Youm-e-Iftekhar Aur Jurat-e-Inkar by Dr Ajmal Niazi

19 March, 2010
(0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

یوم افتخار اور جرات انکار

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ

نجانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ یوم افتخار پر محبوب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو پھر جرات انکار کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ انہیں ججوں کی تنخواہوں میں اضافے کو قبول نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جرات انکار کا تسلسل بڑا ضروری ہے۔ یوں وہ کچھ اور محبوب ہو جاتے۔ ہم ان کی تعریفیں کرتے رہے ان کی تعریفیں کرتے ہیں۔ شکایت بھی اسی سے ہوتی ہے جو اپنا ہوتا ہے۔ بچہ ماں سے محبت کرتا ہے اور شکایت بھی اسی سے کرتا ہے۔ ماں کا انصاف سب سے اعلیٰ ہے کہ وہ بے لوث ہے۔ وہ اس بیٹے سے لے لیتی ہے جس کے پاس زیادہ ہوتا ہے اور جس کے پاس نہیں ہوتا اسے دے دیتی ہے۔ یہاں تو ان کو دیا جا رہا ہے جن کے پاس پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور ان سے لیا جا رہا ہے جن کے پاس کم ہے بلکہ نہیں ہے۔ اب بھی وہ نعرہ لوگوں کے دلوں میں گونجتا ہے ”چیف ترے جانثار بے شمار بے شمار“ ان کے دکھ شمار کرنے والا ابھی کوئی نہیں ہے۔ میں نے تب بھی انہیں محبوب چیف جسٹس لکھا جب انہیں معزول لکھا جا رہا تھا۔ وہ غیر فعال ہو کے زیادہ فعال تھے لوگوں کی امیدوں کے مرکز تھے لوگ مایوسیوں میں مزید ڈوب گئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار کہہ دیتے کہ جب تک پاکستان کے سب ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں۔ ہم اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیں گے کیا پہلے ان کی تنخواہیں کم ہیں اور کیا یہ دلیل اب بھی حکومتی لوگوں کی طرف سے دی جا رہی ہے کہ ججوں کی تنخواہیں زیادہ ہونگی تو وہ رشوت نہیں لیں گے اور انصاف کریں گے۔ انصاف تو اس کے بعد بھی نہیں ملے گا۔ یہ دلیل سب لوگوں کےلئے کیوں نہیں کہ ان کی تنخواہیں بڑھا دی گئیں تو وہ کام زیادہ کریں گے۔ پہلے ہی وہ نوکری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ مہنگائی 400 فیصد بڑھی ہے اور ان کی تنخواہیں 15 فیصد بڑھانے کی تجویز ہے۔ یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کے بعد عام آدمی کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا کیا کبھی کسی نے سوچا کہ وہ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ زندگی انہیں گزارتی رہتی ہے۔ اب تو وہ انتظار اور صبر بھی نہیں کر سکتے۔ غریب عوام اب بھی خالی ہاتھ ہیں اور ان کے دل بھی مزید اجڑ گئے ہیں۔ انصاف نہیں ملا۔ پہلے بھی نہیں ملتا تھا۔ کرپشن اور ظلم زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے بھی کم نہ تھا۔ لوگوں نے سوچا تھا کہ چیف جسٹس بحال ہوں گے تو بے حال نہیں رہیں گے۔ مگر کام زیادہ خراب ہو گیا ہے۔ جو کچھ پچھلے ایک سال میں ہوا ہے شاید پچھلے سارے سالوں میں نہیں ہوا تھا ان کا خیال تھا کہ سیاستدان لوٹ مار اور استحصال کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔ سیاسی جرنیل بھی ان کے جیسے تھے۔ حاکم سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ظالم اور بس ظالم اور محکوم بھی اسی طرح ہیں۔ مظلوم اور محروم۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ ایک بوڑھا ملتان میں بڑی مشکل سے چل رہا تھا۔ مگر چیف جسٹس کے انتظار میں احتجاج کر رہا تھا کسی نے پوچھا تو بابے بوڑھے نے کہا کہ اس چیف جسٹس کو دیکھنے آیا ہوں جس نے ایک فوجی آمر کو انکار کیا ہے۔
محبت اور ادب سے بات کر رہا ہوں کہ توہین عدالت عام لوگوں نے کبھی کی ہی نہیں یہ حکمران اور افسران ہیں جنہیں معاف بھی کر دیا جاتا ہے۔ مگر ایک چیز توہین انسانیت بھی ہے توہین دل و جاں اور توہین پاکستان بھی ہے اور وہ مسلسل ہو رہی ہے۔ مہنگائی رسوائی، بے روزگاری اور بدامنی بھی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے چینی کی قیمت 40 روپے کلو کی تھی۔ وہ اب 80 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ یہ کس کی توہین ہے یہ پنجاب حکومت نے بھی کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ آزاد عدلیہ کے ساتھ ہیں۔ پٹرول کی قیمت گھٹانے کے بعد آزاد عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا۔ خدا کی قسم اس توہین کو لوگوں نے اپنے دل میں محسوس کیا ہے۔
پنجاب حکومت نے پولیس والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور بے تحاشا کیا۔ کاش دوسرے ملازمین کے پاس بھی کوئی اختیار ہوتا۔ ان کے پاس تو اب بے اختیاری بھی نہیں ہے۔ حکمران اور افسران پولیس والوں کے محتاج ہیں اور ججوں سے ڈرتے ہیں اس کے بعد ٹیچرز نے ہڑتال کی کہ ہماری تنخواہ بہت تھوڑی ہے مگر ان پر لاٹھی چارج ہوا۔ ماوں بہنوں جیسی لیڈی ٹیچرز کو سڑکوں پر لٹا لٹا کر مارا گیا۔ ایک زخمی خاتون نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ حال ہے تو انہیں پولیس کی تنخواہیں کئی بار بڑھانا پڑیں گی۔ یہ وہی پولیس والے ہیں کہ چیف کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آئے ہوئے لوگوں کو مارا پیٹا اور تشدد کیا۔ ان کی تنخواہیں بڑھیں مگر عام ملازمین نے صرف لاٹھیاں کھائیں۔
یوم افتخار منانے والے وکیلوں کے روئیے سے لوگوں کو تکلیف ضرور ملی ہے لوگ اب تکلیف میں ریلیف محسوس کرنے کی عادت بنا چکے ہیں۔ خدا کی قسم پچھلا ایک سال بہت ہی غیر منصفانہ تھا۔
ہے دل پہ انتظار کا تالا لگا ہوا
عمریں گزار دی ہیں فقط ایک سال میں
حکمران اور افسران اس غریب ملک میں امیرانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ لوگوں نے چاہا تھا کہ وہ ان سے بھی آزاد عدلیہ کی بحالی کے بعد نجات پائیں گے۔ افسران حکمرانوں کو اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں۔ چھوٹی عدالتوں میں ذلیل و خوار ہونے والے سمجھتے تھے کہ ہمیں تمام قسم کی بے انصافیوں سے نجات ملے گی مگر انصاف اور بے انصافی میں فرق مٹ گیا ہے۔
آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے اپنی تنخواہیں نہ بڑھانے پر احتجاج کیا ہے۔ وہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ آزاد عدلیہ کی بحالی کےلئے سب نے دھرنے میں شرکت کی تھی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ پھر ان کو ہی دھر لیا جائے گا اور دھر رگڑا زیادہ شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کہہ رہے ہیں کہ خزانہ خالی ہے وہ خزانہ خود لوٹ کے کھا گئے ہیں۔ عوام نے جس نظام کو مسترد کیا تھا اب کون اس کی حفاظت میں سرگرم ہے؟

Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,