
Serkari Mulazmeen Ki.. by Irfan Siddiqui
15 March, 2010


Categories :
Irfan Siddiqui, Urdu Columnists
Umeedon Key Chiraag by M. Amir Khakwani
15 March, 2010

Categories :
M. Amir Khakwani, Urdu Columnists
Derd Aur Dewa by Abdullah Tariq Sohail
15 March, 2010

Categories :
Abdulla Tariq Sohail, Urdu Columnists
Lahore…! by Tayyaba Zia
15 March, 2010لاہور ۔۔۔!
طیبہ ضیاء ـ
صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنے امن کے نوبل انعام میں سے 14 لاکھ ڈالر10 فلاحی اداروں کوعطیہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر اوباما امن کا نوبل انعام لیتے وقت بھی کچھ شرمندہ شرمندہ سے دکھائی دے رہے تھے اور اب جب کہ امن کادنیا تودرکنار امریکہ میں بھی کہیں دور دورتک نام و نشان نہیں ملتا نوبل انعام کی رقم راہ خدا میں وقف کرکے اپنی شرمندگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے صدر اور ان کی شرمندگی سے متعلق آجکل انٹر نیٹ پر ایک لطیفہ گردش کر رہا ہے کہ بلاول پڑھائی کے لئے جرمنی گیا۔ وہاں سے ایک ماہ بعد اپنے ڈیڈی کوخط لکھتا ہے کہ ”ڈیڈ ! برلن بہت خوبصورت شہرہے۔یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔میں یہاں بہت انجوائے کر رہا ہوں البتہ یہ دیکھ کر کہ میرے اساتذہ بھی ٹرین پر کالج آتے جاتے ہیں مجھے اپنی” گولڈن مرسیڈیز “پر کالج جاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے“۔چند روز بعدبلاول کو سوس بینک اکاﺅنٹ سے ایک سوئس سوملین ڈالر کا چیک اور خط موصول ہوتا ہے جس پر لکھا تھا ”بیٹا ! ہمیںشرمندہ مت کراﺅ۔فوراََجاﺅ اور اپنے لئے ایک ٹرین خرید لاﺅ“۔۔۔یہ لطیفے نہیں دل کی چوٹیں ہیں۔۔۔زندہ دلان لاہور کے وہ قہقہے ہیں جن میں اب ہچکیاں سنائی دے رہی ہیں۔جو کبھی محمد علی جناحؒ کا ہرا بھرا پاکستان تھا آج وہ قبرستان بن چکاہے ۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کہا ہے کہ محمد علی جناحؒ زندہ ہوتے تو آج پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوتی۔۔ ۔آج لاہور مکمل طور پر یتیم ہو گیاہے۔چار سو آہوں اور سسکیوں میں ڈوب چکاہے۔ جس شہر میں ایک دن میں سات دھماکے ہوں اس شہر کے لوگ اسی قسم کے لطیفوں پر خون کے آنسو روتے ہیں ۔پاکستان کا جب امریکہ کے ساتھ کسی میدان میں تقابل نہیں تو پھر اس کی جنگ کیوںلڑی جا تی ہے۔۔۔؟ ایک دن میں سات دھماکے امریکہ کی جنگ ہے ۔۔۔صرف امریکہ اور بھارت کی لگائی ہوئی آگ ہے۔۔۔صرف امریکہ اور بھارت کی بھڑکائی ہوئی سازش ہے۔۔۔امریکہ کی چالبازی اور بھارت کی بدمعاشی کو” دہشت گردی کے خلاف جنگ “کا نام دے کر پاکستان کوخاک اور خون میں ملایاجا رہاہے۔۔۔نیست ونابود کیا جارہا ہے۔۔۔ اورخدانخواستہ نوبت یہاں تک پہنچا دی جائے گی کہ لوگ دوگھونٹ پانی کو ترسنے لگیں گے۔۔۔یہ ہے دو بڑے نامور دہشت گردوں کا مشترکہ منصوبہ ۔۔۔یہ چھوٹے دہشت گرد کون ہیں۔۔۔؟یہ لوگ ”گولڈن مرسیڈیز“ والوں کے گھروں کا رخ کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟ان کی اولادیں گوروں کے حفاظتی دستوں میں ہیں اور پاکستان کا غریب بچہ آزادی کے دو سانس لینے کا بھی مختار نہیں۔۔۔؟دنیا کے جس ملک میںدہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے اس ملک کی ایجنسیاں اندھی بہری کیوں ہو جاتی ہیں۔۔۔؟ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ فوج نہیں آئے گی ۔۔۔ہم کہتے ہیں کہ فوج گئی کب تھی۔۔۔؟ لوگ کہتے ہیں کہ زرداری کی حکومت ہے ۔۔۔ہم پوچھتے ہیں کہ مشرف کب گیا تھا ۔۔۔؟امریکہ امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ پاکستان کی گردن میں پٹہ باندھ رکھا ہے۔۔۔ صدر حامد کرزئی بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔۔۔پاکستان کی لغت میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کو غالبََا ”کفر“ قرار دیا جا چکاہے۔ ۔۔؟لغت وہی جو امریکہ نے پڑھائی اور دلیری وہی جو دشمن سے گنوائی۔۔۔؟امریکہ افغانستان سے فوج نکال کر گھر واپس آنے کا نہیں بلکہ آگے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان کی فوج ناکام قرار دی جا چکی ہے۔ پاکستان میں بھی امریکہ کی فوج اپریشن کرے گی ۔۔۔؟پاکستان کے شہروں میں بھی اپریشن شروع ہو گا۔۔۔؟ مشرف کی جو آجکل امریکہ میں اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔۔۔کالے دھن کو سفید کرنے میں مشغول ہے۔۔۔ لگائی ہوئی دہشت گردی کی یہ آگ اب آسانی سے بجھائے نہیں بجھے گی۔۔۔اس کو بجھانے کے لئے اوراپنا ملک بچانے کے لئے گردن سے غلامی کا طوق اتار کر پھینکنا ہو گا۔۔۔جنرل اشفاق کیانی رواں ماہ واشنگٹن تشریف لا رہے ہیں۔نیا روڈ میپ تیار ہو رہاہے ۔جنرل کیانی اور وزیر اعظم نے مل کر پاک امریکہ سٹریٹجک تعلقات کا نیافریم ورک تیار کر لیا ہے۔پاک امریکہ دیر پا تعلقات کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں طویل مدت کے لئے جھونک دینے کا منصوبہ بنایا جا رہاہے اور کرائے کے غنڈے پاکستان کی گلیوں اور بازاروں میں کھلے عام دندناتے پھررہے ہونگے ہیں ۔پاکستان کا مستقبل۔۔۔ پاک امریکہ سٹریٹجک ۔۔۔آنے والا وقت مزید زخم لائے گا۔۔۔امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستانی فوج پر لشکر طیبہ کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کئے ہیں جبکہ پاکستانی فوج نے امریکہ کے لئے ہر وہ کام کیا جو بعد میںاسی کو لے ڈوبا مگر امریکہ راضی نہ ہو سکا اور الزامات کی فہرست پہلے سے بھی زیادہ طویل ہوتی چلی گئی۔پاکستان طالبان کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی بجائے انہیں اپنا دشمن بنا رہا ہے جبکہ پاکستان کے دشمن ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہر چیز ہے سوائے ”ہوش“ کے اورہوش کلمہ توحید کے مفہوم میں پنہاں ہے۔۔۔’ ’نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے“۔۔۔اگر کلمہ توحید کا حقیقی مفہوم پا لیا تو سمجھو خودکو سر تاپا بچا لیا۔۔۔ پاکستان کے بڑے جس روز واشنگٹن کو اپنا آقا ماننے سے انکار کر دیں گے وہ روز پاکستان میں روز عید ہو گا۔۔۔لاہور کے ایک آر اے بازار میں ہی نہیں سترہ کروڑ عوام کے کلیجوں پر آریاں چل رہی ہیں۔۔۔امریکہ میں کوئی ”مسخرہ“ اپنے انڈر وئیر میں بم باندھ کر جہاز پر بیٹھ جاتاہے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟ کبھی کوئی جوتے کو ”تیلی“ لگاکر بیٹھ جاتاہے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟نائن الیون ہو جائے انہیں خبر نہیں ہوتی ۔۔۔؟ممبئی والوں کا تاج محل نذر آتش ہو جائے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟پھرپاکستان کے بے خبروں سے کیا گلہ شکوہ۔۔۔؟ البتہ انہیں بھی تب خبر ہوتی ہے جب واشنگٹن سے کوئی خبر آجائے۔۔۔اور پھر کراچی میں ”بڑے بڑے“ منٹوں میںدھر لئے جاتے ہیں۔۔۔؟
پاکستان کی فوج ناکام قرار دی جا چکی ہے۔ پاکستان میں بھی امریکہ کی فوج اپریشن کرے گی ۔۔۔؟پاکستان کے شہروں میں بھی اپریشن شروع ہو گا۔۔۔؟ مشرف کی جو آجکل امریکہ میں اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔۔۔کالے دھن کو سفید کرنے میں مشغول ہے۔۔۔ لگائی ہوئی دہشت گردی کی یہ آگ اب آسانی سے بجھائے نہیں بجھے گی۔۔۔اس کو بجھانے کے لئے اوراپنا ملک بچانے کے لئے گردن سے غلامی کا طوق اتار کر پھینکنا ہو گا۔۔۔جنرل اشفاق کیانی رواں ماہ واشنگٹن تشریف لا رہے ہیں۔نیا روڈ میپ تیار ہو رہاہے ۔جنرل کیانی اور وزیر اعظم نے مل کر پاک امریکہ سٹریٹجک تعلقات کا نیافریم ورک تیار کر لیا ہے۔پاک امریکہ دیر پا تعلقات کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں طویل مدت کے لئے جھونک دینے کا منصوبہ بنایا جا رہاہے اور کرائے کے غنڈے پاکستان کی گلیوں اور بازاروں میں کھلے عام دندناتے پھررہے ہونگے ہیں ۔پاکستان کا مستقبل۔۔۔ پاک امریکہ سٹریٹجک ۔۔۔آنے والا وقت مزید زخم لائے گا۔۔۔امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستانی فوج پر لشکر طیبہ کے ساتھ روابط کے الزامات عائد کئے ہیں جبکہ پاکستانی فوج نے امریکہ کے لئے ہر وہ کام کیا جو بعد میںاسی کو لے ڈوبا مگر امریکہ راضی نہ ہو سکا اور الزامات کی فہرست پہلے سے بھی زیادہ طویل ہوتی چلی گئی۔پاکستان طالبان کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی بجائے انہیں اپنا دشمن بنا رہا ہے جبکہ پاکستان کے دشمن ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس ہر چیز ہے سوائے ”ہوش“ کے اورہوش کلمہ توحید کے مفہوم میں پنہاں ہے۔۔۔’ ’نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے“۔۔۔اگر کلمہ توحید کا حقیقی مفہوم پا لیا تو سمجھو خودکو سر تاپا بچا لیا۔۔۔ پاکستان کے بڑے جس روز واشنگٹن کو اپنا آقا ماننے سے انکار کر دیں گے وہ روز پاکستان میں روز عید ہو گا۔۔۔لاہور کے ایک آر اے بازار میں ہی نہیں سترہ کروڑ عوام کے کلیجوں پر آریاں چل رہی ہیں۔۔۔امریکہ میں کوئی ”مسخرہ“ اپنے انڈر وئیر میں بم باندھ کر جہاز پر بیٹھ جاتاہے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟ کبھی کوئی جوتے کو ”تیلی“ لگاکر بیٹھ جاتاہے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟نائن الیون ہو جائے انہیں خبر نہیں ہوتی ۔۔۔؟ممبئی والوں کا تاج محل نذر آتش ہو جائے انہیں خبر نہیں ہوتی۔۔۔؟پھرپاکستان کے بے خبروں سے کیا گلہ شکوہ۔۔۔؟ البتہ انہیں بھی تب خبر ہوتی ہے جب واشنگٹن سے کوئی خبر آجائے۔۔۔اور پھر کراچی میں ”بڑے بڑے“ منٹوں میںدھر لئے جاتے ہیں۔۔۔؟
Categories :
Tayyaba Zia, Urdu Columnists








