تین سال اور؟ by Riaz ur Rehman

8 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
پچھلے دو سال ہیں گزرے جیسے
تین اگلے بھی نہ گزریں ایسے
آخری ہو یہ حکومت ان کی
زندہ ہم رہ لیں گے جیسے تیسے
جیئیں خود فیصلے کرکے اپنے
تاکہ پورے ہوں ہمارے سپنے
نہیں درکار ”کریڈٹ“ ہم کو
کاش خود بانٹ لیں اپنے غم کو
صرف وعدوں پہ جےئیں گے کب تک
کج ارادوں پہ جئیں گے کب تک
کوئی امید تو بر آئے اب
کوئی صورت تو نظر آئے اب
لیجئے! پھر ہوئی بجلی مہنگی
اور ہو جائے گی روٹی مہنگی
شوق سے ڈیم بنائے بھارت
ہم نہ لیکن کریں ایسی جرات
ہم تو آپس میں رہیں بس لڑتے
روز اک ”جنگ بسنتی“ کرتے
بات اپنی نہ سنے امریکہ
ہم کو ”ڈومور“ کہے امریکہ
وہ ہمیں تھوڑی سی شاباش بھی دے
آخری ”سند“ لپیٹے رکھے
اپنی پولیس لگائے ڈنڈے
گھر میں بیٹھے رہیں ہو کر ٹھنڈے
نہ رہے خون میں باقی گرمی
جو بھی چاہے وہ کرے ہٹ دھرمی
لے کے دانتوں میں زباں لوگ جئیں
سوکھے دریا پہ کھڑے اشک پئیں
Categories : Riaz ur Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , ,