Phir Kisi Aur Ko Dosh Kion Deyn by Saeed Assi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں؟
اس سرعام ڈکیتی اور چوری سینہ زوری کیلئے میدان کیسے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگائیں اور اپنے شرمندہ ہونے کا اہتمام کریں۔ہم خیالوں کی لیگ کے چیف آرگنائزر لالہ نثار نے چارسدہ میں مشرف لیگ (آل پاکستان مسلم لیگ) کی تشکیل کیلئے ”صلائے عام“ کا اہتمام کیا۔ جنرل راشد قریشی نے تو شریک ہونا ہی ہونا تھا کہ جرنیلی آمریت کی ترجمانی کرتے کرتے وہ خود کو اسی آمریت کی کھال کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اہلِ قاف (مسلم لیگ ق) میں سے ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی اپنا بوریا بستر اٹھائے چارسدہ کے جرنیلی پڑاﺅ میں آن وارد ہوئے اور پھر سارے ہمنواﺅں نے جرنیلی راگ کی تان الاپتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کا ڈھانچہ کھڑا کردیا اور بیرسٹر محمد علی سیف کو اس کا عبوری چیئرمین مقرر کرکے وہیں سے نہ جانے کس چھومنتر کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کی رجسٹریشن کیلئے درخواست بھجوا دی۔
جس جرنیلی آمریت کا عوام نے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے کریا کرم کرکے، مردے کے کفن پھاڑ کر بولنے کا راستہ بھی بند کردیا تھا، اس نے سٹراند چھوڑتے چھوڑتے آخر اتنی قوت کہاں سے حاصل کرلی ہے کہ کپکپاتے پاﺅں کی لرزش کو تھام کر وہ نہ صرف پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کی کوششوں میں مگن نظر آرہی ہے بلکہ دیدے پھاڑتے ہوئے عوام کی جانب سے لائی گئی سلطانی ¿ جمہور کو للکارے بھی مار رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سے وابستہ وفاقی حکمرانوں کو کیا مورد الزام ٹھہرایا جائے کہ ان کے گلشن کا تو سارا کاروبار ہی جرنیلی آمریت کے صدقے چلا ہے جس کا صلہ دینے کیلئے جمہوریت اور آئین کے قاتل اور عدالتی عملداری کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے والے جرنیلی آمر کو گارڈ آف آنر پیش کرکے، فوجی مارچ پاسٹ کی سلامی دلوا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا گیا اور پھر کہیں پکڑے نہ جائیں کا خطرہ ٹال کر انہیں دھاڑنے، چنگھاڑنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کرکے ملک سے باہر فرار کرا دیا گیا جہاں بیٹھے اب وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ مجرم اعظم کے بجائے معززِ اعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اپنے آمرانہ دور اور موجودہ سلطانی¿ جمہور کا موازنہ کرا رہے ہیں۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن پر شرمسار ہونے کی بجائے اس کے جواز میں تاویلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیف جسٹس سے انصاف طلب کر رہے ہیں جو ان کے جرنیلی عتاب کی زد میں آ کر خود طالبِ انصاف رہے۔ بے شک یہ جرنیلی آمر احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے لائف سیونگ ڈرگ کا کام دینے والی پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں اور اسی کو اپنے جرنیلی دور کے مقابلہ میں عوامی مسائل میں اضافے کا طعنہ دے رہے ہیں پھر بھی آل پاکستان مسلم لیگ سے حکمران پیپلز پارٹی کو بھلا کیا لینا دینا ہے کہ….
ساحل کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حرف تو مسلم لیگ پرآ رہا ہے۔ نکاتی تو پاکستان کی خالق اسی جماعت کی ہو رہی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ مسلم لیگ ہی ہر جرنیلی آمر کے ہاتھ کا کھلونا بنتی ہے۔ مسلم لیگ کا کیا فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر تشکیل پاکستان ممکن ہوئی اور جرنیلی آمروں کے ہاتھوں میں اپنی گردن دینے والی مسلم لیگ کس فلسفے پر کاربند ہے۔ کنونشن لیگ، جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ (جناح لیگ) فنکشنل لیگ، قاف لیگ، ہم خیال لیگ اور اب توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے آل پاکستان جرنیلی مسلم لیگ۔ جرنیلی آمروں کی تھپکیوں میں پروان چڑھنے والی ان لیگوں نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا نام کتنا روشن کیا ہے؟۔ جس کی مدد سے قیام پاکستان کی منزل حاصل ہوئی، اس جمہوریت کو کتنا پروان چڑھایا ہے؟ اور تعمیر پاکستان کیلئے بانی پاکستان قائداعظم کے فلسفے کو کتنی تقویت پہنچائی ہے۔ قائد کی مسلم لیگ کے نام لیوا جائزہ لیں اور شرماتے جائیں۔ جن لیگیوں کو طالع آزماﺅں کے راستے کی دیوار بننا چاہئے تھا وہ یونینسٹوں سے بھی بدتر انداز میں مفادات کے پتلے نکلے۔ قائد کی جیب کے کھوٹے سِکّوں اور ان کی اولادوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ جھوٹ اور سچ کی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ پچھتاﺅے کا لفظ ہی ڈکشنری سے غائب ہوگیا ہے اور اصولوں کی پاسداری کے فلسفہ کا مفہوم ہی تبدیل ہوگیا ہے۔
اگر لیگ ایک ہوتی اور لیگی ایک ہی لیگ کا سبز ہلالی پرچم تھامے ہوتے تو آج قائد کے پاکستان کی جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بن چکی ہے، سلطانی جمہور جتنی شرمندہ اور بھیگی بلی بنی بیٹھی ہے اور آئین ہی کیا، ملک تک کو توڑنے والے بدبخت طالع آزماﺅں کے سینے جس دیدہ دلیری کے ساتھ پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات کے ضمنی انتخابی معرکے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے لیگی قائدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے طوفان سے باہر نکال کر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا اس کی نوبت آتی؟پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں اور اگر اب بھی سنبھلنے کا جذبہ مفقود ہے تو بامشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی آئی کو ٹالنے کیلئے جل تُو جلال تُو کا ورد کیوں کریں۔ زندہ باد کے شور میں اچھا کیا ہے، بُرا کیا ہے، کون جانتا ہے، کون پہچانتا ہے، سب چلتا ہے بھائی۔
آخر میں اپنے ان تمام معزز و محترم قارئین کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں جنہوں نے میری ذاتی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک کالم کا سلسلہ منقطع ہونے پر پل پل میری خبرگیری کی اور میری صحت و تندرستی کی دعاﺅں کے انبار لگا دیئے۔
Kewey Kia Janey? by Khalid Ahmad
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
کوے کیا جانیں؟
پیڑ زمین میں قدم جمائے یہ سارے تماشے دیکھتے دیکھتے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے! حتیٰ کہ راستے کا نشان بن جاتاہے اور لوگ اس پیڑ کی نشانی دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں ع
تیز ترک گام زن! منزل ما دُور نیست
ہم نے ابھی ایک پیڑ تلے سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک انتہائی ”ہوشیار پرندہ“ ہمارا ارادہ تاڑ گیا اور اس سے پہلے کہ ہم ”سایہ نشین“ ہوتے، وُہ اُس پیڑ کی مناسب ترین شاخ کا انتخاب کر کے ”شجر نشین“ ہوگیا اور ہمارے ”گنجِ گراں مایہ “ پر انتہائی ناگوار بدبودار ”تڑکا“ لگا کر اُڑ گیا اور ہم ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے ہی جھنجھلا کر اپنی راہ لگ لئے اور ”کارواں“ کے غبار کے ساتھ غبار ہوگئے!
آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ وہی ”پرندہ“ ہم سے پہلے اُس ”بوڑھے برگد“ کی ایک شاخ پر ہمارا منتظر بیٹھا ہے، ہم نے ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے اُسے دیکھ اور پہچان لیا! اُس نے ایک دوبار کائیں کائیں بھی کی، مگر ہم نے صرف ”شاخ“ کا دھیان رکھا! حتیٰ کہ وہ اُڑا اور دوسرے درخت کی پھنگ پر جا بیٹھا! اب حال یہ ہے کہ وہ ”درخت“ اپنی ”پیشانی“ کی سیاہی کی جگہ ان حضرت کی ”سیاہ روئی“ کے سبب پہچانے جایا جانے لگا!
کوے ہیں سب دیکھے بھالے
چونچ بھی کالی، پر بھی کالے
رات گئے پیڑ سو جاتا ہے تو بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے آتے ہیں اور ہماری نیند خراب کر کے گزر جاتے ہیں! لیکن ہمیں تو راتیں جاگ کر گزار دینے کی عادت سی ہے اور ہم اسے ”الارم“ سمجھ کر غیرملکی چینل مانیٹر کرنے کے کام سے لگ جاتے ہیں!
ممالک غیر کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ”امریکہ“ کا نام جگمگانے لگتا ہے اور پھر امریکہ کا دورہ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ٹوپی امریکہ کی خاتونِ اول محترمہ جیکولین کینیڈی کے سر پر جھلملاتی نظر پڑتی ہے! اسی دورے میں امریکی حکام نے جناب محمد ایوب خان سے ”نوائے وقت“ کے بارے میں کچھ کرنے کی ”تجویز“ پیش کی تھی تو جناب محمد ایوب خان نے فرمایا تھا، ”نوائے وقت‘! پاکستان کے کان اور آنکھیں ہیں!“ نوائے وقت جو کچھ دیکھتا ہے اُسے خلوصِ نیت کے ساتھ پرکھتا ہے جو کچھ وُہ لکھتا ہے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لکھتا ہے! میں ”پاکستان کے کانوں اور آنکھوں‘ کو بند نہیں کر سکتا!“
یہ وُہ صدر ایوب ہیں، جنہیں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار قومی ملکیت میں لینے کا ”اعزاز“ حاصل تھا! اور وُہ یہ دور ہے، جس میں جنابِ مجید نظامی ”نوائے وقت“ کی ادارت فرما رہے ہیں!
امریکہ ان دنوں اپنے ”فرنٹ مینوں“ کے ساتھ ایک بار پھر ”نوائے وقت“ پر ”حملہ آور“ ہے مگر وہ جانتا ہے کہ ”فرنٹ مینوں“ کی بھرتی سے کہیں بہتر ہے یہ بات ہوتی! کہ امریکہ پاکستان کےلئے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے دوران پاکستان کے مفادات نظرانداز کرنے کی حماقت ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ باوقار اور باسپاس تعلقات اُستوار کرے تاکہ امریکہ ”نوائے وقت“ کےلئے بھی ایک ”پاکستان دوست ملک“ کی حیثیت سے محترم ہو جائے! مگر کیا کیجئے کہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اپنی عقل کام کرتے نہ پاکر دوسروں کی حماقت سے فائدہ اٹھانے کے کام سے لگ چکا ہے!
کوے کیا جانیں؟ کہ فاختاﺅں نے ان کےلئے کیا کیا دُکھ جھیلے ہیں!
Punjab Mien Phir Dhemaker? by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پنجاب میں پھر دھماکے؟
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!
Beradran-e-Qoom… by Riaz ur Rehman Sager
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
برادران قوم! لیڈران ملک!!
راستہ زندگی کا صاف چنیں
گندگی صاف کرکے ذہنوں کی
کریں تزئین دل کے صحنوں کی
آئینے سوچ کے کریں صیقل
ان میں پھر دیکھیں مسئلوں کا حل
برے ماضی کے داغ دھو ڈالیں
اپنے اپنے دماغ دھو ڈالیں
اب نئے کچھ چراغ روشن ہوں
روح اجلی دماغ روشن ہوں
مل کے بیٹھیں نواز‘ زرداری
ساتھ دے ان کا قوم یہ ساری
وہ اگر مل کے ڈیم بنوائیں
جو مخالف ہیں ان کو سمجھائیں
کریں بھارت سے کھل کے باتیں صاف
ساری دنیا سے مانگ لیں انصاف
لوح آئین کو کریں مضبوط
سوچ مثبت ہو قوم کی مخلوط
سارے باہم فساد بند کریں
راہ بغض و عناد بند کریں
ایک مرکز پہ جمع ہو جائیں
اب تو کچھ بیج ایسے بو جائیں
جن سے فصل بہار پیدا ہو
اصل جشن بہار برپا ہو
شوق سے تم نچاو گھوڑوں کو
دوڑنا بھی سکھاو گھوڑوں کو
تم پہ یہ نسل نو بھی ناز کرے
کوئی دشمن نہ ساز باز کرے
اپنی طاقت کو مجتمع کر لو
اب تو روشن کوئی شمع کر لو
Haq Tu Ye Hai K Haq Ada Na Hua! by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا!
But Rehi Hain Ganderiyan by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
بٹ رہی ہیں گنڈیریاں
پی سی بی کھلاڑیوں کا جرم بھی بتائے by محمد صدیق
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
بی سی پی نے دورہ آسٹریلیا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور کھلاڑیوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکات کی وجہ سے ایک سخت ایکشن لیتے ہوئے یوسف اور یونس خان پر غیر معینہ مدت کیلئے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی جب کہ رانا نوید اور کپتان شعیب ملک پر ایک ایک سال پاکستان کیلئے کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی لگائی۔ اسی طرح شاہد آفریدی، کامران اکمل، عمر اکمل پر 30 لاکھ جرمانہ تک سزا سنائی کرکٹ بورڈ نے سزائیں تو سنا دیں مگر جرم نہیں بتایا اگر بی سی پی جرم بتا دیتا تو پاکستانی کرکٹ شائقین کا غصہ شاید تھوڑا ٹھنڈا ہو جاتا اتنی بڑی بڑی سزاﺅں سے لگتا ہے کہ پاکستانی کرکٹروں نے شاید کوئی قتل کر دیا ہے اور عوام کی رائے میں جن لوگوں پر پابندی لگنی چاہئے تھی وہ خود دوسروں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ اعجاز بٹ ہر سکینڈل یا کوئی اہم فیصلہ بڑے زور شور سے شروع کرتے ہیں مگر جب میڈیا اور عوام ثبوت مانگتے ہیں تو پھر بیک فٹ پر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں میرے نزدیک کھلاڑیوں کو اتنی بڑی بڑی سزائیں دینا بغیر کسی وجہ اور ثبوت کے زیادتی ہے پاکستانی ٹیم پہلے ہی مسلسل پے در پے شکستوں سے انڈر پریشر ہے اور سونے پر سہاگہ اتنی بڑی سزائیں پاکستان کی رہی سہی کرکٹ کو مزید تباہ کر دے گی۔ عبدالقادر کا کرکٹ میں ڈسپلن پر لیکچر سن کر ہنسی آئی۔ پاکستانی کرکٹ تاریخ میں عبدالقادر سے زیادہ ان ڈسپلنڈ کوئی کرکٹر پیدا نہیں ہوا تقریباً ہر دورے پر عبدالقادر کے ڈسپلن کے لحاظ سے لطیفے مشہور ہیں۔ پوری قوم کی اعجاز بٹ سے درخواست ہے کہ خدارا پاکستان کے نام کی لاج رکھیں پوری دنیا میں پاکستانی کرکٹ کو ذلیل و رسوا نہ کریں۔ پاکستان کے پاس جو محدود کرکٹ رہ گئی ہے اسے تباہ نہ کیا جائے۔ اور کھلاڑیوں کا جرم بھی بتایا جائے۔
راوی پار سکول میں چند لمحے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
میاں عبدالقیوم فیروز پور روڈ سے فیروز والا اٹھ آیا ہے، فیروز والا شاہدرہ کا محلہ لگتا ہے مگر شیخوپورہ کا گاو¿ں ہے یہاں لاہور اور شیخوپورہ سے بھی بچے بچیاں آتے ہیں۔ شاہدرہ میں میاں ذکا سکول چلاتے ہیں یہ سارے بھائی تعلیم و تدریس سے عشق کرتے ہیں ایک نئے نظام تعلیم کی تلاش میں یہ میاں برادران ہمسفر ہیں۔ سیاست کے میاں برادران بالخصوص میاں شہبازشریف تعلیم کے میدان میں بڑے جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ وہ شریف برادران کے طور زیادہ معروف ہیں۔ میاں صاحب تو بہت ہیں میاں برادران صرف شریف برادران ہیں جس طرح چودھری صاحبان بہت ہیں، چودھری برادران صرف چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ اب تعلیم کے میاں برادران کہاجائے گا تو دھیان شاہدرہ کے میاں محمود، میاں ذکا اور میاں عبدالقیوم کی طرف جائے گا ان کے سکول ان کے والد محترم کی آبائی زمین پر واقع ہیں۔ میاں عبدالقیوم کے سکول کا سنگ بنیاد 1994ءمیں ان کی والدہ محترمہ نے رکھا تھا اور یہ فخر میاں عبدالقیوم کے وجود میں وجد کرتا ہے۔ ماں کی گود بچے کے لئے پہلا سکول ہے۔ یہ آرزو میاں صاحب کو بے تاب رکھتی ہے کہ وہ اس ادارے کو علاقے کا بہترین سکول بنا دیں اتنے وسیع و عریض علاقے میں کوئی دیہاتی سکول میں نے نہیں دیکھا۔ میرا سکول موسیٰ خیل میانوالی میں حد نظر تک پھیلا ہوا تھا کہ وہاں کوئی چار دیواری ہی نہ تھی۔ میاں صاحب کے جذبوں کی سادگی دیکھیں کہ یہاں میرے جیسے خواب دیکھنے والے درویش قلمکار اور اس کا آئیڈیل بھائی میاں محمود مہمان خصوصی تھے۔ ہم دونوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ طالب علم سپاہیوں کے ارادے بلند تھے میں نے ایک کمانڈر فوجی سٹوڈنٹ سے کہا کہ مارشل لاءکبھی نہ لگانا مگر سیاستدانوں کی ”جمہوری بے یقینیوں “ پر نظر ضرور رکھنا۔ زین العابدین پریڈ کمانڈر تھا وہ اتنی بار مجھ سے ایوارڈ لینے کے لئے آیا کہ میں نے کہہ دیا کہ سارے انعام تم ہی لو گے۔ میاں عبدالقیوم نے اس کے والد کو بہترین والدین کہہ کر سٹیج پر بلا لیا ۔ مصطفیٰ صاحب سے گزارش ہے کہ والدین تو ماں باپ مل کر ہوتے ہیں۔ ماں کی بھی پذیرائی ہونا چاہئے تھی۔ میاں عبدالقیوم کی اہلیہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں سچ ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے مگر وہ یہ بھی خیال رکھیں کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں۔ نازش اور مہوش نے بہت خوبصورت کمپیئرنگ کی۔ مجھے آخر تک پتہ نہیں چلا کہ ان کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ آواز کا ایک راز ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراز لگ رہی تھیں۔ لٹریری سوسائٹی کی مس سلمٰی نورین اور مس فریحہ بہت سرگرم تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈرامہ لکھا ہے میمونہ جٹ نے اور ڈاکٹر عافیہ کا کردار حنا نے بہت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اس کے ڈائیلاگ سن کر کئی عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ بہت محترم بچی ایوارڈ لینے آئی تو میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو سب سے ہم کلام تھے کہ تمہاری غیرت و حمیت کہاں سو گئی ہے۔ اس ملک کے حکمران سیاستدان اور جرنیل امریکہ سے کیوں ڈرتے ہیں۔ قمر صاحب نے پی ٹی شو میں اور کراٹے ماسٹر منور بھٹی نے بچوں اور بچیوں سے ایسی پرفارمنس کرائی کہ دل خوش ہو گیا۔ اس سکول میں کوئی ایسا منظر دیکھنے کو نہ ملا کہ جسے دیکھنے کو دل نہ چاہا ہو۔ سب خواتین و حضرات نے خوب انجوائے کیا۔ یہاں میلے کا سماں تھا جیسے آج عید کا دن ہو، چاروں صوبوں کا ڈانس پاکستان کی مکمل ثقافت کا عکاس تھا ۔ مس شہلا نے اس میں قومی رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیچر اکمل ہمدانی کے لئے میاں صاحب نے بہت تعریف کی سارا سٹاف تعلیمی فروغ کے لئے یکجہتی کا پیکر بنا ہوا تھا۔ سکول کی پرنسپل مس انیلہ علی کیانی بہت قابل اور سنجیدہ خاتون ہیں وہ مستقل استانیوں جیسی شخصیت رکھتی ہیں مگر سٹاف ان کے ساتھ سینئر دوست کی طرح رہتا ہے۔
میاں عبدالقیوم اپنے سکول کے لئے ہر وقت سرگرم ہیں وہ ہر روز نئے سرے سے سکول میں آتے ہیں۔ سارا وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا سب کچھ سکول پر لگا دیا ہے، ان کی رہائش بھی سکول میں ہے وہ چھٹی کے بعد بھی سکول میں ہوتے ہیں
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اس شاندار تعلیمی ادارے کے لئے حکومت نے کچھ نہیں کیا کئی وزیر شذیر آئے اور دعوے کر کے چلے گئے جو سڑک سکول کی طرف جا رہی ہے وہ میرے دل کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے مگر سکول میں داخل ہوتے ہی ایک نیا جہاں سامنے ہوتا ہے۔ ایجوکیشن ٹاسک فورس کے چیئرمین راجہ انور سینیٹر پرویز رشید اور ایم پی اے عارفہ خالد اس سکول میں آئیں اس کے بعد شہبازشریف خود یہاں آئیں میں میزبان کے سکول میں موجود رہوں گا۔ مہمان کے طور پر یہی لفظ و خیال میاں صاحب کی نذر کرتا ہوں۔
خواتین حضرات نے سوال و جواب کی اس محفل سے بڑا لطف اٹھایا جو ساتویں جماعت کی بچیوں نے ٹیچر نرگس کی نگرانی میں پیش کیا۔ استانی بھی بچی تھی۔ ٹیچر برطانیہ کہاں ہے؟ بچی ، پتہ نہیں….ٹیچر نالائق کرسی پر کھڑی ہو جاو۔ بچی کیا وہاں سے نظر آ جائے گا۔؟
چیف منسٹر ہاوس 90 ، مال لاہور سے کے پی ایس سکول فیروز والا بہت دور ہے کرسی پر بیٹھ کر تو بالکل نظر نہیں آتا۔
ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان by Prof Muhammad Muzafar Mirza
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پاکستان نعمت خداوندی ہے اور اس کے قیام سے لیکر آج تک اس مرحلے کی جانب آج تک توجہ نہیں کی گئی اور نہ یہ بتانے کیلئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا اور اس کی بقا مستقبل، استحکام اور سالمیت کے تقاضے کیا ہیں۔ پاکستان کا قیام اسلامیان برصغیر کی دوقومی نظریئے کی فتح کی صورت میں عمل میں آیا جس نے یہ ثابت کیا کہ شرار بولہبی اورچراغ مصطفوی ﷺ میں کیا امتیاز ہے، پاکستان کا مطلب لا الٰہ الا اللہ کیوں تھا۔ ہم نے انگریزی حکومت اور ہندو اکثریت کے استبدادیت پسندانہ، فسطائیت پرستانہ مطلق العنانیت اور جوروستم سے آزادی کیوں طلب کی، ہندوجاتی کیوں مصر تھی کہ انگریز ہندوستان خالی کر دے اور حکومت ہندو اکثریت کے حوالے کر جائے تاکہ وہ مسلمانان ہند کو مطیع منقاد بنا لے اور پھر ان سے دس صدیوں کی حکومت کا بدلہ چکائے۔ مگر ان کے حسین خواب شرمندہ تعبیر اس لئے نہ ہو سکے کہ اسلامیانِ ہند کو حضرت قائداعظمؒ کی پُرخلوص پہاڑ کی طرح اٹل بے پایاں دیانت و امانت اور بے پناہ صلاحیتوں کی مالک سیاسی اور قومی شخصیت میسر تھی جس نے انگریزوں کی ہر چال اور مکاری کو خاک میں ملا دیا۔ ہندو کی ہر فریب کاری، ہر حربے اور ہر منصوبے کو اڑا کر رکھ دیا تھا۔
قیامِ پاکستان کی تاریخ، تقریباً ایک صدی کے کرب انگیز اور دلدوز حالات اور واقعات کی آئینہ دار ہے، مسلمانانِ ہند کو آزادی و خودمختاری کے حصول کیلئے جس خاک و خون کے سمندر سے گزرنا پڑا ۔ ان گنت قربانیاں دینا پڑیں اور پھر آزادی کی دہلیز تک رسائی ہوئی ایک خونچکاں داستان ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ہمیں یہ بھی فرصت میسر نہ آئی کہ ہم اپنی جواں نسل کو جنہوں نے پاکستان بنتا تو نہیں دیکھا فقط کتابوں میں تخلیق ہوتا ہوا پڑھا اپنے بزرگوں اور استادوں سے پاکستان کی تحریک کے مراحل کو سنا ان کے قلب و جگر میں قیام پاکستان کے اصل مقاصد اور اصل حقائق اصل وجوہات اور اسباب و علل کی پہچان کرا سکتے۔ ہماری سیاسی حکومتوں نے ان کو کھوکھلے نعرے تو دئیے۔ کلاشنکوفی نظریات سے ہمکنار تو کیا، لب آزاد، کیبل اور الیکٹرونک میڈیا کی عریانیت و فحاشی کی تربیت سے آشنا تو کیا، علم و ادب کے گہواروں سے نفرت تو ضرور سکھائی مگر پاکستان سے محبت و خلوص اور اس مادرِ وطن سے رشتہ قلب استوار کرنے کی نہ تو تلقین کر سکی اور نہ ہی تربیت و تعلیم کا بندوبست کر سکی۔ مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے روحانی مسرت و انبساط حاصل ہو رہی ہے کہ پورے پاکستان میں فقط ایک ادارہ ایسا ہے جسے پاکستان کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان، جس کے دو ادارے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ، قوم کے بچوں اور بچیوں کو روزانہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی محبت کے درس سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ بہ صمیم قلب دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ جناب مجیدنظامی صاحب کو عمرِ خضر اور، صحت تندرستی عطا فرمائیں اور انہیں حاسدین، مخالفین اور متعصبین سے اپنی پناہ میں رکھیں۔ کیونکہ انہی کی نگرانی اور نگہبانی کی وجہ سے آج پاکستان حضرت قائداعظمؒ، حضرت علامہ اقبالؒ کے پیغامات کونے کونے تک پہنچ رہے ہیں اور پاکستان جاگ رہا ہے۔ میں یہاں اس ادارے کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد کے علاوہ دو نوجوان مجاہدین کو خراجِ عقیدت و تحسین پیش کرنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں جو شب و روز قومی اور نظریاتی امور کے حوالے سے ہر لمحہ مستعد اور برقی رفتار سے مزین ہیں یعنی جناب شاہد رشید اور جناب رفاقت ریاض صاحب قوم ان کے لئے بھی دعا کرے کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنا حفظ و امان عطا فرمائے۔ آمین!
گذشتہ حکومتوں نے اس قلعہ اسلام، اس امانتِ قائداعظمؒ کی سالمیت و استحکام کیلئے کیا کچھ کیا وہ یہی کچھ ہے کہ صوبائیت کے زہریلے نعرے عطا ہوئے قومی تشتت و افتراق کے ابواب کھول دئیے گئے۔ مذہبی منافرت و منافقت کے بیج بوئے گئے، قوم کے معاشرتی سیاسی اور علمی اداروں کا جنازہ نکالا گیا۔ کیا کیا زخم قلب پاکستان پر نہیں لگائے گئے۔ پھر بھی ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں ہم نے حضرت قائداعظمؒ کے فرمان، ایمان، اتحاد، تنظیم پر کتنا عمل کیا۔ سوالیہ نشان ہے؟ حضرت علامہ اقبالؒ نے صحیح فرمایا تھا۔ ….
آج بھی ہو جو براہیم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پیدا
اغواء۔۔۔چھترول اور بڑے ڈاکو ۔۔۔ by Tayyaba Zia
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook



