Phir Kisi Aur Ko Dosh Kion Deyn by Saeed Assi

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں؟

سعید آسی ـ
عوام کی جانب سے دھتکارے گئے جرنیلی آمرمیں آخر اتنی ہمت کیسے پیدا ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کو ہائی جیک کرنے کی پوری دیدہ دلیری کے ساتھ منصوبہ بندی کریں اور یوم قرارداد پاکستان (23مارچ) سے ایک ہفتہ قبل آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر قائد کی جماعت مسلم لیگ کو ”پٹے“ پر حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے روبرو درخواست داخل کرائیں۔ گجرات میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے معرکے میں باہم دست و گریباں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین کو شائد اس کا احساس نہیں ہوا ہوگا کہ بے تاب ”سوہنی“ کو کچے گھڑے پر تیرنے کا جھاکا دے کر ڈبونے اور بے خبر سسّی کا بھنبور لوٹنے کے اسباب پیدا کئے جارہے ہیں۔
اس سرعام ڈکیتی اور چوری سینہ زوری کیلئے میدان کیسے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگائیں اور اپنے شرمندہ ہونے کا اہتمام کریں۔ہم خیالوں کی لیگ کے چیف آرگنائزر لالہ نثار نے چارسدہ میں مشرف لیگ (آل پاکستان مسلم لیگ) کی تشکیل کیلئے ”صلائے عام“ کا اہتمام کیا۔ جنرل راشد قریشی نے تو شریک ہونا ہی ہونا تھا کہ جرنیلی آمریت کی ترجمانی کرتے کرتے وہ خود کو اسی آمریت کی کھال کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اہلِ قاف (مسلم لیگ ق) میں سے ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی اپنا بوریا بستر اٹھائے چارسدہ کے جرنیلی پڑاﺅ میں آن وارد ہوئے اور پھر سارے ہمنواﺅں نے جرنیلی راگ کی تان الاپتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کا ڈھانچہ کھڑا کردیا اور بیرسٹر محمد علی سیف کو اس کا عبوری چیئرمین مقرر کرکے وہیں سے نہ جانے کس چھومنتر کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کی رجسٹریشن کیلئے درخواست بھجوا دی۔
جس جرنیلی آمریت کا عوام نے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے کریا کرم کرکے، مردے کے کفن پھاڑ کر بولنے کا راستہ بھی بند کردیا تھا، اس نے سٹراند چھوڑتے چھوڑتے آخر اتنی قوت کہاں سے حاصل کرلی ہے کہ کپکپاتے پاﺅں کی لرزش کو تھام کر وہ نہ صرف پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کی کوششوں میں مگن نظر آرہی ہے بلکہ دیدے پھاڑتے ہوئے عوام کی جانب سے لائی گئی سلطانی ¿ جمہور کو للکارے بھی مار رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سے وابستہ وفاقی حکمرانوں کو کیا مورد الزام ٹھہرایا جائے کہ ان کے گلشن کا تو سارا کاروبار ہی جرنیلی آمریت کے صدقے چلا ہے جس کا صلہ دینے کیلئے جمہوریت اور آئین کے قاتل اور عدالتی عملداری کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے والے جرنیلی آمر کو گارڈ آف آنر پیش کرکے، فوجی مارچ پاسٹ کی سلامی دلوا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا گیا اور پھر کہیں پکڑے نہ جائیں کا خطرہ ٹال کر انہیں دھاڑنے، چنگھاڑنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کرکے ملک سے باہر فرار کرا دیا گیا جہاں بیٹھے اب وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ مجرم اعظم کے بجائے معززِ اعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اپنے آمرانہ دور اور موجودہ سلطانی¿ جمہور کا موازنہ کرا رہے ہیں۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن پر شرمسار ہونے کی بجائے اس کے جواز میں تاویلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیف جسٹس سے انصاف طلب کر رہے ہیں جو ان کے جرنیلی عتاب کی زد میں آ کر خود طالبِ انصاف رہے۔ بے شک یہ جرنیلی آمر احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے لائف سیونگ ڈرگ کا کام دینے والی پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں اور اسی کو اپنے جرنیلی دور کے مقابلہ میں عوامی مسائل میں اضافے کا طعنہ دے رہے ہیں پھر بھی آل پاکستان مسلم لیگ سے حکمران پیپلز پارٹی کو بھلا کیا لینا دینا ہے کہ….
ساحل کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حرف تو مسلم لیگ پرآ رہا ہے۔ نکاتی تو پاکستان کی خالق اسی جماعت کی ہو رہی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ مسلم لیگ ہی ہر جرنیلی آمر کے ہاتھ کا کھلونا بنتی ہے۔ مسلم لیگ کا کیا فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر تشکیل پاکستان ممکن ہوئی اور جرنیلی آمروں کے ہاتھوں میں اپنی گردن دینے والی مسلم لیگ کس فلسفے پر کاربند ہے۔ کنونشن لیگ، جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ (جناح لیگ) فنکشنل لیگ، قاف لیگ، ہم خیال لیگ اور اب توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے آل پاکستان جرنیلی مسلم لیگ۔ جرنیلی آمروں کی تھپکیوں میں پروان چڑھنے والی ان لیگوں نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا نام کتنا روشن کیا ہے؟۔ جس کی مدد سے قیام پاکستان کی منزل حاصل ہوئی، اس جمہوریت کو کتنا پروان چڑھایا ہے؟ اور تعمیر پاکستان کیلئے بانی پاکستان قائداعظم کے فلسفے کو کتنی تقویت پہنچائی ہے۔ قائد کی مسلم لیگ کے نام لیوا جائزہ لیں اور شرماتے جائیں۔ جن لیگیوں کو طالع آزماﺅں کے راستے کی دیوار بننا چاہئے تھا وہ یونینسٹوں سے بھی بدتر انداز میں مفادات کے پتلے نکلے۔ قائد کی جیب کے کھوٹے سِکّوں اور ان کی اولادوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ جھوٹ اور سچ کی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ پچھتاﺅے کا لفظ ہی ڈکشنری سے غائب ہوگیا ہے اور اصولوں کی پاسداری کے فلسفہ کا مفہوم ہی تبدیل ہوگیا ہے۔
اگر لیگ ایک ہوتی اور لیگی ایک ہی لیگ کا سبز ہلالی پرچم تھامے ہوتے تو آج قائد کے پاکستان کی جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بن چکی ہے، سلطانی جمہور جتنی شرمندہ اور بھیگی بلی بنی بیٹھی ہے اور آئین ہی کیا، ملک تک کو توڑنے والے بدبخت طالع آزماﺅں کے سینے جس دیدہ دلیری کے ساتھ پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات کے ضمنی انتخابی معرکے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے لیگی قائدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے طوفان سے باہر نکال کر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا اس کی نوبت آتی؟پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں اور اگر اب بھی سنبھلنے کا جذبہ مفقود ہے تو بامشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی آئی کو ٹالنے کیلئے جل تُو جلال تُو کا ورد کیوں کریں۔ زندہ باد کے شور میں اچھا کیا ہے، بُرا کیا ہے، کون جانتا ہے، کون پہچانتا ہے، سب چلتا ہے بھائی۔
آخر میں اپنے ان تمام معزز و محترم قارئین کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں جنہوں نے میری ذاتی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک کالم کا سلسلہ منقطع ہونے پر پل پل میری خبرگیری کی اور میری صحت و تندرستی کی دعاﺅں کے انبار لگا دیئے۔
Categories : Saeed Assi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Kewey Kia Janey? by Khalid Ahmad

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

کوے کیا جانیں؟

خالد احمد ـ
پیڑ اور پرندے ایک ازلی رشتے میں بندھے ہیں! پیڑ جہاں سر نکالتا ہے وہاں جڑیں بھی چھوڑتا ہے! جڑیں جتنی گہری ہوتی چلی جاتی ہیں، پیڑ اتنا ہی اُونچا اور گھنیرا ہوتا چلا جاتا ہے! گھنیرے درختوں کی شاخیں کچھ پرندوں کےلئے ”رین بسیرا“ مہیا کرتی ہیں، کچھ پرندوں کےلئے گھونسلے تعمیر کرنے کےلئے مناسب ”دو شاخے“ پیش کرتی ہیں! اور ”کھٹ بڑھئی“ ان کے تنوں میں ”کھوہ“ کھود کر اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں!
پیڑ زمین میں قدم جمائے یہ سارے تماشے دیکھتے دیکھتے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے! حتیٰ کہ راستے کا نشان بن جاتاہے اور لوگ اس پیڑ کی نشانی دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں ع
تیز ترک گام زن! منزل ما دُور نیست
ہم نے ابھی ایک پیڑ تلے سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک انتہائی ”ہوشیار پرندہ“ ہمارا ارادہ تاڑ گیا اور اس سے پہلے کہ ہم ”سایہ نشین“ ہوتے، وُہ اُس پیڑ کی مناسب ترین شاخ کا انتخاب کر کے ”شجر نشین“ ہوگیا اور ہمارے ”گنجِ گراں مایہ “ پر انتہائی ناگوار بدبودار ”تڑکا“ لگا کر اُڑ گیا اور ہم ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے ہی جھنجھلا کر اپنی راہ لگ لئے اور ”کارواں“ کے غبار کے ساتھ غبار ہوگئے!
آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ وہی ”پرندہ“ ہم سے پہلے اُس ”بوڑھے برگد“ کی ایک شاخ پر ہمارا منتظر بیٹھا ہے، ہم نے ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے اُسے دیکھ اور پہچان لیا! اُس نے ایک دوبار کائیں کائیں بھی کی، مگر ہم نے صرف ”شاخ“ کا دھیان رکھا! حتیٰ کہ وہ اُڑا اور دوسرے درخت کی پھنگ پر جا بیٹھا! اب حال یہ ہے کہ وہ ”درخت“ اپنی ”پیشانی“ کی سیاہی کی جگہ ان حضرت کی ”سیاہ روئی“ کے سبب پہچانے جایا جانے لگا!
کوے ہیں سب دیکھے بھالے
چونچ بھی کالی، پر بھی کالے
رات گئے پیڑ سو جاتا ہے تو بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے آتے ہیں اور ہماری نیند خراب کر کے گزر جاتے ہیں! لیکن ہمیں تو راتیں جاگ کر گزار دینے کی عادت سی ہے اور ہم اسے ”الارم“ سمجھ کر غیرملکی چینل مانیٹر کرنے کے کام سے لگ جاتے ہیں!
ممالک غیر کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ”امریکہ“ کا نام جگمگانے لگتا ہے اور پھر امریکہ کا دورہ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ٹوپی امریکہ کی خاتونِ اول محترمہ جیکولین کینیڈی کے سر پر جھلملاتی نظر پڑتی ہے! اسی دورے میں امریکی حکام نے جناب محمد ایوب خان سے ”نوائے وقت“ کے بارے میں کچھ کرنے کی ”تجویز“ پیش کی تھی تو جناب محمد ایوب خان نے فرمایا تھا، ”نوائے وقت‘! پاکستان کے کان اور آنکھیں ہیں!“ نوائے وقت جو کچھ دیکھتا ہے اُسے خلوصِ نیت کے ساتھ پرکھتا ہے جو کچھ وُہ لکھتا ہے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لکھتا ہے! میں ”پاکستان کے کانوں اور آنکھوں‘ کو بند نہیں کر سکتا!“
یہ وُہ صدر ایوب ہیں، جنہیں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار قومی ملکیت میں لینے کا ”اعزاز“ حاصل تھا! اور وُہ یہ دور ہے، جس میں جنابِ مجید نظامی ”نوائے وقت“ کی ادارت فرما رہے ہیں!
امریکہ ان دنوں اپنے ”فرنٹ مینوں“ کے ساتھ ایک بار پھر ”نوائے وقت“ پر ”حملہ آور“ ہے مگر وہ جانتا ہے کہ ”فرنٹ مینوں“ کی بھرتی سے کہیں بہتر ہے یہ بات ہوتی! کہ امریکہ پاکستان کےلئے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے دوران پاکستان کے مفادات نظرانداز کرنے کی حماقت ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ باوقار اور باسپاس تعلقات اُستوار کرے تاکہ امریکہ ”نوائے وقت“ کےلئے بھی ایک ”پاکستان دوست ملک“ کی حیثیت سے محترم ہو جائے! مگر کیا کیجئے کہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اپنی عقل کام کرتے نہ پاکر دوسروں کی حماقت سے فائدہ اٹھانے کے کام سے لگ چکا ہے!
کوے کیا جانیں؟ کہ فاختاﺅں نے ان کےلئے کیا کیا دُکھ جھیلے ہیں!
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Punjab Mien Phir Dhemaker? by Dr Ajmal Niazi

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

پنجاب میں پھر دھماکے؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
شہباز شریف نے کہا ہے کہ طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ ہم نے بھی امریکی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا۔ طالبان بھی امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمارا موقف ایک ہے۔ شہباز شریف جانتے ہیں کہ پنجاب میں سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے اور بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح امریکہ نے استعمال کی ہے۔ لاہور کے سی سی پی او پرویز راٹھور نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی ذمہ داری بھارتی ”را“ پر ڈالی تھی۔ پھر رحمان ملک کے کہنے پر اپنا بیان بدل لیا تھا۔ اب تو رحمان ملک نے بھی کہہ دیا ہے کہ لاہور میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ وزیر دفاع احمد مختار نے گجرات میں کہا ہے کہ بھارت لاہور میں آٹھ دھماکے کرا کے سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم یا خوف زدہ کر سکتا ہے۔ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد مل گئے ہیں۔ قوم فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو ملک سے باہر نکال دے گی۔ احمد مختار نے گجرات میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دونوں میں پھر صلح ہو گئی ہے۔ شاید اس سے پہلے رحمن ملک نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا الزام لگایا تھا مگر وہ اس موقف میں ثابت قدمی کیوں نہیں دکھا سکتے۔ ممبئی میں ایک واقعے کے بعد اب تک بھارت پاکستان کو ذلیل و خوار کر رہا ہے۔ امریکہ میں ایک واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ باقی دہشت گردی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ اتنا تو افغانستان میں نہیں ہو رہا۔ شہباز شریف کے تازہ ترین بیان پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ برادرم پرویز رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا بیان سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی پہلے کسی بیان پر کیوں نہیں ہوئی۔ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ میرے خیال میں انٹی امریکہ پالیسی حکام کو عوام کے زیادہ قریب کر سکتی ہے۔ شہباز شریف کا بیان انہیں روائتی حکمرانوں سے الگ کرتا ہے۔ لوگوں کو انکی یہ بات پسند آئی ہے ورنہ ان کا خیال تھا کہ فرینڈلی اپوزیشن بھی امریکی ڈکٹیشن کے مطابق آئی ہے۔ امریکی اور عالمی ایجنڈے پر پاکستان کے سارے حکمران اور سیاستدان ایک ہیں۔ اختلاف صرف اقتدار کے لئے ہے۔ وہ آپس میں لڑتے بھی امریکہ کی اجازت سے ہیں اور صلح صفائی بھی امریکی مرضی سے کرتے ہیں۔ قوم کا صفایا ہو رہا ہے۔ اب تو یہ بھی ایک تاثر ہے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں بلکہ اصل میں سارے ایک ہیں۔ لاہور میں امریکی گاڑیوں کو بغیر تلاشی کے کس نے جانے دیا۔ یہاں حکومت کس کی ہے۔ لاہور کینٹ، آر اے بازار میں دہشت گردی میں وہی امریکی تو ملوث نہیں جو پچھلے دنوں شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔ فوج کی ذمہ داری بھی ہے اور اس پر بھی بات ہو گی۔ یہ بات مجھ سے فون پر کئی لوگوں نے دریافت کی۔ علامہ اقبال ٹاون میں اکٹھے پانچ دھماکے۔ وہاں پولیس صرف وی آئی پی کی سکیورٹی کے لئے الرٹ رہی۔ عام لوگ صرف مرنے کے لئے ہیں۔ علامہ اقبال ٹاون میں لوگ مرے نہیں اس لئے ان دھماکوں کو انتظامیہ صرف دھمکی کہہ رہی ہے۔ ایک دھماکہ تو ان کے سارا ماحول کلیئر کرنے کے فوراً بعد ہوا۔ پولیس افسران کے گھروں کے سامنے بھی ”پٹاخے“ چھوڑے گئے۔ اس کے بعد پولیس افسران کے گھروں پر سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ لوگوں نے سکیورٹی کے لئے ان گھروں کے آس پاس نہ رہنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ ناکے بڑھا دئیے گئے ہیں۔ وہاں لین دین کے کاروبار میں چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ اور حکومت کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ ان کی حکومت اور افسری برقرار ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Beradran-e-Qoom… by Riaz ur Rehman Sager

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

برادران قوم! لیڈران ملک!!

ریاض الرحمن ساغر ـ
آو اک دوسرے کی بات سنیں
راستہ زندگی کا صاف چنیں
گندگی صاف کرکے ذہنوں کی
کریں تزئین دل کے صحنوں کی
آئینے سوچ کے کریں صیقل
ان میں پھر دیکھیں مسئلوں کا حل
برے ماضی کے داغ دھو ڈالیں
اپنے اپنے دماغ دھو ڈالیں
اب نئے کچھ چراغ روشن ہوں
روح اجلی دماغ روشن ہوں
مل کے بیٹھیں نواز‘ زرداری
ساتھ دے ان کا قوم یہ ساری
وہ اگر مل کے ڈیم بنوائیں
جو مخالف ہیں ان کو سمجھائیں
کریں بھارت سے کھل کے باتیں صاف
ساری دنیا سے مانگ لیں انصاف
لوح آئین کو کریں مضبوط
سوچ مثبت ہو قوم کی مخلوط
سارے باہم فساد بند کریں
راہ بغض و عناد بند کریں
ایک مرکز پہ جمع ہو جائیں
اب تو کچھ بیج ایسے بو جائیں
جن سے فصل بہار پیدا ہو
اصل جشن بہار برپا ہو
شوق سے تم نچاو گھوڑوں کو
دوڑنا بھی سکھاو گھوڑوں کو
تم پہ یہ نسل نو بھی ناز کرے
کوئی دشمن نہ ساز باز کرے
اپنی طاقت کو مجتمع کر لو
اب تو روشن کوئی شمع کر لو
Categories : Riaz ur Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Haq Tu Ye Hai K Haq Ada Na Hua! by Rafeeq Dogar

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا!

رفیق ڈوگر
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوا، انور محمود صاحب نے اپنی فعال زندگی اقتدار کے ایوانوں کی روشنیوں اور اندھیروں میں پوری کی ہوئی ہے اس محکمہ میں جس کے مقدر میں لکھنے والے نے ”سب اچھا ہے“ کا طبل یا طبلہ بجانا لکھ دیا ہوا ہے حکمران کیسا بھی ہو اہل تشہیر یعنی محکمہ اطلاعات والے اسی مہارت کا کھاتے پیتے ہیں کہ ”یہ تو بے مثل ہے، اس جیسا نہ پہلے کوئی آیا تھا اور نہ آ سکتا ہے“ گاتے اور بجاتے رہتے ہیں۔ انور محمود اس محکمہ میں اپنی زندگی اور مہارت لگا کھپا کر سیکرٹری کے عہدے سے فارغ البال و فارغ العیال ہو چکے ہیں روز رفتہ ایک انٹرویو دینے لینے کی آزادی کے ماحول میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے علم و آگہی کی روشنی میں آپ کے ریٹائر ہونے تک کے آپ کے زیر تشہیر آئے حکمرانوں میں سے سب سے بُرا کون تھا اور سب سے اچھا کون؟ ان کا جواب تھا کہ بُرا تو میں بتا نہیں سکتا مگر میرے تجربہ کے مطابق محمد خان جونیجو سب سے اچھا حکمران تھا کیوں اچھا تھا؟ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ دیانتدار بہت تھا یعنی قومی خزانے اور مال کے معاملے میں دیانت اور امانت کے ہر معیار پر قابل رشک تھا، دوسرے وہ گڈ گورننس اور آئین و قانون کے خلاف کوئی اقدام کرتا تھا نہ کرنے دیتا تھا۔ بقول ان کے محمد خان جونیجو قائداعظمؒ کے نقوش قدم پر چلنے کی کوشش کیا کرتا تھا یہ تو ہے انور محمود صاحب کا تجربہ اور مشاہدہ۔ ہم نے بہت کچھ دیکھا، آزمایا ہوا ہے سب کچھ تو ممکن نہیں کچھ سن لیں۔ ملک میں ابھی عام انتخابات نہیں ہوئے تھے محمد خان جونیجو کی زمینوں کے ٹیوب ویلوں وغیرہ کا بجلی کا بل بہت زیادہ آ گیا انہوں نے اپنے سیکرٹری کو حیدر آباد بھیجا واپڈا کے بڑے افسر شاہی کے پاس اس نے ان کے سیکرٹری کی نہ سنی نہ مانی محمد خان جونیجو خود گئے اس افسر شاہی کے پاس بل لے کر اس نے محمد خان جونیجو کی بات سن کر جواب دیا ”آپ سب وڈیرے ایسے ہی کہا کرتے ہیں“ محمد خان جونیجو نے جواب دیا ”نہیں سائیں کچھ وڈیرے ایسے نہیں بھی ہوتے “ اور واپس آ گئے ملک میں انتخابات ہو گئے محمد خان جونیجو وزیراعظم پاکستان بن گئے وزارت کا حلف لینے کے بعد پہلی بار سندھڑی گئے تو ایک محفل ملاقات کا اہتمام کیا گیا، صوبہ کے اور وفاق کے سب محکموں کے سربراہوں کو تو آنا ہی تھا جونیجو صاحب سٹیج پر آئے تو دیکھا کہ واپڈا کا وہ اعلیٰ افسر پچھلی قطار میں بیٹھا ہے۔ انہوں نے اگلی قطاروں میں ایک کرسی خالی کروائی اور کہا ”سائیں آپ وہاں پیچھے کیوں بیٹھے ہیں آگے آ جائیں“ اس آگے والی کرسی پر بیٹھ کر اس افسر شاہی نے وہ جلسہ بھگتا اور واپس چلے گئے وہ جس عہدے پر حیدر آباد میں کام کر رہے تھے اس کے لئے معینہ گریڈ سے نیچے کے باقاعدہ گریڈ میں تھے تھوڑے دنوں بعد متعلقہ گریڈ کے افسر کو بھیج دیا گیا ۔ محمد خان جونیجو کو معلوم ہوا تو انہوں نے واپڈا کے چیئرمین سے کہا کہ اس جونیئر گریڈ والے افسر کو تبدیل نہ کیا جائے میں نے اس کی تفصیل شائع کر دی۔ محمد خان جونیجو کو علم ہوا تو انہوں نے انکوائری کا حکم دے دیا کہ وہ تفصیل مجھ تک کیسے پہنچ گئی۔ جنرل صفدر بٹ مرحوم نے رپورٹ دینا تھی مجھے وہ ساری تفصیل سید غوث علی شاہ کے ایک ووٹر واپڈا کے افسر نے بتائی تھی جو اسی دفتر میں ہوتا تھا اور شاہ جی کے حوالے سے میرے پاس آیا تھا۔ وہ افسر جس نے ”آپ سب وڈیرے ایسے ہی کہا کرتے ہیں“ کہہ کر محمد خاں جونیجو کو چلتا کیا تھا، سندھی بھی نہیں تھا، گوجرانوالہ سے تھا۔ محمد خان جونیجو کے حلف لینے کے چند روز بعد ان کے داماد کی والدہ فوت ہو گئی۔ یہاں گلبرگ لاہور میں، میرے پاس مکمل خبر تھی اور میرے ہی پاس تھی۔ جونیجو صاحب نے کسی کے ذریعے پیغام بھجوا کر وہ خبر رکوا دی تھی حلف لینے کے بعد انہوں نے محکمہ اطلاعات کو جو ہدایات جاری کی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ میرے خاندان کے افراد کو غیر ضروری پبلسٹی نہ دی جائے اس دور کا ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے۔ محمد خان جونیجو سندھی تھا اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کی سفارش اور رپورٹ پر دستخط کرانے کے لئے خود چل کر پشاور گیا تھا۔ جنرل فضل حق کو منانے اور سمجھانے جنہوں نے اپنے چیف جسٹس کو دستخط کرنے سے روک دیا تھا اگر دستخط ہو جاتے تو کالا باغ ڈیم اب تک بن چکا ہوتا پشاور کے گورنر ہاوس میں ماہرین نے وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں ڈیم کے بارے میں مکمل بریفنگ دی جس کے جواب میں جنرل فضل حق نے ایک ہی فقرہ میں فیصلہ سنا دیا تھا ۔ I DAME CARE FOR POLITICIANS اور محمد خان جونیجو اس کا کھانا کھائے بغیر اٹھ کر واپس آ گئے مگر پانی اور بجلی کے وزیر ظفر اللہ خان جمالی نے وزیراعظم کا ساتھ نہیں دیا تھا اور جنرل فضل حق کا کھانا اور نمک کھا کر اسلام آباد واپس آئے تھے میں نے جنرل غلام حسن خان مرحوم سے پوچھا کہ جب سب چیف جسٹس ایک مشترکہ فارمولا پیش کر چکے ہیں تو آپ کے گورنر کو کیا اعتراض ہے؟ انہوں نے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے جواب دیا تھا ”فل جنرل بنا دو آج مان جائے گا“ قومی خزانے کی حفاظت کا یہ حال تھا کہ کابینہ کا اجلاس بھی ایسے وقت نہیں رکھتے تھے کہ درمیان میں کھانے کا وقت آ جائے ”کھانا اپنے اپنے گھر سے کھائیں“ کا سٹینڈنگ آرڈر تھا ایک رات گئے میں وزیراعظم ہاوس پہنچ گیا جونیجو صاحب نے چائے پلائی اور راجہ نادر پرویز سے کہا اپنی گاڑی میں ڈوگر صاحب کو ہوٹل چھوڑ آو دوست صحافی پوچھتے تھے کیا بات ہوئی وہ نوازشریف کی اپنی مسلم لیگ کے صدر سے وفا کا نازک دور تھا میں نے چائے کے بارے میں بتایا تو جو خبر سارے اسلام آباد کے حلقوں میں پھیل گئی وہ تھی ” کہ جونیجو صاحب نے تو ڈوگر کو چائے پلائی ہے“ اور نہیں تو انور محمود صاحب کو اس وزیراعظم کا تو حق ادا کر دینا چاہیے جسے وہ سب سے اچھا بتاتے ہیں سارے تجربات نہیں تو ان کے دور کے تجربات و مشاہدات ہی لکھ دیں۔ یادداشتوں کے حوالے سے انہیں سلوتری پن کی مہارت کے ساتھ ساتھ لکھنے پر بھی تو عبور حاصل ہے کریں ہمت، انہیں کون سا سنیٹر بننا ہے!
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

But Rehi Hain Ganderiyan by Rafeeq Dogar

15 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

بٹ رہی ہیں گنڈیریاں

رفیق ڈوگر ـ
دور رواں میں تو مردہ محاورے بھی اصول حکمرانی بن گئے ہیں۔ کتنے ہیں آپ میں سے جنہوں نے پنجابی کا یہ محاورہ سنا ہے کہ ”انہاں ونڈے گنڈیریاں مڑ کڑ اپنیاں نوں یعنی اگر کسی اندھے کو گنڈیریاں بانٹنے کی خدمت سونپ دو گے تو وہ ساری گنڈیریاں اپنے عزیز و اقارب میں ہی بانٹ دے گا“ این آر او شاہ کی خادمہ خاص جمہوریت کے چیف ترین ایگزیکٹو نے دو سال میں کیا کیا ہے۔ اس ملک کے عوام کے لئے یہ کون نہیں جانتا۔ مگر اس نے اس مردہ محاورے میں گیلانی روح پھونک دی ہے۔ یہ تو آپ نے پڑھ ہی لیا ہو گا کہ ”سید یوسف رضا گیلانی نے پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نوابزادہ غضنفر علی گل کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کر دیا ہے“ کیوں؟ ہے آصف علی زرداری کی موجودگی میں انہیں کسی سیاسی مشیر کی ضرورت؟ اور اگر زرداری جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو غضنفر علی گل سے بھی کم سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں تو وہ ہیں کیا؟ گنڈیریاں بانٹنے والے کے سوا؟ اس سے پہلے ان کے وزیر اور مشیر کتنے درجن ہیں؟ ایک سو کے قریب تو ہوں گے ہی ان سب کی مشاورت اور صدر آصف علی زرداری کی ذاتی رہنمائی کے ہوتے ہوئے بھی ایک سیاسی مشیر کی ضرورت؟ غضنفر علی گل‘ یوسف رضا گیلانی کو سیاست پڑھائے گا؟ سیاسی راہ دکھائے گا؟ ڈنگوری پکڑ کر کمرہ امتحان تک لے جائے گا؟ آخر اس نے کچھ تو کرنا ہی ہے اس غریب ملک اور اس کے عوام سے ان کے وزیراعظم کی رہنمائی کا معاوضہ اور مراعات وصول کرنے کے عوض۔ ہم سنتے تھے کہ پیر گیلانی نے ملتان سے تعلق رکھنے والے ہر قسم کے گرد راہ تک کو ملک اور اس کے عوام کی خدمت پر لگا دیا ہے۔ بھاری معاوضوں پر مگر عدل و انصاف کے کس اصول کے تحت؟ کس میرٹ کی بنیاد پر؟ جو بھاری معاوضوں والی نوکریاں کسی بھی ٹیسٹ‘ امتحان‘ میرٹ اور اصول انتخاب کے بغیر بانٹی جائیں کیا وہ کرپشن نہیں؟ یا این آر او جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کو بھی ایسی کرپشن کے معاملے میں استثنٰی حاصل ہے؟ ملک کی مجموعی آبادی میں سے کتنے فیصد نے ووٹ دے کر بٹھایا ہوا ہے این آر او شاہ اور ان کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کو ان کرسیوں پر؟ وہ اکثریت جس نے انہیں ووٹ نہیں دیا ہوا اس کی خون پسینے کی کمائی پر اندھے کے گنڈیریاں بانٹنے کے اس کھیل کی قانونی حیثیت ہے کیا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ”جدوں دے انھے ہوئے آں اللہ دی بڑی رحمت اے ساڈے تے‘ جس چوک چوراہے تے بازار وچ کپڑے چک کے بہہ جائیے کوئی روکدا ٹوکدا نئیں“ دنیا کے کسی امیر ترین ملک میں بھی وزیروں مشیروں کی اتنی بڑی تعداد نہیں جتنی اس ٹھوٹھا بدست ملک کے حکمرانوں نے بھرتی کر رکھی ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ملک اور اس کے اکثریتی عوام کو یہ سزا کس جرم کی دی جا رہی ہے؟ پوچھا ہے کبھی کسی ایک رکن پارلیمنٹ نے پچیس ماہ میں عوام کو دی جانے والی ناکردہ جرم کی اس سزا کے بارے میں؟ کہا ہے کبھی کسی بھی محافظ جمہوریت نے کہ وزیروں، مشیروں کی تعداد کے تعین کا بھی کوئی ضابطہ یا قانون ہونا چاہئے؟ کسی بھی بے ریش یا باریش مبلغ جمہوریت نے؟ کیا ہر جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ جمہوریت اسی اندھوں کے گنڈیریاں بانٹنے کے نظام کا نام ہے؟ وہ جمہوریت جس کے استحکام کے لئے مسلم لیگ ن کے قائد اپنے ہی خرچ پر دو سال سے بے غرض تعاون کرتے آ رہے ہیں؟ ہمیں تو یقین نہیں آیا تھا ابھی تک نہیں آ رہا شیخ رشید کے اس الزام پر کہ مسلم لیگ ن کے قائد سالانہ چھ ہزار ٹیکس دیتے ہیں اور اس کسمپرسی کی حالت میں بھی وہ دبئی کے شیوخ کو سندھ کے صحراﺅں میں تیتروں کے شکار کرانے کا بوجھ تک برداشت کرتے رہتے ہیں عوام اور جمہوریت کی محبت میں اپنے برادر خورد کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کے گنڈیریاں بانٹنے کے نظام کے استحکام کے لئے۔ بڑا عظیم ایثار ہے یہ شریفین کا۔ ہم میاں نوازشریف سے تین چار گنا زیادہ ٹیکس دیتے ہیں سالانہ (فرزند پنڈی کے انکشاف کی بنیاد پر) اور ہمارے پاس کبھی دفتر جانے کےلئے ویگن کا کرایہ بھی نہیں ہوتا میاں جی یعنی شریفین سے ہی پوچھ لیں کبھی سید یوسف رضا گیلانی‘ عوام کے خون پسینے کی کمائی ایمانداری سے عوام پر اور صرف عوام پر ہی خرچ کرنے کا کوئی طریقہ۔ ورنہ لوگ تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ چاہ یوسف والے پانچ سال بھی لازماً کسی ایسی ہی گنڈیریاں بانٹنے کی خدمت کی جزا تھے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے بچت کا تبلیغی پروگرام بھی شروع کیا تھا چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بلا کر انہیں ملک اور عوام کی مزید خدمت بذریعہ بچت کرنے کو کہا تھا لیکن جب وہ خود ہی ان کے لئے نمونہ نہیں بن رہے تو دوسرے کیوں نہ ہر بے کار کو باکار بنانے کے تعمیری پروگرام چلائیں؟ ان کے گھروں‘ پارٹیوں میں بھی تو امیر کبیر لوگ بے کار اور بے روزگار پائے جاتے ہیں۔ مگر وہ سوال کہ وزیراعظم کو اب بھی سیاسی رہنمائی کی ضرورت ہے تو اس منصب پر لگایا کس اہلیت کی بنیاد پر ہے انہیں لگانے والوں نے؟ جنہیں خود سیاسی رہنمائی کی اتنی اشد ضرورت ہے وہ قوم کو کیسے سیاسی استحکام کی منزل تک پہنچا سکیں گے؟
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

پی سی بی کھلاڑیوں کا جرم بھی بتائے by محمد صدیق

11 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
محمد صدیق
بی سی پی نے دورہ آسٹریلیا میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور کھلاڑیوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکات کی وجہ سے ایک سخت ایکشن لیتے ہوئے یوسف اور یونس خان پر غیر معینہ مدت کیلئے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی جب کہ رانا نوید اور کپتان شعیب ملک پر ایک ایک سال پاکستان کیلئے کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی لگائی۔ اسی طرح شاہد آفریدی، کامران اکمل، عمر اکمل پر 30 لاکھ جرمانہ تک سزا سنائی کرکٹ بورڈ نے سزائیں تو سنا دیں مگر جرم نہیں بتایا اگر بی سی پی جرم بتا دیتا تو پاکستانی کرکٹ شائقین کا غصہ شاید تھوڑا ٹھنڈا ہو جاتا اتنی بڑی بڑی سزاﺅں سے لگتا ہے کہ پاکستانی کرکٹروں نے شاید کوئی قتل کر دیا ہے اور عوام کی رائے میں جن لوگوں پر پابندی لگنی چاہئے تھی وہ خود دوسروں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ اعجاز بٹ ہر سکینڈل یا کوئی اہم فیصلہ بڑے زور شور سے شروع کرتے ہیں مگر جب میڈیا اور عوام ثبوت مانگتے ہیں تو پھر بیک فٹ پر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں میرے نزدیک کھلاڑیوں کو اتنی بڑی بڑی سزائیں دینا بغیر کسی وجہ اور ثبوت کے زیادتی ہے پاکستانی ٹیم پہلے ہی مسلسل پے در پے شکستوں سے انڈر پریشر ہے اور سونے پر سہاگہ اتنی بڑی سزائیں پاکستان کی رہی سہی کرکٹ کو مزید تباہ کر دے گی۔ عبدالقادر کا کرکٹ میں ڈسپلن پر لیکچر سن کر ہنسی آئی۔ پاکستانی کرکٹ تاریخ میں عبدالقادر سے زیادہ ان ڈسپلنڈ کوئی کرکٹر پیدا نہیں ہوا تقریباً ہر دورے پر عبدالقادر کے ڈسپلن کے لحاظ سے لطیفے مشہور ہیں۔ پوری قوم کی اعجاز بٹ سے درخواست ہے کہ خدارا پاکستان کے نام کی لاج رکھیں پوری دنیا میں پاکستانی کرکٹ کو ذلیل و رسوا نہ کریں۔ پاکستان کے پاس جو محدود کرکٹ رہ گئی ہے اسے تباہ نہ کیا جائے۔ اور کھلاڑیوں کا جرم بھی بتایا جائے۔
Categories : Miscellaneous, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , ,

راوی پار سکول میں چند لمحے by Dr Ajmal Niazi

10 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
راوی پل سے گزر کر میں میاں عبدالقیوم کے سکول فیروز والا پہنچا، شگفتگی سے بھری ہوئی کشادگی میں وسعت اور ویرانی گلے مل رہی تھیں ایک حیرانی نے مجھے گھیر لیا، شاہدرہ والے میاں محمود میرے ساتھ تھے۔ میاں عبدالقیوم ان کے چھوٹے بھائی ہیں پہلے وہ میاں محمود کے ساتھ تھے۔ انہوں نے نشتر کالونی فیروز پور روڈ میں ”کے پی ایس“ کے نام سے ایک سکول بنایا وہ بھی غریب لوگوں کی بستی ہے شہر کے ساتھ ہے اور شہر سے دور بھی ہے ۔ وہ چاہتے تو شہر کے کسی امیر کبیر ماڈرن علاقے میں سکول بنا سکتے تھے انہوں نے غریبوں کے درمیان رہنا پسند کیا ہے۔ یہ سکول کتنا شاندار اور قابل اعتبار ہے کہ میاں محمود کے اپنے بچے اس سکول میں پڑھتے ہیں ورنہ وہ کسی بڑے سے بڑے سکول کی فیس ادا کر سکتا ہے۔ پورے ملک سے والدین اپنے بچے اس سکول میں بھیجتے ہیں
میاں عبدالقیوم فیروز پور روڈ سے فیروز والا اٹھ آیا ہے، فیروز والا شاہدرہ کا محلہ لگتا ہے مگر شیخوپورہ کا گاو¿ں ہے یہاں لاہور اور شیخوپورہ سے بھی بچے بچیاں آتے ہیں۔ شاہدرہ میں میاں ذکا سکول چلاتے ہیں یہ سارے بھائی تعلیم و تدریس سے عشق کرتے ہیں ایک نئے نظام تعلیم کی تلاش میں یہ میاں برادران ہمسفر ہیں۔ سیاست کے میاں برادران بالخصوص میاں شہبازشریف تعلیم کے میدان میں بڑے جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ وہ شریف برادران کے طور زیادہ معروف ہیں۔ میاں صاحب تو بہت ہیں میاں برادران صرف شریف برادران ہیں جس طرح چودھری صاحبان بہت ہیں، چودھری برادران صرف چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ اب تعلیم کے میاں برادران کہاجائے گا تو دھیان شاہدرہ کے میاں محمود، میاں ذکا اور میاں عبدالقیوم کی طرف جائے گا ان کے سکول ان کے والد محترم کی آبائی زمین پر واقع ہیں۔ میاں عبدالقیوم کے سکول کا سنگ بنیاد 1994ءمیں ان کی والدہ محترمہ نے رکھا تھا اور یہ فخر میاں عبدالقیوم کے وجود میں وجد کرتا ہے۔ ماں کی گود بچے کے لئے پہلا سکول ہے۔ یہ آرزو میاں صاحب کو بے تاب رکھتی ہے کہ وہ اس ادارے کو علاقے کا بہترین سکول بنا دیں اتنے وسیع و عریض علاقے میں کوئی دیہاتی سکول میں نے نہیں دیکھا۔ میرا سکول موسیٰ خیل میانوالی میں حد نظر تک پھیلا ہوا تھا کہ وہاں کوئی چار دیواری ہی نہ تھی۔ میاں صاحب کے جذبوں کی سادگی دیکھیں کہ یہاں میرے جیسے خواب دیکھنے والے درویش قلمکار اور اس کا آئیڈیل بھائی میاں محمود مہمان خصوصی تھے۔ ہم دونوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ طالب علم سپاہیوں کے ارادے بلند تھے میں نے ایک کمانڈر فوجی سٹوڈنٹ سے کہا کہ مارشل لاءکبھی نہ لگانا مگر سیاستدانوں کی ”جمہوری بے یقینیوں “ پر نظر ضرور رکھنا۔ زین العابدین پریڈ کمانڈر تھا وہ اتنی بار مجھ سے ایوارڈ لینے کے لئے آیا کہ میں نے کہہ دیا کہ سارے انعام تم ہی لو گے۔ میاں عبدالقیوم نے اس کے والد کو بہترین والدین کہہ کر سٹیج پر بلا لیا ۔ مصطفیٰ صاحب سے گزارش ہے کہ والدین تو ماں باپ مل کر ہوتے ہیں۔ ماں کی بھی پذیرائی ہونا چاہئے تھی۔ میاں عبدالقیوم کی اہلیہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں سچ ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے مگر وہ یہ بھی خیال رکھیں کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں۔ نازش اور مہوش نے بہت خوبصورت کمپیئرنگ کی۔ مجھے آخر تک پتہ نہیں چلا کہ ان کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ آواز کا ایک راز ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراز لگ رہی تھیں۔ لٹریری سوسائٹی کی مس سلمٰی نورین اور مس فریحہ بہت سرگرم تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈرامہ لکھا ہے میمونہ جٹ نے اور ڈاکٹر عافیہ کا کردار حنا نے بہت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اس کے ڈائیلاگ سن کر کئی عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ بہت محترم بچی ایوارڈ لینے آئی تو میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو سب سے ہم کلام تھے کہ تمہاری غیرت و حمیت کہاں سو گئی ہے۔ اس ملک کے حکمران سیاستدان اور جرنیل امریکہ سے کیوں ڈرتے ہیں۔ قمر صاحب نے پی ٹی شو میں اور کراٹے ماسٹر منور بھٹی نے بچوں اور بچیوں سے ایسی پرفارمنس کرائی کہ دل خوش ہو گیا۔ اس سکول میں کوئی ایسا منظر دیکھنے کو نہ ملا کہ جسے دیکھنے کو دل نہ چاہا ہو۔ سب خواتین و حضرات نے خوب انجوائے کیا۔ یہاں میلے کا سماں تھا جیسے آج عید کا دن ہو، چاروں صوبوں کا ڈانس پاکستان کی مکمل ثقافت کا عکاس تھا ۔ مس شہلا نے اس میں قومی رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیچر اکمل ہمدانی کے لئے میاں صاحب نے بہت تعریف کی سارا سٹاف تعلیمی فروغ کے لئے یکجہتی کا پیکر بنا ہوا تھا۔ سکول کی پرنسپل مس انیلہ علی کیانی بہت قابل اور سنجیدہ خاتون ہیں وہ مستقل استانیوں جیسی شخصیت رکھتی ہیں مگر سٹاف ان کے ساتھ سینئر دوست کی طرح رہتا ہے۔
میاں عبدالقیوم اپنے سکول کے لئے ہر وقت سرگرم ہیں وہ ہر روز نئے سرے سے سکول میں آتے ہیں۔ سارا وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا سب کچھ سکول پر لگا دیا ہے، ان کی رہائش بھی سکول میں ہے وہ چھٹی کے بعد بھی سکول میں ہوتے ہیں
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اس شاندار تعلیمی ادارے کے لئے حکومت نے کچھ نہیں کیا کئی وزیر شذیر آئے اور دعوے کر کے چلے گئے جو سڑک سکول کی طرف جا رہی ہے وہ میرے دل کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے مگر سکول میں داخل ہوتے ہی ایک نیا جہاں سامنے ہوتا ہے۔ ایجوکیشن ٹاسک فورس کے چیئرمین راجہ انور سینیٹر پرویز رشید اور ایم پی اے عارفہ خالد اس سکول میں آئیں اس کے بعد شہبازشریف خود یہاں آئیں میں میزبان کے سکول میں موجود رہوں گا۔ مہمان کے طور پر یہی لفظ و خیال میاں صاحب کی نذر کرتا ہوں۔
خواتین حضرات نے سوال و جواب کی اس محفل سے بڑا لطف اٹھایا جو ساتویں جماعت کی بچیوں نے ٹیچر نرگس کی نگرانی میں پیش کیا۔ استانی بھی بچی تھی۔ ٹیچر برطانیہ کہاں ہے؟ بچی ، پتہ نہیں….ٹیچر نالائق کرسی پر کھڑی ہو جاو۔ بچی کیا وہاں سے نظر آ جائے گا۔؟
چیف منسٹر ہاوس 90 ، مال لاہور سے کے پی ایس سکول فیروز والا بہت دور ہے کرسی پر بیٹھ کر تو بالکل نظر نہیں آتا۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان by Prof Muhammad Muzafar Mirza

10 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اسلامی جمہوریہ پاکستان جس غلط سیاسی اور قومی منجدھار اور گرداب سے دوچار ہے، ان پراگندہ احوال کی روشنی میں تمام قوم کے افراد روحانی بے یقینی اور قومی انتشار سے دوچار ہو کر رہ گئے ہیں، کوئی ادارہ بھی معیاری قومی فرائض سے ہمکنار نہیں ہے، ژولیدہ فکری، سکہ رائج الوقت بن چکی ہے، قوم کے بڑے بڑے ادارے مستقبل قریب کے حوالے سے بے محور نظر آ رہے ہیں، اگر کوئی ”خوش آئند“ مرحلہ نظر میں ہے تو وہ الیکٹرنک چینلز کی خوبصورت اور نظریاتی گفتگو ہے کیا بات ہے!
پاکستان نعمت خداوندی ہے اور اس کے قیام سے لیکر آج تک اس مرحلے کی جانب آج تک توجہ نہیں کی گئی اور نہ یہ بتانے کیلئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا اور اس کی بقا مستقبل، استحکام اور سالمیت کے تقاضے کیا ہیں۔ پاکستان کا قیام اسلامیان برصغیر کی دوقومی نظریئے کی فتح کی صورت میں عمل میں آیا جس نے یہ ثابت کیا کہ شرار بولہبی اورچراغ مصطفوی ﷺ میں کیا امتیاز ہے، پاکستان کا مطلب لا الٰہ الا اللہ کیوں تھا۔ ہم نے انگریزی حکومت اور ہندو اکثریت کے استبدادیت پسندانہ، فسطائیت پرستانہ مطلق العنانیت اور جوروستم سے آزادی کیوں طلب کی، ہندوجاتی کیوں مصر تھی کہ انگریز ہندوستان خالی کر دے اور حکومت ہندو اکثریت کے حوالے کر جائے تاکہ وہ مسلمانان ہند کو مطیع منقاد بنا لے اور پھر ان سے دس صدیوں کی حکومت کا بدلہ چکائے۔ مگر ان کے حسین خواب شرمندہ تعبیر اس لئے نہ ہو سکے کہ اسلامیانِ ہند کو حضرت قائداعظمؒ کی پُرخلوص پہاڑ کی طرح اٹل بے پایاں دیانت و امانت اور بے پناہ صلاحیتوں کی مالک سیاسی اور قومی شخصیت میسر تھی جس نے انگریزوں کی ہر چال اور مکاری کو خاک میں ملا دیا۔ ہندو کی ہر فریب کاری، ہر حربے اور ہر منصوبے کو اڑا کر رکھ دیا تھا۔
قیامِ پاکستان کی تاریخ، تقریباً ایک صدی کے کرب انگیز اور دلدوز حالات اور واقعات کی آئینہ دار ہے، مسلمانانِ ہند کو آزادی و خودمختاری کے حصول کیلئے جس خاک و خون کے سمندر سے گزرنا پڑا ۔ ان گنت قربانیاں دینا پڑیں اور پھر آزادی کی دہلیز تک رسائی ہوئی ایک خونچکاں داستان ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ہمیں یہ بھی فرصت میسر نہ آئی کہ ہم اپنی جواں نسل کو جنہوں نے پاکستان بنتا تو نہیں دیکھا فقط کتابوں میں تخلیق ہوتا ہوا پڑھا اپنے بزرگوں اور استادوں سے پاکستان کی تحریک کے مراحل کو سنا ان کے قلب و جگر میں قیام پاکستان کے اصل مقاصد اور اصل حقائق اصل وجوہات اور اسباب و علل کی پہچان کرا سکتے۔ ہماری سیاسی حکومتوں نے ان کو کھوکھلے نعرے تو دئیے۔ کلاشنکوفی نظریات سے ہمکنار تو کیا، لب آزاد، کیبل اور الیکٹرونک میڈیا کی عریانیت و فحاشی کی تربیت سے آشنا تو کیا، علم و ادب کے گہواروں سے نفرت تو ضرور سکھائی مگر پاکستان سے محبت و خلوص اور اس مادرِ وطن سے رشتہ قلب استوار کرنے کی نہ تو تلقین کر سکی اور نہ ہی تربیت و تعلیم کا بندوبست کر سکی۔ مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے روحانی مسرت و انبساط حاصل ہو رہی ہے کہ پورے پاکستان میں فقط ایک ادارہ ایسا ہے جسے پاکستان کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان، جس کے دو ادارے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ، قوم کے بچوں اور بچیوں کو روزانہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی محبت کے درس سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ بہ صمیم قلب دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ جناب مجیدنظامی صاحب کو عمرِ خضر اور، صحت تندرستی عطا فرمائیں اور انہیں حاسدین، مخالفین اور متعصبین سے اپنی پناہ میں رکھیں۔ کیونکہ انہی کی نگرانی اور نگہبانی کی وجہ سے آج پاکستان حضرت قائداعظمؒ، حضرت علامہ اقبالؒ کے پیغامات کونے کونے تک پہنچ رہے ہیں اور پاکستان جاگ رہا ہے۔ میں یہاں اس ادارے کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد کے علاوہ دو نوجوان مجاہدین کو خراجِ عقیدت و تحسین پیش کرنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں جو شب و روز قومی اور نظریاتی امور کے حوالے سے ہر لمحہ مستعد اور برقی رفتار سے مزین ہیں یعنی جناب شاہد رشید اور جناب رفاقت ریاض صاحب قوم ان کے لئے بھی دعا کرے کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنا حفظ و امان عطا فرمائے۔ آمین!
گذشتہ حکومتوں نے اس قلعہ اسلام، اس امانتِ قائداعظمؒ کی سالمیت و استحکام کیلئے کیا کچھ کیا وہ یہی کچھ ہے کہ صوبائیت کے زہریلے نعرے عطا ہوئے قومی تشتت و افتراق کے ابواب کھول دئیے گئے۔ مذہبی منافرت و منافقت کے بیج بوئے گئے، قوم کے معاشرتی سیاسی اور علمی اداروں کا جنازہ نکالا گیا۔ کیا کیا زخم قلب پاکستان پر نہیں لگائے گئے۔ پھر بھی ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں ہم نے حضرت قائداعظمؒ کے فرمان، ایمان، اتحاد، تنظیم پر کتنا عمل کیا۔ سوالیہ نشان ہے؟ حضرت علامہ اقبالؒ نے صحیح فرمایا تھا۔ ….
آج بھی ہو جو براہیم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پیدا
Categories : Miscellaneous, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

اغواء۔۔۔چھترول اور بڑے ڈاکو ۔۔۔ by Tayyaba Zia

6 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
جہلم میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاندان کا پانچ سالہ بچہ اغوا کر کے ڈیڑھ کروڑ مالیت کا سامان لوٹ لیا گیا۔۔۔پولیس کا ملزمان کوسرِعام چھترول ۔۔۔عمران خان ٹھیک کہتے ہیں کہ جیلوں میں چھوٹے چور بند ہیں اور بڑے چور دندناتے پھرتے ہیں ۔۔۔میاں شہباز شریف درست کہتے ہیں کہ بدنامی کا باعث” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں“۔چیف جسٹس بجافرماتے ہیں کہ عدلیہ کا مسئلہ نیچے والے طبقے کی کرپشن ہے۔ ۔۔امریکہ میں مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ ، مسافروں کی سکریننگ اور سکین، قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک۔۔۔پاکستان میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غم وغصہ کا اظہار کیا جاتا ہے ۔مظاہرے اور احتجاج ہوتے ہیں۔ میڈیا شور مچاتا ہے لیکن خود پاکستان کس ڈگر پر چل نکلاہے۔۔۔؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسوں کو اس کے پاکستان سے اغوا کر کے امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا جاتاہے اورپھر انصاف اور واپسی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔۔۔؟ برطانیہ اور امریکہ سے مخالفت کی بجائے پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومت کی منافقت کاماتم ہونا چاہئے ۔۔۔عمران خان نے سچ کہا ہے کہ چھوٹے چوروں کے لئے چھترول اور بڑے ڈاکوﺅں کے لئے محل۔۔۔؟بڑے ڈاکوﺅں کی حفاظت کے لئے سیاہ اور خاکی وردی والے چوبیس گھنٹے بندوقیں تانے کھڑے رہتے ہیں۔جھنڈے والی گاڑی کے آگے پیچھے گاڑیاں دوڑاتے پھرتے ہیں۔ ملک کی زیادہ پولیس ان بڑے ڈاکوﺅں کی سکیورٹی پر فائز ہے۔ان لوگوںکے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈربلاول بھی برطانوی سکیورٹی میں موجیں مارتے ہیں جبکہ ایک برطانوی پاسپورٹ ہولڈر بچہ پاکستان میں محفوظ نہیں ۔۔۔؟ والدین بچوں کو پاکستان بھیج کر ان کی سلامتی کی دعائیں کرتے ہیں۔اغوا برائے تاوان کے خوف سے انہیں گھر سے باہر جانے نہیں دیتے۔میرا بیٹا بھی چھٹیوں میںجب پاکستان گیا توخدا گواہ ہے اس کی حفاظت کے لئے میں نے دوران عمرہ بیت اللہ شریف اور روضہ اطہر میں دعائیں مانگیں ۔پاکستان میں اغوا برائے تاوان کا خوف تھا جبکہ امریکہ میں امیگریشن کا مرحلہ پریشان کن تھا۔لا پتہ افراد اور اغوا کے سنگین جرائم پرویز مشرف اور زرداری حکومت کا تحفہ ہیں۔ انگریزوں نے آکسفورڈ کرسٹ چرچ کالج میں زیر تعلیم بلاول کو برطانوی شہزادوں جیسی ٹاپ لیول سکیورٹی مہیا کر رکھی ہے۔بلاول کی سکیورٹی پر ایک ملین پاﺅنڈ سالانہ خرچ آتا ہے اور حفاظت کے لئے دو گاڑیوں پر برطانوی 12مسلح سکیورٹی گارڈز اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہتے ہیں۔ بلاول کی وطن واپسی پر جس قدر خوشی اسکی پارٹی کو ہو گی اس سے کئی گناہ زیادہ خوشی برطانوی حکومت کوہو گی ۔ صاحبزادے بلاول کی سکیورٹی کے اخراجات محنت کش ، سیلف میڈ برطانوی عوام بشمول وہاں مقیم پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے ادا ہوتے ہیں۔ جہلم سے اغوا ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی بچے کے والدین کی کمائی میں سے ہوتے ہیں۔ مظلوم لوگ وزیر اعلیٰ یا وزیر داخلہ کے نام نہیں حاکم وقت کے نام یاد رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ کے اغوا جیسے گھناﺅنے ظلم میں گو کہ سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات ملوث تھا مگر حاکم وقت جنرل پرویز مشرف کا نام بولا اور لکھا جاتا تھا۔زرداری حکومت میں چھوٹے چوروں کو سرِ عام چھترو ل مارے جاتے ہیں جبکہ بڑے ڈاکو محلات کے مزے لوٹتے ہیں۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ ہیڈ آف سٹیٹ کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔کیایہ آئین قائد اعظم ؒ کی مملکت اسلامیہ کاہے ۔۔۔؟پاکستان کے گورنر جنرل یعنی سربراہِ مملکت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ 1948 میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔انہی دنوں ایک شہری نے بلوچستان کے جوڈیشل کمشنر اے آر خان کو درخواست دی کہ اسکا مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کر دیا جائے ۔اس سے قبل کہ اے آر خان کوئی فیصلہ کرتے انہیں اے جی جی کا سفارشی فون آ یا کہ مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل نہ کیا جائے۔جوڈیشل کمشنر نے اے جی جی کو عدالتی امور میں مداخلت کے الزام کا نوٹس بھجوا دیا اور اس کی ایک نقل گورنر جنرل کو بھی بھجوا دی گئی ۔اے جی جی کے پاس آئی جی پولیس کے اختیارات بھی تھے وہ عدالت میں پیش نہ ہوا جس پراے آر خان نے گرفتاری کا سمن بھیج دیااور اس کی نقل بھی گورنر جنرل کو بھیجوا دی ۔ معاملہ کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے اے جی جی گورنر جنرل کی خدمت میں پیش ہوا اور جوڈیشل کمشنر کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔قائد اعظم ؒ نے فرمایا ”سارا معاملہ میرے علم میں ہے۔آپ عدالت میں پیش ہو جاتے اور معافی نامہ داخل کرا دیتے توعدالت معاف کر دیتی ۔اب نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں“۔یہ سن کراے جی جی نے عدالت میں پیش ہو کر معافی نامہ داخل کرا دیا۔عدالت سے معافی ملنے پر گورنر جنرل کے پاس جا کر انہیں یہ خبر سنائی۔یہ سن کر قائد اعظمؒ نے فرمایا” گو کہ میں گورنر جنرل ہوں۔بلوچستان انتظامیہ کا سربراہ اعلیٰ ہوں اس کے باوجود چھوٹی عدالت کا بھی احترام کرتا ہوں۔عدالتوں کی پاسداری سے مملکت کا نظام قائم رہ سکتاہے“۔ یہ تھی پاکستان کے پہلے سربراہ کی سوچ اور نظریہ ۔1956 میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا عہدہ متعارف کرایا گیا۔1973 کے آئین کی رو سے صدر مملکت کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے اور موصوف آئین کی اس غیر اسلامی شق کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔امریکہ کے آئین میں عوام کو مقتدر اعلیٰ قرار دیا گیا ہے۔امریکہ کے آئین کے مطابق صدر سے لے کر حکومت کا ہر رکن عوام کے ماتحت ہے۔امریکی آئین بنانے والوں نے استثنیٰ پر مباحثے کئے اور یہ طے پایا تھاکہ کوئی شخص قانون سے بالا تر نہیں خواہ وہ ہیڈ آف سٹیٹ ہی کیوں نہ ہو مگر بعد میں آنے والوں نے ”نظریہ ضرورت “ کے تحت آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استثنیٰ کا فارمولہ ایجاد کر لیا اور آج امریکی صدر کو بھی” ایک حد تک“ استثنیٰ حاصل ہے البتہ مستعفی ہو نے کی” شرم‘ اور غیرت“ ان میں آج بھی موجود ہے۔صدر پاکستان کے معیار کے جرائم اور کرپشن کی لسٹ اگر امریکی صدر پر ثابت ہو جائے تو وہ عہدہ سے مستعفی ہونے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کرے گا ۔ امریکہ میں آج بھی عوام مقتدر اعلیٰ ہیں۔ قانونی یا اخلاقی جرم میں ملوث ہیڈ آف سٹیٹ کو کانگریس بر طرف کر نے کا اختیار رکھتی ہے نیز اس پر عدالت میں مقدمہ بھی چلایا جا سکتاہے۔سابق صدور رچرڈ نکسن اور بل کلنٹن کی مثالیں موجود ہیں ۔۔۔امریکہ میںسر عام چھترول اور اغوا برائے تاوان کا رواج ابھی قائم نہیں ہوا اور نہ ہی ”بڑے ڈاکو“ آزادانہ گھوم سکتے ہیں!
Categories : Tayyaba Zia, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,