خطرہ بھارت کو پاکستان سے ہے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
برطانوی وزیر خارجہ نے ٹھیک کہا ہے کہ ’’پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں ہے۔‘‘ اصل میں بھارت کو پاکستان سے خطرہ ہے! یہ خطرہ ایک مستقل بزدلانہ فعل ہے۔ پاکستان کو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور روس کی مدد سے آدھا کرنے کے باوجود بھارت پاکستان سے ڈرتا رہتا ہے۔ اب اسرائیل بھی پاکستان سے باقاعدہ ڈرنے لگا ہے۔ روس بھی کہ اسے شکست دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں پاکستان، پاک فوج اور آئی ایس آئی نے کمال کردیا۔ برطانیہ بھی ڈرتا ہے کہ قبائلی علاقے پاکستان میں ہیں جہاں اسے شکست فاش ہوئی تھی۔ امریکہ برطانیہ کے بعد عالمی طاقت بنا۔ سوویت یونین (روس) کے بعد اب تو وہ واحد عالمی طاقت ہے مگر روس کے پاس ہزاروں ایٹم بم موجود ہیں۔ چین مسلسل خاموش ہے اور امریکہ کی جانب اپنے خونخوار ارادوں سے بڑھتا جا رہا ہے مگر پاکستان سے امریکہ کو کیا خطرہ ہے؟ پاکستان چین کیلئے اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ پاکستان کو کمزور کر رہا ہے پاکستان کے معاشی حالات تباہ ہو چکے ہیں اور اس میں پاکستان کے سارے حکمرانوں کا حصہ امریکہ کی مرضی کے مطابق کافی ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان ایٹمی ملک ہے۔ یہ سارے عالم اسلام کیلئے حوصلے کا باعث ہے۔ ایٹمی طاقت تو روس بھی تھا۔ اسے معاشی خلفشار میں لا کے مارا گیا۔ پاک فوج کتنی دیر تک کمزور پاکستان کا دفاع کرے گی۔ یہی تو خوف امریکہ اور بھارت کا ہے کہ پاک فوج کو کمزور کرناممکن نہیں۔ آئی ایس آئی کے مقابلے میں بھارتی ’’را‘‘ ایک لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستانی خفیہ تنظیم بہترین تنظیم ہے۔ اسی لئے سب اس کیلئے چیختے چلاتے ہیں۔قبائلی علاقوں اور سوات وغیرہ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو الجھا کے تھکایا جا رہا ہے مگر امریکہ جان لے کہ وہ تھکیں گے نہیں اور بالآخر امریکہ کو یہاں سے نکلنا پڑے گا۔ شاید وہ بُری طرح یہاں پھنس جائے کہ نکل ہی نہ سکے۔ یہیں اس کا کچومر نکل جائے۔ سوات،مالاکنڈ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کی کامیابیوں سے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت بہت خوفزدہ ہیں۔ چنانچہ یہ بات طے ہے کہ امریکہ بھی پاکستان سے بُری طرح ڈرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ دوسروں کیلئے ایسا خطرہ بن جائے گا جو انہیں تباہ کردے گا۔ ایٹم بم ہم نے یونہی تو نہیں بنایا۔ اگر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو خطرہ ہوا یا ہمارے ملک کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلائیں گے۔ بھارت تو ہماری زد میں ہے۔ بھارت نے ہمارے خلاف اور ہم نے بھارت کے خلاف ایٹمی تجربات کئے۔ دنیا والے جانتے ہیں کہ ہمارے ایٹم بم بھارت سے بڑھ کر ہیں اور ہمارے میزائل بھی اس کیلئے عزرائیل بن جائیں گے۔ اب ہماری دسترس میں اسرائیل بھی ہے۔ اسرائیل کی تباہی امریکہ اور برطانیہ کیلئے ایک ایسا دکھ ہوگا جسے وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ ایران سے بھی یہی تکلیف انہیں ہے ورنہ میرا خیال ہے کہ ممکنہ لڑائیوں میں آخری لڑائی اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہوگی اور برطانیہ ان دونوں کے بیچ مارا جائے گا۔ اب بھارت بھی امریکہ اور برطانیہ کا اتنا ہی چہیتا ہے۔ اسرائیل کو فلسطین،اردن اور مشرق وسطیٰ کیلئے اور بھارت کو پاکستان چین اور روس کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ تو خطرہ پاکستان کو بھارت سے نہیں۔ بھارت کو پاکستان سے ہے اور اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور ان کے بقول پوری دنیا کو پاکستان سے ہے۔ ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ہر میدان میں ہم نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ کھیل کے میدان میں پاکستان بھارت کا مدمقابل ہے۔ ایٹمی میدان میں ہم آگے ہیں جبکہ ایٹمی تجربہ ہم نے بھارت کے بعد کیا ہے۔ میزائل ہمارے اس سے اچھے ہیں۔ فوجی ہمارے جانثار اور بہادر ہیں۔ دو قومی نظریہ ابھی اس کی ہڈیوں میں لرزتا ہے۔ اپنے ملک میں کئی پاکستان بننے سے وہ ڈرتا ہے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی اس سے بہت آگے ہے۔
تحریک آزادی کو لیں تو ہم نے دگنا کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی کے ساتھ تحریک پاکستان بھی ہمارے قائداعظم نے چلائی۔ پنڈت نہرو اور قائداعظم کا کیا موازنہ مگر سن لیں کہ پنڈت نہرو نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور قائداعظم نے پاکستان بنایا۔ اب فرق آپ خود دیکھ لیں۔ گاندھی کو ایک ہندو نے مار ڈالا۔ یہ اس کے فکر و فلسفے کے دھوکے کے خلاف اپنی شدت کا اظہار تھا۔ پاکستان میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو برطانوی اور امریکی سازش کے تحت قتل کر دیا گیا۔ یہ سازشیں اب تک ہو رہی ہیں اور ہمارے حکمران اس میں مکمل طور پر شریک ہیں۔ اب تک تین وزیراعظم قتل کر دیئے گئے۔ مگر اب تک سیاستدان وزیراعظم ہی بننا چاہتے ہیں۔ صدر تو ہمیشہ آمر بنے۔ سویلین زرداری کا صدر بننا اس کی اپنی خواہش اور سازش ہے۔ ایک ہندو کسی مسلمان کو گرا کر اس کے سینے پر بیٹھا تھا اور رو رہا تھا۔ پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ابھی یہ نیچے سے اٹھے گا اور مجھے مارے گا۔ یہ ہندو کی بزدلانہ نفسیات ہے تو یہ ٹھیک باجہ بجایا ہے ملی بینڈ نے کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو خطرہ انتہا پسندی سے ہے۔ پہلے تو یہ خطرہ امریکہ اور برطانیہ کو تھا۔ ان کے بقول پوری دنیا کو یعنی اسرائیل اور بھارت کو بھی ہے ان کی دنیا بس یہی ہے۔ ویتنام کیلئے امریکہ نے نجانے کیا بہانہ کیا تھا۔ ان نہتوں بہادروں نے امریکہ کو ذلیل و خوار کیا۔ مگر امریکہ کو نہ شرم آتی ہے نہ غیرت آتی ہے۔ افغانستان پر حملہ اس نے جھوٹ موٹ میں کیا اس کیلئے جنرل حمید گل نے خوب کہا ہے۔ امریکہ اور بھارت ایک ریٹائرڈ جنرل سے ڈرتے ہیں۔ نائن الیون بہانہ تھا۔ افغانستان ٹھکانہ تھا اور پاکستان نشانہ ہے۔ تو ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ ہم سے خطرہ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل کو بھی ہے۔ وہ بھارت کو بھی اسرائیل کی طرح کا ملک بنانے والے ہیں۔ بھارت کو اپنے لئے کچھ سوچنا چاہئے۔ اس کی بربادیوں کے دن قریب آرہے ہیں۔ ملی بینڈ کہتا ہے کہ بھارت خطے کا بڑا جمہوری ملک ہے۔ پاکستان میں 31 برس مارشل لا رہا ہے۔ تو اس مارشل لا کی حمایت کس نے کی۔ سیاسی حکومت تو دو تین سال کے بعد اجاڑ دی گئی اور مارشل لائوں کی سپورٹ دس دس سال تک کی گئی۔ صدر بش صدر مشرف کا دوست ہے۔ بش اور مش نے دنیا کا امن سکون لوٹ لیا ہے۔ اب مشرف کا حامی کون ہے؟ صدر زرداری تو مشرف سے چند قدم آگے امریکہ کی غلامی میں ہے۔ وہ بھارت کے قدموں میں بھی گرا ہوا ہے حدیہ ہے کہ اس توہین آمیز بیان کے فوراً بعد ملی بینڈ پاکستان آیا ہوا ہے!!
مردہ آمر اور زرداری کی مونچھیں by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
اس بار پانچ جولائی عجب انداز میں آیا ہے۔ حسب معمول اقتدار میں جنرل ضیاء کو پیپلز پارٹی والوں نے گالیاں دی ہیں۔ صدر زرداری نے کہا ہے کہ ’’اس آمر کو قبر سے نکال کر بعد از مرگ سزا دی جائے۔ آمر اگر مر بھی جائے تو اسے سزا دی جائے‘‘۔ آمر میں ’’مر‘‘ موجود ہے امر میں بھی ’’مر‘‘ موجود ہے۔ آمر کبھی امر نہیں ہو سکتا۔ مرنے کا حوصلہ جس میں ہو گا وہ مر کے بھی زندہ ہو گا۔ بی بی سی نے اس پانچ جولائی کو عجب بات کی ہے۔ بعض لوگوں نے آصف زرداری کو دیکھتے ہی کہا تھا اس کی مونچھوں کی جنرل ضیاء الحق کی مونچھوں سے کتنی مماثلت ہے‘‘۔ اس مماثلت سے لوگ کئی اور مطابقتوں میں کھو گئے۔ کہتے ہیں کہ اس …… میں جنرل ضیاء کا خفیہ ہاتھ تھا‘ جنرل ضیاء کی قبر سے فوجی ٹوپی نکلے گی۔ صدر زرداری صرف بیان بازی کر رہے ہیں۔ زیر مونچھ مسکراہٹ گم ہو گئی اور کئی مونچھوں کو تائو دیتے دیتے گھبرا گئے۔ جنرل مشرف کی مونچھیں بھی تھیں اور وہ بھی آصف زداری سے ملی جلتی تھیں۔ صدر بن کر جنرل ضیائ‘ جنرل مشرف نے اور آصف زرداری نے مونچھیں چھوٹی کروا لیں۔ عجب بات یہ بھی ہے کہ مردہ آمر کے لئے اتنی سختی اور نفرت زندہ آمر کے لئے اتنی نرمی اور محبت؟ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت توڑی تھی‘ وہ بھی جنرل ضیاء کی طرح نواز شریف کو سزائے موت دینا چاہتا تھا مگر وہ جلاوطنی میں کھو گئی۔ اس میں شاہ فہد اور صدر کلنٹن کی مہربانی شامل ہے۔ صدر پرویز مشرف صدر زرداری کے محسن ہیں۔ این آر او اس کی بڑی مثال ہے۔ اس نے ایوان صدر بھی صدر زرداری کے لئے خالی کیا۔ زرداری کا وطن آتے ہی صدر پاکستان بننے کا ارادہ تھا۔ ہر کسی کو صدر پاکستان ’’وہی‘‘ بنواتا ہے فضل الٰہی چودھری اور رفیق تارڑ کے علاوہ۔ کیونکہ بے اختیار صدر پاکستان امریکہ کے لئے کس کام کا ہے۔ بااختیار سویلین صدر اسحاق اور صدر لغاری سے امریکہ اور برطانیہ نے جمہوری حکومتیں تڑوائیں۔ یعنی وہی کام لیا جو باوردی صدر سے امریکہ لیتا ہے۔ نواز شریف بھی اس تلخ حقیقت سے واقف ہے مگر مجبوری کا نام شکریہ ہے۔ سیاستدان امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔
کس آمر صدر کو ایوان صدر سے رخصتی پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ کیا جنرل یحییٰ حکومت چھوڑنے کے بعد زندہ نہیں رہا؟ تب بھٹو صاحب حکمران تھے۔ جیسے آج زرداری صاحب حکمران ہیں۔ جنرل یحییٰ کو 21۔ توپوں کی سلامی کے بعد قومی جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔ آمر صدر ایوب بھی عیش کرتا رہا۔ تب جیالے اور صدر زرداری کہاں تھے جب جنرل ضیاء الحق کو دفن کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک شاندار مظاہرہ تھا۔ بھٹو بڑا آدمی تھا۔ اب اس کی قبر زندہ ہے مگر اس کے جنازے میں چند لوگ تھے۔ بھٹو کی شہادت کی وجہ سے حکومت ملی مگر جیالے حکمرانوں نے کیا کیا۔ کیا بے نظیر بھٹو کو معلوم نہ تھا کہ بھٹو صاحب کو امریکہ نے مروایا ہے۔ پھر دو دفعہ اسے حکومت دلوائی اور دو دفعہ امریکہ نے ہی تڑوائی۔ نواز شریف کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پھر دونوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ اسے امریکہ اور برطانیہ کیوں قبول کریں؟ میرے دل میں بھٹو کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اور شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو کے لئے بڑی عزت ہے۔ میرا یقین ہے کہ بی بی کو امریکہ نے مروایا اور اس کے بقول جنرل پرویز مشرف بھی ذمہ دار ہے۔ لوگ تو ایک اور نام بھی لیتے ہیں…! اسی پرویز مشرف سے بی بی نے معاہدہ کیا۔ اسے جلد معلوم ہو گیا کہ امریکہ کی طرف سے یہ معاہدہ عوام کے حق میں نہیں۔ پھر اسے قتل کرا دیا گیا۔ وہ اپنے باپ کے عدالتی قتل کے بعد وزیراعظم بنی تھی اور اب آصف زرداری بے نظیر بھٹو کے کھلم کھلا قتل کے بعد صدر بنے ہیں۔ بے نظیر نے کبھی جنرل ضیاء کے خلاف کسی اقدام کا اظہار نہ کیا تھا۔ اب صدر زرداری اپنی بیوی کے قتل کو جس طرح ذلیل و خوار کر رہا ہے وہ دنیا جانتی ہے اور طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ صدر زرداری کہتا ہے کہ مجھے بی بی کے قاتلوں کا پتہ ہے۔ تم مجھ سے ان کا نام نہ پوچھو‘ بس میرا ساتھ دو۔ پی پی اور زرداری حکومت کے مزے لوٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے۔ یہ کہنا چاہئے کہ اقتدار بہترین انتقام ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ پرویز مشرف کو برطانیہ میں سرکاری پروٹوکول اور سیکورٹی کس کی درخواست پر دی گئی ہے؟ کسی حکومت کی ایما کے بغیر دوسری حکومت یہ سہولت نہیں دیتی۔ شاہ عبداللہ نے پرویز مشرف کو شاہی پروٹوکول دیا۔ اس کے لئے نواز شریف بھی سوچیں کہ وہ جنرل مشرف کے خلاف بیانات تو دیتے رہتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق بے نظیر بھٹو کے قتل پر سیاست کرنے والے صدر زرداری قاتلوں کے خلاف کارروائی کے لئے تیار نہیں۔ یہ الفاظ بھی نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ہیں کہ اقتدار اور حکمرانی کے لئے صدر زرداری اور پیپلز پارٹی نے شہید محترمہ کے خون کا سودا کر لیا ہے۔ بی بی سی نے کہا ہے جنرل ضیاء کا دور ’’بلیک اینڈ وائٹ ہارر فلم‘‘ تھا اور جنرل مشرف کا ’’رنگین شرطیہ نئی کاپی‘‘ تھا۔ اعجاز الحق کا بیان مخالفانہ ہو گا مگر قابل غور ہے۔ پانچ جولائی کو یوم سیاہ منانے والے 32 سال قبل یوم نجات منا رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کئی لیڈر تب مرد مومن مرد حق کے نعرے لگا کر جنرل ضیاء الحق کے ساتھی تھے۔ صدر زرداری کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ ان کے والد جنرل ضیاء کے گورنر پنجاب تھے۔ ایسے کئی لوگ بڑے بڑے عہدوں پر ہیں۔ کئی کالم نگار صدر زرداری کے چہیتے ہیں جو بھٹو اور بی بی کے لئے گندگی لکھتے رہے۔
آل انڈیا مسلم لیگ اور دیہی شہری تقسیم by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
مجید نظامی نے بہت کوشش کی مگر اب شاید مسلم لیگوں کے اتحاد کو اقتدار کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ اقتدار میں کوئی چودھری برادران کو چیلنج نہیں کر سکتا تھا۔ اب مسلم لیگ (ق) کے انتخابات میں ہر کوئی اس میں اپنی لیگ بنا رہا ہے۔ اس کے انتشار میں اقتدار کے امکانات ہوتے ہیں اور یہ کئی بار ثابت ہوا ہے۔ پہلی بار جنرل ایوب خان نے کنونشن لیگ بنائی اور اس کے مقابلے میں لوگ کونسل مسلم لیگ بنا کے مادر ملت کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ مادر ملت جیت جاتیں تو قائداعظمؒ کی طرح وہ اقتدار کے بھوکوں کو کرسی کے نزدیک نہ آنے دیتیں۔ قائداعظمؒ کے ساتھ اور آل انڈیا مسلم لیگ کے لوگ سچے مسلم لیگی تھے۔ جب یہ پاکستان مسلم لیگ بنی تو کام خراب ہوا۔ میرے خیال میں اس جماعت کا نام پھر سے آل انڈیا مسلم لیگ رکھ دیا جائے۔ اس طرح دو قومی نظریہ کے مجاہد مجید نظامی کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اب بھی ہمارا مدمقابل ہندو ہے۔ دو قومی نظریہ اب بھی موجود ہے۔ امیر غریب‘ حاکم محکوم‘ ظالم مظلوم‘ آجر مزدور‘ افسر ملازم‘ ہندو مسلمان‘ بھارتی پاکستانی۔ اب اس پر اختلاف نہیں ہو گا کہ آل انڈیا مسلم لیگ بنائو۔ قائداعظمؒ نے اس جماعت کے تحت غریبوں کیلئے پاکستان بنایا تھا۔ جاگیردار‘ سرمایہ دار آل انڈیا مسلم لیگ میں آ گئے مگر قائدؒ کے سامنے آگے نہ آ سکے۔ پاکستان پر اب انہوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کے لئے بھی انڈیا کی سازش کارفرما ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے پاکستان مسلم لیگ اس لئے بنائی تھی کہ اس کے ٹکڑے کئے جائیں کیونکہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا مقابلہ کانگرس کے ساتھ تھا۔ پاکستان مسلم لیگ میدانوں سے نکل کر ایوانوں میں تقسیم ہو گئی۔ کانگرس میں ایسی گنجائش ہی نہ تھی لہٰذا وہ کانگریس رہی۔ کبھی کوئی اور جماعت اس بری طرح تقسیم نہیں ہوئی۔ جرنیلوں نے بھی اپنے اقتدار کیلئے مسلم لیگ اور مسلم لیگی سیاستدانوں کو تقسیم کیا۔ بھٹو بھی پیپلز پارٹی بنانے سے پہلے کنونشن لیگ کا سیکرٹری جنرل تھا اور اس نے ہر ڈپٹی کمشنر کو مسلم لیگ کا ضلعی سربراہ بنانے کی تجویز دی تھی اور اس نے بھی صدر ایوب کے کہنے پر مادر ملت کی مخالفت کی تھی۔ وہ آخری لالٹین تھی۔ اس کے بعد چراغ بجھتے گئے۔ اب کسی ایسے چراغ کے جلنے کا انتظار ہے جس میں قائداعظمؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کی روشنی جگمگا رہی ہو۔
جنرل ضیاء نے غیر جماعتی انتخابات کرا کے اپنے اقتدار کی راہ استوار کی مگر اس میں سے مسلم لیگ نکلی جس کا نام جونیجو لیگ رکھ دیا گیا۔ جونیجو ایک اچھے دل کا سیاستدان تھا مگر اچھے لوگوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ پھر جونیجو کی حکومت توڑی گئی جو مسلم لیگ کے ٹوٹنے کا بہانہ بنی۔ اس میں سے نواز لیگ نکلی اور اقتدار میں آ گئی۔ پھر اس میں سے چٹھہ لیگ اور اس میں سے وٹو لیگ نکلی۔ حامد ناصر چٹھہ مسلم لیگ (ن) کا دل سے خلاف ہے۔ وٹو نے وزیراعلیٰ بن کر اچھا نہیں کیا۔ یہ تاثر زور پکڑ گیا تھا کہ اس کے علاوہ کوئی وزیراعلیٰ نہیں ہو سکتا جس کی حمایت شریف برادران نہ کریں۔ منظور وٹو نے ایک سچے پاکستانی اور مخلص مسلم لیگی ورکر غلام حیدر وائیں کو ہٹایا۔ وہ شہباز شریف یا چودھری پرویز الٰہی کو ہٹا کے دکھاتا۔ اس کے بعد صرف وٹو کے اقتدار سے جل کے چٹھہ نے ایک اور سازش کی۔ یہ سازش پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کے کی گئی۔ چٹھہ صاحب ہمیشہ سازش کے لئے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وٹو کو ہٹانے کی سزا پنجاب کو چٹھہ صاحب نے یہ دی کہ عارف نکئی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے اور لوگوں کی توہین تھی۔ ن لیگ والے بھی ہوشیار رہیں۔ عطا مانیکا اس کے ساتھ ہے۔ ہمایوں اختر خان چٹھہ سے پوچھیں کہ کیا یہ اقدام موروثی سیاست نہیں ہے۔ وہ خود بھی موروثی اور جرنیلی سیاست کی نشانی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹے اعجاز الحق اور ہمایوں اختر خان نہ ہوتے تو وہ یونین کونسل کیلئے بھی کھڑے نہ ہو سکتے تھے۔ ہمایوں اختر خان نواز شریف کی مسلم لیگ میں شامل رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس مسلم لیگ کی قیادت کو چیلنج کیا تھا‘ اگرچہ وہ وزارت کیلئے ترستے رہے۔ نواز لیگ میں کوئی کبھی نواز لیگ کی قیادت کو چیلنج کر سکا ہے؟ انہیں صرف ق لیگ کی چودھری قیادت کو چیلنج کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ موقع انہیں پہلے کیوں نہ ملا۔ جس جنرل کونسل کو وہ اب نہیں مانتے۔ اسی میں رہتے ہوئے انہوں نے چودھری شجاعت کو صدر کا ووٹ دیا تھا۔ اس کے مقابلے میں مشاہد حسین کروڑ درجے اہل اور لائق آدمی ہے۔ اسے تو سیاست ورثے میں نہیں ملی۔
سیاست میں جس گروپ کو اب بھی پرویز مشرف کی ہلاشیری حاصل ہے‘ اس میں سے خورشید قصوری بہتر اور دھڑلے کا آدمی ہے مگر یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ مسلم لیگ کو ق یعنی قائداعظمؒ لیگ بھی نہیں کہنا چاہئے۔ نواز لیگ‘ چٹھہ لیگ‘ پیر پگارا لیگ‘ شیخ رشید لیگ کے علاوہ کئی لیگیں… پورے حروف تہجی ابھی موجود ہیں۔ مسلم لیگ ق کو چودھری لیگ بھی کہتے ہیں۔ اس کے لئے جاٹ لیگ کی آواز بھی سنی گئی ہے جیسے کشمیری لیگ ہے۔ چودھری برادران سیاست جانتے ہیں انہیں منظر سے ہٹا کے بھی ان کے پس منظر کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ کبھی یہ لوگ نواز شریف کے ساتھی تھی۔ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو چودھری پرویز الٰہی ن لیگ کی طرف سے سپیکر تھے۔ منظور وٹو سپیکر سے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ چودھری صاحب وزیراعلیٰ ہوئے جب شریف برادران جلاوطن تھے۔ اب پرویز مشرف چودھری صاحبان کے خلاف ہیں۔ مسلم لیگ کے اندر یہ بھی تقسیم ہوئی کہ وہ دیہی اور شہری گروپ میں بٹ گئی ہے۔ سیاست میں دسترخوان اور رواداری کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے چودھری فیملی کو نظرانداز کرنا بھی مشکل ہے۔ چودھری برادران کو الگ کر کے مسلم لیگ میں انتشار کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وکیلوں کو وکیلوں سے اور سیاستدانوں کو سیاستدانوں سے لڑایا جا رہا ہے… یہ کیا سازش ہے!
امریکی سفارت کار کیلئے پاکستان میں پذیرائی by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
امریکن قونصلیٹ کے سربراہ برائن ڈی ہنٹ کو پیپلز پارٹی کی ایم پی اے مگر ایک اچھی خاتون شبینہ ریاض کے عشایئے میں دیکھا۔ یہ ایک بڑے ہوٹل کی تقریب تھی۔ میں نے ان کو بہت معمولی جگہوں پر بھی دیکھا ہے۔ کوئی اپنے چھوٹے سے گھر میں تقریب کرے اور برائن ڈی ہنٹ کو بلائے تو وہ آ جائیں گے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں بھی ہنٹ صاحب کو بلایا گیا ہو اور وہ نہ گئے ہوں۔ انجمن سگریٹ فروشاں کی تقریب میں بھی وہ چلے جائیں گے جبکہ وہ خود سگریٹ نہیں پیتے۔ میرا خیال ہے کہ نہیں پیتے۔ پیتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ ایک بہت گہرا سموکر کہہ رہا تھا کہ کون کہتا ہے سگریٹ چھوڑنا مشکل ہے۔ میں کوئی دس بارہ دفعہ چھوڑ چکا ہوں۔ برائن ڈی ہنٹ کی لاہور سے وابستگی دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ امریکہ سے ہجرت کر کے پاکستان آ چکے ہیں۔ یہ مثال بھی وہ قائم کر دیں ورنہ لوگ پاکستان سے ہجرت کر کے امریکہ جاتے رہتے ہیں اور پھر وہاں مہاجر سے مسافر بن جاتے ہیں۔ع
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں توں بھاری ھُو
امریکہ کو دن رات گالیاں نکالنے والے بھی امریکہ جانے کی مکمل تیاریوں میں رہتے ہیں۔
امریکہ کے شاید وہ پہلے سفارتکار ہیں جو اتنے مقبول ہیں۔ ان کا موازنہ لاہور کے ایرانی قونصلیٹ کے مرحوم صادق گنجی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس پر اعتراض دونوں ملکوں کو ایک جیسا ہو گا۔ صادق گنجی جب جا رہے تھے تو کسی سفاک آدمی نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ یہ بات یونہی مجھے یاد آ گئی ہے۔ برائن ڈی ہنٹ کو امریکی ہوتے ہوئے کوئی خطرہ نہیں۔ ویسے وہ احتیاطاً یہاں سے نہ جائیں۔ اگر جائیں تو بغیر بتائے چلے جائیں۔ ان کے اعزاز میں اتنی ہی الوداعی تقریبات ہو سکتی ہیں جو صادق گنجی کے لئے ہوئی تھیں۔ تقریب میں وہ مکمل پاکستانی لباس میں تھے۔ کھلی شلوار قمیض اور پائوں میں ’’کھیڑیاں‘‘ یعنی وہ جوتے جو شہر کے لوگ بھی کم کم پہنتے ہیں۔ یہ لباس برائن ڈی ہنٹ کو اچھا لگ رہا تھا۔ انہیں کبھی امریکی لباس میں نہیں دیکھا گیا۔ وہ پینٹ کوٹ پہنیں تو بالکل اچھے نہیں لگیں گے جبکہ ہمارے اپر لوگ صرف اچھے لگنے کیلئے سوٹ وغیرہ پہنتے ہیں حالانکہ وہ اس طرح بہت برے لگ رہے ہوتے ہیں۔ کوٹ امریکہ یورپ کے ٹھنڈے علاقوں میں ضروری ہے مگر پاکستان میں گرمی کے موسم میں سوٹ عجیب لگتا ہے مگر جو لوگ پہنتے ہیں وہ ائرکنڈیشنڈ گھروں میں رہتے ہیں۔ دفتروں‘ ہوٹلوں اور گاڑیوں میں اے سی لگے ہوتے ہیں۔ وہ ماحول بھی مصنوعی طور پر ایسا بناتے ہیں جو امریکہ یورپ میں ہے۔ امریکی غلامی ہمارے خمیر ضمیر میں رچ بس گئی ہے۔ لفظ ضمیر بڑا غور طلب ہے۔ ویسے تو خمیر بھی قابل غور ہے۔ ٹی وی چینلز پر سوٹ پہن کر بات کرنے والوں کو جو لوگ سنتے ہیں وہ درختوں کے نیچے جاہنگیا پہن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ع
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
برائن ڈی ہنٹ خاصے صحتمند ہیں‘ جسے ہمارے ہاں موٹا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پینٹ پہنی ہوتی تو ان پر ترس آتا مگر ہمیں اپنے ایسے لوگوں پر ترس نہیں آتا۔ مجھے ہنٹ صاحب نے ہر جگہ بڑے غور سے دیکھا۔ مجھے شک ہے کہ وہ کسی دن مجھ سے پگڑی مانگ لیں گے۔ اس کے لئے دستار بندی کی تقریب شبینہ ریاض کے گھر میں ہونی چاہئے۔ وہ اپنے گھر میں بھی بہت اچھے اجتماعات کراتی رہتی ہیں۔ اس طرح شیخ ریاض سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر قیوم سومرو بھی اسلام آباد سے آ جاتے ہیں۔
برائن ڈی ہنٹ کو اردو بہت اچھی آتی ہے۔ وہ کم کم اردو بولتے ہیں۔ اب تو انہیں پنجابی بھی آتی ہے۔ جس جگہ میں تھا وہاں ایک آواز آئی کہ وہ سرائیکی بھی جانتے ہیں۔ اس پر تبصرہ ہوا کہ سرائیکی صوبہ پنجاب میں بنوانے کیلئے یہ بڑا ضروری ہے۔ بہرحال پنجاب کے کلچر روایات‘ رسوم و رواج لوگوں کے خیالات اور حالات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی زبان پر عبور ہو۔ تو یہ دریا برائن ڈی ہنٹ نے عبور کر لیا ہے۔ وہ لاہوری سٹائل میں رہتے ہیں۔ ان کا ڈیل ڈول بھی لاہوریوں والا ہے۔ انہیں اب امریکہ میں پاکستان کا سفیر لگا دیا جائے تو پاکستان کیلئے حسین حقانی سے کم از کم بہتر سفارتکار ہونگے۔ میرا خیال ہے کہ لاہور میں ایسی ایسی جگہوں پر برائن ڈی ہنٹ گئے ہیں جہاں وزیر شذیر‘ افسران وغیرہ اور سیاستدان بھی نہ گئے ہونگے۔ حیرت ہے کہ بظاہر امریکی پالیسیوں کی بات ہنٹ صاحب نے کبھی کی نہیں مگر ایسے لوگ اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں چلنے دیتے جبکہ امریکی اب کھلے عام ہمارے حکمرانوں سے سارے کام لینے لگے ہیں۔ لوگ امریکہ کے لئے اچھی رائے نہیں رکھتے مگر اس امریکی سفارت کار کے لئے بری رائے نہیں رکھتے۔ ہمارے سفارت خانوں میں ایسا ایک بھی سفارت کار شاید نہ ہو۔ دو چار ہونگے مگر کسی کا نام یاد نہیں آ رہا۔ تقریب کی خوبی یہ تھی کہ اس میں صرف دو تقریریں تھیں۔ ایک تقریر بہت اچھے جذبوں والے نوجوان ہشام کی اور ایک تقریر اچھے رابطوں والے برائن ڈی ہنٹ کی۔ دونوں نے مختصر بات کی۔ ہشام نے اپنی والدہ شبینہ ریاض کی نمائندگی کی۔ پہلے بھی وہ کئی بار یہ خدمت انجام دے چکا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ سیاست میں آئے گا۔ اس کی تربیت شبینہ ریاض کر رہی ہے۔ وہ شیخ ریاض کا بھی فرماں بردار بیٹا ہے مگر وہ اپنی ماں کے نقش قدم پر چلے تو اس کے لئے اچھا ہو گا اور پیپلز پارٹی کے لئے بھی اچھا ہو گا۔ وہ ڈاکٹر قیوم سومرو کے لئے بھی بڑی عزت رکھتا ہے۔ اس کی تقریر اچھی تھی اور یہ بات بھی تھی کہ وہ امریکہ میں پڑھتا ہے۔
برائن ڈی ہنٹ نے بھی ہشام کی گفتگو کو انجوائے کیا۔ برادرم زکریا بٹ کی تلاوت کا مزا آیا۔ آئندہ ان کو قاری زکریا بٹ کہا جائے۔ وہ پیپلز پارٹی کا لیڈر ورکر ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی قاری کو بلایا جاتا‘ اس نے یہ سعادت خود حاصل کی۔ یہ روائت عام ہو تو لوگ مولوی کے محتاج نہیں رہیں گے۔ مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق اب مٹ جانا چاہئے۔ سکول اور مدرسے میں فرق نہیں رہنا چاہئے۔ برائن ڈی ہنٹ نے خوبصورت اور آسان یعنی پاکستانی قسم کی انگریزی میں بات کی۔ بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور کے خواص کے علاوہ عوام کے ساتھ بھی ہنٹ صاحب رابطے میں رہتے ہیں۔ برائن ڈی ہنٹ سے ایک گزارش ہے کہ وہ دوسرے امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں سے کہیں کہ وہ بھی ان کے جیسے ہو جائیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ حکومتی امور میں کیسے ہیں۔ ویسے وہ اچھے ہیں۔ امریکی ذاتی طور پر اچھے ہوں تو بھی پاکستان کے حوالے سے سب ایک جیسے ہیں۔ تو کیا برائن ڈی ہنٹ بھی اصل میں ویسے ہیں۔ بہرحال وہ ایک اچھے اور کامیاب سفارت کار ہیں اور یہ امریکی سفارت کاری کا کمال نہیں‘ ہنٹ صاحب کی اپنی معرکہ آرائی ہے۔ انٹی امریکہ اور پرو امریکہ دونوں برائن ڈی ہنٹ کے مداح ہیں۔ وہ پاکستان میں پسندیدہ امریکی شخصیت ہے۔ یہ حیرانی کی بات ہے اور پریشانی کی بھی ہے۔
مشیر خزانہ بمقابلہ چیف جسٹس by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
بظاہر لگتا ہے کہ پٹرول دھماکہ عوام کے خلاف ایک اقدام ہے۔ وہ چھپن روپے لٹر پٹرول خرید رہے ہیں تو باسٹھ روپے کا بھی لے لیں گے۔ ان کے ساتھ بظاہر لگتا ہے کہ پٹرول دھماکہ عوام کے خلاف ایک اقدام ہے۔ وہ چھپن روپے لٹر پٹرول خرید رہے ہیں تو باسٹھ روپے کا بھی لے لیں گے۔ ان کے ساتھ تو یہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ وہ جب تک برداشت کرتے رہیں گے یہ ظلم ہوتا رہے گا۔ اصل میں یہ اقدام چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف کیا گیا ہے۔ انہوں نے پٹرول کی ناجائز قیمتوں کے خلاف سووموٹو ایکشن لیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس بھگوان داس کی سربراہی میں کمیٹی بنی جس نے تحقیقات کے بعد یہ تجویز دی کہ پٹرول کی قیمتوں میں بیس روپے لٹر سے زیادہ کمی کی جائے۔ چیف جسٹس نے ایک عدالتی حکم نامے کے ذریعے حکومت کو آگاہ کیا۔ جس کے لئے مشیر خزانہ نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں اس کی بجائے استعفٰی دینا مناسب سمجھوں گا۔ صدر زرداری اور کسی حکمران نے اس پر اظہار خیال بھی مناسب نہ سمجھا۔ اس کے باوجود مشیر خزانہ شوکت ترین نے صرف عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے ایک لٹر پٹرول میں ڈیڑھ روپے سے بھی کم کی کمی کر دی۔ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم تو یہی کچھ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ہمارا کچھ کر سکتے ہو تو کر لو۔ اور جرأت انکار کی کیفیتوں کو محبوبیت کی منزل تک پہنچانے والے عزت مآب چیف جسٹس نے خاموشی اختیار کی تو کیا یہ اپنے بے اختیار ہونے کا اعتراف تھا؟ لوگ پہلی بار اپنے بہادر اور محبوب چیف جسٹس سے مایوس ہوئے۔ یہ آخری دروازہ ہے۔ اب یہاں بھی دستک تک نہیں دی جا سکتی اب تو دل کا دروازہ بھی بند ہو رہا ہے مگر میرا دل چیف صاحب کے لئے جانثاریوں سے بھرا ہوا ہے وکیلوں اور لوگوں نے دو سال تک ان کے لئے تکلیفیں اٹھائیں۔ وہ انہیں تکلیفیں محسوس نہ ہوئی تھیں۔ اب جو تکلیف انہیں ہوئی ہے اس سے ساری تکلیفیں بیدار ہو گئی ہیں۔ اب پٹرول کی قیمتوں میں چھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ چیف صاحب کو چڑانے کے لئے کافی نہیں۔ یعنی ابھی پٹرول کی قیمتوں میں اور بھی اضافہ ہو گا اور ہوتا رہے گا۔ اسی دوران چیف صاحب نے بجلی کے نرخوں میں بھی ناجائز اضافے کے خلاف نوٹس لے لیا ہے لفظ ناجائز پر غور کریں اور پھر دیکھیں کہ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے کیا وہ جائز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بجلی کی قیمتوں میں بھی بے شمار اضافہ ہو گا۔ وہ جو چیف کے جانثار ہیں اور بے شمار ہیں ابھی تک بے شمار ہیں۔ انہیں کسی سے امید نہ تھی نہ حکمرانوں سے نہ سیاستدانوں سے نہ ایوانوں میں بیٹھنے والے انسانوں سے انہیں جج صاحبان سے بھی پہلے کوئی امید نہ تھی۔ یہ جج ہی تھے جنہوں نے سیاسی جرنیلوں کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کیا۔ سیاسی امداد تو ان کو سیاستدانوں نے پہلے ہی دی ہوئی ہوتی ہے۔ مگر اللہ رحمتوں برکتوں اور طاقتوں سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نوازے۔ انہوں نے جرأت انکار کی پہلی اور انوکھی مثال قائم کی۔ لوگوں نے سمجھا کہ اس دلیر شخص کے ذریعے ہمارے دکھوں اور بے عزتیوں کا کوئی مداوا ہو گا۔ انصاف ہو گا اور بے انصافیوں کا زمانہ ختم ہو گا۔ قانون کی طاقت بحال ہو گی اور طاقت کا قانون بلکہ طاقت کی لاقانونیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بھی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے وعدوں اور دعوئوں کی طرح کہیں گم ہو گیا ہے۔ ہم بھی گم ہوئے جا رہے ہیں۔
ہم اب بھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عدلیہ کی ساکھ کو راکھ میں ملا دے۔ مگر جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے وہ ہماری اجازت کے بغیر ہو رہا ہے۔ ہمیں آزاد عدلیہ کے غلاموں کا طعنہ دیا جا رہا ہے۔ مگر ہم چیف جسٹس کے منصب کو صدر اور وزیراعظم کے مناصب جیسا نہیں بننے دیں گے۔ ہم تو یہ سننا بھی نہیں چاہتے کہ چیف جسٹس کی بحالی کسی معاہدے کے تحت ہوئی ہے۔ کوئی ہماری جدوجہد کا مذاق اڑائے مگر ہم اپنے محبوب اور بہادر چیف جسٹس کے لئے کوئی ایسی ویسی بات سن نہیں سکتے۔ ہم جو نہیں سُن سکتے نہیں دیکھ سکتے‘ سن بھی رہے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔ صدر زرداری تو چیف صاحب کو بحال نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پھر جنرل کیانی درمیان میں آ گئے۔ نوازشریف کے لانگ مارچ کو شارٹ کٹ بنا دیا گیا۔
عدلیہ کو ایسا نوٹس بھی نہیں لینا چاہئے جس پر عملدرآمد نہ ہو سکے۔ چیف صاحب اس پر غور کریں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔ اب عدلیہ کی ساکھ خراب نہیں ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس کا وہ حال نہیں ہونا چاہئے جو وزیراعظم کا ہوا ہے۔ پہلے کہا گیا کہ سمری پر وزیراعظم نے دستخط کئے پھر قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ یہ اضافہ خودکار فارمولے کے تحت خود بخود ہو گیا ہے۔ خود بخود کبھی کمی تو نہیں ہوئی ہے۔ شوکت ترین اور مخدوم گیلانی میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ویسے شوکت ترین کو چیف جسٹس چودھری کے مقابلے میں لایا گیا ہے۔ کچھ ایسے سووموٹو ایکشن چیف نے لئے ہیں جو سووموٹو ری ایکشن لگتے ہیں۔ ان کا ذکر کسی اگلے کالم میں ہو گا۔
کھلی کچہری اور چینی بسیں by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
میں صبح آٹھ بجے پنجاب سیکرٹریٹ پہنچا تو چیف سیکرٹری جاوید محمود ایک گرائونڈ میں کھلی کچہری لے رہے تھے۔ وہاں برادرم شعیب بن عزیز میرے انتظار میں تھا۔ تو کیا یہ شخص منہ اندھیرے دفتر پہنچ جاتا ہے۔ سامنے جاوید محمود لوگوں کے ساتھ مصروف تھے۔ لگتا تھا کہ وہ شعیب سے پہلے کے آئے ہوئے ہیں۔ دن کے آغاز کا راز وہی لوگ جانتے ہیں جو صبح سویرے اٹھتے ہیں اور اپنے کام پہ لگ جاتے ہیں۔ رات بھی اپنا راز صرف جاگنے والوں کو دیتی ہے۔ شب زندہ دار اور سحر خیز لوگ ہی اپنے لوگوں کے دکھوں کو امانتوں کی طرح اپنے پاس رکھتے ہیں۔ جاوید محمود صاف شفاف اور صبح کے اجالے کی طرح اجلے ماحول میں لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہو رہے تھے۔ یہ کھلی کچہری سے زیادہ کھلم کھلا کچہری لگ رہی تھی۔ نہ افراتفری نہ نفسانفسی‘ نہ چیخم دھاڑ نہ مار دھاڑ۔ میں لوگوں سے ملا‘ وہ خوش ہوئے جیسے ان کی مشکل حل ہو گئی ہو۔ دکھوں کے مارے تھکے ہارے غریب بدنصیب بے چارے کتنے سادہ لوگ ہیں‘ ایک چھوٹی سی بات پر خواہ مخواہ خوش ہو جاتے ہیں۔ جاوید محمود کیلئے حیرت انگیز تاثر ان کی آنکھوں میں تھا۔ یہ پہلا چیف سیکرٹری ہے جو لوگوں کی سنتا تو ہے۔ کام ہو جاتے ہیں‘ نہیں بھی ہوتے۔ پہلے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اب انہیں سنا تو جاتا ہے۔ وہ امید کا دروازہ کھٹکھٹا تو سکتے ہیں۔ نجانے کب یہ دروازہ دستک دینے سے پہلے ہی کھل جایا کریگا۔ جاوید محمود یہ کر دیں کہ ان کی ہدایت پر متعلقہ افسران فوری طور پر اور پوری طرح عمل درآمد کریں۔ ایک بزرگ کہنے لگا کہ یہ شخص سنتا ہے مگر چھوٹے افسران نہیں سنتے۔ جس علاقے کا مسئلہ ہے تو ان افسران سے بھی پوچھا جائے کہ یہ لوگ کیوں یہاں تک آئے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ افسران ٹھیک ہو جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ دکھ رازوں کی طرح ہوتے ہیں۔ غریبوں کا ہمراز بننا ضروری ہے۔
میں شعیب بن عزیز کی طرف گیا تو وہ بھی اپنے دفتر کے برآمدے میں کھلی کچہری لگائے بیٹھا تھا مگر وہاں کوئی دوسرا آدمی نہ تھا۔ اس سے پرانی دوستی ہے۔ دوست ایک دوسرے کے سامنے سائل بھی ہوتے ہیں گھائل بھی۔ ہم چائے پینے دفتر میں آ گئے۔ اس دوران ایک خوبصورت نوجوان شہریار تاثیر آ گیا۔ تھوڑی سی ہچکچاہٹ سے اس نے بات کا آغاز کیا مگر پھر اعتماد کی خوبصورتی پھیلتی گئی۔ ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ گورنر سلمان تاثیر کا بیٹا ہے۔ وہ کچھ دیر اور بیٹھتا تو ہم کہتے کہ یہ شہریار تاثیر ہے کہ جس کے والد کا نام سلمان تاثیر ہے۔ باتیں صرف ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کی ہوتی رہیں۔ اس کی دادی بلقیس صاحبہ کا بھی ذکر آیا۔ وہ ایلس فیض کی بہن ہے۔ ایلس کا اسلامی نام کسی کو یاد نہیں اور بلقیس کا انگریزی نام کسی کو یاد نہیں۔ کبھی سلمان تاثیر کے لئے اچھی بات ہوتی ہے تو اس کے ابا ایم ڈی تاثیر کے حوالے سے ہوتی ہے۔ آئندہ اس کے بیٹے شہریار تاثیر کے حوالے سے ہو گی۔ اچھا ہوا کہ شہریار نے اپنی نسبت دادا کے ساتھ بنائی ہے۔ اس کے ساتھ ملاقات کی خوشی ہوئی۔ لگتا ہے وہ سیاست میں ضرور آئے گا۔ وہ خود آئے۔ اپنے باپ کے کہنے پر نہ آئے۔ یہ بات مونس الٰہی‘ کیپٹن صفدر‘ بلاول بھٹو زرداری اور عبدالقادر گیلانی کے علاوہ بھی کئی نوجوانوں کیلئے کہی جا سکتی ہے۔ اس دوران شعیب بن عزیز نے ایک ہینڈ آئوٹ ہمیں دکھایا۔ وہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو مشتہر کر رہا تھا۔ اس کا معاملہ میڈیا کے ساتھ ہے مگر معلومات کو محسوسات کے ساتھ رلا ملا کے پیش کیا جائے تو مقصد اور معانی یکجان ہو جاتے ہیں۔ ایک دو دن پہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے لئے چین سے منگوائی گئی بسوں کا افتتاح کیا اور بس میں سفر بھی کیا۔ حکمران بسوں میں سفر کرنے لگیں تو مسافتیں مصیبتیں نہیں بنیں گی۔ چیف سیکرٹری جاوید محمود نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اچھی طرح عام ہو جائے تو افسران کو بھی کاریں چھوڑ کر بسوں پر سفر کرنا ہو گا۔ جاوید صاحب جانتے ہیں کہ چین سمیت ترقی یافتہ مغربی ممالک میں افسران‘ ممبران پارلیمنٹ‘ وزیر اور جج صاحبان بھی پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں بھی ایسا ہونے لگے‘ تو پھر لوگ ایک دوسرے کو بتائیں گے کہ وہ جو دو آدمی بس میں ڈنڈا پکڑ کر کھڑے ہیں‘ ایک سیکرٹری ٹرانسپورٹ ہے اور دوسرا وزیر تعلیم ہے۔ محکمہ اطلاعات کے ہینڈ آئوٹ کی تاثیر (سلمان تاثیر سے معذرت کے ساتھ) محسوس کرنے کی چیز ہے۔ الحمدللہ خادم پنجاب شہباز شریف منصوبے کا افتتاح کر چکے ہیں۔ آرام دہ اور خوبصورت بسیں لاہور میں سڑکوں پر ہیں۔ انشاء اللہ عنقریب دو ہزار بسیں مزید چلائی جائیں گی۔ الحمدللہ اور انشاء اللہ کا یہ استعمال بامعنی ہے۔
خوشی یہ ہے کہ یہ بسیں سچے دوست ملک چین سے آئی ہیں۔ جو بھی منصوبے ہماری نیک نامی کا باعث ہیں سارے کے سارے چین کے تعاون سے مکمل ہوئے ہیں۔ چین کے ساتھ شہباز شریف کی وابستگی وطن سے محبت کی طرح ہے۔ مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ان بسوں کیلئے مکمل کنٹرول چینیوں کے اپنے ہاتھ میں ہو گا۔ اس سے پہلے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کا جو حشر افسروں‘ ٹرانسپورٹ افسروں‘ انجینئروں‘ منیجروں‘ ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں نے کر دیا ہے وہ بسوں کے قبرستان میں شمع چوک کے پاس دیکھا جا سکتا ہے۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کا حال بھی گورنمنٹ آف پاکستان اور پاکستان جیسا ہے یعنی کوئی حال نہیں۔ پاکستان ریلوے کا بھی یہی حال ہوا ہے۔ دونوں ناکام اور بدنام… جیسے پاکستان کو دنیا کی دس ناکام اور بدنام ریاستوں میں امریکیوں نے شامل کر رکھا ہے۔ ایک کالم نگار نے چینی بس کے افتتاحی سفر میں اس پر ’’فخر‘‘ کیا ہے کہ مجھے شہباز شریف کے پاس بیٹھنے کا موقع مل گیا مگر یہ بھی فخر کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ آج میرے ساتھ بیٹھ کر دفتر سے اپنے گھر گیا ہے۔ یہ ہوتا ہے ’’ایک ٹکٹ میں دو دو مزے‘‘… محترمہ سیما فرخ نے ایک ایس ایم ایس کیا ہے ’’سردار جی نے کنڈکٹر کو ٹکٹ دکھایا۔ اس نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے۔ سردار نے کہا کہ بس بھی تو پرانی ہے‘‘۔ پرانی یادوں جیسی نئی چینی بس میں بیٹھ کے کتنا مزے آئے گا!
America Yahan Sey… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Ye Baat America… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Dhemaka Ya Dhemki… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Mianwaali Mien… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
میانوالی میں تین ’’طالبان‘‘ حملے ہو چکے ہیں۔ یہ اسی طرح کی کارروائی ہے جو سوات میں شروع ہوئی تھی۔ وہاں حملے ہوئے اور وہ دکانیں جلائی گئیں جہاں حملہ آوروں کے بقول فحش سی ڈیز بکتی تھیں۔ پھرانہوں نے لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ میانوالی میں بھی کہیں ایسی نوبت نہ آجائے۔ آخر طالبان طالبات کے دشمن کیوں ہوگئے ہیں۔ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاںہوتی ہیں۔میانوالی میں میرے بزرگوں کی ہڈیاں مٹی میں گھل مل گئی ہیں۔ میں میانوالی کو خطۂ حیرت اور قریۂ غیرت کہتا ہوں۔ میانوالی میں فحاشی اور عیاشی اب ہونے لگی ہو تو مجھے خبر نہیں۔ میں جس میانوالی میں رہتا تھا اور جو میری میانوالی تھی۔ وہ ایک پاک صاف بستی تھی۔ جہاں عشق رسولؐ کی سرمستیوں نے دلوں میں چراغاں کررکھا تھا۔میانوالی ایک دور آباد پسماندہ ضلع ہے مگر وہاں لوگوں نے کبھی اپنی محرومیوں کا رونا نہیں رویا۔ اقتدار میں ہمیشہ رہنے والے دوستوں نے توجہ دی نہ دوسروں نے کسی قابل سمجھا۔ میں نے پچیس سال پہلے جو میانوالی دیکھی تھی۔ وہی آج بھی پوری تب و تاب جاودانہ کے ساتھ موجود ہے۔میانوالی کی کسمپرسی اور ناآسودگی نے نہ مارا مگر اب جو نئی شورش نے جنم لیا ہے یہ خطرناک ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ لوگ جو افراتفری اور سراسیمگی پھیلانا چاہتے ہیں اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ میانوالی کے لوگ ڈرنے والے نہیں وہ ان لوگوں سے کیسے خوفزدہ ہونگے جو خدا کا نام لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی مہم ہے۔ جوکچھ سوات میں ہو رہا ہے تو کیا یہ لوگ پہلے یہاں نہ تھے۔ اب وہ ہر طرف طوفان برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے شہروں میں ایک بے یقینی کی فضا عام کرکے لوگوں کو ڈرا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہر آدمی سوچنے لگ گیا ہے کہ یہ اسلام کی کونسی خدمت ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ اور اسرائیل ایک تیر سے دوشکار کر ہے ہیں۔ پاکستان اور اسلام دونوں کو کمزور کررہے ہیں۔ ہم ان کے ہاتھوں یرغمال بنتے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ حاوی ہوتے جا رہے ہیں اور ہم کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اور وہ اپنے اخراجات کس طرح پورا کرتے ہیں۔
سوات کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اب میانوالی کو بھی ٹارگٹ بنا لیا گیا ہے میانوالی ایک زمانے میں بنوں کی تحصیل تھی اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی میانوالی کے بالکل ساتھ ملا ہوا ہے۔ میانوالی پٹھانوں کا علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ درہ تنگ پر راکٹ سے حملہ ہوا ہے یہ علاقہ لکی مروت اور بنوں کے ساتھ ہے۔ قدرت آباد پولیس چوکی پر بھی حملہ ہوا ہے اور یہ واں بھچراں سے آگے واقع ہے۔ یہاں میرے گائوں موسیٰ خیل کا جوان ASI شیر خان بھی شہید ہوا ہے۔ تیسرا حملہ کنڈل پر ہوا ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ہے۔ یہ بھی چشمہ بیراج کے پل کے پار ایک پٹرولنگ پوسٹ ہے۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے فلائی فور کے نام سے چوتھا حملہ قبول خیل پر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو میانوالی شہر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ میانوالی میں جس بلڈنگ کے اندر سی ڈیز سنٹر تھا۔ اسے اڑانے کی دھمکی کے بعد یہاں ایک بنک کے لوگ بڑے گھبرا گئے۔ سی ڈیز والے یہاں سے دکان کہیں اور لے گئے ہیں۔ پھر کیبل والوں کو بھی دھمکیاں ملیں۔ مگر انہوں نے یہ دھمکی قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے بندے اسلحے سمیت بٹھا لئے۔ یہ کیبل غالباً پنوں خیل قبیلے والوں کے پاس بدر الیکٹرانکس میں ہے۔ نجانے دھمکی کب دھماکے میں بدل جائے تیاری دونوں طرف سے ہے۔ اس طرح میانوالی شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ کیا اس شہر کا مقدر بھی سوات کی طرح ہے۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان خبروں کا مرکز ہیں۔ اب میانوالی بھی ایسی خوفناک خبروں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔میانوالی میں کمرمثانی جو ناظم ضلع شادی خیل کا شہر ہے یہ پاکستان کی طرف منشیات کا گیٹ وے بن گیا تھا۔ افغان مہاجرین نے اس شہر کے ہر تیسرے آدمی کو اس ’’کاروبار‘‘ پر لگا دیا ہے۔ پہلے ایسا کوئی کام یہاں نہ ہوتا تھا۔ افغان مجاہدین کودہشت گرد بنایا۔ افغان مہاجرین سے بھی یہی کام لیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو بے بس اور کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا ہے۔ میانوالی کے بعد سرگودھا کی باری آئے گی اورپھر لاہور یہاں سے زیادہ دور نہیں۔ موٹروے کی وجہ سے راستے سمٹ گئے ہیں۔ گورنر سرحد اویس غنی نے سب سے پہلے لاہور آ کے یہ کہا تھا کہ پنجاب ہی اصل میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ ان لوگوں کو خبریں ملتی ہیں خبریں دھمکیاں بن جاتی ہیں اور پھر دھماکے ہونے لگتے ہیں۔
لوگ ڈی سی او میانوالی وسیم اجمل چوہدری کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں امن و امان سلامتی اور آسودگی کیلئے کام کیا ہے وہ جذبے والے آدمی ہیں۔میانوالی کیلئے اس معاملے میں ہیڈ کوارٹر کی طرف سے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ پولیس فورس میں اضافہ کیا جائے۔ نفری بڑھائی جائے۔ پولیس والوں کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ اچھی طرح حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ دکھاوے کی فورس اور کاسمٹک پولیس کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پانا مشکل ہے نجانے پولیس کو کیوں خصوصی نشانہ بنا لیا گیا ہے۔ ہوسکے تو یہاں رینجرز بھجوائے جائیں۔ شورش بڑھنے سے پہلے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ ایک ہفتے میں تین واقعات خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس آواز کے اندر چھپے ہوئے راز کو سمجھنے میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے مجھے اپنے ضلع کی فکر مندی ہے۔ مگر بات یہاں تک نہیں رہے گی۔ اسے پھیلنے دیا گیا تو معاملہ بڑے شہروں تک وسیع ہو جائے گا۔مجھے میانوالی سے صحافی محمود الحسن خان نیازی نے بتایا ہے کہ میانوالی میں آئی ایس آئی کے دفتر سے لوگوں کیلئے اس حوالے سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ کیا یہ ان کے فرائض میں نہیں کہ وہ حملہ آوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔میانوالی میں عوام دشمن کارروائیوں کے خلاف موثرکارروائی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ ہوا چل پڑی ہے تو اس کو طوفان بننے سے روکنا ہوگا۔









