
Maro Dhol Sey Dhol by Khalid Ahmad
19 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
مارُو ڈھول سے ڈھول سولنگی تک!
خالد احمد ـ
پاکستان کے لئے غاروں کے زمانے میں دھکیل دینے کی تجویز کرنے والے امریکی عمال کیا جانیں؟ کہ پاکستانی بچے آج بھی لکڑی کے چوکٹھے میں ریت یا مٹی بھر کر اور اسے لکڑی کے ایک ٹکڑے سے ہموار کرکے اسی لکڑی کے نوکیلے سرے سے اس پر الف بے لکھنا اور حساب کے سوال حل کرنا سیکھتے ہیں! کچھ پاکستانی بچے ابھی صرف قلم اور تختی کے ساتھ سلیٹ اور چاک کے ذریعے لکھنا اور پڑھنا سیکھ رہے ہیں جب کہ کچھ پاکستانی بچے ’مارکر اور وائٹ پیڈ‘ کے ذریعے یہ کام سیکھ رہے ہیں اور شہروں میں تو یہ بچے ’کمپیوٹر گیمز‘ کے ساتھ ساتھ ’کمپیوٹر‘ سے کھیلنا بھی سیکھ چکے ہیں! یہ تمام معاملات بیک وقت کارفرما ہیں، لہذا ہمیں خواہ غاروں کے زمانے میں دھکیل دیا جائے، ہم محض چند سال بعد آج سے کہیں آگے کھڑے ہوں گے! بشرطیکہ ہمارا دل مضبوط ہو اور ارادے مضبوط تر!
پاکستان میں علاقائی اخبارات سے قومی اخبارات اور رسائل و جرائد میں ہماری تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے قدیم ترین مظاہر کے ساتھ ساتھ جدید ترین مناظر تک اپنی لہریں بہریں دکھاتے نظر پڑتے ہیں! ریڈیو کی شارٹ ویووز اور میڈیم ویووز کے ساتھ ساتھ فریکوئنسی ماڈولیٹڈ ویوز بھی اب اپنی موج میں رواں ہیں اور ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے لئے آواز کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی کاندھوں پر اٹھائے پھر رہی ہیں! ایک بات منہ سے نکلتے ہی پورے کا پورا پاکستان اپنی آغوش میں لے لیتی ہے! لیکن اس جدید ترین سہولت کے ساتھ ساتھ آج بھی پاکستان کے تمام پہاڑی، صحرائی اور میدانی دیہات میں ’مارُو ڈھول‘ ’ناگہانی پیغام رسانی‘ کا واحد طریقہ ہے! پاکستان، ایک ایسا ہی ملک ہے اور اس کی ’بقا میں تسلسل‘ کا راز اسی ’ہمہ گیری‘ میں پنہاں ہے! پانی میسر ہو تو ’وضو‘ کر لیتے ہیں، پانی میسر نہ ہو تو ’تیمم‘ ہماری کفالت کے لئے آن پہنچتا ہے! کہ ہم ہر حال میں سجدہ شکر بجا لانے کی عادی قوم ہیں!
’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے‘ یہ صرف ایک سطر تھی! مگر اپنے اندر ایک ’جہان نو‘ آباد کئے ہوئے تھی! ایک خواب پورا ہو جانے اور ان گنت خوابوں کی تکمیل کے لئے دوڑ پڑنے کا پیغام دیتی یہ ’سطر‘ پوری دنیا نے سنی اور ہم سے رابطے میں آ گئی! مگر دنیا میں سب سے زیادہ مانیٹر کیا جانے والا یہ اطلاعاتی اور نشریاتی ادارہ ’مارشل لا لگ جانے‘ اور ’مارشل لا اٹھ جانے‘ کی خبر پر یقین لے آنے کا واحد ذریعہ بن کے رہ گیا!
کل تک جنوبی ایشیا کا ’تہذیبی دروازہ‘ ایک طرفہ ’خستگی کی نشانی‘ مگر گزشتہ تین ماہ کے دوران بار بار یاد کئے جانے پر ہمیں احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ’گڑ بڑ‘ ہے، ورنہ ایک ایسا ادارہ جہاں صرف 7 فیصد عملہ کام کر رہا ہو! اور باقی 93 فیصد عملہ ان 7 فیصد کے کام کی ’نگرانی اور نگہبانی‘ کے نام پر ایک مستقل ’بدعنوانی‘ میں ملوث پایا جا رہا ہو، وہاں یک دم ’تہذیب اور ثقافت‘ جیسے ’ناپید معاملات‘ نئے سرے سے توجہ کا مرکز بن جائیں! یا مظہر العجائب یہ کیا معاملہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ’ہیڈکوارٹر‘ کی کارستانی ہے! اب حال یوں ہے کہ نئے گیت ریکارڈ ہو رہے ہیں، نئے ڈرامے نشر کئے جا رہے ہیں! مذاکرے اور مشاعرے برپا ہیں! ہر طرف ایک ہلچل سی ہلچل ہے! ریڈیو پاکستان کے تمام مراکز میں زندگی کی ایک نئی لہر موج زن ہے!
ادارے، شخصیات تعمیر کرتے ہیں اور پھر یہی شخصیات ادارے کے لئے نئی سربلندیاں کماتے ہیں، مگر اب لوگ کسی نہ کسی ادارے میں گھس آتے ہیں اور ’شخصیت‘ بن کر کسی اور ’ادارے‘ میں پیسہ اینٹھنے پہنچ جاتے ہیں!
صدر مملکت جناب آصف زرداری کی ’نگاہ مردم شناس‘ ریڈیو پاکستان کی کارکردگی سے مایوس ہو کر اٹھی اور رکی تو جناب مرتضیٰ سولنگی کے متبسم چہرے پر آ ٹکی! جناب مرتضیٰ سولنگی ’براڈ کاسٹنگ‘ کا وسیع امریکی تجربہ رکھتے ہیں، یعنی وہ انجینئرنگ، پروگرامنگ اور ایڈمنسٹریشن کے ان اسرارورموز سے بھی واقف ہیں، جن سے آگاہی کے لئے کسی ترقی یافتہ ملک میں کام کرنا لازم آتا ہے! یہ اسراورموز پاکستان میں کسی ایک شخصیت میں یکجا ہونا ناممکنات میں سے تھا! لہذا ’بدعنوانی‘ میں ملوث ’کالی بھیڑوں کا گلہ‘ منتشر کرنے کا ’ٹاسک‘ لے کر وہ ہیڈکوارٹر میں بطور ’ڈائریکٹر جنرل‘ داخل ہوئے اور ہر طرف ’ہاہاکار‘ مچ گئی! ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا عملہ کام سے لگا دیا گیا اور باقی 93 فیصد عملے کی ”خبرگیری‘ کا آغاز ہو گیا!
جناب آصف زرداری نے جناب مرتضیٰ سولنگی پر ایک ایسا بوجھ لاد دیا ہے، جسے ان جیسے ’براڈکاسٹر‘ پر پہلے کبھی نہیں لادا گیا! ایف ایم 93 کے ذریعے ’کمیونٹی براڈ کاسٹنگ‘ اور PLANET-94 کے ذریعے انگریزی نشریات کا آغاز ہو چکا ہے، ’حالات حاضرہ‘ کے حوالے سے ’نیشنل براڈ کاسٹنگ سروس‘ میں ذرا ’کھلا ڈھلا‘ رویہ بھی انہی کے امریکی تجربے کا غماز ہے!
ہم ابھی یہیں تک لکھ پائے تھے کہ ہمیں یک دم یاد آیا کہ جناب آصف زرداری کی ’نگاہ مردم شناس‘ آئینے کے سامنے آتے ہی ہمارے ایک شعر کی تفسیر بن گئی!
آ گیا اپنے سحر حُسن میں خود
ہو گیا سنگ ہو بہو وہ بھی
اور انہوں نے اپنا جسم بھی تیاگ دیا! انہوں نے اعضا کی پیوندکاری کے لئے اپنا جسم بھی عطیہ کر دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں دستاویزات تیار ہو رہی ہیں، میں ان پر بھی دستخط کر دوں گا اور اس کے بعد ’اعضا کی پیوند کاری‘ کے بل پر دستخط کر دیئے! اور یوں سڑکوں پر حادثات جنم دے کر اعضا حاصل کرنے کے کام کو ’قانونی تحفظ‘ دے دیا! شاید ہم یہ کہنا چاہتے ہیں، ’قانون‘ کوئی اور چیز ہے، ’قانون‘ پر ’عملدرآمد‘ دوسری اور بالکل مختلف چیز ہے! ایک طرف زندگی بحال ہو رہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے جب کہ دوسری طرف ’بدعنوانی‘ پر کمربستہ لوگ ’موٹرسائیکل سوار‘ تیار کر رہے ہیں! کاش! ایسا نہ ہو! لیکن ’اعضا کی پیوند کاری‘ پر پابندی لگی ہی ان واقعات کے بعد تھی!
پاکستان میں مارُو ڈھول کی آواز بلند ہو یا، ’ڈھول سولنگی‘ کاربند ہو! ہمارا کام لبےک کہنا ہے بشرطیکہ دونوں آوازیں پاکستان کے لئے بلند ہو رہی ہوں، پاکستانی عوام کی سربلندی کے لئے اٹھ رہی ہوں! ڈھول ماہیا!
پاکستان میں علاقائی اخبارات سے قومی اخبارات اور رسائل و جرائد میں ہماری تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے قدیم ترین مظاہر کے ساتھ ساتھ جدید ترین مناظر تک اپنی لہریں بہریں دکھاتے نظر پڑتے ہیں! ریڈیو کی شارٹ ویووز اور میڈیم ویووز کے ساتھ ساتھ فریکوئنسی ماڈولیٹڈ ویوز بھی اب اپنی موج میں رواں ہیں اور ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے لئے آواز کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی کاندھوں پر اٹھائے پھر رہی ہیں! ایک بات منہ سے نکلتے ہی پورے کا پورا پاکستان اپنی آغوش میں لے لیتی ہے! لیکن اس جدید ترین سہولت کے ساتھ ساتھ آج بھی پاکستان کے تمام پہاڑی، صحرائی اور میدانی دیہات میں ’مارُو ڈھول‘ ’ناگہانی پیغام رسانی‘ کا واحد طریقہ ہے! پاکستان، ایک ایسا ہی ملک ہے اور اس کی ’بقا میں تسلسل‘ کا راز اسی ’ہمہ گیری‘ میں پنہاں ہے! پانی میسر ہو تو ’وضو‘ کر لیتے ہیں، پانی میسر نہ ہو تو ’تیمم‘ ہماری کفالت کے لئے آن پہنچتا ہے! کہ ہم ہر حال میں سجدہ شکر بجا لانے کی عادی قوم ہیں!
’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے‘ یہ صرف ایک سطر تھی! مگر اپنے اندر ایک ’جہان نو‘ آباد کئے ہوئے تھی! ایک خواب پورا ہو جانے اور ان گنت خوابوں کی تکمیل کے لئے دوڑ پڑنے کا پیغام دیتی یہ ’سطر‘ پوری دنیا نے سنی اور ہم سے رابطے میں آ گئی! مگر دنیا میں سب سے زیادہ مانیٹر کیا جانے والا یہ اطلاعاتی اور نشریاتی ادارہ ’مارشل لا لگ جانے‘ اور ’مارشل لا اٹھ جانے‘ کی خبر پر یقین لے آنے کا واحد ذریعہ بن کے رہ گیا!
کل تک جنوبی ایشیا کا ’تہذیبی دروازہ‘ ایک طرفہ ’خستگی کی نشانی‘ مگر گزشتہ تین ماہ کے دوران بار بار یاد کئے جانے پر ہمیں احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ’گڑ بڑ‘ ہے، ورنہ ایک ایسا ادارہ جہاں صرف 7 فیصد عملہ کام کر رہا ہو! اور باقی 93 فیصد عملہ ان 7 فیصد کے کام کی ’نگرانی اور نگہبانی‘ کے نام پر ایک مستقل ’بدعنوانی‘ میں ملوث پایا جا رہا ہو، وہاں یک دم ’تہذیب اور ثقافت‘ جیسے ’ناپید معاملات‘ نئے سرے سے توجہ کا مرکز بن جائیں! یا مظہر العجائب یہ کیا معاملہ ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ’ہیڈکوارٹر‘ کی کارستانی ہے! اب حال یوں ہے کہ نئے گیت ریکارڈ ہو رہے ہیں، نئے ڈرامے نشر کئے جا رہے ہیں! مذاکرے اور مشاعرے برپا ہیں! ہر طرف ایک ہلچل سی ہلچل ہے! ریڈیو پاکستان کے تمام مراکز میں زندگی کی ایک نئی لہر موج زن ہے!
ادارے، شخصیات تعمیر کرتے ہیں اور پھر یہی شخصیات ادارے کے لئے نئی سربلندیاں کماتے ہیں، مگر اب لوگ کسی نہ کسی ادارے میں گھس آتے ہیں اور ’شخصیت‘ بن کر کسی اور ’ادارے‘ میں پیسہ اینٹھنے پہنچ جاتے ہیں!
صدر مملکت جناب آصف زرداری کی ’نگاہ مردم شناس‘ ریڈیو پاکستان کی کارکردگی سے مایوس ہو کر اٹھی اور رکی تو جناب مرتضیٰ سولنگی کے متبسم چہرے پر آ ٹکی! جناب مرتضیٰ سولنگی ’براڈ کاسٹنگ‘ کا وسیع امریکی تجربہ رکھتے ہیں، یعنی وہ انجینئرنگ، پروگرامنگ اور ایڈمنسٹریشن کے ان اسرارورموز سے بھی واقف ہیں، جن سے آگاہی کے لئے کسی ترقی یافتہ ملک میں کام کرنا لازم آتا ہے! یہ اسراورموز پاکستان میں کسی ایک شخصیت میں یکجا ہونا ناممکنات میں سے تھا! لہذا ’بدعنوانی‘ میں ملوث ’کالی بھیڑوں کا گلہ‘ منتشر کرنے کا ’ٹاسک‘ لے کر وہ ہیڈکوارٹر میں بطور ’ڈائریکٹر جنرل‘ داخل ہوئے اور ہر طرف ’ہاہاکار‘ مچ گئی! ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا عملہ کام سے لگا دیا گیا اور باقی 93 فیصد عملے کی ”خبرگیری‘ کا آغاز ہو گیا!
جناب آصف زرداری نے جناب مرتضیٰ سولنگی پر ایک ایسا بوجھ لاد دیا ہے، جسے ان جیسے ’براڈکاسٹر‘ پر پہلے کبھی نہیں لادا گیا! ایف ایم 93 کے ذریعے ’کمیونٹی براڈ کاسٹنگ‘ اور PLANET-94 کے ذریعے انگریزی نشریات کا آغاز ہو چکا ہے، ’حالات حاضرہ‘ کے حوالے سے ’نیشنل براڈ کاسٹنگ سروس‘ میں ذرا ’کھلا ڈھلا‘ رویہ بھی انہی کے امریکی تجربے کا غماز ہے!
ہم ابھی یہیں تک لکھ پائے تھے کہ ہمیں یک دم یاد آیا کہ جناب آصف زرداری کی ’نگاہ مردم شناس‘ آئینے کے سامنے آتے ہی ہمارے ایک شعر کی تفسیر بن گئی!
آ گیا اپنے سحر حُسن میں خود
ہو گیا سنگ ہو بہو وہ بھی
اور انہوں نے اپنا جسم بھی تیاگ دیا! انہوں نے اعضا کی پیوندکاری کے لئے اپنا جسم بھی عطیہ کر دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں دستاویزات تیار ہو رہی ہیں، میں ان پر بھی دستخط کر دوں گا اور اس کے بعد ’اعضا کی پیوند کاری‘ کے بل پر دستخط کر دیئے! اور یوں سڑکوں پر حادثات جنم دے کر اعضا حاصل کرنے کے کام کو ’قانونی تحفظ‘ دے دیا! شاید ہم یہ کہنا چاہتے ہیں، ’قانون‘ کوئی اور چیز ہے، ’قانون‘ پر ’عملدرآمد‘ دوسری اور بالکل مختلف چیز ہے! ایک طرف زندگی بحال ہو رہی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے جب کہ دوسری طرف ’بدعنوانی‘ پر کمربستہ لوگ ’موٹرسائیکل سوار‘ تیار کر رہے ہیں! کاش! ایسا نہ ہو! لیکن ’اعضا کی پیوند کاری‘ پر پابندی لگی ہی ان واقعات کے بعد تھی!
پاکستان میں مارُو ڈھول کی آواز بلند ہو یا، ’ڈھول سولنگی‘ کاربند ہو! ہمارا کام لبےک کہنا ہے بشرطیکہ دونوں آوازیں پاکستان کے لئے بلند ہو رہی ہوں، پاکستانی عوام کی سربلندی کے لئے اٹھ رہی ہوں! ڈھول ماہیا!
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists
Qoomi Tameer-o-Tekhreeb… by Rafeeq Dogar
19 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
قومی تعمیر و تخریب اور بیورو کریسی
رفیق ڈوگر ـ
اور ہاں بی اے قریشی صاحب اور بیورو کریسی کا ملک کی بربادی میں حصہ؟ آج بی اے قریشی صاحب نے بتایا کہ ”میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں کہ بیورو کریسی نے اس ملک کو کیسے تباہ کیا ہے؟ میرا اور ریاض الدین احمد کا مشیر ایک ہی ہے۔ ریاض الدین احمد کتاب لکھ رہا ہے کہ بیورو کریسی کی خدمات کیا ہیں؟ میں ریاض کے اس خدمات کے موضوع سے ایک ہی باب میں نپٹ لوں گا اور پھر بتاﺅں گا کہ محمد علی اور اسکندر مرزا سے لے کر اب تک بیورو کریسی نے اس ملک کو کیسے تباہ کیا ہے بیورو کریسی اس وقت تک اچھی ہوتی ہے جب تک وہ اپنا کام کرتی ہے وہ کام جس کی اسے تربیت دی گئی ہوتی ہے جو اس کا بنیادی فرض ہے ساری خرابیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب وہ اصول چھوڑ دیتی ہے اور وہ کام شروع کر دیتی ہے جس سے اس کا تعلق نہیں ہوتا جس کی اسے تربیت نہیں دی گئی ہوتی“ پھر ایک مشکل بتائی ”مشکل یہ ہے کہ ملک تباہ کرنے میں فوجی بیورو کریسی کا بھی تو حصہ ہے کتاب میں اسے بھی تو شامل ہونا چاہئے“ میں نے کہا آپ لکھ دیں دیکھا جائے گا کیا کرنا ہے کیا ہوتا ہے۔ کہنے لگے ”ہاں یہ ٹھیک ہے“ (15 جنوری 1983) پاکستان کے دور اول کے حکمرانوں کی مالی طور پر امانت اور دیانت کے حوالے سے بی اے قریشی نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ چودھری محمد علی جب پاکستان کے وزیراعظم ہوتے تھے تو ایک دفعہ انہوں نے قریشی صاحب کو کسی معاملہ میں وزیراعظم ہاﺅس بلایا اور کہا کہ رات کا کھانا کھا کر جانا گرمیوں کے دن تھے اور وزیراعظم پاکستان کی بیوی خود کچن میں کھانا پکا رہی تھی تھوڑی دیر بعد پسینہ پونچھتی ہوئی آتی تھی کہ ”ذرا سی دیر ہے بس تیار ہی ہونے کو ہے کھانا۔
وزیراعظم پاکستان کے گھر کھانا پکانے کے لئے ایک ہی ملازم ہوتا تھا اور اس روز وہ چھٹی پر تھا اور اس کی چھٹی کے دن بیگم صاحبہ خود کھانا پکایا کرتی تھیں“۔ انہوں نے بتایا تھا کہ چودھری محمد علی کے گھر سامان رکھنے کی الماری تک نہیں تھی اور خود انہوں نے ریلوے سٹیشنوں پر رکھنے والی لوہے کی الماریوں جیسی ایک الماری وزیراعظم ہاﺅس بھجوائی تھی قریشی صاحب چودھری محمد علی کی صلاحیتوں کے بھی بہت معترف ہوتے تھے تو ان چودھری محمد علی نے بیورو کریسی نے اس ملک کو برباد کرنے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ”وہ بزدل بہت تھا سکندر مرزا اور سہروردی سے ڈرتا بہت تھا ان دونوں کے ملنے والے جو بھی کام کہیں جائز ناجائز کر دیا کرتا تھا۔ یعنی وہ اصول پر ڈٹ کر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا“ اس کے مقابلے میں بی اے قریشی‘ شیخ انوار الحق جو پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے کی جرات کے بڑے معترف ہوتے تھے جب پاکستان بنا تو شیخ صاحب راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ہوتے تھے آئی جی پنجاب پولیس قربان علی کو کسی کی ”خدمت“ کرنا چاہئے تھی۔ شیخ صاحب نے کہا نہیں ہونے دوں گا۔ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے بھارت میں۔ وہ نہیں تم دیکھ رہے؟ حکومت پنجاب نے جسٹس کیانی سے مشورہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر حکومت کے اقدام کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ شیخ انوار الحق نے دھمکی دی کہ میں ملکی مفاد میں عوام کو بتا دوں گا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ حکومت ڈر گئی لیکن کچھ عرصہ بعد شیخ صاحب کا پنڈی سے سیالکوٹ تبادلہ کر دیا گیا۔ قریشی صاحب نے بتایا کہ وہ اور حمید نظامی مرحوم وزیراعلیٰ ممدوٹ کے پاس گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ”ہمیں سیالکوٹ کے لئے کسی لائق آدمی کی ضرورت تھی اس لئے شیخ صاحب کو ہم سیالکوٹ لے آئے ہیں“ نظامی مرحوم نے کہا ”کیا راولپنڈی کو لائق آدمی کی ضرورت نہیں؟“ جس پر وزیراعلیٰ کا جواب تھا ”میں کیا بتاﺅں موڈی سے پوچھو“ یعنی گورے گورنر سے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے راولپنڈی میں قتل کی سازش کس کس نے تیار کی تھی؟ اس کی تحقیقاتی رپورٹ ضیاءالحق کے دور تک موجود تھی اس میں جن تین افراد کے نام تھے ان میں دو بیوروکریٹ تھے۔ مجھے جنرل غلام حسن خاں نے فائل کے بارے میں بتایا تو میں نے کہا اسے پریس کو جاری کر دیں جنرل صاحب نے جنرل ضیاءالحق سے کہا تو اس کا جواب تھا ”گڑے مردے اکھاڑنے کا کیا فائدہ ان تینوں میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہیں“۔ ہاں ان تینوں میں کوئی ایک بھی ”پنجابی“ نہیں تھا۔ جنرل ضیاءالحق جاپان کے دورے سے واپس آئے تو پاکستان کے عجائب گھروں میں موجود بدھ مذہب اور گندھارا آرٹ کے نمونوں کی نمائش جاپان بھیجنے کی تحریک شروع ہو گئی جن میں لاہور میوزیم سے فاقہ کش بدھا کا مجسمہ اور پشاور میوزیم سے وہ ڈبہ جس میں اشوک کی راکھ موجود ہے۔
خاص طور پر جاپان بھیجنے کی درخواست آئی تھی آرکیالوجی کی بیٹ میرے پاس تھی قریشی صاحب دونوں عجائب گھروں کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ انہوں نے بہت سی وجوہ بتائیں اور حکومتی دباﺅ کے بارے میں بھی بتایا ہم نے بھی مخالفت کی وفاقی وزیر ارباب نیاز اس شعبہ کے سربراہ تھے وہ لاہور آئے تو مجھ سے کہا ”قومی مسئلہ ہے مخالفت نہ کرو“ میں نے دلائل دینا شروع کر دیئے ارباب صاحب نے کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر کیا کریں شہنشاہ جاپان نے خود ضیاءالحق سے کہا تھا اور وہ وعدہ کر آئے ہیں۔ انہیں تو اس مسئلے کی نزاکت کا علم نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ کس کس کی فاقہ کش بدھا کی حفاظت کے سلسلے میں جاپان کی یاترا ہو گئی اور جاپان والے ہمارے لاہور میوزیم کے کن کن ماہرین کی مہارت کے کیسے کیسے مذاق اڑایا کرتے تھے لمبی کہانی ہے اس سارے دباﺅ کے باوجود اشوک کی راکھ والا ڈبہ بعض افراد نے جاپان نہیں جانے دیا تھا۔ جن میں سے ایک بی اے قریشی مرحوم بھی تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ان کے ایک حقیقی بھائی پاکستان ریلوے میں اعلیٰ عہدے پر تھے وہ ریلوے کے لئے ڈبے خریدنے جرمنی گئے سودا ہو گیا جرمنی والوں نے انہیں بھاری رقم نذرانہ پیش کی تو اس بیورو کریٹ نے کہا ”آپ کا شکریہ اس رقم کے بھی میرے محکمہ اور ملک کو مزید ڈبے ہی بھیج دیں“ اور وہ سودے کے نذرانے کے بھی ڈبے لے آئے تھے اپنے ملک اور محکمہ کے لئے۔ پاکستان میں حکومتوں کے آنے جانے کی کچھ کہانی میر نور احمد نے بیان کی ہے۔ ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ میں۔ وہ اطلاعات کے محکمہ کے سنتے ہیں بڑے اہم بیورو کریٹ ہوتے تھے قریشی صاحب نے ایک روز بتایا کہ جب فیروز خان نون وزیراعظم تھے تو حکم آیا کہ فوراً میر نور احمد کو گرفتار کر لو چیف سیکرٹری کے ساتھ اطلاعات کے محکمہ کا چارج بھی قریشی صاحب کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا ”کس جرم میں؟“ بتایا گیا وزیراعظم کے خلاف سازش تیار کرنے کے جرم میں کسی کامریڈ ٹین ساز نے فیروز خان نون کو اس سازش کی رپورٹ بھیجی تھی۔ قریشی صاحب نے بتایا کہ کامریڈ حکومت کا مخبر تھا میں نے اسے بلوایا وہ کوئی ثبوت نہ دے سکا میں نے میر نور احمد کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور میر نور احمد کو تادم مرگ کبھی بھی معلوم نہیں ہو سکا تھا۔ کہ کوئی ایسا حکم بھی آیا تھا میں نے اسے کبھی نہیں بتایا تھا“ کوئی بیورو کریٹ ہویا کوئی اور ہو جس کے دل میں یہ خوف بیدار رہے کہ اللہ کے ہاں پکڑ نہ ہو جائے میرے کسی کام کی وجہ سے تو وہی کر سکتا ہے کچھ اگر عزم کر لے تو اگر وہ سول جج جو جوڈیشل مجسٹریٹ بھی ہیں اور چند روز میں پورے صوبہ میں انتظام سنبھالنے جا رہے ہیں۔ ایسا عزم رکھتے ہیں تو ہم تو یہی کہیں گے کہ ”جو بزرگ نہ کر سکے تم ہی کر دکھاﺅ اللہ ہمت دے!“
وزیراعظم پاکستان کے گھر کھانا پکانے کے لئے ایک ہی ملازم ہوتا تھا اور اس روز وہ چھٹی پر تھا اور اس کی چھٹی کے دن بیگم صاحبہ خود کھانا پکایا کرتی تھیں“۔ انہوں نے بتایا تھا کہ چودھری محمد علی کے گھر سامان رکھنے کی الماری تک نہیں تھی اور خود انہوں نے ریلوے سٹیشنوں پر رکھنے والی لوہے کی الماریوں جیسی ایک الماری وزیراعظم ہاﺅس بھجوائی تھی قریشی صاحب چودھری محمد علی کی صلاحیتوں کے بھی بہت معترف ہوتے تھے تو ان چودھری محمد علی نے بیورو کریسی نے اس ملک کو برباد کرنے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ”وہ بزدل بہت تھا سکندر مرزا اور سہروردی سے ڈرتا بہت تھا ان دونوں کے ملنے والے جو بھی کام کہیں جائز ناجائز کر دیا کرتا تھا۔ یعنی وہ اصول پر ڈٹ کر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا“ اس کے مقابلے میں بی اے قریشی‘ شیخ انوار الحق جو پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے کی جرات کے بڑے معترف ہوتے تھے جب پاکستان بنا تو شیخ صاحب راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ہوتے تھے آئی جی پنجاب پولیس قربان علی کو کسی کی ”خدمت“ کرنا چاہئے تھی۔ شیخ صاحب نے کہا نہیں ہونے دوں گا۔ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے بھارت میں۔ وہ نہیں تم دیکھ رہے؟ حکومت پنجاب نے جسٹس کیانی سے مشورہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر حکومت کے اقدام کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ شیخ انوار الحق نے دھمکی دی کہ میں ملکی مفاد میں عوام کو بتا دوں گا کہ تم کیا کر رہے ہو۔ حکومت ڈر گئی لیکن کچھ عرصہ بعد شیخ صاحب کا پنڈی سے سیالکوٹ تبادلہ کر دیا گیا۔ قریشی صاحب نے بتایا کہ وہ اور حمید نظامی مرحوم وزیراعلیٰ ممدوٹ کے پاس گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ”ہمیں سیالکوٹ کے لئے کسی لائق آدمی کی ضرورت تھی اس لئے شیخ صاحب کو ہم سیالکوٹ لے آئے ہیں“ نظامی مرحوم نے کہا ”کیا راولپنڈی کو لائق آدمی کی ضرورت نہیں؟“ جس پر وزیراعلیٰ کا جواب تھا ”میں کیا بتاﺅں موڈی سے پوچھو“ یعنی گورے گورنر سے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے راولپنڈی میں قتل کی سازش کس کس نے تیار کی تھی؟ اس کی تحقیقاتی رپورٹ ضیاءالحق کے دور تک موجود تھی اس میں جن تین افراد کے نام تھے ان میں دو بیوروکریٹ تھے۔ مجھے جنرل غلام حسن خاں نے فائل کے بارے میں بتایا تو میں نے کہا اسے پریس کو جاری کر دیں جنرل صاحب نے جنرل ضیاءالحق سے کہا تو اس کا جواب تھا ”گڑے مردے اکھاڑنے کا کیا فائدہ ان تینوں میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہیں“۔ ہاں ان تینوں میں کوئی ایک بھی ”پنجابی“ نہیں تھا۔ جنرل ضیاءالحق جاپان کے دورے سے واپس آئے تو پاکستان کے عجائب گھروں میں موجود بدھ مذہب اور گندھارا آرٹ کے نمونوں کی نمائش جاپان بھیجنے کی تحریک شروع ہو گئی جن میں لاہور میوزیم سے فاقہ کش بدھا کا مجسمہ اور پشاور میوزیم سے وہ ڈبہ جس میں اشوک کی راکھ موجود ہے۔
خاص طور پر جاپان بھیجنے کی درخواست آئی تھی آرکیالوجی کی بیٹ میرے پاس تھی قریشی صاحب دونوں عجائب گھروں کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ انہوں نے بہت سی وجوہ بتائیں اور حکومتی دباﺅ کے بارے میں بھی بتایا ہم نے بھی مخالفت کی وفاقی وزیر ارباب نیاز اس شعبہ کے سربراہ تھے وہ لاہور آئے تو مجھ سے کہا ”قومی مسئلہ ہے مخالفت نہ کرو“ میں نے دلائل دینا شروع کر دیئے ارباب صاحب نے کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر کیا کریں شہنشاہ جاپان نے خود ضیاءالحق سے کہا تھا اور وہ وعدہ کر آئے ہیں۔ انہیں تو اس مسئلے کی نزاکت کا علم نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ کس کس کی فاقہ کش بدھا کی حفاظت کے سلسلے میں جاپان کی یاترا ہو گئی اور جاپان والے ہمارے لاہور میوزیم کے کن کن ماہرین کی مہارت کے کیسے کیسے مذاق اڑایا کرتے تھے لمبی کہانی ہے اس سارے دباﺅ کے باوجود اشوک کی راکھ والا ڈبہ بعض افراد نے جاپان نہیں جانے دیا تھا۔ جن میں سے ایک بی اے قریشی مرحوم بھی تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ ان کے ایک حقیقی بھائی پاکستان ریلوے میں اعلیٰ عہدے پر تھے وہ ریلوے کے لئے ڈبے خریدنے جرمنی گئے سودا ہو گیا جرمنی والوں نے انہیں بھاری رقم نذرانہ پیش کی تو اس بیورو کریٹ نے کہا ”آپ کا شکریہ اس رقم کے بھی میرے محکمہ اور ملک کو مزید ڈبے ہی بھیج دیں“ اور وہ سودے کے نذرانے کے بھی ڈبے لے آئے تھے اپنے ملک اور محکمہ کے لئے۔ پاکستان میں حکومتوں کے آنے جانے کی کچھ کہانی میر نور احمد نے بیان کی ہے۔ ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ میں۔ وہ اطلاعات کے محکمہ کے سنتے ہیں بڑے اہم بیورو کریٹ ہوتے تھے قریشی صاحب نے ایک روز بتایا کہ جب فیروز خان نون وزیراعظم تھے تو حکم آیا کہ فوراً میر نور احمد کو گرفتار کر لو چیف سیکرٹری کے ساتھ اطلاعات کے محکمہ کا چارج بھی قریشی صاحب کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا ”کس جرم میں؟“ بتایا گیا وزیراعظم کے خلاف سازش تیار کرنے کے جرم میں کسی کامریڈ ٹین ساز نے فیروز خان نون کو اس سازش کی رپورٹ بھیجی تھی۔ قریشی صاحب نے بتایا کہ کامریڈ حکومت کا مخبر تھا میں نے اسے بلوایا وہ کوئی ثبوت نہ دے سکا میں نے میر نور احمد کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور میر نور احمد کو تادم مرگ کبھی بھی معلوم نہیں ہو سکا تھا۔ کہ کوئی ایسا حکم بھی آیا تھا میں نے اسے کبھی نہیں بتایا تھا“ کوئی بیورو کریٹ ہویا کوئی اور ہو جس کے دل میں یہ خوف بیدار رہے کہ اللہ کے ہاں پکڑ نہ ہو جائے میرے کسی کام کی وجہ سے تو وہی کر سکتا ہے کچھ اگر عزم کر لے تو اگر وہ سول جج جو جوڈیشل مجسٹریٹ بھی ہیں اور چند روز میں پورے صوبہ میں انتظام سنبھالنے جا رہے ہیں۔ ایسا عزم رکھتے ہیں تو ہم تو یہی کہیں گے کہ ”جو بزرگ نہ کر سکے تم ہی کر دکھاﺅ اللہ ہمت دے!“
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists
Hairet Aur Ibret by Saeed Assi
19 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
حیرت اور عبرت
سعید آسی ـ
جس دھرتی کے باسیوں کی اکثریت نانِ جویں کے ٹکڑوں تک کو ترس رہی ہو۔ ان پر روزگار کے دروازے مستقل بند ہوچکے ہوں اور اپنے اپنے فیلڈ میںماہر پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان اپنی اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے مارے مارے پھر رہے ہوں اور عاجز آ کر موت یا جرائم کی دنیا میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرنے کا سوچ رہے ہوں وہاں حکمران طبقہ کی جانب سے اپنے پیاروں، سجنوںاور مِتروں پرنوازشات کی بھرمار غیر متوازن معاشرے کے پاﺅں مزید اکھاڑنے کا باعث ہی بنے گی۔
اگر بات میرٹ اور انصاف کی جائے اور ان دونوں معاملات میں آزمائش کے مراحل میں اقرباءپروری کے سابقہ واقعات کو بھی مات دے دی جائے، اگر درد مندی اور فکر مندی کا اظہار بے بس، مجبور اور پسے ہوئے طبقات کی محرومیاں، مجبوریاں دور کرنے کے حوالے سے کیا جائے اور حقیقت میں صرف اشرافیہ طبقات کو پالنے، پوسنے اور انہیں مزید مراعات دلوانے کی فکرمندی کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہو اور اگر شرفِ انسانیت کی بات کرکے طبقاتی کش مکش کو اپنی سوچ و اقدامات کی بنیاد پر مزید ہوا دی جا رہی ہو تو کسی معاشرے کے ایسے حالات ہی سب کچھ الٹ پلٹ کرنے والے انقلاب کیلئے سازگار ہوا کرتے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ ناانصافیوں کے ایسے ماحول کے ممکنہ نتیجے کا احساس بھی ہوتا ہے، پھر بھی ماحول بدلنے کی راہ اختیار نہیں کی جاتی اور ”پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات“ کا چلن ہی اختیار کئے رکھا جاتا ہے۔ معمولی سے معمولی روزگار کیلئے بھی ٹھوکریں کھاتے کھاتے مایوس ہونے والے نوجوانوں کو تو میرٹ کا چکمہ دیا جارہا ہو اور خود وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے لئے کوٹے مقرر کرکے اپنے یاروں، پیاروں، جیالوں، متوالوں اور ان کے دور نزدیک کے رشتہ داروں اور وفاداروں میں ملازمتوں کی بندربانٹ کی جا رہی ہو۔ عوام الناس کو وفاقی اور صوبائی سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر پابندی کے تشہیری پیغامات پہنچائے جا رہے ہوں اور چور دروازے سے دھمک، چمک کی بنیاد پر سب چل رہا ہو تو جناب! آپ کو کسی انقلاب کو دعوت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ معاشرے کو غیرمتوازن کرنے والے آپ کے اقدامات بذاتِ خود اتھّل پتھّل کی دعوت بن جائیں گے۔
پہلے تو مجھے خادمیت کی عملداری میں تنخواہ اور دیگر مراعات پر مبنی پانچ لاکھ روپے ماہانہ کے پیکیج پر میڈیا کنسلٹنٹ کے تقرر پر حیرت ہوئی تھی اور میرے حیرت کے اظہارپر متعلقین کے ٹس سے مس نہ ہونے کے عمل نے مجھے مزید حیرت کے سمندر کی جانب دھکیل دیا تھا جبکہ اب خادمیت ہی کی عملداری میں ایڈووکیٹ جنرل کی تنخواہ کا پیکیج سن کر تو میری سابقہ حیرت بھی بے وقعت ہوگئی ہے۔ جناب یہ پیکیج ہے مجموعی آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا، جس کے تحت خادمیت کی عملداری کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری نبھانے والے قانونی مشیر اعلیٰ کو اس لئے ماہانہ پانچ لاکھ روپے نان پریکٹسنگ الاﺅنس، ایک لاکھ روپے ویٹینرالاﺅنس اور ایک لاکھ روپے ہاﺅس رینٹ کی مد میں دیئے جائیں گے کہ وہ معروف قانون دان ہیں اور چلتا کاروبار چھوڑ کر خادمیت کی عملداری کیلئے مشاورت کا کٹھن فریضہ ادا کرنے پر بمشکل تمام رضامند ہوئے ہیں۔ لامحدود یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی، دو سجی سجائی سرکاری گاڑیوں کی فراہمی، پولیس گارد اور سٹاف کے درجنوں ارکان پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات اس ”اَٹّھ لکھّی پیکیج“ کے علاوہ ہیں۔ حیرتوں کا باب یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ حیرتوں کے سمندر میں غوطے لگانے کا اہتمام در اہتمام کیا گیا ہے۔ پڑھتے جاﺅ، شرماتے جاﺅ…. پہلے اس منصب کیلئے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور الاﺅنسز کا پیکیج مقرر تھا جس میں اس منصب جلیلہ کو نئی محترم شخصیت کیلئے محض قابلِ قبول بنانے کی خاطر بس معمولی سا، یعنی تین گنا اضافہ کرنا پڑا۔ پھر اس پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانیوں میں اٹارنی جنرل ، ڈپٹی اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حضرات کو پرائیویٹ پریکٹس کی بھی اجازت ہوتی ہے اور اپنے سرکاری منصب کی بنیاد پر تو پرائیویٹ پریکٹس کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
شہید بی بی کے دوسرے دور حکومت میں تو فیاضی کے معاملہ میں اور بھی کمال کردیا گیاتھا کہ وفاقی وزیر قانون کو اٹارنی جنرل کا منصب بھی عطاءکردیا گیا۔ گویا انصاف کی عملداری کے ڈنکے مدعی، منصف، مجرم کو ایک ہی ذات میں سمو کر بجائے گئے۔ ہم جرنیلی آمریت کے دو عہدوں کو روتے آئے ہیں، کیا کسی نے بھی موقع ملنے پر اس معاملہ میں کبھی کسر چھوڑی ہے؟ میاں صاحب کے دوسرے دور حکومت کے اٹارنی جنرل (خدا انہیں غریق رحمت کرے) اپنے اس سرکاری منصب کے ساتھ ساتھ حکمران پارٹی کی وکلاءتنظیم کے مرکزی صدر کے عہدہ پر بھی پورے دھڑ لے سے فائز رہے۔ بے شک یہ عہدہ سرکاری مراعات والے کسی پیکیج کا مرہون منت نہیں ہوتا مگر پارٹی اور حکومتی سرکاری عہدے کو ایک ساتھ نبھاتے ہوئے میرٹ و انصاف کی قدردانی کہیں فضاﺅں میں گم ہو جاتی ہے جیسے اب وفاقی حکمران پارٹی کے شریک چیئرمین منصب صدارت پر فائز ہو کر ایوان صدر کو اپنے پارٹی سیکرٹریٹ میں تبدیل کر چکے ہیں اور پھر بھی وفاق کی علامت کہلاتے ہیں۔
اگر بات میرٹ اور انصاف کی جائے اور ان دونوں معاملات میں آزمائش کے مراحل میں اقرباءپروری کے سابقہ واقعات کو بھی مات دے دی جائے، اگر درد مندی اور فکر مندی کا اظہار بے بس، مجبور اور پسے ہوئے طبقات کی محرومیاں، مجبوریاں دور کرنے کے حوالے سے کیا جائے اور حقیقت میں صرف اشرافیہ طبقات کو پالنے، پوسنے اور انہیں مزید مراعات دلوانے کی فکرمندی کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہو اور اگر شرفِ انسانیت کی بات کرکے طبقاتی کش مکش کو اپنی سوچ و اقدامات کی بنیاد پر مزید ہوا دی جا رہی ہو تو کسی معاشرے کے ایسے حالات ہی سب کچھ الٹ پلٹ کرنے والے انقلاب کیلئے سازگار ہوا کرتے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ ناانصافیوں کے ایسے ماحول کے ممکنہ نتیجے کا احساس بھی ہوتا ہے، پھر بھی ماحول بدلنے کی راہ اختیار نہیں کی جاتی اور ”پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات“ کا چلن ہی اختیار کئے رکھا جاتا ہے۔ معمولی سے معمولی روزگار کیلئے بھی ٹھوکریں کھاتے کھاتے مایوس ہونے والے نوجوانوں کو تو میرٹ کا چکمہ دیا جارہا ہو اور خود وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے لئے کوٹے مقرر کرکے اپنے یاروں، پیاروں، جیالوں، متوالوں اور ان کے دور نزدیک کے رشتہ داروں اور وفاداروں میں ملازمتوں کی بندربانٹ کی جا رہی ہو۔ عوام الناس کو وفاقی اور صوبائی سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر پابندی کے تشہیری پیغامات پہنچائے جا رہے ہوں اور چور دروازے سے دھمک، چمک کی بنیاد پر سب چل رہا ہو تو جناب! آپ کو کسی انقلاب کو دعوت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ معاشرے کو غیرمتوازن کرنے والے آپ کے اقدامات بذاتِ خود اتھّل پتھّل کی دعوت بن جائیں گے۔
پہلے تو مجھے خادمیت کی عملداری میں تنخواہ اور دیگر مراعات پر مبنی پانچ لاکھ روپے ماہانہ کے پیکیج پر میڈیا کنسلٹنٹ کے تقرر پر حیرت ہوئی تھی اور میرے حیرت کے اظہارپر متعلقین کے ٹس سے مس نہ ہونے کے عمل نے مجھے مزید حیرت کے سمندر کی جانب دھکیل دیا تھا جبکہ اب خادمیت ہی کی عملداری میں ایڈووکیٹ جنرل کی تنخواہ کا پیکیج سن کر تو میری سابقہ حیرت بھی بے وقعت ہوگئی ہے۔ جناب یہ پیکیج ہے مجموعی آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا، جس کے تحت خادمیت کی عملداری کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری نبھانے والے قانونی مشیر اعلیٰ کو اس لئے ماہانہ پانچ لاکھ روپے نان پریکٹسنگ الاﺅنس، ایک لاکھ روپے ویٹینرالاﺅنس اور ایک لاکھ روپے ہاﺅس رینٹ کی مد میں دیئے جائیں گے کہ وہ معروف قانون دان ہیں اور چلتا کاروبار چھوڑ کر خادمیت کی عملداری کیلئے مشاورت کا کٹھن فریضہ ادا کرنے پر بمشکل تمام رضامند ہوئے ہیں۔ لامحدود یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی، دو سجی سجائی سرکاری گاڑیوں کی فراہمی، پولیس گارد اور سٹاف کے درجنوں ارکان پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات اس ”اَٹّھ لکھّی پیکیج“ کے علاوہ ہیں۔ حیرتوں کا باب یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ حیرتوں کے سمندر میں غوطے لگانے کا اہتمام در اہتمام کیا گیا ہے۔ پڑھتے جاﺅ، شرماتے جاﺅ…. پہلے اس منصب کیلئے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور الاﺅنسز کا پیکیج مقرر تھا جس میں اس منصب جلیلہ کو نئی محترم شخصیت کیلئے محض قابلِ قبول بنانے کی خاطر بس معمولی سا، یعنی تین گنا اضافہ کرنا پڑا۔ پھر اس پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانیوں میں اٹارنی جنرل ، ڈپٹی اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حضرات کو پرائیویٹ پریکٹس کی بھی اجازت ہوتی ہے اور اپنے سرکاری منصب کی بنیاد پر تو پرائیویٹ پریکٹس کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
شہید بی بی کے دوسرے دور حکومت میں تو فیاضی کے معاملہ میں اور بھی کمال کردیا گیاتھا کہ وفاقی وزیر قانون کو اٹارنی جنرل کا منصب بھی عطاءکردیا گیا۔ گویا انصاف کی عملداری کے ڈنکے مدعی، منصف، مجرم کو ایک ہی ذات میں سمو کر بجائے گئے۔ ہم جرنیلی آمریت کے دو عہدوں کو روتے آئے ہیں، کیا کسی نے بھی موقع ملنے پر اس معاملہ میں کبھی کسر چھوڑی ہے؟ میاں صاحب کے دوسرے دور حکومت کے اٹارنی جنرل (خدا انہیں غریق رحمت کرے) اپنے اس سرکاری منصب کے ساتھ ساتھ حکمران پارٹی کی وکلاءتنظیم کے مرکزی صدر کے عہدہ پر بھی پورے دھڑ لے سے فائز رہے۔ بے شک یہ عہدہ سرکاری مراعات والے کسی پیکیج کا مرہون منت نہیں ہوتا مگر پارٹی اور حکومتی سرکاری عہدے کو ایک ساتھ نبھاتے ہوئے میرٹ و انصاف کی قدردانی کہیں فضاﺅں میں گم ہو جاتی ہے جیسے اب وفاقی حکمران پارٹی کے شریک چیئرمین منصب صدارت پر فائز ہو کر ایوان صدر کو اپنے پارٹی سیکرٹریٹ میں تبدیل کر چکے ہیں اور پھر بھی وفاق کی علامت کہلاتے ہیں۔
Categories : Saeed Assi, Urdu Columnists
Youm-e-Iftekhar Aur Jurat-e-Inkar by Dr Ajmal Niazi
19 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
یوم افتخار اور جرات انکار
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
نجانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ یوم افتخار پر محبوب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو پھر جرات انکار کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ انہیں ججوں کی تنخواہوں میں اضافے کو قبول نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جرات انکار کا تسلسل بڑا ضروری ہے۔ یوں وہ کچھ اور محبوب ہو جاتے۔ ہم ان کی تعریفیں کرتے رہے ان کی تعریفیں کرتے ہیں۔ شکایت بھی اسی سے ہوتی ہے جو اپنا ہوتا ہے۔ بچہ ماں سے محبت کرتا ہے اور شکایت بھی اسی سے کرتا ہے۔ ماں کا انصاف سب سے اعلیٰ ہے کہ وہ بے لوث ہے۔ وہ اس بیٹے سے لے لیتی ہے جس کے پاس زیادہ ہوتا ہے اور جس کے پاس نہیں ہوتا اسے دے دیتی ہے۔ یہاں تو ان کو دیا جا رہا ہے جن کے پاس پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور ان سے لیا جا رہا ہے جن کے پاس کم ہے بلکہ نہیں ہے۔ اب بھی وہ نعرہ لوگوں کے دلوں میں گونجتا ہے ”چیف ترے جانثار بے شمار بے شمار“ ان کے دکھ شمار کرنے والا ابھی کوئی نہیں ہے۔ میں نے تب بھی انہیں محبوب چیف جسٹس لکھا جب انہیں معزول لکھا جا رہا تھا۔ وہ غیر فعال ہو کے زیادہ فعال تھے لوگوں کی امیدوں کے مرکز تھے لوگ مایوسیوں میں مزید ڈوب گئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار کہہ دیتے کہ جب تک پاکستان کے سب ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں۔ ہم اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیں گے کیا پہلے ان کی تنخواہیں کم ہیں اور کیا یہ دلیل اب بھی حکومتی لوگوں کی طرف سے دی جا رہی ہے کہ ججوں کی تنخواہیں زیادہ ہونگی تو وہ رشوت نہیں لیں گے اور انصاف کریں گے۔ انصاف تو اس کے بعد بھی نہیں ملے گا۔ یہ دلیل سب لوگوں کےلئے کیوں نہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھا دی گئیں تو وہ کام زیادہ کریں گے۔ پہلے ہی وہ نوکری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ مہنگائی 400 فیصد بڑھی ہے اور ان کی تنخواہیں 15 فیصد بڑھانے کی تجویز ہے۔ یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کے بعد عام آدمی کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا کیا کبھی کسی نے سوچا کہ وہ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ زندگی انہیں گزارتی رہتی ہے۔ اب تو وہ انتظار اور صبر بھی نہیں کر سکتے۔ غریب عوام اب بھی خالی ہاتھ ہیں اور ان کے دل بھی مزید اجڑ گئے ہیں۔ انصاف نہیں ملا۔ پہلے بھی نہیں ملتا تھا۔ کرپشن اور ظلم زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے بھی کم نہ تھا۔ لوگوں نے سوچا تھا کہ چیف جسٹس بحال ہوں گے تو بے حال نہیں رہیں گے۔ مگر کام زیادہ خراب ہو گیا ہے۔ جو کچھ پچھلے ایک سال میں ہوا ہے شاید پچھلے سارے سالوں میں نہیں ہوا تھا ان کا خیال تھا کہ سیاستدان لوٹ مار اور استحصال کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔ سیاسی جرنیل بھی ان کے جیسے تھے۔ حاکم سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ظالم اور بس ظالم اور محکوم بھی اسی طرح ہیں۔ مظلوم اور محروم۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ ایک بوڑھا ملتان میں بڑی مشکل سے چل رہا تھا۔ مگر چیف جسٹس کے انتظار میں احتجاج کر رہا تھا کسی نے پوچھا تو بابے بوڑھے نے کہا کہ اس چیف جسٹس کو دیکھنے آیا ہوں جس نے ایک فوجی آمر کو انکار کیا ہے۔
محبت اور ادب سے بات کر رہا ہوں کہ توہین عدالت عام لوگوں نے کبھی کی ہی نہیں یہ حکمران اور افسران ہیں جنہیں معاف بھی کر دیا جاتا ہے۔ مگر ایک چیز توہین انسانیت بھی ہے توہین دل و جاں اور توہین پاکستان بھی ہے اور وہ مسلسل ہو رہی ہے۔ مہنگائی رسوائی، بے روزگاری اور بدامنی بھی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے چینی کی قیمت 40 روپے کلو کی تھی۔ وہ اب 80 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ یہ کس کی توہین ہے یہ پنجاب حکومت نے بھی کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ آزاد عدلیہ کے ساتھ ہیں۔ پٹرول کی قیمت گھٹانے کے بعد آزاد عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا۔ خدا کی قسم اس توہین کو لوگوں نے اپنے دل میں محسوس کیا ہے۔
پنجاب حکومت نے پولیس والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور بے تحاشا کیا۔ کاش دوسرے ملازمین کے پاس بھی کوئی اختیار ہوتا۔ ان کے پاس تو اب بے اختیاری بھی نہیں ہے۔ حکمران اور افسران پولیس والوں کے محتاج ہیں اور ججوں سے ڈرتے ہیں اس کے بعد ٹیچرز نے ہڑتال کی کہ ہماری تنخواہ بہت تھوڑی ہے مگر ان پر لاٹھی چارج ہوا۔ ماوں بہنوں جیسی لیڈی ٹیچرز کو سڑکوں پر لٹا لٹا کر مارا گیا۔ ایک زخمی خاتون نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ حال ہے تو انہیں پولیس کی تنخواہیں کئی بار بڑھانا پڑیں گی۔ یہ وہی پولیس والے ہیں کہ چیف کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آئے ہوئے لوگوں کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔ ان کی تنخواہیں بڑھیں مگر عام ملازمین نے صرف لاٹھیاں کھائیں۔
یوم افتخار منانے والے وکیلوں کے روئیے سے لوگوں کو تکلیف ضرور ملی ہے لوگ اب تکلیف میں ریلیف محسوس کرنے کی عادت بنا چکے ہیں۔ خدا کی قسم پچھلا ایک سال بہت ہی غیر منصفانہ تھا۔
ہے دل پہ انتظار کا تالا لگا ہوا
عمریں گزار دی ہیں فقط ایک سال میں
حکمران اور افسران اس غریب ملک میں امیرانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ لوگوں نے چاہا تھا کہ وہ ان سے بھی آزاد عدلیہ کی بحالی کے بعد نجات پائیں گے۔ افسران حکمرانوں کو اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔ چھوٹی عدالتوں میں ذلیل و خوار ہونے والے سمجھتے تھے کہ ہمیں تمام قسم کی بے انصافیوں سے نجات ملے گی مگر انصاف اور بے انصافی میں فرق مٹ گیا ہے۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے اپنی تنخواہیں نہ بڑھانے پر احتجاج کیا ہے۔ وہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ آزاد عدلیہ کی بحالی کےلئے سب نے دھرنے میں شرکت کی تھی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ پھر ان کو ہی دھر لیا جائے گا اور دھر رگڑا زیادہ شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کہہ رہے ہیں کہ خزانہ خالی ہے وہ خزانہ خود لوٹ کے کھا گئے ہیں۔ عوام نے جس نظام کو مسترد کیا تھا اب کون اس کی حفاظت میں سرگرم ہے؟
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists














