
Rescue 1122 by Hameed Ahmad Sethi
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Hameed Sethi, Urdu Columnists
Jeet Ker Bhi… by Ijaz Hafeez Khan
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Ijaz Hafeez Khan, Urdu Columnists
Semaya Dari Ki… by Zubair Rehman
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Urdu Columnists, Zubair Rehman
Qebayeli Ilaqoon…. by Latif Choudry
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Latif Choudry, Urdu Columnists
23 March Ki Dead Line by Tahir Server Mir
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Tahir Server Mir, Urdu Columnists
Andheson Aur Khouf Key… by Hassan Zaheer
17 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Hassan Zaheer, Urdu Columnists
Phir Kisi Aur Ko Dosh Kion Deyn by Saeed Assi
16 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں؟
سعید آسی ـ
عوام کی جانب سے دھتکارے گئے جرنیلی آمرمیں آخر اتنی ہمت کیسے پیدا ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کو ہائی جیک کرنے کی پوری دیدہ دلیری کے ساتھ منصوبہ بندی کریں اور یوم قرارداد پاکستان (23مارچ) سے ایک ہفتہ قبل آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر قائد کی جماعت مسلم لیگ کو ”پٹے“ پر حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے روبرو درخواست داخل کرائیں۔ گجرات میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے معرکے میں باہم دست و گریباں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین کو شائد اس کا احساس نہیں ہوا ہوگا کہ بے تاب ”سوہنی“ کو کچے گھڑے پر تیرنے کا جھاکا دے کر ڈبونے اور بے خبر سسّی کا بھنبور لوٹنے کے اسباب پیدا کئے جارہے ہیں۔
اس سرعام ڈکیتی اور چوری سینہ زوری کیلئے میدان کیسے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگائیں اور اپنے شرمندہ ہونے کا اہتمام کریں۔ہم خیالوں کی لیگ کے چیف آرگنائزر لالہ نثار نے چارسدہ میں مشرف لیگ (آل پاکستان مسلم لیگ) کی تشکیل کیلئے ”صلائے عام“ کا اہتمام کیا۔ جنرل راشد قریشی نے تو شریک ہونا ہی ہونا تھا کہ جرنیلی آمریت کی ترجمانی کرتے کرتے وہ خود کو اسی آمریت کی کھال کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اہلِ قاف (مسلم لیگ ق) میں سے ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی اپنا بوریا بستر اٹھائے چارسدہ کے جرنیلی پڑاﺅ میں آن وارد ہوئے اور پھر سارے ہمنواﺅں نے جرنیلی راگ کی تان الاپتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کا ڈھانچہ کھڑا کردیا اور بیرسٹر محمد علی سیف کو اس کا عبوری چیئرمین مقرر کرکے وہیں سے نہ جانے کس چھومنتر کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کی رجسٹریشن کیلئے درخواست بھجوا دی۔
جس جرنیلی آمریت کا عوام نے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے کریا کرم کرکے، مردے کے کفن پھاڑ کر بولنے کا راستہ بھی بند کردیا تھا، اس نے سٹراند چھوڑتے چھوڑتے آخر اتنی قوت کہاں سے حاصل کرلی ہے کہ کپکپاتے پاﺅں کی لرزش کو تھام کر وہ نہ صرف پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کی کوششوں میں مگن نظر آرہی ہے بلکہ دیدے پھاڑتے ہوئے عوام کی جانب سے لائی گئی سلطانی ¿ جمہور کو للکارے بھی مار رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سے وابستہ وفاقی حکمرانوں کو کیا مورد الزام ٹھہرایا جائے کہ ان کے گلشن کا تو سارا کاروبار ہی جرنیلی آمریت کے صدقے چلا ہے جس کا صلہ دینے کیلئے جمہوریت اور آئین کے قاتل اور عدالتی عملداری کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے والے جرنیلی آمر کو گارڈ آف آنر پیش کرکے، فوجی مارچ پاسٹ کی سلامی دلوا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا گیا اور پھر کہیں پکڑے نہ جائیں کا خطرہ ٹال کر انہیں دھاڑنے، چنگھاڑنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کرکے ملک سے باہر فرار کرا دیا گیا جہاں بیٹھے اب وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ مجرم اعظم کے بجائے معززِ اعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اپنے آمرانہ دور اور موجودہ سلطانی¿ جمہور کا موازنہ کرا رہے ہیں۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن پر شرمسار ہونے کی بجائے اس کے جواز میں تاویلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیف جسٹس سے انصاف طلب کر رہے ہیں جو ان کے جرنیلی عتاب کی زد میں آ کر خود طالبِ انصاف رہے۔ بے شک یہ جرنیلی آمر احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے لائف سیونگ ڈرگ کا کام دینے والی پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں اور اسی کو اپنے جرنیلی دور کے مقابلہ میں عوامی مسائل میں اضافے کا طعنہ دے رہے ہیں پھر بھی آل پاکستان مسلم لیگ سے حکمران پیپلز پارٹی کو بھلا کیا لینا دینا ہے کہ….
ساحل کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حرف تو مسلم لیگ پرآ رہا ہے۔ نکاتی تو پاکستان کی خالق اسی جماعت کی ہو رہی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ مسلم لیگ ہی ہر جرنیلی آمر کے ہاتھ کا کھلونا بنتی ہے۔ مسلم لیگ کا کیا فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر تشکیل پاکستان ممکن ہوئی اور جرنیلی آمروں کے ہاتھوں میں اپنی گردن دینے والی مسلم لیگ کس فلسفے پر کاربند ہے۔ کنونشن لیگ، جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ (جناح لیگ) فنکشنل لیگ، قاف لیگ، ہم خیال لیگ اور اب توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے آل پاکستان جرنیلی مسلم لیگ۔ جرنیلی آمروں کی تھپکیوں میں پروان چڑھنے والی ان لیگوں نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا نام کتنا روشن کیا ہے؟۔ جس کی مدد سے قیام پاکستان کی منزل حاصل ہوئی، اس جمہوریت کو کتنا پروان چڑھایا ہے؟ اور تعمیر پاکستان کیلئے بانی پاکستان قائداعظم کے فلسفے کو کتنی تقویت پہنچائی ہے۔ قائد کی مسلم لیگ کے نام لیوا جائزہ لیں اور شرماتے جائیں۔ جن لیگیوں کو طالع آزماﺅں کے راستے کی دیوار بننا چاہئے تھا وہ یونینسٹوں سے بھی بدتر انداز میں مفادات کے پتلے نکلے۔ قائد کی جیب کے کھوٹے سِکّوں اور ان کی اولادوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ جھوٹ اور سچ کی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ پچھتاﺅے کا لفظ ہی ڈکشنری سے غائب ہوگیا ہے اور اصولوں کی پاسداری کے فلسفہ کا مفہوم ہی تبدیل ہوگیا ہے۔
اگر لیگ ایک ہوتی اور لیگی ایک ہی لیگ کا سبز ہلالی پرچم تھامے ہوتے تو آج قائد کے پاکستان کی جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بن چکی ہے، سلطانی جمہور جتنی شرمندہ اور بھیگی بلی بنی بیٹھی ہے اور آئین ہی کیا، ملک تک کو توڑنے والے بدبخت طالع آزماﺅں کے سینے جس دیدہ دلیری کے ساتھ پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات کے ضمنی انتخابی معرکے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے لیگی قائدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے طوفان سے باہر نکال کر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا اس کی نوبت آتی؟پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں اور اگر اب بھی سنبھلنے کا جذبہ مفقود ہے تو بامشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی آئی کو ٹالنے کیلئے جل تُو جلال تُو کا ورد کیوں کریں۔ زندہ باد کے شور میں اچھا کیا ہے، بُرا کیا ہے، کون جانتا ہے، کون پہچانتا ہے، سب چلتا ہے بھائی۔
آخر میں اپنے ان تمام معزز و محترم قارئین کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں جنہوں نے میری ذاتی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک کالم کا سلسلہ منقطع ہونے پر پل پل میری خبرگیری کی اور میری صحت و تندرستی کی دعاﺅں کے انبار لگا دیئے۔
اس سرعام ڈکیتی اور چوری سینہ زوری کیلئے میدان کیسے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگائیں اور اپنے شرمندہ ہونے کا اہتمام کریں۔ہم خیالوں کی لیگ کے چیف آرگنائزر لالہ نثار نے چارسدہ میں مشرف لیگ (آل پاکستان مسلم لیگ) کی تشکیل کیلئے ”صلائے عام“ کا اہتمام کیا۔ جنرل راشد قریشی نے تو شریک ہونا ہی ہونا تھا کہ جرنیلی آمریت کی ترجمانی کرتے کرتے وہ خود کو اسی آمریت کی کھال کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اہلِ قاف (مسلم لیگ ق) میں سے ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی اپنا بوریا بستر اٹھائے چارسدہ کے جرنیلی پڑاﺅ میں آن وارد ہوئے اور پھر سارے ہمنواﺅں نے جرنیلی راگ کی تان الاپتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کا ڈھانچہ کھڑا کردیا اور بیرسٹر محمد علی سیف کو اس کا عبوری چیئرمین مقرر کرکے وہیں سے نہ جانے کس چھومنتر کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کی رجسٹریشن کیلئے درخواست بھجوا دی۔
جس جرنیلی آمریت کا عوام نے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے کریا کرم کرکے، مردے کے کفن پھاڑ کر بولنے کا راستہ بھی بند کردیا تھا، اس نے سٹراند چھوڑتے چھوڑتے آخر اتنی قوت کہاں سے حاصل کرلی ہے کہ کپکپاتے پاﺅں کی لرزش کو تھام کر وہ نہ صرف پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کی کوششوں میں مگن نظر آرہی ہے بلکہ دیدے پھاڑتے ہوئے عوام کی جانب سے لائی گئی سلطانی ¿ جمہور کو للکارے بھی مار رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سے وابستہ وفاقی حکمرانوں کو کیا مورد الزام ٹھہرایا جائے کہ ان کے گلشن کا تو سارا کاروبار ہی جرنیلی آمریت کے صدقے چلا ہے جس کا صلہ دینے کیلئے جمہوریت اور آئین کے قاتل اور عدالتی عملداری کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے والے جرنیلی آمر کو گارڈ آف آنر پیش کرکے، فوجی مارچ پاسٹ کی سلامی دلوا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا گیا اور پھر کہیں پکڑے نہ جائیں کا خطرہ ٹال کر انہیں دھاڑنے، چنگھاڑنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کرکے ملک سے باہر فرار کرا دیا گیا جہاں بیٹھے اب وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ مجرم اعظم کے بجائے معززِ اعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اپنے آمرانہ دور اور موجودہ سلطانی¿ جمہور کا موازنہ کرا رہے ہیں۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن پر شرمسار ہونے کی بجائے اس کے جواز میں تاویلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیف جسٹس سے انصاف طلب کر رہے ہیں جو ان کے جرنیلی عتاب کی زد میں آ کر خود طالبِ انصاف رہے۔ بے شک یہ جرنیلی آمر احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے لائف سیونگ ڈرگ کا کام دینے والی پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں اور اسی کو اپنے جرنیلی دور کے مقابلہ میں عوامی مسائل میں اضافے کا طعنہ دے رہے ہیں پھر بھی آل پاکستان مسلم لیگ سے حکمران پیپلز پارٹی کو بھلا کیا لینا دینا ہے کہ….
ساحل کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حرف تو مسلم لیگ پرآ رہا ہے۔ نکاتی تو پاکستان کی خالق اسی جماعت کی ہو رہی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ مسلم لیگ ہی ہر جرنیلی آمر کے ہاتھ کا کھلونا بنتی ہے۔ مسلم لیگ کا کیا فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر تشکیل پاکستان ممکن ہوئی اور جرنیلی آمروں کے ہاتھوں میں اپنی گردن دینے والی مسلم لیگ کس فلسفے پر کاربند ہے۔ کنونشن لیگ، جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ (جناح لیگ) فنکشنل لیگ، قاف لیگ، ہم خیال لیگ اور اب توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے آل پاکستان جرنیلی مسلم لیگ۔ جرنیلی آمروں کی تھپکیوں میں پروان چڑھنے والی ان لیگوں نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا نام کتنا روشن کیا ہے؟۔ جس کی مدد سے قیام پاکستان کی منزل حاصل ہوئی، اس جمہوریت کو کتنا پروان چڑھایا ہے؟ اور تعمیر پاکستان کیلئے بانی پاکستان قائداعظم کے فلسفے کو کتنی تقویت پہنچائی ہے۔ قائد کی مسلم لیگ کے نام لیوا جائزہ لیں اور شرماتے جائیں۔ جن لیگیوں کو طالع آزماﺅں کے راستے کی دیوار بننا چاہئے تھا وہ یونینسٹوں سے بھی بدتر انداز میں مفادات کے پتلے نکلے۔ قائد کی جیب کے کھوٹے سِکّوں اور ان کی اولادوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ جھوٹ اور سچ کی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ پچھتاﺅے کا لفظ ہی ڈکشنری سے غائب ہوگیا ہے اور اصولوں کی پاسداری کے فلسفہ کا مفہوم ہی تبدیل ہوگیا ہے۔
اگر لیگ ایک ہوتی اور لیگی ایک ہی لیگ کا سبز ہلالی پرچم تھامے ہوتے تو آج قائد کے پاکستان کی جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بن چکی ہے، سلطانی جمہور جتنی شرمندہ اور بھیگی بلی بنی بیٹھی ہے اور آئین ہی کیا، ملک تک کو توڑنے والے بدبخت طالع آزماﺅں کے سینے جس دیدہ دلیری کے ساتھ پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات کے ضمنی انتخابی معرکے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے لیگی قائدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے طوفان سے باہر نکال کر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا اس کی نوبت آتی؟پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں اور اگر اب بھی سنبھلنے کا جذبہ مفقود ہے تو بامشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی آئی کو ٹالنے کیلئے جل تُو جلال تُو کا ورد کیوں کریں۔ زندہ باد کے شور میں اچھا کیا ہے، بُرا کیا ہے، کون جانتا ہے، کون پہچانتا ہے، سب چلتا ہے بھائی۔
آخر میں اپنے ان تمام معزز و محترم قارئین کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں جنہوں نے میری ذاتی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک کالم کا سلسلہ منقطع ہونے پر پل پل میری خبرگیری کی اور میری صحت و تندرستی کی دعاﺅں کے انبار لگا دیئے۔
Categories : Saeed Assi, Urdu Columnists
Kewey Kia Janey? by Khalid Ahmad
16 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
کوے کیا جانیں؟
خالد احمد ـ
پیڑ اور پرندے ایک ازلی رشتے میں بندھے ہیں! پیڑ جہاں سر نکالتا ہے وہاں جڑیں بھی چھوڑتا ہے! جڑیں جتنی گہری ہوتی چلی جاتی ہیں، پیڑ اتنا ہی اُونچا اور گھنیرا ہوتا چلا جاتا ہے! گھنیرے درختوں کی شاخیں کچھ پرندوں کےلئے ”رین بسیرا“ مہیا کرتی ہیں، کچھ پرندوں کےلئے گھونسلے تعمیر کرنے کےلئے مناسب ”دو شاخے“ پیش کرتی ہیں! اور ”کھٹ بڑھئی“ ان کے تنوں میں ”کھوہ“ کھود کر اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں!
پیڑ زمین میں قدم جمائے یہ سارے تماشے دیکھتے دیکھتے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے! حتیٰ کہ راستے کا نشان بن جاتاہے اور لوگ اس پیڑ کی نشانی دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں ع
تیز ترک گام زن! منزل ما دُور نیست
ہم نے ابھی ایک پیڑ تلے سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک انتہائی ”ہوشیار پرندہ“ ہمارا ارادہ تاڑ گیا اور اس سے پہلے کہ ہم ”سایہ نشین“ ہوتے، وُہ اُس پیڑ کی مناسب ترین شاخ کا انتخاب کر کے ”شجر نشین“ ہوگیا اور ہمارے ”گنجِ گراں مایہ “ پر انتہائی ناگوار بدبودار ”تڑکا“ لگا کر اُڑ گیا اور ہم ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے ہی جھنجھلا کر اپنی راہ لگ لئے اور ”کارواں“ کے غبار کے ساتھ غبار ہوگئے!
آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ وہی ”پرندہ“ ہم سے پہلے اُس ”بوڑھے برگد“ کی ایک شاخ پر ہمارا منتظر بیٹھا ہے، ہم نے ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے اُسے دیکھ اور پہچان لیا! اُس نے ایک دوبار کائیں کائیں بھی کی، مگر ہم نے صرف ”شاخ“ کا دھیان رکھا! حتیٰ کہ وہ اُڑا اور دوسرے درخت کی پھنگ پر جا بیٹھا! اب حال یہ ہے کہ وہ ”درخت“ اپنی ”پیشانی“ کی سیاہی کی جگہ ان حضرت کی ”سیاہ روئی“ کے سبب پہچانے جایا جانے لگا!
کوے ہیں سب دیکھے بھالے
چونچ بھی کالی، پر بھی کالے
رات گئے پیڑ سو جاتا ہے تو بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے آتے ہیں اور ہماری نیند خراب کر کے گزر جاتے ہیں! لیکن ہمیں تو راتیں جاگ کر گزار دینے کی عادت سی ہے اور ہم اسے ”الارم“ سمجھ کر غیرملکی چینل مانیٹر کرنے کے کام سے لگ جاتے ہیں!
ممالک غیر کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ”امریکہ“ کا نام جگمگانے لگتا ہے اور پھر امریکہ کا دورہ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ٹوپی امریکہ کی خاتونِ اول محترمہ جیکولین کینیڈی کے سر پر جھلملاتی نظر پڑتی ہے! اسی دورے میں امریکی حکام نے جناب محمد ایوب خان سے ”نوائے وقت“ کے بارے میں کچھ کرنے کی ”تجویز“ پیش کی تھی تو جناب محمد ایوب خان نے فرمایا تھا، ”نوائے وقت‘! پاکستان کے کان اور آنکھیں ہیں!“ نوائے وقت جو کچھ دیکھتا ہے اُسے خلوصِ نیت کے ساتھ پرکھتا ہے جو کچھ وُہ لکھتا ہے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لکھتا ہے! میں ”پاکستان کے کانوں اور آنکھوں‘ کو بند نہیں کر سکتا!“
یہ وُہ صدر ایوب ہیں، جنہیں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار قومی ملکیت میں لینے کا ”اعزاز“ حاصل تھا! اور وُہ یہ دور ہے، جس میں جنابِ مجید نظامی ”نوائے وقت“ کی ادارت فرما رہے ہیں!
امریکہ ان دنوں اپنے ”فرنٹ مینوں“ کے ساتھ ایک بار پھر ”نوائے وقت“ پر ”حملہ آور“ ہے مگر وہ جانتا ہے کہ ”فرنٹ مینوں“ کی بھرتی سے کہیں بہتر ہے یہ بات ہوتی! کہ امریکہ پاکستان کےلئے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے دوران پاکستان کے مفادات نظرانداز کرنے کی حماقت ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ باوقار اور باسپاس تعلقات اُستوار کرے تاکہ امریکہ ”نوائے وقت“ کےلئے بھی ایک ”پاکستان دوست ملک“ کی حیثیت سے محترم ہو جائے! مگر کیا کیجئے کہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اپنی عقل کام کرتے نہ پاکر دوسروں کی حماقت سے فائدہ اٹھانے کے کام سے لگ چکا ہے!
کوے کیا جانیں؟ کہ فاختاﺅں نے ان کےلئے کیا کیا دُکھ جھیلے ہیں!
پیڑ زمین میں قدم جمائے یہ سارے تماشے دیکھتے دیکھتے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے! حتیٰ کہ راستے کا نشان بن جاتاہے اور لوگ اس پیڑ کی نشانی دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں ع
تیز ترک گام زن! منزل ما دُور نیست
ہم نے ابھی ایک پیڑ تلے سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک انتہائی ”ہوشیار پرندہ“ ہمارا ارادہ تاڑ گیا اور اس سے پہلے کہ ہم ”سایہ نشین“ ہوتے، وُہ اُس پیڑ کی مناسب ترین شاخ کا انتخاب کر کے ”شجر نشین“ ہوگیا اور ہمارے ”گنجِ گراں مایہ “ پر انتہائی ناگوار بدبودار ”تڑکا“ لگا کر اُڑ گیا اور ہم ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے ہی جھنجھلا کر اپنی راہ لگ لئے اور ”کارواں“ کے غبار کے ساتھ غبار ہوگئے!
آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ وہی ”پرندہ“ ہم سے پہلے اُس ”بوڑھے برگد“ کی ایک شاخ پر ہمارا منتظر بیٹھا ہے، ہم نے ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے اُسے دیکھ اور پہچان لیا! اُس نے ایک دوبار کائیں کائیں بھی کی، مگر ہم نے صرف ”شاخ“ کا دھیان رکھا! حتیٰ کہ وہ اُڑا اور دوسرے درخت کی پھنگ پر جا بیٹھا! اب حال یہ ہے کہ وہ ”درخت“ اپنی ”پیشانی“ کی سیاہی کی جگہ ان حضرت کی ”سیاہ روئی“ کے سبب پہچانے جایا جانے لگا!
کوے ہیں سب دیکھے بھالے
چونچ بھی کالی، پر بھی کالے
رات گئے پیڑ سو جاتا ہے تو بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے آتے ہیں اور ہماری نیند خراب کر کے گزر جاتے ہیں! لیکن ہمیں تو راتیں جاگ کر گزار دینے کی عادت سی ہے اور ہم اسے ”الارم“ سمجھ کر غیرملکی چینل مانیٹر کرنے کے کام سے لگ جاتے ہیں!
ممالک غیر کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ”امریکہ“ کا نام جگمگانے لگتا ہے اور پھر امریکہ کا دورہ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ٹوپی امریکہ کی خاتونِ اول محترمہ جیکولین کینیڈی کے سر پر جھلملاتی نظر پڑتی ہے! اسی دورے میں امریکی حکام نے جناب محمد ایوب خان سے ”نوائے وقت“ کے بارے میں کچھ کرنے کی ”تجویز“ پیش کی تھی تو جناب محمد ایوب خان نے فرمایا تھا، ”نوائے وقت‘! پاکستان کے کان اور آنکھیں ہیں!“ نوائے وقت جو کچھ دیکھتا ہے اُسے خلوصِ نیت کے ساتھ پرکھتا ہے جو کچھ وُہ لکھتا ہے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لکھتا ہے! میں ”پاکستان کے کانوں اور آنکھوں‘ کو بند نہیں کر سکتا!“
یہ وُہ صدر ایوب ہیں، جنہیں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار قومی ملکیت میں لینے کا ”اعزاز“ حاصل تھا! اور وُہ یہ دور ہے، جس میں جنابِ مجید نظامی ”نوائے وقت“ کی ادارت فرما رہے ہیں!
امریکہ ان دنوں اپنے ”فرنٹ مینوں“ کے ساتھ ایک بار پھر ”نوائے وقت“ پر ”حملہ آور“ ہے مگر وہ جانتا ہے کہ ”فرنٹ مینوں“ کی بھرتی سے کہیں بہتر ہے یہ بات ہوتی! کہ امریکہ پاکستان کےلئے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے دوران پاکستان کے مفادات نظرانداز کرنے کی حماقت ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ باوقار اور باسپاس تعلقات اُستوار کرے تاکہ امریکہ ”نوائے وقت“ کےلئے بھی ایک ”پاکستان دوست ملک“ کی حیثیت سے محترم ہو جائے! مگر کیا کیجئے کہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اپنی عقل کام کرتے نہ پاکر دوسروں کی حماقت سے فائدہ اٹھانے کے کام سے لگ چکا ہے!
کوے کیا جانیں؟ کہ فاختاﺅں نے ان کےلئے کیا کیا دُکھ جھیلے ہیں!
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists
Punjab Mien Phir Dhemaker? by Dr Ajmal Niazi
16 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پنجاب میں پھر دھماکے؟
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
شہباز شریف نے کہا ہے کہ طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ ہم نے بھی امریکی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا۔ طالبان بھی امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمارا موقف ایک ہے۔ شہباز شریف جانتے ہیں کہ پنجاب میں سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے اور بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح امریکہ نے استعمال کی ہے۔ لاہور کے سی سی پی او پرویز راٹھور نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی ذمہ داری بھارتی ”را“ پر ڈالی تھی۔ پھر رحمان ملک کے کہنے پر اپنا بیان بدل لیا تھا۔ اب تو رحمان ملک نے بھی کہہ دیا ہے کہ لاہور میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ وزیر دفاع احمد مختار نے گجرات میں کہا ہے کہ بھارت لاہور میں آٹھ دھماکے کرا کے سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم یا خوف زدہ کر سکتا ہے۔ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد مل گئے ہیں۔ قوم فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو ملک سے باہر نکال دے گی۔ احمد مختار نے گجرات میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دونوں میں پھر صلح ہو گئی ہے۔ شاید اس سے پہلے رحمن ملک نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا الزام لگایا تھا مگر وہ اس موقف میں ثابت قدمی کیوں نہیں دکھا سکتے۔ ممبئی میں ایک واقعے کے بعد اب تک بھارت پاکستان کو ذلیل و خوار کر رہا ہے۔ امریکہ میں ایک واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ باقی دہشت گردی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ اتنا تو افغانستان میں نہیں ہو رہا۔ شہباز شریف کے تازہ ترین بیان پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ برادرم پرویز رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا بیان سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی پہلے کسی بیان پر کیوں نہیں ہوئی۔ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ میرے خیال میں انٹی امریکہ پالیسی حکام کو عوام کے زیادہ قریب کر سکتی ہے۔ شہباز شریف کا بیان انہیں روائتی حکمرانوں سے الگ کرتا ہے۔ لوگوں کو انکی یہ بات پسند آئی ہے ورنہ ان کا خیال تھا کہ فرینڈلی اپوزیشن بھی امریکی ڈکٹیشن کے مطابق آئی ہے۔ امریکی اور عالمی ایجنڈے پر پاکستان کے سارے حکمران اور سیاستدان ایک ہیں۔ اختلاف صرف اقتدار کے لئے ہے۔ وہ آپس میں لڑتے بھی امریکہ کی اجازت سے ہیں اور صلح صفائی بھی امریکی مرضی سے کرتے ہیں۔ قوم کا صفایا ہو رہا ہے۔ اب تو یہ بھی ایک تاثر ہے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں بلکہ اصل میں سارے ایک ہیں۔ لاہور میں امریکی گاڑیوں کو بغیر تلاشی کے کس نے جانے دیا۔ یہاں حکومت کس کی ہے۔ لاہور کینٹ، آر اے بازار میں دہشت گردی میں وہی امریکی تو ملوث نہیں جو پچھلے دنوں شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔ فوج کی ذمہ داری بھی ہے اور اس پر بھی بات ہو گی۔ یہ بات مجھ سے فون پر کئی لوگوں نے دریافت کی۔ علامہ اقبال ٹاون میں اکٹھے پانچ دھماکے۔ وہاں پولیس صرف وی آئی پی کی سکیورٹی کے لئے الرٹ رہی۔ عام لوگ صرف مرنے کے لئے ہیں۔ علامہ اقبال ٹاون میں لوگ مرے نہیں اس لئے ان دھماکوں کو انتظامیہ صرف دھمکی کہہ رہی ہے۔ ایک دھماکہ تو ان کے سارا ماحول کلیئر کرنے کے فوراً بعد ہوا۔ پولیس افسران کے گھروں کے سامنے بھی ”پٹاخے“ چھوڑے گئے۔ اس کے بعد پولیس افسران کے گھروں پر سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ لوگوں نے سکیورٹی کے لئے ان گھروں کے آس پاس نہ رہنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ ناکے بڑھا دئیے گئے ہیں۔ وہاں لین دین کے کاروبار میں چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ اور حکومت کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ ان کی حکومت اور افسری برقرار ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists
Beradran-e-Qoom… by Riaz ur Rehman Sager
16 March, 2010
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
برادران قوم! لیڈران ملک!!
ریاض الرحمن ساغر ـ
آو اک دوسرے کی بات سنیں
راستہ زندگی کا صاف چنیں
گندگی صاف کرکے ذہنوں کی
کریں تزئین دل کے صحنوں کی
آئینے سوچ کے کریں صیقل
ان میں پھر دیکھیں مسئلوں کا حل
برے ماضی کے داغ دھو ڈالیں
اپنے اپنے دماغ دھو ڈالیں
اب نئے کچھ چراغ روشن ہوں
روح اجلی دماغ روشن ہوں
مل کے بیٹھیں نواز‘ زرداری
ساتھ دے ان کا قوم یہ ساری
وہ اگر مل کے ڈیم بنوائیں
جو مخالف ہیں ان کو سمجھائیں
کریں بھارت سے کھل کے باتیں صاف
ساری دنیا سے مانگ لیں انصاف
لوح آئین کو کریں مضبوط
سوچ مثبت ہو قوم کی مخلوط
سارے باہم فساد بند کریں
راہ بغض و عناد بند کریں
ایک مرکز پہ جمع ہو جائیں
اب تو کچھ بیج ایسے بو جائیں
جن سے فصل بہار پیدا ہو
اصل جشن بہار برپا ہو
شوق سے تم نچاو گھوڑوں کو
دوڑنا بھی سکھاو گھوڑوں کو
تم پہ یہ نسل نو بھی ناز کرے
کوئی دشمن نہ ساز باز کرے
اپنی طاقت کو مجتمع کر لو
اب تو روشن کوئی شمع کر لو
راستہ زندگی کا صاف چنیں
گندگی صاف کرکے ذہنوں کی
کریں تزئین دل کے صحنوں کی
آئینے سوچ کے کریں صیقل
ان میں پھر دیکھیں مسئلوں کا حل
برے ماضی کے داغ دھو ڈالیں
اپنے اپنے دماغ دھو ڈالیں
اب نئے کچھ چراغ روشن ہوں
روح اجلی دماغ روشن ہوں
مل کے بیٹھیں نواز‘ زرداری
ساتھ دے ان کا قوم یہ ساری
وہ اگر مل کے ڈیم بنوائیں
جو مخالف ہیں ان کو سمجھائیں
کریں بھارت سے کھل کے باتیں صاف
ساری دنیا سے مانگ لیں انصاف
لوح آئین کو کریں مضبوط
سوچ مثبت ہو قوم کی مخلوط
سارے باہم فساد بند کریں
راہ بغض و عناد بند کریں
ایک مرکز پہ جمع ہو جائیں
اب تو کچھ بیج ایسے بو جائیں
جن سے فصل بہار پیدا ہو
اصل جشن بہار برپا ہو
شوق سے تم نچاو گھوڑوں کو
دوڑنا بھی سکھاو گھوڑوں کو
تم پہ یہ نسل نو بھی ناز کرے
کوئی دشمن نہ ساز باز کرے
اپنی طاقت کو مجتمع کر لو
اب تو روشن کوئی شمع کر لو
Categories : Riaz ur Rehman, Urdu Columnists



