عمران خان سیاستدان نہیں….؟ by Tayyaba Zia

9 February, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
صاف ستھری، پڑھی لکھی ،سچی کھری اور مہذب گفتگو پاکستان کے چند سیاستدانوں کو نصیب ہے۔میاں شہباز شریف ،اعتزاز احسن اورعمران خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے ہر جملے میں علم و ہنر، مشاہدات و تجربات کا رنگ جھلکتا ہے۔ ان کی تقاریر سے نئی نسل سیکھتی ہے۔ پاکستان میں چوہدری برادران اور شیخ رشید جیسے فنکار بھی موجود ہیں جن کی گفتگو سے ان کی سوچ اور بیک گراﺅنڈ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چودھری پرویز الہیٰ آج کل امریکہ گئے ہوئے ہیں اور اس قسم کی گفتگو فرما رہے ہیں جس سے ان کی تعلیمی بیک گراﺅنڈ ”ابل“ رہی ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ہم نے ضمنی الیکشن کےلئے شیخ رشید کو آگے کیا ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں۔ وہ ضمنی الیکشن تک باتیں کر کرکے ن لیگ کو تھکا دے گا۔دوسرا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل جائے اور یہ ہوا نکلے گی۔ صدر اوباما کے ناشتے کا ذکر کرتے ہوئے اس نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اوباما کے ناشتے میں دکھائی نہیں دئیے کیونکہ گوروں کے ناشتے میںسری پائے نہیں ہوتے“۔ پرویز الہیٰ کو اوباما کے ساتھ جس ناشتے کا زعم ہے وہ سفارشی ناشتہ تھا۔ واشنگٹن میں ”نیشنل پریئر بریک فاسٹ“کا اہتمام ایک عیسائی تنظیم کا قدامت پسند طبقہ کرتا ہے۔مختلف لابی کے لوگ مدعو کئے جاتے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پرویز الہیٰ کے ”پیروکاروں“ نے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پرویز الہیٰ کےلئے لابنگ فرم سے دعوت نامہ حاصل کر لیا۔ عیسایﺅںکی اس مذہبی تقریب میں صدر اوباما مہمان خصوصی تھے۔ پرویز الٰہی پادری نہ ہوتے ہوئے بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ یہ تھا وہ ”سفارشی ناشتہ“ جس میں عمران خان بھی دکھائی نہیں دئیے۔ امریکی پالیسیوں کے خلاف بولنے والے عمران خان کو امریکیوں کا ناشتہ ہضم نہیں ہونا تھا کہ اسے سیاست کے”ول فریب“ نہیں آتے۔ میں اس غیر سیاسی شخصیت کے ساتھ انٹرویو کےلئے وقت ٹی وی کی ٹیم کے ہمراہ لاہور میںان کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔ انٹرویو کے بعد عمران کو شوکت خانم ہسپتال پہنچنا تھا۔ عمران خان کے جو کرکٹ کے میدان کا ہیرو، شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے تاریخی منصوبوں کے خوابوں کی تعبیر ہے گھر کے لان میں بیٹھی ان کے سیاسی رویے پر غور کرتی رہی۔ میری والدہ کو میڈیکل ٹیسٹ کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال جانا پڑاتو اس کی شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں مغربی طرز کے اس عالیشان ہسپتال کے پیچھے عمران کی ماں کی دعا ہے۔ اللہ کسی کو کسی ہسپتال میں نہ لے جائے مگر شوکت خانم ہسپتال کو صرف دیکھنے کےلئے زندگی میں ایک بار وہاںضرور جانا چاہئے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال تعمیر کرنے والے ہیرو کو جب اپنے ہی ہسپتال میں مریض بن کر جانا پڑا تو اس کی بہنیں ہی نہیں اندرون و بیرون ملک اس کے چاہنے والے بھی رو دئے تھے۔ میری والدہ نے ہسپتال کی عمارت سے باہر نکلتے ہوئے ایکبار پھراسے مڑ کر دیکھا اور کہا ”عمران کو کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس نے صدقہ جاریہ کی وہ مثال قائم کر دی ہے جو اسے کبھی ڈوبنے نہیں دے گی۔ اللہ اسے ہر میدان میں زندہ رکھے گا“۔ عمران خان کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے والدہ بولیں ”ابرارالحق کی زندگی میں بھی ماں کے وفات کے بعد تبدیلی آئی تھی ۔۔۔میں ہنس دی اورکہا کہ تبدیلی لانے کےلئے بندے کی ماں نہیں ”میں“ مرنی چاہئے۔ ماں کی جدا ئی کے غم نے عمران کی شخصیت کو بدل کر رکھ دیا۔ اب وہ اپنی”میں“ کے ساتھ لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔ بہت بدل چکا ہے مگر اسکے باوجود ناقدین اسے مغرور سمجھتے ہیں ۔ ماں کی جدائی کے بعد عمران کے دل میں دنیا کی بے ثباتی نے گھر کر لیا۔ اس دوران اس کی کسی اللہ والے سے ملاقات ہوگئی۔صوفی بزرگ کی صحبت نے عمران خان کی زندگی کا رخ تبدیل کر دیا۔ عمران صاحب علم ہی نہیں اسے سیاست پر بھی عبور حاصل ہے مگر ”عیسائی ناشتہ“ کرنے والے سیاستدان یہ حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ جو لوگ پرانے عمران خان کو جانتے ہیں وہ اس نئے عمران کو مل کر حیران ہو جاتے ہیں۔ جب میں نے کہا کہ لوگ آپ کا احترام کرتے ہیں۔آپ کی ہر بات کو سچ سمجھتے ہیں۔ آپ پر اعتبار کرتے ہیںمگر آپ کو سیاستدان نہیں سمجھتے تو اس پرعمران نے کہاکہ اس کے رول ماڈل قائد اعظم ؒ ہیں اور قائدؒ ایک سچا کھرا دوٹوک بات والا انسان تھا۔پاکستان دینے والا قائد ؒ بھی اگر سیاستدان نہیں تو میں بھی سیاستدان نہیں ہوں۔ ہمارے سیاستدان اگر جھوٹ اور ہیر پھیر کو سیاست سمجھتے ہیں تو خدا مجھے ایسی سیاست سے محفوظ رکھے۔ میں قائد ؒ کی سیاست کو داغدار نہیں کرنا چاہتا۔ قائد ؒ پر لوگوں کے یقین کا یہ عالم تھاکہ وہ انگریزی میں تقریر فرماتے توان پڑھ بھی سانس روکے ساری تقریر سنتے اور کہتے کہ اگرچہ قائدؒ جو کہہ رہے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں۔ سو فیصد سچ کہہ رہے ہیں۔!!اور آج کے سیاست دان ہر زبان بول سکتے ہیں مگر سچائی کی زبان سے محروم ہیں ۔عمران کا دو ٹوک لہجہ دیکھ کر امریکہ کا دوسرا صدر جان آدم یاد آ جاتا ہے۔ امریکی صدر جان آدمJohn Adams امریکہ کا محمد علی جناح تھا۔اس نے امریکہ کو انگریز وںکی غلامی سے نجات دلائی تھی۔ فولادی ارادوںاوراصولوں کا مالک تھا۔ صدر جان آدم اور نامور دانشور تھامس جیفرسن میں جو کہ امریکہ کا تیسرا صدر تھا بے حد محبت تھی۔ دونوں کی موت 4 جولائی 1826 کو ایک ہی دن اور وقت پر ہونا ایک حیرت انگیز اتفاق تھا جبکہ امریکہ کا یوم آزادی بھی4 جولائی ہے۔ تھامس جیفرسن نہایت ذہین، دھیمے مزاج،کم گو شخصیت کاحامل تھا جبکہ جان آدم کا مزاج اسکے برعکس تھا۔ تھامس جیفرسن کے علاوہ صدر جان آدم کا ایک اور ہم عصر دانشور ڈاکٹر بینجمن فرینکلن Dr. Benjamin Franklin: بھی صدرجان آدم کی کھری سچی سیاست سے پریشان تھا مگر صدر جان آدم نے”غیر سیاسی لب و لہجے“ کے باوجود نہ صرف امریکہ کو انگریز سے آزادی دلاکر دنیا کی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا بلکہ امریکہ کا آئین بھی بنایا جو کہ دنیا کا بہترین آئین ہے۔ پاکستان کے محمد علی جناحؒ ہوں یا امریکہ کا صدرجان آدم ان لوگوں نے اپنا مزاج تبدیل نہیں کیا بلکہ اپنی اپنی اقوم کی تقدیر بدل کر رکھ دی ہے۔عمران خان کے ساتھ دوران انٹرویو مزید کیابات چیت ہوئی یاد نہیں کہ وہ جلدی میں تھے اور مسلسل کہے جا رہے تھے کہ انہیں شوکت خانم ہسپتال میں پیٹ سی ٹی سکینگ سسٹم کے افتتاح کےلئے فوری پہنچنا ہے۔ واقعی عمران خان ” صرف“ سیاستدان نہیں ہے۔!
Categories : Tayyaba Zia, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,