Dr Ajmal Niazi

Sofi Seder Asif Ali Zerdari by Dr Ajmal Niazi

17 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

صوفی صدر آصف علی زرداری؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام عالمی صوفی ازم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف زرداری صوفی صدر لگ رہے تھے۔ کم از کم اس وقت تو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ صدر زرداری ہمیں سنبھلنے نہیں دیتے، کبھی کبھی ان کی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ کبھی بہت اچھی لگتی ہیں، کبھی وہ پریشان کر دیتے ہیں کبھی حیران کر دیتے ہیں جیل میں آصف زرداری سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، کچھ ملاقاتیں ایوان صدر میں بھی ہوئیں، قیدی تو وہ یہاں بھی ہیں مگر جیل میں قیدی اور قائد میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا۔ اب ہوتا ہے، قائد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو قیدی سمجھتا رہے قیدی ہونے اور اپنے آپ کو قیدی محسوس کرنے میں فرق ہے۔ یہ فرق آدمی کو بھول جاتا ہے، رائے ونڈ محل میں اٹک قلعہ کیسے یاد رہ سکتا ہے، شریف برادران اپنے اندر اٹک اٹک کے سیاست کریں تو بات بنے۔ جو مشکلیں ایوان صدر میں صدر زرداری کو پیش آئیں وہ آج کسی دوسرے سیاستدان کو درپیش نہیں۔ صدر زرداری نے اے پی این ایس کے اجلاس میں مجیب الرحمن شامی کی بامعنی اور معنی خیز تقریر کے بعد کہا کہ میں نے لکھنے والے اور بولنے والے لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کیا۔ وہ شاید جانتے ہوں کہ صبر کا اجر اسے ملتا ہے جو اجر کا طالب نہیں ہوتا محبت کرنے کا اجر محبت کرنے کی بے قراری اور سرشاری میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بات حساب کتاب میں آ جاتی ہے اس سے بالاتر ہو کر آدمی کو بغیر حساب ملتا ہے اور وہاں سے ملتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہ ہوتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر زرداری کی بجائے کوئی اور ایوان صدر میں ہوتا تو خودکشی کر چکا ہوتا۔ وہ زندہ ہیں بلکہ زندہ تر ہونے کی خواہش میں مبتلا ہیں خواہش اور کوشش میں فاصلہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ جتنی تنقید صدر زرداری پر ہوئی، جتنی جائز ناجائز مخالفت ان کی ہوئی کوئی اور اسے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کو صدر زرداری اپنی لیڈر کہتا ہے اس نے بیوی کو بی بی بنا دیا ہے مگر بے نظیر بھٹو کو یہ لوگ کب کے ایوان اقتدار سے نکال باہر کر چکے ہوتے۔ صدر زرداری نے کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی اور اپنی شکست کو شکست فاتحانہ سمجھ لیا ہے۔ آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ کس حکمران کو راس ہے آنے والے زمانے میں سب کو پتہ چل جائے گا۔
برادرم سجاد جہانیاں کے کالم میں اے پی این ایس کے اجلاس کی بات بہت خوبصورتی سے ہوئی ہے۔ میں وہاں نہ تھا، میں صوفی کانفرنس میں بھی نہ تھا۔ فخر زمان نے پنجابی کانگریس میں بھی اس طرح کی محفلیں کرائی تھیں اس کا غیر سرکاری انداز سرکاری اسلوب سے اچھا تھا مگر ایوان صدر میں سرکاری اجلاس کو واقعی صدر زرداری نے صوفیانہ محفل بنا دیا۔ میں نے جیل میں زرداری صاحب سے پوچھا تھا کہ رہائی کے بعد کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”میں اپنے اونٹوں سے ملوں گا“ اونٹ ایک صابر جانور ہے مگر وہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے سے انتقام ضرور لیتا ہے۔ صدر زرداری کو بے نظیر بھٹو کی یہ بات یاد ہے ، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ وہ اگر پاکستان سے انتقامی سیاست کا خاتمہ کرے اور لوگوں کو ریلیف دے حکمرانوں کو دکھ بانٹ لینے کا طریقہ تو آنا چاہئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ ”میں موت سے نہیں ڈرتا “ مگر زندگی کا خوف اس سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ مولا علیؓ کے ساتھ تصوف کے چار سلسلوں میں سے تین سلسلے روحانی طور پر منسوب ہیں۔ انہوں نے فرمایا موت میری محبوبہ ہے، یہ کتنی رومانٹک بات ہے۔ موت سے عشق کے لئے زندگی سے پیار بڑا ضروری ہے۔ زندگی جو آج شرمندگی اور درندگی کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ زندگی کو ایک اور زندگی بنانے والے موت کو محبوبہ بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ سوہنی موت کے لئے سوہنی زندگی ضروری ہے۔ مولا علیؓ نے یہ بھی فرمایا کہ ”موت میری محافظ ہے“ کسی کی موت کل ہے تو آج اسے کوئی نہیں مار سکتا۔ ہمارے حکمرانوں اور افسروں نے سیکورٹی کے نام پر جو تماشا بنا رکھا ہے وہ عوام کو صحیح طرح سے تماشائی بننے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔
صدر زرداری نے نہ جانے یہ بات کس جذب و مستی میں کہی ہے کہ ”میں موت کا انتظار کرتا ہوں“ موت کا اعتبار موت کے انتظار سے زیادہ خوبصورت ہے، اس نے اپنے ہاتھوں سے بے نظیر بھٹو کو دفنایا اور یہ خواہش کی کہ ”میں یہاں دفن ہونا چاہتا ہوں‘ میں موت کی کوٹھڑی سے ایوان صدر میں آیا ہوں“ بی بی اور بھٹو ایوان اقتدار سے موت کی کوٹھڑی کی طرف گئے تھے راستہ ایک ہے مگر سفر مختلف ہے آدمی مسافر نہ بنے ہمسفر بنے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
صدر نے کہا کہ صوفی ازم کو فروغ دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ تصوف کا ذوق ہر کسی کے پاس ہونا چاہیے اس کے بغیر زندگی دہشت گردی نہیں تو دہشت زدگی ضرور ہے اور دہشت زدہ بہرحال دہشت گرد سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس محفل میں کیا کوئی آدمی تھا جسے پتہ ہو کہ صوفی کون ہوتا ہے ۔ قرة العین حیدر کہتی ہے کہ ”صوفی وہ ہے جو منع نہیں کرتا، جو طمع نہیں کرتا اور جو جمع نہیں کرتا“ صوفی ازم کانفرنس میں شریک لوگ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان صفات کا عکس بھی ان کے دل میں ہے۔ ان کی زندگی اس کے برعکس تو نہیں گزر رہی؟ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی کو مخدوم گیلانی کے شہر ملتان، ایک مشاعرے میں چند سو روپے زیادہ مل گئے تو اس نے مجھے پکارا کہ ادھر آو، میں افراط زر کا شکار ہو گیا ہوں! جب تک اوپر کے پیسے اس نے لٹا نہ دیئے اسے چین نہ آیا اب جن کاروباری سیاستدانوں، حکمرانوں، افسروں کے پاس زر، زن، زمین کا افراط ہے وہ لوگوں کا سکھ چین اڑائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انبار بیرون ملک کیوں لگا رکھے ہیں۔ صوفی ازم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سب کچھ لا کے مادر وطن پر نچھاور کر دیا جائے۔ صدر زرداری اس حوالے سے پہل کریں یہ لمحہ جو آج کل ان پر طاری ہے اس سے کبھی نہ نکلیں اور لوگوں کو خون اور آنسووں کی دلدل سے نکالیں، خدا کی قسم وہ یہ کر سکتے ہیں بس وہ ایسے ہی رہیں جیسے اس تقریر کے دوران تھے۔ کیا ایک اور اچھی بات انہوں نے کی کہ درد دینے والا بہادر نہیں ہوتا، درد سہنے والا بہادر ہوتا ہے اور انہیں معلوم ہے کہ بہادر کبھی ظالم نہیں ہوتا
جہڑیاں تھانواں صوفیاں جا کے لیئاں مل
اوہ اوہناں دے درد دی تاب نہ سکیاں جھل
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

Punjab Mien Phir Dhemaker? by Dr Ajmal Niazi

16 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

پنجاب میں پھر دھماکے؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
شہباز شریف نے کہا ہے کہ طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ ہم نے بھی امریکی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا۔ طالبان بھی امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمارا موقف ایک ہے۔ شہباز شریف جانتے ہیں کہ پنجاب میں سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے اور بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح امریکہ نے استعمال کی ہے۔ لاہور کے سی سی پی او پرویز راٹھور نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی ذمہ داری بھارتی ”را“ پر ڈالی تھی۔ پھر رحمان ملک کے کہنے پر اپنا بیان بدل لیا تھا۔ اب تو رحمان ملک نے بھی کہہ دیا ہے کہ لاہور میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ وزیر دفاع احمد مختار نے گجرات میں کہا ہے کہ بھارت لاہور میں آٹھ دھماکے کرا کے سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم یا خوف زدہ کر سکتا ہے۔ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد مل گئے ہیں۔ قوم فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو ملک سے باہر نکال دے گی۔ احمد مختار نے گجرات میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دونوں میں پھر صلح ہو گئی ہے۔ شاید اس سے پہلے رحمن ملک نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا الزام لگایا تھا مگر وہ اس موقف میں ثابت قدمی کیوں نہیں دکھا سکتے۔ ممبئی میں ایک واقعے کے بعد اب تک بھارت پاکستان کو ذلیل و خوار کر رہا ہے۔ امریکہ میں ایک واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ باقی دہشت گردی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ اتنا تو افغانستان میں نہیں ہو رہا۔ شہباز شریف کے تازہ ترین بیان پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ برادرم پرویز رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا بیان سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی پہلے کسی بیان پر کیوں نہیں ہوئی۔ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ میرے خیال میں انٹی امریکہ پالیسی حکام کو عوام کے زیادہ قریب کر سکتی ہے۔ شہباز شریف کا بیان انہیں روائتی حکمرانوں سے الگ کرتا ہے۔ لوگوں کو انکی یہ بات پسند آئی ہے ورنہ ان کا خیال تھا کہ فرینڈلی اپوزیشن بھی امریکی ڈکٹیشن کے مطابق آئی ہے۔ امریکی اور عالمی ایجنڈے پر پاکستان کے سارے حکمران اور سیاستدان ایک ہیں۔ اختلاف صرف اقتدار کے لئے ہے۔ وہ آپس میں لڑتے بھی امریکہ کی اجازت سے ہیں اور صلح صفائی بھی امریکی مرضی سے کرتے ہیں۔ قوم کا صفایا ہو رہا ہے۔ اب تو یہ بھی ایک تاثر ہے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں بلکہ اصل میں سارے ایک ہیں۔ لاہور میں امریکی گاڑیوں کو بغیر تلاشی کے کس نے جانے دیا۔ یہاں حکومت کس کی ہے۔ لاہور کینٹ، آر اے بازار میں دہشت گردی میں وہی امریکی تو ملوث نہیں جو پچھلے دنوں شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔ فوج کی ذمہ داری بھی ہے اور اس پر بھی بات ہو گی۔ یہ بات مجھ سے فون پر کئی لوگوں نے دریافت کی۔ علامہ اقبال ٹاون میں اکٹھے پانچ دھماکے۔ وہاں پولیس صرف وی آئی پی کی سکیورٹی کے لئے الرٹ رہی۔ عام لوگ صرف مرنے کے لئے ہیں۔ علامہ اقبال ٹاون میں لوگ مرے نہیں اس لئے ان دھماکوں کو انتظامیہ صرف دھمکی کہہ رہی ہے۔ ایک دھماکہ تو ان کے سارا ماحول کلیئر کرنے کے فوراً بعد ہوا۔ پولیس افسران کے گھروں کے سامنے بھی ”پٹاخے“ چھوڑے گئے۔ اس کے بعد پولیس افسران کے گھروں پر سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ لوگوں نے سکیورٹی کے لئے ان گھروں کے آس پاس نہ رہنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ ناکے بڑھا دئیے گئے ہیں۔ وہاں لین دین کے کاروبار میں چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ اور حکومت کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ ان کی حکومت اور افسری برقرار ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Punjab University Mien… by Dr Ajmal Niazi

15 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

پنجاب یونیورسٹی میں نظریہ پاکستان کی خوشبو

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تعاون سے شعبہ آئی ای آر میں تحریک پاکستان کے مختلف مناظر اور مشاہیر تحریک آزادی کی نادر و نایاب تصویروں کی دو روزہ نمائش کے افتتاح کے موقعہ پر بہت خوش تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجاہد صحافت مجید نظامی نے افتتاح کیا۔ ایوان پاکستان میں تحریک پاکستان کی تصویری گیلر ی میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم قائد اعظم کے گھر آ گئے ہوں۔ لگتا ہے کہ یہاں قائد اعظم ہمارے میزبان ہوں۔ پرانی تصویریں نئے زمانوں کے خوابوں کی تعبیریں بدل کے رکھ دیتی ہیں۔ لوگ دوبارہ اس راستے پر جانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ منزل دکھائی دیتی ہو جو قائد اعظم کے پاکستان کی تقدیر ہے تحریک پاکستان کے لئے جدوجہد کی۔ تصویریں دیکھ کر پھر سے ایک تحریکِ پاکستان چلائے جانے کی بے قراری دلوں میں مچلنے لگتی ہے۔ ان تصویروں کی نمائشیں ہر تعلیمی ادارے میں لگنا چاہئیں۔
پنجاب یونیورسٹی نے اس کے لئے پہل کی ہے۔ یہ مادر علمی ہے،” سوئے مادر آ کہ تیمارت کند“
اپنوں کی غلامی میں غیروں کی پہنائی ہوئی زنجیروں کی جھنکار سنائی دینے لگے تو یہ زیادہ بڑا عذاب ہے۔ ہم اب تک نظر نہ آنے والی اسیری میں قید ہیں۔ اس سے نجات کے لئے نظریہ پاکستان کی خوشبو کو پھیلانا بہت ضروری ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے یہ جہاد شروع کر رکھا ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی سرگرمیاں تحریک پاکستان کی جدوجہد کا تسلسل بنتی جا رہی ہیں۔ مجید نظامی کی یہ معرکہ آرائی تاریخ میں زندہ رہے گی اور نئی زندگی کی ضمانت بنے گی۔ پنجاب یونیورسٹی میں تصویروں کی یہ نمائش ایک ابتداءہے جس میں انتہا موجود ہے۔ طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد پورے جذبے سے یہاں موجود تھی۔ مجید نظامی خود تحریک پاکستان کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ انہوں نے نمائش کے افتتاح کے موقع پر اعلان کیا کہ یہاں جتنے خواتین و حضرات موجود ہیں انہیں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کتابیں دی جائیں ان کی قیمت میں خود اپنی جیب سے ادا کروں گا۔ برادرم شاہد رشید، امانت ریاض اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی ساری ٹیم کا فرض ہے کہ مجید نظامی کے اس حکم کی تعمیل کریں ۔ وہ سب خود بڑے جذبے سے کام کرتے ہیں انشاءاللہ یہ کوششیں رنگ لائیں گی۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد بھی یہاں موجود تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ یہاں کی فضائیں پرانی تعلیمی رفاقتوں کی گواہ ہیں۔ ڈاکٹر منیرالدین چغتائی بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ سے وابستہ تھے اور وہ تحریک پاکستان کے بھی کارکن تھے وہ بھی پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔
ڈاکٹر مجاہد کامران ایک ماہر تعلیم اور سائنس دان ہیں اور بڑے دل والے آدمی ہیں۔ اعلیٰ ذوق و شوق ان کے خمیر و ضمیر میں ہے۔ بہت اچھی گفتگو ان کا علمی سلیقہ ہے۔ موضوع کوئی ہو ہر موقع پر برمحل اشعار کی کیفیت اور معنویت سے ایک سماں پیدا کر دیتے ہیں ان سے بات کر کے بھی مزا آتا ہے۔ وہ ایک سینئر صحافی کے فرزند ہیں۔ ادب و صحافت کی خوشبو گھر سے لے کے چلے ہیں اور اب پنجاب یونیورسٹی کو بھی ایک علمی ماحول دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جب بھی کوئی اہل اور اہل دل پروفیسر یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہو گا تو ماحول خوشگوار ہو گا۔ پروفیسر حمید احمد خان ڈاکٹر اجمل اور ڈاکٹر سراج یاد آتے ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران چاہتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی تخلیقی تعلیمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا گہوارہ بن جائے۔ یہاں اپنے زمانے کے نامور لوگ آئیں، طلبہ و طالبات سے کلام کریں ان سے ہمکلام ہوں۔ یہ سلسلہ چل نکلا ہے۔ کچھ مشکلات ہیں۔ ان پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تعاون سے اور بھی سرگرمیاں ہو سکتی ہیں۔ تصویروں کی نمائش سے ایک دروازہ کھلا ہے اور سامنے وہ منزل ہے جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں۔ مجید نظامی کا ایک پیغام ہے کہ دوستوں کو یاد رکھیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دوست کون کون ہیں۔ دشمنوں کو بھی بھلا نہیں دینا چاہئے۔ ایک دشمن تو سب کو یاد ہے اور وہ بھارت ہے۔ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔ یہ امریکہ کے علاوہ کون ہے۔ یہ میرے مولا علیؑ کا فرمان ہے کہ دوست بھی تین قسم کے ہوتے ہیں اور دشمن بھی۔ ہمارے دوست دشمن صرف ہندو کے حوالے سے ہیں۔ بھارت ،امریکہ، اسرائیل کو دوست بنانے والے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دینا چاہئے۔ ہمارے ملک میں سیکورٹی کے مسائل بھی انہی کے پیدا کردہ ہیں۔ مجید نظامی ہر جگہ بھارت کو للکارتے ہیں۔ تحریک پاکستان کی تصویروں کی نمائش کے افتتاح پر انہوں نے کہا ”بھارت پاکستان پر قبضہ کر کے ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے۔ اسے بھول گیا ہے کہ ہم نے ایک ہزار سال تک ہندوستان پر حکومت کی ہے“ مجید صاحب ٹھیک کہتے ہیں کہ مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ ہم غلامی میں بھی آزادی کی تڑپ مرنے نہیں دیتے۔ مجاہد صحافت کے بعد مجاہد کامران نے بھی تڑپتے ہوئے جذبوں کو آواز دی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو مشاہیر تحریک پاکستان سے متعارف کرانا اور مقاصد پاکستان سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ قائد اعظم کی تصویروں سے وقار اعتبار اور شان و شوکت ٹپکتی ہے جو دیکھنے والے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عظیم کردار کے مالک تھے۔
دوسرے دن شعبہ اردو طلبہ کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔ یہاں مجید نظامی نہ تھے مگر ان کا ذکر بہت تھا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے بزرگ ساتھی موجود تھے۔ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے کرنل جمشید ترین ڈاکٹر رفیق احمد، مس شمیم نیازی کرنل ظہور الحق کرنل امجد حسین، محمد اقبال سنبل شاہد رشید، امانت ریاض مصدق کرنل سلیم ملک اور سیف صاحب کے علاوہ بھی بہت لوگ تھے۔ کرنل اکرام اللہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ سے وابستہ ہیں اور آجکل پنجاب یونیورسٹی میں بھی ہیں وہاں کرنل ضرار سکیورٹی معاملات کے انچارج ہیں۔ وہ بہادر آدمی ہیں اور پاکستان کے ساتھ گہری محبت رکھتے ہیں۔ میرے کان میں کہنے لگے کہ کرنیلوں کی تعداد دیکھیں میں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے مگر ان کو چاہئے کہ وہ اپنا کام کریں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر مجاہد کامران کی قیادت میں انہیں مادر علمی کو ایک چھوٹا سا پاکستان بنا دینا چاہئے۔ ان کے ساتھ ڈائریکٹر پبلک افیئرز خواجہ طاہر جمیل ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان لوگوں کی موجودگی ایک تعلیمی تہذیبی آسودگی کا باعث ہو گی۔ اپنے کام میں ماہر اور مخلص خواجہ طاہر جمیل پنجاب یونیورسٹی کے تاثر کو مزید خوبصورت بنانے میں بہت سرگرم ہیں۔ ڈاکٹر افتخار چودھری ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ڈاکٹر احسان ملک اور ڈاکٹر احسن اختر ناز کے علاوہ بھی یونیورسٹی کے بہت سے لوگ تھے۔
جسٹس آفتاب فرخ نے خوب بات کی انہوں نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے کہا کہ آپ کی سرپرستی میں طلبہ کی طرف سے ممتاز بزرگوں کی عزت افزائی کی گئی ہے جو تحریک پاکستان کے وقت خود طالب علم تھے۔ قائد اعظم طالب علموں سے پیار کرتے تھے اور ان پر اعتبار کرتے تھے۔ پاکستان بنانے میں طالب علموں کا بہت کردار ہے۔ آپ کے خیالات سے حوصلہ ہوا ہے۔ اب پاکستان کو مضبوط کرنے اور اسے قائد کا پاکستان بنانے میں طالب علموں نے ہی کردار ادا کرنا ہے۔ نئی نسل پاکستان کی وارث ہے اور یہ موروثی سیاست سے بہت مختلف ہے۔ اس وراثت کو قائم کرنا بڑا ضروری ہے۔ !
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , ,

Hamza Shabaz Ka Wada… by Dr Ajmal Niazi

13 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

حمزہ شہباز کا وعدہ اور ون ٹو تھری

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ
حمزہ شہباز نے این اے ون ٹو تھری سے الیکشن جیتنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ اس حلقے کے لوگوں کو وفا کا صلہ دیں گے یہ غریب عاشق ہیں، کئی بار وفا کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ یہ حلقہ نوازشریف کا علاقہ سمجھا جاتا ہے وہ جیتے اور پھر جاوید ہاشمی دو بار جیتے ایک بار تو وہ جیل میں تھے اب پرویز ملک جیت گئے ہیں کسی کو بھی ٹکٹ ملتا تو وہ جیت جاتا۔ وفا کے باوجود لوگ ابتلا میں مبتلا ہیں زندگی کی شرمندگی کا عذاب جھیل رہے ہیں، زندگی درندگی کا شکار ہے ایک عذاب مسلسل طاری ہے اور جاری و ساری ہے۔ یہ کیا لوگ ہیں کہ پہلی وفاوں کا صلہ نہیں ملا تو بھی امید لگائے ہوئے ہیں اور صرف شریف فیملی سے امید لگائے ہوئے ہیں۔ جیت کے یقین کے باوجود میاں نواز شریف نے تقریر کی۔ یہ ایک بڑا جلسہ تھا۔ خواجہ سعد رفیق ن لیگ کا ایک اچھا مقرر ہے نوازشریف کے جلسے میں بجلی چوری کے الزام پر میڈیا کے سامنے صرف وہی ٹھہر سکتا تھا یہ انتخابی مہم حمزہ شہباز کی قیادت میں لڑی گئی۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہاں ان کے ووٹرز کس حال میں ہیں وہ بدحال ہیں اور بے حال بھی ہیں۔ سیوریج سسٹم برباد ہو چکا ہے، گندگی کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں، گندگی اور بندگی رل مل گئی ہیں سڑکیں ٹوٹے ہوئے دلوں کی طرح پڑی ہیں۔ ٹرانسپورٹ نہیں ہے کہ گاڑیاں کن راستوں پر چلیں راستے ہی نہیں ہیں۔ مگر منزلیں ہیں کہ ان کا مقام دل میں ہے دل ٹوٹا ہوا ہو تو بھی امیدوں اور آرزوں سے بھرا رہتا ہے۔
مقابلہ شروع ہونے والا ہو تو ون ٹو تھری کہتے ہیں اس حلقہ انتخاب کا نام ہی ون ٹو تھری ہے۔ ون ٹو تھری میں حمزہ شہباز مقابلہ جیت چکے ہیں۔ اب اس جیت میں جتوانے والوں کو بھی حصہ دار بنایا جائے اس پسماندہ محروم برباد، بدقسمت علاقے کو لاہور کا حصہ بنایا جائے۔ یہاں رہنے والے لاہور کے شہری نہیں لگتے۔ حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ وہ یہاں کام کی خود نگرانی کرے گا۔ اس نے جیتنے سے پہلے وعدہ نہیں کیا جیتنے کے بعد کیا ہے تو لگتا ہے کہ روایتی سیاستدان والا وعدہ نہیں ہے وہ ابھی سیاستدان نہیں بنا البتہ مفاد پرست مستقل خوشامدیوں کے گھیرے میں خطرہ ہے کہ وہ ابھی سے اپنے آپ کو حکمران سمجھنے لگ جائے اس سے شکایت ہے کہ وہ مقرر رہے یہ تو اس کا خاندانی ورثہ ہے وہ موروثی سیاست کے دائرے میں ہے۔ یہ دائرہ تنگ نہیں ہونا چاہئے وہ جب دائرہ توڑ کر نکلے گا تو بات بنے گی لوگ اسے ابھی سے کراون پرنس بنانے لگے ہیں۔ وزیراعلیٰ بن جانے سے کوئی مقام نہیں مل جاتا، وراثت میں پراپرٹی کی طرح پارٹی کو استعمال کرنے والے کبھی تاریخ میں زندہ نہیں رہتے۔ اس کے لئے موقع ہے کہ حلقہ 123 کو ایک ترقی یافتہ بستی بنا دے۔ وہ اسے گلبرگ بنانا چاہتا ہے گلبرگ بھی اب اس قابل ہے کہ اسے کوئی اور علاقہ بنایا جائے یہ بات ایسے ہی ہے کہ نالائق سیاستدانوں نے کئی بار لاہور کو پیرس بنانے کی بڑھک ماری ہے لاہور کو لاہور بناو کبھی یہ شہر شہروں کا سردار ہوتا تھا اب یہ غلاموں کی بستی ہے۔ بڑے غلام اپنے آپ کو چھوٹے غلاموں کا آقا سمجھتے ہیں، چھوٹے غلام کیا کریں ان کا کام نعرہ مارنا ووٹ دینا اور وفا کئے چلے جانا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے 123 میں بہت سرگرمی دکھائی ہے اس نے مجھے بتایا کہ یہاں ایک ارب کا کام ہوا ہے مگر وہ نظر نہیں آرہا ہم اپنی کمٹمنٹ پوری کریں گے اور یہاں کے لوگوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ حمزہ شہباز کے علاوہ وہی تھا ۔ خواجہ صاحب کے ساتھ مسلم لیگ ن کے کئی سرکردہ لوگ پرسنلٹی کلیش محسوس کرتے ہیں۔ وہ ابھی تک پارٹی والوں کے لئے جاوید ہاشمی نہیں بنایا گیا ایسے لوگ کسی سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں مگر پارٹی لیڈر سب کو اپنی پراپرٹی سمجھتے ہیں۔ حمزہ شہباز اپنے آپ کو ایک مختلف آدمی ثابت کرے۔ وہ سیاستدان نہ بنے لیڈر بنے۔ لیڈر بننے کے لئے جو کچھ چاہیے وہ ابھی حمزہ کے پاس نہیں ہے مگر اس کے ارادے اور وعدے سن کر لگتا ہے کہ وہ کچھ کرنا چاہتا ہے، کچھ بننا چاہتا ہے۔ حلقہ 123 میں اس کی کارکردگی قابل تعریف ہے اب اس کے بعد اصل مرحلہ آیا ہے اللہ کرے وہ سرخرو ہو اور سرشار بھی ہو کیا اسے پتہ ہے کہ سرشار ہونا کیا ہے؟ وہ اس علاقے کو دیکھنے کے قابل بنائے جہاں شالامار باغ ہے اور برسوں بعد بھی لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں اور وہ حکمران بھی یاد آتا ہے جس نے یہ باغ بنوایا تھا۔ اس علاقے کو باغ و بہار کر کے حمزہ شہباز لوگوں کے دل جیت سکتا ہے اور یہ الیکشن جیتنے سے بڑی کامیابی ہے۔ پرویز ملک اس علاقے کا نمائندہ ہے وہ یہ دل سے مانتا ہے کہ اس کی کامیابی میں حمزہ شہباز کی کوششوں کا بڑا دخل ہے۔ پچھلی بار بھی پرویز ملک اسی ٹکٹ پر جیتے تھے۔ اسے کہتے ہیں ایک ٹکٹ میں دو دو مزے درمیان میں ایک بار اسے ٹکٹ نہ ملا تھا کہ وہ ملک قیوم کا بھائی ہے۔ اس ٹکٹ کے لئے پرویز ملک نے ثابت کیا ہوگا کہ وہ ملک قیوم کا برادر یوسف ہے اس کے ایک بھائی ڈاکٹر جاوید اکرم علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ہیں وہ بڑے آدمی ہیں ان کی وجہ سے میڈیکل کالج اور جناح ہسپتال کا نیا زمانہ شروع ہوا ہے شاید لوگوں کو معلوم نہیں کہ پرویز ملک ڈاکٹر جاوید اکرم کا بھائی ہے ورنہ اس کے ووٹ کم از کم 50 ہزار تو ہوتے یہ بات اگر ان کو بُری نہ لگے تو میں کہوں کہ ان کی اہلیہ بھابھی شائستہ پرویز زیادہ اہل عورت ہے کبھی کبھی لگتا ہے کہ اہلیہ اہل سے ہے وہ اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھیں۔ یہ بھی سوچیں کہ پہلے وہ جیتے تھے تو ان کے ووٹ کچھ زیادہ تھے یہاں سے جاوید ہاشمی نے 67 ہزار ووٹ لئے تھے۔ ٹرن آوٹ بھی کم رہا ، 80 ہزار لوگوں نے ووٹ نہیں دیا تو ان کا نمائندہ کون ہے۔ اپنے حلقہ انتخاب کے لئے وہ بھی کچھ کریں مگر کچھ نہ کرنے کے باوجود وہ دوبارہ جیت گئے ہیں تو خواہ مخواہ پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے اب حمزہ شہباز جو ہیں!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , ,

Qiston Mien Mout by Dr Ajmal Niazi

11 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
مظفر محمد علی نے بہت اچھی کہانیاں لکھی ہیں، ایک کہانی کا عنوان ہے ”قسطوں میں موت“ وہ قسطوں میں مرتا رہا، وہ زندہ آدمی تھا، زندگی کو کوئی اور زندگی بنانے کی آرزو اور ارادہ اس کے اندر مچلتا رہتا تھا، وہ مر مر کے جیتا رہا اور جی جی کے مرتا رہا۔ ہم سب قسطوں میں مر رہے ہیں۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے کڑھ کڑھ کے، سڑ سڑ کے، مر مر کے جیتے ہوئے مر رہے ہیں۔ چاروں طرف سے کئی قسموں، رنگوں کی موت ہم پر جھپٹتی ہے اور جھپٹتی ہی رہتی ہے۔ زندگی اور موت دونوں ہمیں شکار کر رہی ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا….
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
ہم پر بلائیں تمام ہی تو نہیں ہوتیں، کام تمام ہو جاتا تو کام بن جاتا، امیدوار ناامیدی کے درمیان رہتے رہتے تھک گئے ہیں، اَک گئے ہیں۔ میں مظفر محمد علی کے آخری دنوں کا گواہ ہوں اور یہ گواہی مجھے چین نہیں لینے دیتی۔ کیا بندہ تھا وہ اور کس طرح زندگی گزار کے گیا اس کا آغاز کتنا شاندار تھا اور اختتام تو انجام سے بھی تکلیف دہ تھا۔ اس نے بڑی تکلیفیں سہیں، بے بسی اور کسمپرسی کی انتہا اس پر ٹوٹ پڑی تھی۔ مرگ ناگہانی تو ایک تہمت ہے، اچانک خاتمہ تو خوش قسمت آدمیوں کے نصیب میں ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو مرتا ہوا دیکھتا ہے، لمحہ لمحہ موت کی طرف جاتے ہوئے رک نہیں سکتا کچھ دیر کے لئے بظاہر یہ حرکت رک جائے تو زیادہ دکھ دینے والی ہوتی ہے۔ میری طرح وہ بھی اس صلیب سے لٹکتا رہا جو ہمیں نظر نہیں آتی۔ دو مقام دل والوں کو بہت محبوب ہیں۔ کوئے بازار اور سوئے دار۔ ہم نے خیالوں خیالوں میں ان مقامات کی بہت سیر کی مگر ہم بے مقام ہی رہے۔
میں کسی دوست اور پیارے کا آخری دیدار نہیں کر سکتا، میں نے کسی مرحوم کا منہ کبھی نہیں دیکھا، مجھ سے تو کسی زیادہ بیمار آدمی کی عیادت نہیں ہو سکتی۔ وہ بہت اچھا آدمی تھا۔ سنبھلی ہوئی شخصیت والا دردوگداز سے بھرا ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی راز بھی اس کے پاس تھا وہ اس کوشش میں رہا کہ کسی کو اپنا ہمراز بنائے مگر شاید وہ راز اپنے ساتھ لے گیا ہے، ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے اکثر تو اس راز سے بے خبر رہتے ہیں انہیں بے خبری کے راز کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ اب تو یہ بے خبری رہی اور نہ کوئی راز کسی کے پاس ہے اب ہر کوئی باخبر ہونا چاہتا ہے اور ذلیل و خوار ہو رہا ہے زیادہ تر ذلت کو تہمت سمجھ بیٹھے ہیں۔ سوہنی زندگی کا کوئی تصور کسی کے پاس نہیں تو وہ سوہنی موت سے کس طرح آشنا ہو سکتا ہے۔ مظفر محمد علی کو سوہنی زندگی نہ ملی مگر سوہنی زندگی کے خواب اور خیال تو اس کے پاس تھے جس کے پاس زندگی کو کوئی اور زندگی بنانے کی آرزو ہوتی ہے وہی اس زندگی کے لئے ترستا رہتا ہے اور پھر سوہنی موت بھی اس کا مقدر نہیں بنتی۔ وہ ایک عام سی آسان زندگی کے لئے ہم سب کی طرح جدوجہد کرتا رہا۔ اس نے کچھ ایسا تو نہ کیا تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے دوست بھی غمزدہ ہو جاتے تھے۔ جس دن میں نے اس کے لئے کالم لکھا کہ حکمران اور لوگ اس کی زندگی بچانے کے لئے مدد کریں تو میں اپنے اندر ایک بار پھر مر گیا تھا۔ میں نجانے کتنی بار اس طرح مرا ہوں۔ اس کے گردے فیل ہو گئے تھے اس سے پہلے وہ خود بھی فیل ہو گیا تھا۔ فیل تو ہم سب ہو چکے ہیں۔ میں اسے ملنے نہ گیا تھا۔ میرا حال کون جان سکتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ملنے کے لئے بے تاب تھا پھر اچانک دو دوستوں کی مدد سے وہ برادرم رحمت علی رازی کے دفتر پہنچا تھا۔ میں اچانک رازی صاحب کے پاس گیا ہوا تھا ہم تینوں دیر تک باتیں کرتے رہے اور کوئی بات نہ کر سکے پھر وہ مر گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چل سکا یہاں دوستوں کے لئے ہی ایک دوسرے کی خبر نہیں ہوتی، کسی نے فون بھی نہ کیا۔ اخبار میں آیا ہو گا مگر دو سطری خبر پر نظر نہ پڑی۔
مجید امجد یاد آتا ہے کتنا بڑا شاعر تھا ایک چھوٹے سے کمرے میں اس نے پوری زندگی کو دیکھا تھا نہ اس کے جینے کا پتہ چلا نہ مرنے کا پتہ چلا۔ وہ بیش بہا آدمی تھا اس کے لئے استاد محترم ڈاکٹر خواجہ زکریا نے کام کیا ہے ہم اسے پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو داد دیتے ہیں کہ یہی لکھنے والے کی اصل بڑائی ہے کئی برسوں سے مظفر کا پتہ نہ تھا کہ وہ ہے اور وہ نہیں ہے تو اس کی بھی کسی کو خبر نہیں ہے ….
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروںگا کون دیکھے گا
میری بہن، بھابھی، بیگم مظفر علی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے بچوں سے کہا تھا اجمل نیازی کو بتاو¿ شاید انہوں نے نہیں بتایا تو شاید مرے اندر ہی کوئی کمی ہو گی۔ میں مظفر جیسے آدمی کا دوست ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہوں میں زندگی میں اس کا ہمسفر نہ بن سکا تو اس کے آخری سفر میں کیسے شریک ہوتا۔ میں تو خود اپنا ہمسفر بھی نہیں بن سکا، ہم خواب دیکھنے والے ایک راستے کے مسافر ہیں اور ہمسفر نہیں ہیں ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ساتھ ساتھ چلتے رہے اور ہمسفر نہ بن سکے۔ مجھ سے اس لڑکی نے پوچھا کہ سوہنی موت کیا ہوتی ہے اس نے پہلے پوچھا تھا کہ سانولا رنگ تمہیں پسند ہے وہ کیسا ہوتا ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ تم نے کبھی آئینہ دیکھا ہے اس نے مجھے غور سے دیکھا جیسے اسے میرا جواب چاہیے تھا۔ میں نے اسے کہا کہ جب چاند نکلا ہوا ہو تو ماتھے پر ہاتھ رکھو کہ چاند تمہیں نظر نہ آئے۔ فضا میں دیکھو جو رنگ بکھرتا ہوا نظر آئے وہ سانولا رنگ ہے۔ سوہنی موت کے لئے میں نے اسے کہا کہ کبھی تم آدھی رات کے بعد اٹھو جب آسمان کی طرف دیکھنے والا کوئی نہ ہو، تمہارے سامنے اچانک کوئی تارہ ٹوٹے اور اپنی ہی روشنی کی لکیر میں گم ہو جائے۔ شاید مظفر محمد علی اسی طرح مرا ہو، دوسروں کے لئے تکلیف والی موت اسے آسودہ کر گئی ہو، وہ اپنی روشنی میں چھپ گیا ہے۔….
ایک ایک کرکے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , ,

راوی پار سکول میں چند لمحے by Dr Ajmal Niazi

10 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
راوی پل سے گزر کر میں میاں عبدالقیوم کے سکول فیروز والا پہنچا، شگفتگی سے بھری ہوئی کشادگی میں وسعت اور ویرانی گلے مل رہی تھیں ایک حیرانی نے مجھے گھیر لیا، شاہدرہ والے میاں محمود میرے ساتھ تھے۔ میاں عبدالقیوم ان کے چھوٹے بھائی ہیں پہلے وہ میاں محمود کے ساتھ تھے۔ انہوں نے نشتر کالونی فیروز پور روڈ میں ”کے پی ایس“ کے نام سے ایک سکول بنایا وہ بھی غریب لوگوں کی بستی ہے شہر کے ساتھ ہے اور شہر سے دور بھی ہے ۔ وہ چاہتے تو شہر کے کسی امیر کبیر ماڈرن علاقے میں سکول بنا سکتے تھے انہوں نے غریبوں کے درمیان رہنا پسند کیا ہے۔ یہ سکول کتنا شاندار اور قابل اعتبار ہے کہ میاں محمود کے اپنے بچے اس سکول میں پڑھتے ہیں ورنہ وہ کسی بڑے سے بڑے سکول کی فیس ادا کر سکتا ہے۔ پورے ملک سے والدین اپنے بچے اس سکول میں بھیجتے ہیں
میاں عبدالقیوم فیروز پور روڈ سے فیروز والا اٹھ آیا ہے، فیروز والا شاہدرہ کا محلہ لگتا ہے مگر شیخوپورہ کا گاو¿ں ہے یہاں لاہور اور شیخوپورہ سے بھی بچے بچیاں آتے ہیں۔ شاہدرہ میں میاں ذکا سکول چلاتے ہیں یہ سارے بھائی تعلیم و تدریس سے عشق کرتے ہیں ایک نئے نظام تعلیم کی تلاش میں یہ میاں برادران ہمسفر ہیں۔ سیاست کے میاں برادران بالخصوص میاں شہبازشریف تعلیم کے میدان میں بڑے جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ وہ شریف برادران کے طور زیادہ معروف ہیں۔ میاں صاحب تو بہت ہیں میاں برادران صرف شریف برادران ہیں جس طرح چودھری صاحبان بہت ہیں، چودھری برادران صرف چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ اب تعلیم کے میاں برادران کہاجائے گا تو دھیان شاہدرہ کے میاں محمود، میاں ذکا اور میاں عبدالقیوم کی طرف جائے گا ان کے سکول ان کے والد محترم کی آبائی زمین پر واقع ہیں۔ میاں عبدالقیوم کے سکول کا سنگ بنیاد 1994ءمیں ان کی والدہ محترمہ نے رکھا تھا اور یہ فخر میاں عبدالقیوم کے وجود میں وجد کرتا ہے۔ ماں کی گود بچے کے لئے پہلا سکول ہے۔ یہ آرزو میاں صاحب کو بے تاب رکھتی ہے کہ وہ اس ادارے کو علاقے کا بہترین سکول بنا دیں اتنے وسیع و عریض علاقے میں کوئی دیہاتی سکول میں نے نہیں دیکھا۔ میرا سکول موسیٰ خیل میانوالی میں حد نظر تک پھیلا ہوا تھا کہ وہاں کوئی چار دیواری ہی نہ تھی۔ میاں صاحب کے جذبوں کی سادگی دیکھیں کہ یہاں میرے جیسے خواب دیکھنے والے درویش قلمکار اور اس کا آئیڈیل بھائی میاں محمود مہمان خصوصی تھے۔ ہم دونوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ طالب علم سپاہیوں کے ارادے بلند تھے میں نے ایک کمانڈر فوجی سٹوڈنٹ سے کہا کہ مارشل لاءکبھی نہ لگانا مگر سیاستدانوں کی ”جمہوری بے یقینیوں “ پر نظر ضرور رکھنا۔ زین العابدین پریڈ کمانڈر تھا وہ اتنی بار مجھ سے ایوارڈ لینے کے لئے آیا کہ میں نے کہہ دیا کہ سارے انعام تم ہی لو گے۔ میاں عبدالقیوم نے اس کے والد کو بہترین والدین کہہ کر سٹیج پر بلا لیا ۔ مصطفیٰ صاحب سے گزارش ہے کہ والدین تو ماں باپ مل کر ہوتے ہیں۔ ماں کی بھی پذیرائی ہونا چاہئے تھی۔ میاں عبدالقیوم کی اہلیہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں سچ ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے مگر وہ یہ بھی خیال رکھیں کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں۔ نازش اور مہوش نے بہت خوبصورت کمپیئرنگ کی۔ مجھے آخر تک پتہ نہیں چلا کہ ان کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ آواز کا ایک راز ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراز لگ رہی تھیں۔ لٹریری سوسائٹی کی مس سلمٰی نورین اور مس فریحہ بہت سرگرم تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈرامہ لکھا ہے میمونہ جٹ نے اور ڈاکٹر عافیہ کا کردار حنا نے بہت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اس کے ڈائیلاگ سن کر کئی عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ بہت محترم بچی ایوارڈ لینے آئی تو میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو سب سے ہم کلام تھے کہ تمہاری غیرت و حمیت کہاں سو گئی ہے۔ اس ملک کے حکمران سیاستدان اور جرنیل امریکہ سے کیوں ڈرتے ہیں۔ قمر صاحب نے پی ٹی شو میں اور کراٹے ماسٹر منور بھٹی نے بچوں اور بچیوں سے ایسی پرفارمنس کرائی کہ دل خوش ہو گیا۔ اس سکول میں کوئی ایسا منظر دیکھنے کو نہ ملا کہ جسے دیکھنے کو دل نہ چاہا ہو۔ سب خواتین و حضرات نے خوب انجوائے کیا۔ یہاں میلے کا سماں تھا جیسے آج عید کا دن ہو، چاروں صوبوں کا ڈانس پاکستان کی مکمل ثقافت کا عکاس تھا ۔ مس شہلا نے اس میں قومی رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیچر اکمل ہمدانی کے لئے میاں صاحب نے بہت تعریف کی سارا سٹاف تعلیمی فروغ کے لئے یکجہتی کا پیکر بنا ہوا تھا۔ سکول کی پرنسپل مس انیلہ علی کیانی بہت قابل اور سنجیدہ خاتون ہیں وہ مستقل استانیوں جیسی شخصیت رکھتی ہیں مگر سٹاف ان کے ساتھ سینئر دوست کی طرح رہتا ہے۔
میاں عبدالقیوم اپنے سکول کے لئے ہر وقت سرگرم ہیں وہ ہر روز نئے سرے سے سکول میں آتے ہیں۔ سارا وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا سب کچھ سکول پر لگا دیا ہے، ان کی رہائش بھی سکول میں ہے وہ چھٹی کے بعد بھی سکول میں ہوتے ہیں
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اس شاندار تعلیمی ادارے کے لئے حکومت نے کچھ نہیں کیا کئی وزیر شذیر آئے اور دعوے کر کے چلے گئے جو سڑک سکول کی طرف جا رہی ہے وہ میرے دل کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے مگر سکول میں داخل ہوتے ہی ایک نیا جہاں سامنے ہوتا ہے۔ ایجوکیشن ٹاسک فورس کے چیئرمین راجہ انور سینیٹر پرویز رشید اور ایم پی اے عارفہ خالد اس سکول میں آئیں اس کے بعد شہبازشریف خود یہاں آئیں میں میزبان کے سکول میں موجود رہوں گا۔ مہمان کے طور پر یہی لفظ و خیال میاں صاحب کی نذر کرتا ہوں۔
خواتین حضرات نے سوال و جواب کی اس محفل سے بڑا لطف اٹھایا جو ساتویں جماعت کی بچیوں نے ٹیچر نرگس کی نگرانی میں پیش کیا۔ استانی بھی بچی تھی۔ ٹیچر برطانیہ کہاں ہے؟ بچی ، پتہ نہیں….ٹیچر نالائق کرسی پر کھڑی ہو جاو۔ بچی کیا وہاں سے نظر آ جائے گا۔؟
چیف منسٹر ہاوس 90 ، مال لاہور سے کے پی ایس سکول فیروز والا بہت دور ہے کرسی پر بیٹھ کر تو بالکل نظر نہیں آتا۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , ,

Nizam Bredraan Aur Pakistani… by Dr Ajmal Niazi

9 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
یوم حمید نظامی پر ایک یادگار اور شاندار تقریب ہوئی، مقررین نے حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کے ذکر کو شامل کیا، نظامی صاحبان صحافی برادری کے لئے اعتبار، وقار اور جرا¿ت اظہار کی ایک زندہ روایت کی طرح ہیں۔ ممتاز شاعرہ، ادیبہ، خطیبہ، کالم نگار، ایم این اے اور بُلبلِ پاکستان بشریٰ رحمان نے کہا کہ نظامی وہ ہے جو نظام بدلنے کی آرزو اور ارادہ سے لبریز ہو۔ آرزو ہی ارادہ بنتی ہے تو قدرت اس کی مددگار ہو جاتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کی یاد سے مجید نظامی نے دلوں کو آباد رکھا ہے۔ 23 مارچ 2010ءکو نوائے وقت کی اشاعت کو 70 برس ہو رہے ہیں جس میں سے پچاس مجید نظامی کے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے (آمین)۔ حمید نظامی نوائے وقت کے بانی ہیں، نوائے وقت کے دور ثانی کے بانی مجید نظامی ہیں۔ نصف صدی کی حکایت کو حقیقت بنانے میں وہ سرخرو اور سرشار ہوئے ہیں۔
جنرل حمید گل نے مجید نظامی کو حمید نظامی کا تسلسل قرار دیا۔ جنرل حمید گل کو ریٹائرڈ جنرل کہنے کو جی نہیں چاہتا۔ شاہد رشید انہیں ”غازی پاکستان“ کہتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت صرف دو آدمیوں سے ڈرتے ہیں مجاہد ملت مجید نظامی اور جنرل حمید گل سے مجید نظامی کہتے ہیں کہ حمید نظامی میرے بڑے بھائی تھے۔ حمید گل میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ دونوں صاحب سیف وقلم ہیں….
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
ج: سے جج، جرنیل اور جرنلسٹ تو سنا تھا، جنرل حمید گل نے کہا کہ ج سے جہاد، جمہوریت اور جوہری صلاحیت بنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ نوائے وقت ایٹم بم ہے۔ مجید نظامی نے کئی بار کہا کہ میں ایٹم بم بن کر بھارت پر گِرنا چاہتا ہوں۔ وہ پاکستان میں جہاد اور جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ چیلنجز سے نبٹنے کے لئے حمید نظامی کی سوچ کو اپنایا جائے۔ مجید نظامی نے حمید نظامی کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ جنرل حمید گل نے بہت خوب بات انگریزی کے محاورے کے حوالے سے کی کہ King is dead Long live king بادشاہ مر گیا اللہ بادشاہ کی زندگی دراز کرے۔ حمید نظامی چلے گئے، مجید نظامی موجود ہیں اللہ انہیں دیر تک ہمارے درمیان موجود رکھے۔ یہ ایک تسلسل ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔ سی پی این ای کے صدر لیڈر صحافی خوشنود علی خان نے کہا کہ اللہ کرے ہر کسی کو مجید نظامی جیسا بھائی ملے۔ حمید نظامی کی نظریاتی وراثت کو برادرانہ وراثت کی مسیحائی اور عظمت مجید نظامی نے عطا کی۔ حمید نظامی پاکستان بننے کے 14 سال بعد فوت ہو گئے انہوں نے خود مجید نظامی کو انگلستان سے بلایا اور خود سب کچھ ان کے حوالے کر دیا وہ 50 سال سے اس عظیم وراثت کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ذاتی اثاثے نہیں بنائے سب کچھ قوم کے لئے وقف کر دیا۔ قوم نوائے وقت کی وارث ہے اور وہ مجید نظامی کے ساتھ ہے۔ اللہ نے حمید نظامی کو جتنا موقع دیا۔ انہوں نے اس سے بڑھ کر کام کیا۔ مجید نظامی نے اس کام کو کارنامہ بنا دیا ہے صحافی برادری میں نظامی برادران، جرا¿ت اظہار اور صداقت اظہار کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں۔ مجھے ہر روز کئی فون آتے ہیں۔ ملتان سے عبدالباسط خاکوانی نے کہا ہے کہ میری طرف سے علامہ اقبالؒؒ کا یہ شعر مجید نظامی صاحب کی خدمت میں پیش کریں….
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
خاکوانی صاحب کہتے ہیں کہ ”مجید نظامی ایک بیش بہا انسان ہیں ان کی بات سنی جاتی ہے، وہ دو قومی نظریہ کے فروغ کے لئے بھارت کی دشمنی سے لوگوں کو بچانے کے لئے امریکہ کو للکارنے کے لئے میدان میں ہیں۔ وہ ایک تھنک ٹینک بنائیں اور اس قوم کی رہنمائی کریں۔ امریکی میرین اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں، بھارت پانی بند کر کے پاکستان کو ریگستان بنا رہا ہے“ میں نے خاکوانی صاحب کو بتایا کہ یوم حمید نظامی پر لوگوں نے قائداعظمؒ ، علامہ اقبالؒ حمید نظامی اور مجید نظامی کے نعرے بلند کئے۔ تینوں تصویریں خاموش تھیں اور مجید نظامی کسی گہری سوچ میں گُم تھے۔
ہر مقرر حمید نظامی کی یاد میں مجید نظامی کا ذکر ملائے چلا جا رہا تھا یہ ذکر اب ذکر خیر بن گیا ہے۔ مجید نظامی کی آرزو ہے کہ جو باخبر ہیں وہ اہل خبر بن جائیں، اہل خبر ہی اصل میں اہل خیر ہوتے ہیں۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ کی روحانی قیادت میں بہت لوگ محفل میں آئے تھے۔ فضا حق ھُو سے گونجنے لگی تھی۔ یہ کلمہ حق کی خوشبو ہے، کلمہ حق جہاد ہے۔ حضرت پیر کبیر علی شاہ نے محفل کو زندہ کر دیا۔ روحوں کو گرمایا اور دلوں کو تڑپایا۔ یہ کام اس سے پہلے خوشنود علی خان نے کیا۔ حاضرین میں سے آواز آئی کہ خوشنود نے ”کڑاکے کڈھ“ دتے نیں۔ اس نے اپنے آپ کو خوش نصیب کہا کہ مجھے مجید نظامی کی قربت ملی ہے۔ وہ ”جناح“ کا چیف ایڈیٹر ہے اور اخبار کو محمد علی جناح کا اخبار بنانا چاہتا ہے۔
چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر کبیر علی شاہ عالمی مبلغ ہیں۔ پچھلے 50 سال سے اشاعت دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب تک کروڑوں بار درود شریف پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے جرا¿ت اظہار کے حوالے مجید نظامی کو اپنا رہنما تسلیم کیا۔ انہوں نے دستار فضلیت خود مجید نظامی کو باندھی۔ اس موقع پر تین اکابر حضرات قاضی حسین احمد، غوث علی شاہ اور سرتاج عزیز بھی موجود تھے۔
صدر محفل کرنل امجد حسین حمید نظامی کے سب سے پرانے دوست ہیں۔ یہ بھی روایت قائم ہوئی کہ انہوں نے سب سے پہلے محفل سے خطاب کیا۔ اس لمحے کی گواہی دی جب علامہ اقبالؒ نے حمید نظامی کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے کی ہدایت کی، اور وہ ہی ایم ایس ایف کے پہلے صدر تھے۔ ایک شاندار بوڑھے کے بعد ایک شاندار نوجوان لیڈر خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا وہ مسلم سٹوڈنٹس کے سابق صدر ہیں ابھی تک سٹوڈنٹ لیڈر کی بے قراریاں اس کے وجود میں تڑپتی ہیں۔ اس نے سیاست میں بے مثال جدوجہد کی ہے۔ شاید اس وقت وہ مسلم لیگ ن میں سب سے اچھے مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ نوائے وقت سیاستدانوں کو آئینہ دکھاتا ہے اور راستہ بھی دکھاتا ہے۔ حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تو مسلم لیگ کو طاقت ملی۔ مجید نظامی حمید نظامی کے سچے جانشین ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پرنٹ میڈیا کے فٹ پرنٹس پر چلنا چاہئے۔ خواجہ صاحب، قاضی حسین احمد کو مجاہد پاکستان کہتے رہے میں قاضی حسین احمد کو بھی کبھی سابق امیر جماعت اسلامی نہیں کہتا۔ میں نے تو کبھی چیف جسٹس افتخار چودھری کو غیر فعال چیف جسٹس نہیں لکھا تھا۔ کسی سیاسی جماعت میں کوئی عام آدمی لیڈر نہیں بن سکتا۔ جماعت اسلامی میں ایک غریب آدمی بھی امیر جماعت ہو سکتا ہے۔ عمران خان دیر سے پہنچے ان کی تقریر دیر آید درست آید کے مصداق بہت پسند کی گئی۔ اس نے کہا کہ حمید نظامی میرے والد مرحوم کے دوست تھے اور میں نے گھر میں ان کا بڑا ذکر سنا ہے۔ میں نے مجید نظامی کو دیکھا ہے اور وہ اپنے بھائی کی مکمل تصویر ہیں وہ نظریئے کا جہاد کر رہے ہیں۔ جہاد سے بھی زیادہ قلم کے جہاد کی ضرورت ہے۔
تقریب کے لئے شاہد رشید اور ان کے ساتھیوں نے بہت محنت کی۔ شاہد رشید کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں کامیاب تقریبات کا بڑا تجربہ ہے۔ سلمان غنی اخبار کی طرف سے بہت سرگرم تھے۔ یہ نوائے وقت کی تقریب تھی اور حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام اجتماع یہ پہلا اجتماع تھا اس شاندار ابتداءپر لوگوں نے مجید نظامی کو مبارکباد دی۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , , ,

مقروض اور محبوب by Dr Ajmal Niazi

8 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
”اخوت“ کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک انوکھے شخص ذکی الدین خلیفہ سے ملوایا جو امریکہ میں رہتے ہیں اور پاکستان ان کے دل میں رہتا ہے۔ وہ شجاع الدین خلیفہ کے پوتے ہیں۔ ان کے دادا کے دادا انجمن حمایت اسلام کے پہلے صدر تھے۔ وہ امریکہ میں بلین ڈالرز عطیات دیتے ہیں۔ اس میں کوئی تحصیص نہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے امریکہ میں رہ کر کمایا ہے تو مجھ پر امریکیوں کا بھی حق ہے۔ وہ پاکستان میں بھی کئی اداروں کو امداد دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر یونس کے ادارے کو ڈونیشن دینے کیلئے جا رہے تھے کہ انہیں ”اخوت“ کا پتہ چلا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے فی الحال بنگلہ دیش جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔ ”اخوت“ کے تحت لاکھوں لوگوں کو 35 ہزار تک کے قرضے دیئے جا چکے ہیں۔ بعد میں رقم بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس قرض پر کوئی سود نہیں لیا جاتا۔ یہ بلاسود بنک کاری کی طرف ایک شاندار ابتدا ہے۔ ڈاکٹر یونس بھی قرضے دیتے ہیں اور اس پر 30 فیصد سے زیادہ سود ہوتا ہے۔ پھر بھی یہ غنیمت ہے کہ غریبوں کو تو قرض ملتا نہیں۔ اس میں اتنی مشکلیں ہیں اور پھر اس قرض کی ادائیگی میں اس سے بڑھ کر مشکلیں ہیں۔ ہمارے ملک میں کروڑوں اربوں کا قرض آسان ہے ہزاروں لاکھوں کا مشکل ہے۔ امیر کبیر وزیر شذیر حکمران افسران کرپٹ اور ظالم لوگ جتنی آسانی سے قرض لیتے ہیں اس سے زیادہ آسانی کے ساتھ قرض معاف کروا لیتے ہیں یہ قرض قوم کے لئے مرض بن گیا ہے جب کہ ڈاکٹر امجد ثاقب اور اس کے ساتھی قرض کی خیرات کو ایک فرض سمجھتے ہیں۔ فرض اور قرض میں ایک نقطے کا فرض ہے۔ یہ بات ذکی الدین خلیفہ کو پسند آئی۔ اس ایک نقطے کو سمجھانے ڈاکٹر امجد اور ان کے ساتھی بہت دور نکل آئے ہیں۔ اور منزل بہت قریب ہے۔ منزل سے پہلے بھی منزلیں ہوتی ہیں راستوں اور مسافروں سے محبت کرنے والے منزلوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ منزلیں خود ان کی راہ دیکھتی ہیں۔ مجھے اچانک شعر یاد آیا ہے۔ ….
گھر کی جانب جانے والے راستوں جیسا ہے وہ
منزلوں سے پیشتر ہی منزلوں جیسا ہے وہ
ڈاکٹر امجد اور اس کے ساتھی ایسے ہی ایک شخص ہیں۔ اس نے ایک ایسے ہی شخص ذکی الدین خلیفہ سے ملوایا تو بڑا لطف آیا۔ وہ بے نیاز آدمی ہیں ایک قلندرانہ نیاز کے بغیر یہ ادا آدمی کو نہیں ملتی۔ نازونیاز اکٹھے ہوں تو پتہ دیتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں اس کمرے کے اندر خلافت قائم ہو گئی تھی۔ یہ خلافت پورے ملک میں قائم ہو سکتی ہے۔ ذکی صاحب اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے لوگوں کو معاملات چلانے دیں۔ ذکی صاحب نے نوائے وقت میں میرے کالموں کا بڑی محبت سے ذکر کیا۔ میرے کالم ”پولیس کی چھترول“ پر بات کی اور بات امریکی پولیس کی طرف چلی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں افسران اور پولیس عوام کے لئے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکام کے لئے ہیں۔ آج بیرون ملک کسی کی کوئی عزت نہیں کہ اندرون ملک کوئی عزت نہیں۔ اور بیرون ملک عام لوگ نہیںجا سکتے۔
امریکہ میں ذکی الدین خلیفہ جیسے لوگ امریکہ کی عزت بڑھاتے ہیں اور پاکستان کی عزت بھی بڑھاتے ہیں۔ جان و مال کی قربانی میں جان کی قربانی کا مرتبہ زیادہ ہے مگر مشکل مال کی قربانی ہے اس مشکل کو آسان کرنا دل والوں کا کام ہے۔ دل والے دل والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو مل جاتے ہیں۔ ذکی صاحب اور امجد صاحب کی ملاقات ہو گئی اور پھر ہم کئی دوستوں نے ذکی صاحب سے ملاقات کر لی۔ چیمبر آف کامرس کے شاہدحسن نے بہت اچھی باتیں کی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب چاہتے ہیں کہ اخوت کی بات ہو۔ اس نے ہمایوں احسان ڈاکٹر اظہار شمسی اور کئی ساتھیوں کا ذ کر کیا۔ ”اخوت“ کے حوالے سے ڈاکٹر امجد ثاقب کو یا اخی کہنے کو دل کرتا ہے۔ بھائی چارے کا یہ انداز بے مثال ہے۔ ”اخوت“ کے حوالے سے جو قرضے دیئے جاتے ہیں وہ قرضہ حسنہ ہوتے ہےں۔ حیرت ہے کہ ان قرضوں کی واپسی میں نہ مشکل پیش آتی ہے اور نہ دیر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اور بھی ادارے ہیں جو سود پر قرض دیتے ہیں۔ انہیں باہر سے گرانٹس ملتی ہیں حکومت بھی مدد کرتی ہے۔ یہ ادارے بھی غنیمت ہیں مگر ڈاکٹر امجد ثاقب کا ادارہ ”اخوت“ ایک نعمت ہے۔ روشانہ ظفر کے ادارے کا نام کشف ہے۔ اس نے ڈاکٹر یونس سے متاثر ہو کر خدمت خلق شروع کی ہے۔ معروف شاعر برادرم ناصر بشیر شہر بھر میں دوستوں کے لئے آوارہ گردی کرتا ہے۔ ایک دن موٹر سائیکل پر میرے پاس آیا اور بتایا کہ اخوت سے قرض لے کر موٹرسائیکل لے لی ہے۔ ایک اچھی لڑکی نے میرے امتحان کے لئے داخلے کے پیسے میرے دوست کو دیئے تھے وہ خود کھا گیا مگر مجھے بتا دیا۔ میں کچھ عرصے کے بعد اس بڑے دل والی خاتون کے پاس گیا کہ میں تمہارے پیسے واپس کر سکتا ہوں مگر میں تمہارا مقروض رہنا چاہتا ہوں بڑے دل والی خاتون نے کہا کہ تم مجھے کروڑوں روپے بھی دیتے تو اس جملے کے برابر نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے قرض نہیں لیا مگر میں ان کا مقروض ہوں۔ مرزا غالب کے گھر کا سودا لینے والی خاتون سے دکاندار نے کہا کہ وہ تو سارے شہر کا مقروض ہے اس نے کہا کہ یہ بھی تو دیکھو کہ ان کی آئندہ نسلیں مرزا غالب کی مقروض ہوں گی۔
راجہ انور نے کہا کہ ”ڈاکٹر امجد ثاقب کو نوبل پرائز ملنا چاہئے“۔ وہ اتنا نوبل آدمی ہے کہ اسے کسی پرائز کی حاجت نہیں ہے۔ حاجت روائی کرنے والے ان رسمی باتوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ ذکی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر یونس کو نوبل پرائز ملا ہے تو ڈاکٹر امجد کا کام تو اس سے آگے کا ہے۔ مگر میں امجد صاحب سے کہہ رہا ہوں کہ اگر اسے نوبل پرائز ملے تو وہ قبول کر لے۔ انشااللہ اب یہ ادارہ امریکہ میں بھی رجسٹر ہو جائے گا ڈاکٹر یونس کے لئے یہ اعزاز کم نہیں ہے کہ صدر اوباما ڈاکٹر یونس سے بغل گیر ہو گئے جب کہ ہر کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے جسٹس عامر رضا کا ذکر کیا جو کئی خیراتی ادارے چلا رہے ہیں۔ معذور بچوں کا ادارہ امین مکتب بڑا ادارہ ہے مکتب عشق کی طرح لگتا ہے شہباز شریف نے معذور بچوں کے لئے قرض دینے کا تجربہ کرنے کو کہا ہے۔ اس کے لئے امداد بھی دی ہے۔ پاکستان میں مخیر حضرات بلکہ خواتین وحضرات کہنا چاہے بہت ہےں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا پیغام ہے کہ مایوسی نہ پھیلائی جائے! !
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , ,

آنسو نکل رہے ہیں! رستے بدل بدل کے by Dr Ajmal Niazi

7 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
حلقہ 123 آج کل صرف ”ون ٹو تھری“ کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے! اور اپنے نام کی طرح بہت سہولت کے ساتھ زیرِبحث لایا جا رہا ہے!
مانسہرہ اور راولپنڈی کے بعد لاہور ”میثاقِ جمہوریت“ کی کسوٹی پر پرکھا جانے والا ہے! متوالے تو جناب پرویز ملک کے لئے ہی ”ووٹ“ ڈالیں گے! مگر دیکھنا یہ ہے کہ ”جیالے“ کس طرف ”وزن“ بڑھائیں گے؟ حالانکہ نواز شریف کا نام آتے ان کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں گویا رات بھر کے جاگے ہوں!
لاہور دن رات جاگا کرتا تھا مگر لاہور کے شہری دن رات ایک ”سکون“ میں گزارتے! بازاروں کا شوروغل ان کے گھروں تک پہنچ پاتا تھا! مگر پے درپے دھماکوں نے پورے پاکستان کی طرح لاہور پر بھی اثرات مرتب کئے! لاہور ناکوں کا شہر بن گیا! پہلے یہ ”باغوں کا شہر“ ہوا کرتا تھا! باغوں میں ”مشاعرے“ ہوا کرتے اور ہر ”شاعر“ استاد ہوری آکھدے نیں کہہ کر آدھ آدھ گھنٹے تک ”استادِ گرامی“ کے اشعار سناتا اور داد سمیٹ سمیٹ کر ان کے درِ دولت پر پہنچاتا حتیٰ کہ حافظہ جواب دے جاتا اور پھر وہ کہتا ”عرض کیتا اے!“ اور پھر اپنا ”کلامِ بلاغت نظام“ سنانے کے کام سے لگ جاتا! مگر مجال ہے کہ کسی پیشانی پر شکن نمودار ہو پائے! لوگ گھروں سے شعر سننے اور سنانے کے لئے آتے اور جی بھر کے سنتے بھی اور جی بھر کے سناتے بھی! یہ لاہور کا مزاج تھا اور یہی لاہور کا مزاج ہے! دوسرے کی بات تحمل سے سننا لاہوریوں کی عادت ہے مگر ”جواب“ دینا بھی لاہوریوں کی فطرت کا حصہ ہے! بعض اوقات تو وہ بالکل جواب دے دیتے اور خاموشی اختیار کر لیتے!
ہمارے تمام ”فاتحین“ لاہوریوں کی خاموشی کے غلط اندازوں پر راج تا راج کرتے رہے مگر لاہور کے اٹھ کھڑے ہونے پر ”صاف جوابا“ ان کی سمجھ میں بھی آ جاتا اور وہ رستہ بدل جاتے!
”ون ٹو تھری“ لاہور کا دل ہے! یہاں امرتسر کے مہاجروں کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیاءکے افراد مل جاتے ہیں! پاکستانی قومیتوں میں سے پٹھان اور بالائی پنجاب کے افراد کے علاوہ زیریں پنجاب اور اس سے ملحقہ بلوچ علاقوں کے افراد بھی لاہور کی آبادی کا معتدبہ حصہ ہیں! مگر ”نواز شریف“ ان تمام لوگوں کے لئے ”امید کا واحد ستارا“ ہیں!
جناب نواز شریف کے حلقے سے مسلم لیگ نون کے امیدوار کی فتح کا نقارہ تو ”خدائی آواز“ کی طرح گونج رہا ہے! ”کون جیتے گا؟“…. ”نواز شریف!“ سوال گندم اور جواب بھی گندم! گویا پاکستانی عوام کے لئے مسلم لیگ نون کا ہر امیدوار نواز شریف ہے مگر ”مانسہرہ“ میں کیا ہوا؟ راولپنڈی میں کیا ہوا؟ شاید نواز شریف کے مخالف یکجا اور یکجان ہو گئے! اور ضمانتوں کے ساتھ ساتھ شرط پر لگائی گئی ”حویلیاں“ بھی بچ گئیں!
ہم کسی طور بھی 10 مارچ 2010ءکی شام طلوع ہونے سے پہلے اپنی ذاتی رائے نہیں دے سکتے! یہ تو ”ون ٹو تھری“ کے تھڑوں، چائے خانوں اور انتخابی دفاتر کے نظارے ہیں کہ ہم نے قلم بند کر دئیے ہیں! ورنہ لوگ ایسی ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ لگتا ہے :
آنسو نکل رہے ہیں! رستے بدل بدل کے
”پاکستان“ کے ”غم“ اور ”پاکستانی عوام“ کے ”دم“ کا ذکر کرتے کرتے کیا کچھ ”غم“ ہوتا چلا جا رہا ہے! آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پر آ سکتا نہیں! کہے بغیر کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , ,

لولی لنگڑی پارلیمنٹ by Dr Ajmal Niazi

6 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
عزیزم حمزہ شہبازشریف ممبر قومی اسمبلی نے بہت ذو معنی بلکہ معنی خیز بات کی ہے کہ لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ نوازشریف نہیں بننا چاہتے۔ اسی پارلیمنٹ کو بچانے کے لئے انہوں نے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بھی سنا ہے، یہ پارلیمنٹ جیسی بھی ہے رہے گی تو نواز شریف اور ان کی فیملی کی باری آئے گی۔ وہ صدر زرداری کی صدارت کے لئے پریشان نہیں ہیںمگر جس نظام کے تحت وہ صدر ہیں اگر نہ بچا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔ میں ہمیشہ آمریت کے خلاف لڑتا رہا ہوں مگر جمہوریت کے دعویدار کیا کر رہے ہیں۔ کیا اقتدار کا حصول جمہوریت ہے؟ اس پارلیمنٹ کے سربراہ مخدوم گیلانی ہیں۔ وہ نہ صرف وزیراعظم ہیں بلکہ چیف ایگزیکٹو بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس کوشش میں نوازشریف شہبازشریف ، حمزہ شہباز شریف اور ہر سیاسی شریف مخدوم گیلانی کے ساتھ ہے۔ مگر جب وزیراعظم نوازشریف کا نعرہ گونجتا ہے تو مخدوم صاحب کا دل کانپنے لگتا ہے۔ وہ سترھویں ترمیم بالخصوص تیسری بار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کی شق کے خلاف ہیں اور اس طرح خلاف ہیں کہ ہم وزیراعظم ہوں اور وزیراعلیٰ بھی ہماری فیملی سے ہو میں تو صدر کے لئے بھی تیسری بار کی شرط اس میں شامل کرنے کے حق میں ہوں چونکہ تیسری بار صدر بننے کا امکان کم کم ہے اس لئے یہ ضروری نہیں سمجھی گئی جبکہ اس وقت جنرل مشرف خود صدر تھے اس لئے بھی یہ شرط ضروری نہ سمجھی گئی۔ یہاں اقتدار کی باریاں مقرر ہیں اور اس کا تعلق ”بار بار“ سے ہے۔ بی بی صاحبہ اور میاں صاحبان دو دو دفعہ باری لے چکے ہیں اسی لئے تیسری بار کی شرط فوراً ختم ہونا چاہیے۔ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی آدمی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹر بھی تیسری بار نہ بنے۔ سیاستدانوں نے اپنے لئے یہ کریڈٹ بنا رکھا ہے کہ میں چھ سات دفعہ ممبر اسمبلی رہ چکا ہوں جیسے کہتے ہیں کہ میں 25 عمرے کر چکا ہوں۔ ممبران اسمبلی کا یہ شیوہ ہے کہ میں نے پہلے بھی کوئی کام نہ کیا تھا اور اب بھی کوئی کام نہیں کروں گا لوگوں سے پوچھا جائے کہ آپ ایسے شخص کو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ کئی لوگ تکلفاً مانگتے ہیں اس بات کا شیخ رشید کی اس بات سے تعلق نہیں کہ میرے مخالف کو جتوایا گیا ہے۔ وہ جب جیت جاتے تھے تو انہیں کون جتواتا تھا۔میں نے بات حمزہ شہبازشریف کی اس بات سے شروع کی تھی کہ یہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی ہے کیونکہ نوازشریف اس کے ممبر نہیں بننا چاہتے ہیں وہ تو وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔ شہبازشریف کے لئے اس منصب کی آسانی ہے پھر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے بھی پریشانی نہ ہو گی۔ حمزہ شہبازشریف ہیں نا۔!
لولے لنگڑے لوگ زندگی گزار جاتے ہیں تو ہماری لولی لنگڑی پارلیمنٹیس بھی زندگی گزار جاتی ہیں۔ یہ زندگی شرمندگی ہے ورنہ درندگی ہے کچھ لوگ شرمندگی سے بھی درندگی کا کام لینا جانتے ہیں، پچھلی پارلیمنٹ تو پھر بالکل ہی لولی لنگڑی تھی مگر وہ اپنی پوری عمر یعنی مدت گزار گئی۔ اس لولی لنگڑی پارلیمنٹ کے کئی ارکان اب بھی ایم این اے ہیں جمہوریت آنے کے بعد اب یہ بھی لولی لنگڑی پارلیمنٹ ہے تو پھر صحیح سالم پارلیمنٹ کب آئے گی ۔ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کی تاریخ ایسی ہی ہے۔ پارلیمنٹ سیاسی جرنیلوں اور سیاستدانوں کے ادوار میں ایک سی رہی ہے۔ یقیناً حمزہ شہباز کے خیال میں وہ پارلیمنٹ لولی لنگڑی نہ تھی جس کے وزیراعظم نوازشریف تھے مگر وہ اپنی عمر ہی پوری نہ کر سکی۔ ع
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے
اگر وہ پارلیمنٹ جمہوری ہوتی اور کچی پکی نہ ہوتی تو جس وقت توڑی گئی تھی تو نہ ٹوٹتی۔ سارے پارلیمنٹیرین ڈٹ جاتے مگر ہمارے سیاستدانوں میں یہ جرا¿ت اہلیت، دیانت، استقامت اور غیرت ہی نہیں ہے کہ وہ ثابت قدمی دکھائیں، یکجہتی پیدا کریں عوام کےلئے کچھ کریں خزانے پر حق صرف ان کی فیملی کا نہیں ہے۔ خدا کرے اب سیاست پر بُرا وقت نہ آئے مگر مجھے ان سیاستدانوں سے کوئی امید نہیں ہے۔ جمہوریت کی بات کرنے والے اپنے رویے اور اپنی سیاست اور اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لاتے کسی کی جرا¿ت نہیں کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں یا کہیں بھی اپنے سربراہ سے اختلاف کر سکے۔ ہمارے ملک میں نہ جمہوریت آئی، نہ آمریت آئی۔ آمریت کے بھی جو ثمرات ہو سکتے تھے وہ عوام کو نہیں ملے۔ یہاں آمرانہ جمہوریت رہی ہے یا جمہوری آمریت۔حیرت ہے کہ خود حمزہ شہباز اسی لولی لنگڑی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ جس ٹکٹ پر نوازشریف تھوکتے بھی نہیں وہی ٹکٹ حاصل کر کے پرویز ملک پھولے نہیں سماتے۔ وہ پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھے اور تب پارلیمنٹ بہت لولی لنگڑی تھی ۔ پرویز ملک کو پہلے ٹکٹ نہ دیا گیا تھا جس کا افسوس ہم نے مل کر کیا تھا۔ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ بظاہر یہ تھی کہ وہ جسٹس (ر) اور اٹارنی جنرل ملک قیوم کے بھائی ہیں۔ جسٹس قیوم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نوازشریف کے کہنے پر بے نظیر بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ ملک قیوم میں کوئی خوبی تو ہو گی کہ اس کے بعد انہیں وکیلوں نے صدر سپریم کورٹ بار بنا دیا۔ سب نے سیاست و حکومت میں اس طرح کے فیصلے کئے ہیں۔ پرویز ملک اب بھی ملک قیوم کے بھائی ہیں اب کیا ہوا ہے کہ انہیں اس ٹکٹ کا حقدار سمجھا گیا ہے۔ ان کی سگی بہن محترمہ یاسمین رحمان پیپلز پارٹی کی طرف سے پہلے بھی ممبر قومی اسمبلی تھیں اب بھی ہیں، بے نظیر بھٹو کو شاید معلوم نہ تھا کہ وہ ملک قیوم کی بہن ہیں؟ شریف فیملی میں کریڈٹ صرف ان کی پسند و ناپسند ہے اور یہ پسند و ناپسند بدلتی رہتی ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف نے پرویز ملک کو اپنا اسسٹنٹ یا مشیر بھی بنا لیا تھا۔ میری ملاقات پرویز ملک سے ہے۔ وہ سلجھے ہوئے آدمی ہیں دھیمے اور دوستانہ مزاج والے ہیں۔ انہیں ان دونوں سیاسی نوازشوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میرے لئے یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ اس وقت خواجہ سعد رفیق ، مرغوب احمد، نصیر بھٹہ بھی موجود تھے اور بھی ممبران اسمبلی ہوں گے۔ حیرت صرف خواجہ سعد رفیق کے لئے ہے وہ شہید خواجہ رفیق کے بیٹے ہیں۔ فطری طور پر سیاستدان اور لیڈر ہیں کہ بنیادی طور پر ورکر ہیں۔ ن لیگ میں شاید ان سے بہتر مقرر کوئی نہیں ۔!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , , , ,