کے لئے ترسانے کا تہیہ کر چکا ہے…. خدانخواستہ…. پاکستان کی کسی بھی قیادت نے قومی سطح کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اسی لئے جن ارباب بست و کشاد کو ہمدرد شوریٰ میں بلایا گیا تھا۔ وہ بھی بس اپنی بے بسی پر آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے….
اگر ایک پرانی حکومت یہ غلطی کر کے چلی گئی۔ تو کیا کوئی جمہوری حکومت اس غلطی کو درست کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی….؟
جبکہ زرداری حکومت ہر روز نعرہ مستانہ لگاتی ہے کہ عوام کی اکثریتی طاقت سے آئے ہیں…. 2018ءتک نہیں جائیں گے۔ دما دم مست قلندر کر دیں گے وغیرہ وغیرہ….
مگر کس برتے پر….؟
اگر اتنی بڑی سیاسی و جمہوری حکومت کوئی کارنامہ کر دکھانے کی اہل نہیں ہے۔ تو کم از کم بھارت کے ساتھ پانی کا تصفیہ ہی کر کے دکھائے…. تصفیہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ تو اس مسئلے کو عالمی عدالت میں اٹھا کر دکھائے….
فرینڈز آف پاکستان کے آگے دستِ سوال کرنے والی حکومت کم از کم فرینڈز آف پاکستان کے ضمیر ہی جگا کر دکھا دے….!
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists
Collateral Damage by Abdulla Tariq Sohail
6 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Abdulla Tariq Sohail, Urdu Columnists
لولی لنگڑی پارلیمنٹ by Dr Ajmal Niazi
6 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
عزیزم حمزہ شہبازشریف ممبر قومی اسمبلی نے بہت ذو معنی بلکہ معنی خیز بات کی ہے کہ لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ نوازشریف نہیں بننا چاہتے۔ اسی پارلیمنٹ کو بچانے کے لئے انہوں نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بھی سنا ہے، یہ پارلیمنٹ جیسی بھی ہے رہے گی تو نواز شریف اور ان کی فیملی کی باری آئے گی۔ وہ صدر زرداری کی صدارت کے لئے پریشان نہیں ہیںمگر جس نظام کے تحت وہ صدر ہیں اگر نہ بچا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔ میں ہمیشہ آمریت کے خلاف لڑتا رہا ہوں مگر جمہوریت کے دعویدار کیا کر رہے ہیں۔ کیا اقتدار کا حصول جمہوریت ہے؟ اس پارلیمنٹ کے سربراہ مخدوم گیلانی ہیں۔ وہ نہ صرف وزیراعظم ہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس کوشش میں نوازشریف شہبازشریف ، حمزہ شہباز شریف اور ہر سیاسی شریف مخدوم گیلانی کے ساتھ ہے۔ مگر جب وزیراعظم نوازشریف کا نعرہ گونجتا ہے تو مخدوم صاحب کا دل کانپنے لگتا ہے۔ وہ سترھویں ترمیم بالخصوص تیسری بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کی شق کے خلاف ہیں اور اس طرح خلاف ہیں کہ ہم وزیراعظم ہوں اور وزیراعلیٰ بھی ہماری فیملی سے ہو میں تو صدر کے لئے بھی تیسری بار کی شرط اس میں شامل کرنے کے حق میں ہوں چونکہ تیسری بار صدر بننے کا امکان کم کم ہے اس لئے یہ ضروری نہیں سمجھی گئی جبکہ اس وقت جنرل مشرف خود صدر تھے اس لئے بھی یہ شرط ضروری نہ سمجھی گئی۔ یہاں اقتدار کی باریاں مقرر ہیں اور اس کا تعلق ”بار بار“ سے ہے۔ بی بی صاحبہ اور میاں صاحبان دو دو دفعہ باری لے چکے ہیں اسی لئے تیسری بار کی شرط فوراً ختم ہونا چاہیے۔ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی آدمی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر بھی تیسری بار نہ بنے۔ سیاستدانوں نے اپنے لئے یہ کریڈٹ بنا رکھا ہے کہ میں چھ سات دفعہ ممبر اسمبلی رہ چکا ہوں جیسے کہتے ہیں کہ میں 25 عمرے کر چکا ہوں۔ ممبران اسمبلی کا یہ شیوہ ہے کہ میں نے پہلے بھی کوئی کام نہ کیا تھا اور اب بھی کوئی کام نہیں کروں گا لوگوں سے پوچھا جائے کہ آپ ایسے شخص کو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ کئی لوگ تکلفاً مانگتے ہیں اس بات کا شیخ رشید کی اس بات سے تعلق نہیں کہ میرے مخالف کو جتوایا گیا ہے۔ وہ جب جیت جاتے تھے تو انہیں کون جتواتا تھا۔میں نے بات حمزہ شہبازشریف کی اس بات سے شروع کی تھی کہ یہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی ہے کیونکہ نوازشریف اس کے ممبر نہیں بننا چاہتے ہیں وہ تو وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ شہبازشریف کے لئے اس منصب کی آسانی ہے پھر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے بھی پریشانی نہ ہو گی۔ حمزہ شہبازشریف ہیں نا۔!
لولے لنگڑے لوگ زندگی گزار جاتے ہیں تو ہماری لولی لنگڑی پارلیمنٹیس بھی زندگی گزار جاتی ہیں۔ یہ زندگی شرمندگی ہے ورنہ درندگی ہے کچھ لوگ شرمندگی سے بھی درندگی کا کام لینا جانتے ہیں، پچھلی پارلیمنٹ تو پھر بالکل ہی لولی لنگڑی تھی مگر وہ اپنی پوری عمر یعنی مدت گزار گئی۔ اس لولی لنگڑی پارلیمنٹ کے کئی ارکان اب بھی ایم این اے ہیں جمہوریت آنے کے بعد اب یہ بھی لولی لنگڑی پارلیمنٹ ہے تو پھر صحیح سالم پارلیمنٹ کب آئے گی ۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کی تاریخ ایسی ہی ہے۔ پارلیمنٹ سیاسی جرنیلوں اور سیاستدانوں کے ادوار میں ایک سی رہی ہے۔ یقیناً حمزہ شہباز کے خیال میں وہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی نہ تھی جس کے وزیراعظم نوازشریف تھے مگر وہ اپنی عمر ہی پوری نہ کر سکی۔ ع
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے
اگر وہ پارلیمنٹ جمہوری ہوتی اور کچی پکی نہ ہوتی تو جس وقت توڑی گئی تھی تو نہ ٹوٹتی۔ سارے پارلیمنٹیرین ڈٹ جاتے مگر ہمارے سیاستدانوں میں یہ جرا¿ت اہلیت، دیانت، استقامت اور غیرت ہی نہیں ہے کہ وہ ثابت قدمی دکھائیں، یکجہتی پیدا کریں عوام کےلئے کچھ کریں خزانے پر حق صرف ان کی فیملی کا نہیں ہے۔ خدا کرے اب سیاست پر بُرا وقت نہ آئے مگر مجھے ان سیاستدانوں سے کوئی امید نہیں ہے۔ جمہوریت کی بات کرنے والے اپنے رویے اور اپنی سیاست اور اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاتے کسی کی جرا¿ت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں یا کہیں بھی اپنے سربراہ سے اختلاف کر سکے۔ ہمارے ملک میں نہ جمہوریت آئی، نہ آمریت آئی۔ آمریت کے بھی جو ثمرات ہو سکتے تھے وہ عوام کو نہیں ملے۔ یہاں آمرانہ جمہوریت رہی ہے یا جمہوری آمریت۔حیرت ہے کہ خود حمزہ شہباز اسی لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ جس ٹکٹ پر نوازشریف تھوکتے بھی نہیں وہی ٹکٹ حاصل کر کے پرویز ملک پھولے نہیں سماتے۔ وہ پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھے اور تب پارلیمنٹ بہت لولی لنگڑی تھی ۔ پرویز ملک کو پہلے ٹکٹ نہ دیا گیا تھا جس کا افسوس ہم نے مل کر کیا تھا۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ وہ جسٹس (ر) اور اٹارنی جنرل ملک قیوم کے بھائی ہیں۔ جسٹس قیوم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نوازشریف کے کہنے پر بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ ملک قیوم میں کوئی خوبی تو ہو گی کہ اس کے بعد انہیں وکیلوں نے صدر سپریم کورٹ بار بنا دیا۔ سب نے سیاست و حکومت میں اس طرح کے فیصلے کئے ہیں۔ پرویز ملک اب بھی ملک قیوم کے بھائی ہیں اب کیا ہوا ہے کہ انہیں اس ٹکٹ کا حقدار سمجھا گیا ہے۔ ان کی سگی بہن محترمہ یاسمین رحمان پیپلز پارٹی کی طرف سے پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھیں اب بھی ہیں، بے نظیر بھٹو کو شاید معلوم نہ تھا کہ وہ ملک قیوم کی بہن ہیں؟ شریف فیملی میں کریڈٹ صرف ان کی پسند و ناپسند ہے اور یہ پسند و ناپسند بدلتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف نے پرویز ملک کو اپنا اسسٹنٹ یا مشیر بھی بنا لیا تھا۔ میری ملاقات پرویز ملک سے ہے۔ وہ سلجھے ہوئے آدمی ہیں دھیمے اور دوستانہ مزاج والے ہیں۔ انہیں ان دونوں سیاسی نوازشوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرے لئے یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ اس وقت خواجہ سعد رفیق ، مرغوب احمد، نصیر بھٹہ بھی موجود تھے اور بھی ممبران اسمبلی ہوں گے۔ حیرت صرف خواجہ سعد رفیق کے لئے ہے وہ شہید خواجہ رفیق کے بیٹے ہیں۔ فطری طور پر سیاستدان اور لیڈر ہیں کہ بنیادی طور پر ورکر ہیں۔ ن لیگ میں شاید ان سے بہتر مقرر کوئی نہیں ۔!
لولے لنگڑے لوگ زندگی گزار جاتے ہیں تو ہماری لولی لنگڑی پارلیمنٹیس بھی زندگی گزار جاتی ہیں۔ یہ زندگی شرمندگی ہے ورنہ درندگی ہے کچھ لوگ شرمندگی سے بھی درندگی کا کام لینا جانتے ہیں، پچھلی پارلیمنٹ تو پھر بالکل ہی لولی لنگڑی تھی مگر وہ اپنی پوری عمر یعنی مدت گزار گئی۔ اس لولی لنگڑی پارلیمنٹ کے کئی ارکان اب بھی ایم این اے ہیں جمہوریت آنے کے بعد اب یہ بھی لولی لنگڑی پارلیمنٹ ہے تو پھر صحیح سالم پارلیمنٹ کب آئے گی ۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کی تاریخ ایسی ہی ہے۔ پارلیمنٹ سیاسی جرنیلوں اور سیاستدانوں کے ادوار میں ایک سی رہی ہے۔ یقیناً حمزہ شہباز کے خیال میں وہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی نہ تھی جس کے وزیراعظم نوازشریف تھے مگر وہ اپنی عمر ہی پوری نہ کر سکی۔ ع
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے
اگر وہ پارلیمنٹ جمہوری ہوتی اور کچی پکی نہ ہوتی تو جس وقت توڑی گئی تھی تو نہ ٹوٹتی۔ سارے پارلیمنٹیرین ڈٹ جاتے مگر ہمارے سیاستدانوں میں یہ جرا¿ت اہلیت، دیانت، استقامت اور غیرت ہی نہیں ہے کہ وہ ثابت قدمی دکھائیں، یکجہتی پیدا کریں عوام کےلئے کچھ کریں خزانے پر حق صرف ان کی فیملی کا نہیں ہے۔ خدا کرے اب سیاست پر بُرا وقت نہ آئے مگر مجھے ان سیاستدانوں سے کوئی امید نہیں ہے۔ جمہوریت کی بات کرنے والے اپنے رویے اور اپنی سیاست اور اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاتے کسی کی جرا¿ت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں یا کہیں بھی اپنے سربراہ سے اختلاف کر سکے۔ ہمارے ملک میں نہ جمہوریت آئی، نہ آمریت آئی۔ آمریت کے بھی جو ثمرات ہو سکتے تھے وہ عوام کو نہیں ملے۔ یہاں آمرانہ جمہوریت رہی ہے یا جمہوری آمریت۔حیرت ہے کہ خود حمزہ شہباز اسی لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ جس ٹکٹ پر نوازشریف تھوکتے بھی نہیں وہی ٹکٹ حاصل کر کے پرویز ملک پھولے نہیں سماتے۔ وہ پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھے اور تب پارلیمنٹ بہت لولی لنگڑی تھی ۔ پرویز ملک کو پہلے ٹکٹ نہ دیا گیا تھا جس کا افسوس ہم نے مل کر کیا تھا۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ وہ جسٹس (ر) اور اٹارنی جنرل ملک قیوم کے بھائی ہیں۔ جسٹس قیوم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نوازشریف کے کہنے پر بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ ملک قیوم میں کوئی خوبی تو ہو گی کہ اس کے بعد انہیں وکیلوں نے صدر سپریم کورٹ بار بنا دیا۔ سب نے سیاست و حکومت میں اس طرح کے فیصلے کئے ہیں۔ پرویز ملک اب بھی ملک قیوم کے بھائی ہیں اب کیا ہوا ہے کہ انہیں اس ٹکٹ کا حقدار سمجھا گیا ہے۔ ان کی سگی بہن محترمہ یاسمین رحمان پیپلز پارٹی کی طرف سے پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھیں اب بھی ہیں، بے نظیر بھٹو کو شاید معلوم نہ تھا کہ وہ ملک قیوم کی بہن ہیں؟ شریف فیملی میں کریڈٹ صرف ان کی پسند و ناپسند ہے اور یہ پسند و ناپسند بدلتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف نے پرویز ملک کو اپنا اسسٹنٹ یا مشیر بھی بنا لیا تھا۔ میری ملاقات پرویز ملک سے ہے۔ وہ سلجھے ہوئے آدمی ہیں دھیمے اور دوستانہ مزاج والے ہیں۔ انہیں ان دونوں سیاسی نوازشوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرے لئے یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ اس وقت خواجہ سعد رفیق ، مرغوب احمد، نصیر بھٹہ بھی موجود تھے اور بھی ممبران اسمبلی ہوں گے۔ حیرت صرف خواجہ سعد رفیق کے لئے ہے وہ شہید خواجہ رفیق کے بیٹے ہیں۔ فطری طور پر سیاستدان اور لیڈر ہیں کہ بنیادی طور پر ورکر ہیں۔ ن لیگ میں شاید ان سے بہتر مقرر کوئی نہیں ۔!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists



