امریکی سفارت کار کیلئے پاکستان میں پذیرائی by Dr Ajmal Niazi

3 July, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

امریکن قونصلیٹ کے سربراہ برائن ڈی ہنٹ کو پیپلز پارٹی کی ایم پی اے مگر ایک اچھی خاتون شبینہ ریاض کے عشایئے میں دیکھا۔ یہ ایک بڑے ہوٹل کی تقریب تھی۔ میں نے ان کو بہت معمولی جگہوں پر بھی دیکھا ہے۔ کوئی اپنے چھوٹے سے گھر میں تقریب کرے اور برائن ڈی ہنٹ کو بلائے تو وہ آ جائیں گے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں بھی ہنٹ صاحب کو بلایا گیا ہو اور وہ نہ گئے ہوں۔ انجمن سگریٹ فروشاں کی تقریب میں بھی وہ چلے جائیں گے جبکہ وہ خود سگریٹ نہیں پیتے۔ میرا خیال ہے کہ نہیں پیتے۔ پیتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ ایک بہت گہرا سموکر کہہ رہا تھا کہ کون کہتا ہے سگریٹ چھوڑنا مشکل ہے۔ میں کوئی دس بارہ دفعہ چھوڑ چکا ہوں۔ برائن ڈی ہنٹ کی لاہور سے وابستگی دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ امریکہ سے ہجرت کر کے پاکستان آ چکے ہیں۔ یہ مثال بھی وہ قائم کر دیں ورنہ لوگ پاکستان سے ہجرت کر کے امریکہ جاتے رہتے ہیں اور پھر وہاں مہاجر سے مسافر بن جاتے ہیں۔ع
شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں توں بھاری ھُو
امریکہ کو دن رات گالیاں نکالنے والے بھی امریکہ جانے کی مکمل تیاریوں میں رہتے ہیں۔
امریکہ کے شاید وہ پہلے سفارتکار ہیں جو اتنے مقبول ہیں۔ ان کا موازنہ لاہور کے ایرانی قونصلیٹ کے مرحوم صادق گنجی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس پر اعتراض دونوں ملکوں کو ایک جیسا ہو گا۔ صادق گنجی جب جا رہے تھے تو کسی سفاک آدمی نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ یہ بات یونہی مجھے یاد آ گئی ہے۔ برائن ڈی ہنٹ کو امریکی ہوتے ہوئے کوئی خطرہ نہیں۔ ویسے وہ احتیاطاً یہاں سے نہ جائیں۔ اگر جائیں تو بغیر بتائے چلے جائیں۔ ان کے اعزاز میں اتنی ہی الوداعی تقریبات ہو سکتی ہیں جو صادق گنجی کے لئے ہوئی تھیں۔ تقریب میں وہ مکمل پاکستانی لباس میں تھے۔ کھلی شلوار قمیض اور پائوں میں ’’کھیڑیاں‘‘ یعنی وہ جوتے جو شہر کے لوگ بھی کم کم پہنتے ہیں۔ یہ لباس برائن ڈی ہنٹ کو اچھا لگ رہا تھا۔ انہیں کبھی امریکی لباس میں نہیں دیکھا گیا۔ وہ پینٹ کوٹ پہنیں تو بالکل اچھے نہیں لگیں گے جبکہ ہمارے اپر لوگ صرف اچھے لگنے کیلئے سوٹ وغیرہ پہنتے ہیں حالانکہ وہ اس طرح بہت برے لگ رہے ہوتے ہیں۔ کوٹ امریکہ یورپ کے ٹھنڈے علاقوں میں ضروری ہے مگر پاکستان میں گرمی کے موسم میں سوٹ عجیب لگتا ہے مگر جو لوگ پہنتے ہیں وہ ائرکنڈیشنڈ گھروں میں رہتے ہیں۔ دفتروں‘ ہوٹلوں اور گاڑیوں میں اے سی لگے ہوتے ہیں۔ وہ ماحول بھی مصنوعی طور پر ایسا بناتے ہیں جو امریکہ یورپ میں ہے۔ امریکی غلامی ہمارے خمیر ضمیر میں رچ بس گئی ہے۔ لفظ ضمیر بڑا غور طلب ہے۔ ویسے تو خمیر بھی قابل غور ہے۔ ٹی وی چینلز پر سوٹ پہن کر بات کرنے والوں کو جو لوگ سنتے ہیں وہ درختوں کے نیچے جاہنگیا پہن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ع
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
برائن ڈی ہنٹ خاصے صحتمند ہیں‘ جسے ہمارے ہاں موٹا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پینٹ پہنی ہوتی تو ان پر ترس آتا مگر ہمیں اپنے ایسے لوگوں پر ترس نہیں آتا۔ مجھے ہنٹ صاحب نے ہر جگہ بڑے غور سے دیکھا۔ مجھے شک ہے کہ وہ کسی دن مجھ سے پگڑی مانگ لیں گے۔ اس کے لئے دستار بندی کی تقریب شبینہ ریاض کے گھر میں ہونی چاہئے۔ وہ اپنے گھر میں بھی بہت اچھے اجتماعات کراتی رہتی ہیں۔ اس طرح شیخ ریاض سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر قیوم سومرو بھی اسلام آباد سے آ جاتے ہیں۔
برائن ڈی ہنٹ کو اردو بہت اچھی آتی ہے۔ وہ کم کم اردو بولتے ہیں۔ اب تو انہیں پنجابی بھی آتی ہے۔ جس جگہ میں تھا وہاں ایک آواز آئی کہ وہ سرائیکی بھی جانتے ہیں۔ اس پر تبصرہ ہوا کہ سرائیکی صوبہ پنجاب میں بنوانے کیلئے یہ بڑا ضروری ہے۔ بہرحال پنجاب کے کلچر روایات‘ رسوم و رواج لوگوں کے خیالات اور حالات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی زبان پر عبور ہو۔ تو یہ دریا برائن ڈی ہنٹ نے عبور کر لیا ہے۔ وہ لاہوری سٹائل میں رہتے ہیں۔ ان کا ڈیل ڈول بھی لاہوریوں والا ہے۔ انہیں اب امریکہ میں پاکستان کا سفیر لگا دیا جائے تو پاکستان کیلئے حسین حقانی سے کم از کم بہتر سفارتکار ہونگے۔ میرا خیال ہے کہ لاہور میں ایسی ایسی جگہوں پر برائن ڈی ہنٹ گئے ہیں جہاں وزیر شذیر‘ افسران وغیرہ اور سیاستدان بھی نہ گئے ہونگے۔ حیرت ہے کہ بظاہر امریکی پالیسیوں کی بات ہنٹ صاحب نے کبھی کی نہیں مگر ایسے لوگ اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں چلنے دیتے جبکہ امریکی اب کھلے عام ہمارے حکمرانوں سے سارے کام لینے لگے ہیں۔ لوگ امریکہ کے لئے اچھی رائے نہیں رکھتے مگر اس امریکی سفارت کار کے لئے بری رائے نہیں رکھتے۔ ہمارے سفارت خانوں میں ایسا ایک بھی سفارت کار شاید نہ ہو۔ دو چار ہونگے مگر کسی کا نام یاد نہیں آ رہا۔ تقریب کی خوبی یہ تھی کہ اس میں صرف دو تقریریں تھیں۔ ایک تقریر بہت اچھے جذبوں والے نوجوان ہشام کی اور ایک تقریر اچھے رابطوں والے برائن ڈی ہنٹ کی۔ دونوں نے مختصر بات کی۔ ہشام نے اپنی والدہ شبینہ ریاض کی نمائندگی کی۔ پہلے بھی وہ کئی بار یہ خدمت انجام دے چکا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ سیاست میں آئے گا۔ اس کی تربیت شبینہ ریاض کر رہی ہے۔ وہ شیخ ریاض کا بھی فرماں بردار بیٹا ہے مگر وہ اپنی ماں کے نقش قدم پر چلے تو اس کے لئے اچھا ہو گا اور پیپلز پارٹی کے لئے بھی اچھا ہو گا۔ وہ ڈاکٹر قیوم سومرو کے لئے بھی بڑی عزت رکھتا ہے۔ اس کی تقریر اچھی تھی اور یہ بات بھی تھی کہ وہ امریکہ میں پڑھتا ہے۔
برائن ڈی ہنٹ نے بھی ہشام کی گفتگو کو انجوائے کیا۔ برادرم زکریا بٹ کی تلاوت کا مزا آیا۔ آئندہ ان کو قاری زکریا بٹ کہا جائے۔ وہ پیپلز پارٹی کا لیڈر ورکر ہے۔ بجائے اس کے کہ کسی قاری کو بلایا جاتا‘ اس نے یہ سعادت خود حاصل کی۔ یہ روائت عام ہو تو لوگ مولوی کے محتاج نہیں رہیں گے۔ مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق اب مٹ جانا چاہئے۔ سکول اور مدرسے میں فرق نہیں رہنا چاہئے۔ برائن ڈی ہنٹ نے خوبصورت اور آسان یعنی پاکستانی قسم کی انگریزی میں بات کی۔ بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور کے خواص کے علاوہ عوام کے ساتھ بھی ہنٹ صاحب رابطے میں رہتے ہیں۔ برائن ڈی ہنٹ سے ایک گزارش ہے کہ وہ دوسرے امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں سے کہیں کہ وہ بھی ان کے جیسے ہو جائیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ حکومتی امور میں کیسے ہیں۔ ویسے وہ اچھے ہیں۔ امریکی ذاتی طور پر اچھے ہوں تو بھی پاکستان کے حوالے سے سب ایک جیسے ہیں۔ تو کیا برائن ڈی ہنٹ بھی اصل میں ویسے ہیں۔ بہرحال وہ ایک اچھے اور کامیاب سفارت کار ہیں اور یہ امریکی سفارت کاری کا کمال نہیں‘ ہنٹ صاحب کی اپنی معرکہ آرائی ہے۔ انٹی امریکہ اور پرو امریکہ دونوں برائن ڈی ہنٹ کے مداح ہیں۔ وہ پاکستان میں پسندیدہ امریکی شخصیت ہے۔ یہ حیرانی کی بات ہے اور پریشانی کی بھی ہے۔

Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , ,