Bushra Rehman

اور درویش کی صدا کیا ہے؟؟ by Bushra Rehman

7 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
حیرت ہوتی ہے جب چھوٹی چھوٹی باتوں کا مسئلہ بنا کر الیکٹرانک میڈیا پر گھنٹوں بحث جاری رہتی ہے۔ اور جو پاکستان کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔ ان کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
پروٹوکول کی بھیڑ میں پھنسے ہوئے کوئٹہ شہر کے رکشے میں ایک بچہ پیدا ہو گیا۔ اس پر وہ لے دے ہوئی کہ الاماں الحفیظ۔ کیا پروٹوکول کوئی نیا مسئلہ ہے….؟ ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ کوئی صاحبِ بصیرت وہ پولیس میں سے ہوتے یا دانشوروں میں سے ہوتے یا سیاست دانوں میں سے ہوتے۔ یہ کہہ دیتے۔ کہ ایک موبائل ٹیم پولیس کی بنائی جائے۔ جسے گشتی ٹیم کہتے ہیں۔ جہاں گھنٹوں کے حساب سے عاقبت نااندیش حکمران رعایا کو مفلوج رکھتے ہیں۔ وہاں وہ ٹیم چاروں طرف رکے ہوئے ٹریفک کا جائزہ لے۔ کوئی بیمار ہو لاچار ہو‘ ایمرجنسی ہو تو اپنی گاڑی میں اسے راستہ دے کر ہسپتال پہنچا دیں۔ یہ بھی عوام کی ایک خدمت ہو گی مگر جہاں پیسہ بہت ہوتا ہے وہاں عقل کم ہوتی ہے۔ اسکا تدارک ڈھونڈنے کی بجائے پانچ لاکھ روپے دے کر بحث کا ڈھکن بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوئی نئی رسم نہیں ہے۔ ہر دور کے سربراہ اور وزرائے اعلیٰ ایسا ہی پروٹوکول مانگتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کی کہانیاں مشہور ہیں۔ جب چوبدار آوازہ لگاتے تھے۔ نگاہ روبرو…. باملاحظہ‘ ہوشیار‘ ظل اللہ‘ ظلِ الٰہی‘ عالم پناہ‘ ذی جاہ سلطانِ ہند…. تشریف لاتے ہیں…. سلطان بننے کی تمنا ہر پاکستانی سربراہ کے دل میں رہتی ہے۔ اور اب ہوشیار خبردار کرنے والے کام ہوٹر بردار کرتے ہیں۔ 1986ءمیں ہمارے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا۔ جبکہ جمہوریت کے علمبردار جناب محمد خان جونیجو وزیراعظم تھے۔ راوی روڈ پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔ اور ہمیں ایک عزیز کی فوتیدگی پر گجرات جانا تھا۔ جنازہ چار بجے اٹھنا تھا اور ہم پروٹوکول کی وجہ سے رات آٹھ بجے وہاں پہنچے تھے۔ زمانہ کوئی ہو۔ انداز ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک دن کا رونا ہے….
پھر یہ دیکھ کر اور بھی حیرت ہوئی کہ کئی دنوں تک میڈیا پر دوسری تیسری شادی کا مسئلہ مذاق بنا رہا۔ جو باتیں دائرہ اسلام اور ضابطہ اخلاق میں آ چکی ہیں۔ ان کو خواہ مخواہ متنازع اور مضحکہ خیز بنانے سے کیا حاصل…. جہاں انسان ہو گا وہاں مسائل تو ہر روز برآمد ہوں گے۔ میڈیا کا کام مسائل کو حل کرنا ہے مسائل کو ہوا دینا نہیں….
گذشتہ ہفتے جہاں اور بہت سے مسائل ابھرے وہاں نیشنل اسمبلی کے اندر پانی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو کسی نہ کسی صورت میں الیکٹرانک میڈیا پر جاری و ساری رہنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ساتھ پانیوں کے معاملے میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ اس کے تحت اب پاکستان تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت میں آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر جتنے دن یہ بحث ہوتی رہی۔ حکومتی بنچوں سے ذرا بھی اس کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ جو بھی رکن اٹھتا بس یہی کہتا کہ یہ ایک آمر نے کیا تھا۔ فلاں حکومت نے یہ معاملہ کیوں درست نہیں کیا اور فلاں حکومت کیوں خاموش رہی۔ موجودہ حکومت کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل ہے کہ نہیں ہے۔ مگر ہر مسئلے کا جواب اس کے پاس یہ ہے کہ یہ سابقہ حکومتوں کی کارستانیاں ہیں۔ دو سال تو اس نے سابقہ حکومتوں کو الزام دینے اور برا بھلا کہنے میں گزار دئیے۔ اب آئندہ اس کا کیا ارادہ ہے….؟
جانے والی حکومت کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لئے نئی حکومت آتی ہے۔ اور انہی وعدوں پر وہ ووٹ بھی لیتی ہے…. الزام تراشی کر کے اور بہتان بازی کر کے یہ لوگ کب تک ڈنگ ٹپائیں گے۔
حکومت وقت کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے شوریٰ ہمدرد کے تھنک ٹینک نے گذشتہ ہفتے پاک بھارت مذاکرات خدشات اور امکانات پر ایک بھرپور سیشن بلایا تھا۔
جس میں بطور خاص کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی جناب جماعت علی شاہ کو مدعو کیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی موجودہ صورت حال کی تفصیل بتائیں۔ ان کے ساتھ انجینئر سلیمان نجیب خاں کنوینر واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ کونسل‘ جناب ملک حبیب اللہ بھٹہ کنوینر سندھ طاس واٹر کونسل بھی بطور خاص بہاولپور سے تشریف لائے تھے۔ اور بہت سے دیگر ارکانِ شوریٰ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سوالات یہ اٹھائے گئے کہ….
کیا انڈس واٹر ٹریٹی کو Revise کیا جا سکتا ہے؟
اس کے لئے عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے؟
1960ءمیں انڈس‘ جہلم اور چناب میں جو پانی کی رفتار تھی۔ وہ اب ہے کہ نہیں تو کتنی ہے؟
بھارت کے ساتھ جو طے ہوا تھا کیا اس کے مطابق وہ ساڑھے تیرہ لاکھ رقبہ ہی سیراب کر رہے ہیں یا زیادہ پانی چرا رہے ہیں۔
بھارت ڈیم پہ ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ معاہدے کے مطابق کیا وہ پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اگر نہیں تو اس سے بازپرس کون کرتا ہے۔ اور کس انداز میں کرتا ہے۔
اس معاملے میں حکومتوں پر مسلسل بے حسی کیوں طاری ہے۔
بھارت نواز لابی پاکستان میں کالاباغ ڈیم کی مخالف کیوں ہے؟
اس کے متبادل مزید ڈیمز کیوں نہیں بنائے جا سکتے۔
پچھلے دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ افسر کا بیان اخبارات کی زینت بنا تھا کہ پاکستان پانی کے مسئلے کو عالمی عدالت میں پیش کرے گا۔ اس وقت بھارت نے قلابازی کھائی اور اچانک مذاکرات شروع کرنے کی باتیں کرنے لگا۔ لیکن وفد میں سے ان افراد کو نکال دیا۔ جو پانی اور کشمیر پر بات کرنے آئے تھے۔ چناب میں فالتو پانی بھی چھوڑ دیا۔ جب پاکستان کی آواز کمزور ہوئی تو مذاکرات کو پھر سے دہشت گردی کے ایک نکتے پر محدود کر دیا اور مسدود کر دیا۔ اور چناب کو دوبارہ خشک کر دیا۔ باور ہو کہ ممبئی ڈرامے کے بعد بھارت نے پاکستان کے حوالے سے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم نے کشمیر کو بلاوجہ پاکستان کی شہ رگ نہیں کہا تھا۔ پاکستان کی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے کشمیر کے پانیوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ مگر ہر قسم کی چیخ و پکار کے باوجود بھارت آبی دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا چلا جا رہا ہے…. کیا وہ پاکستان کو بوند بوند کے لئے ترسانے کا تہیہ کر چکا ہے…. خدانخواستہ…. پاکستان کی کسی بھی قیادت نے قومی سطح کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اسی لئے جن ارباب بست و کشاد کو ہمدرد شوریٰ میں بلایا گیا تھا۔ وہ بھی بس اپنی بے بسی پر آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے….
اگر ایک پرانی حکومت یہ غلطی کر کے چلی گئی۔ تو کیا کوئی جمہوری حکومت اس غلطی کو درست کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی….؟
جبکہ زرداری حکومت ہر روز نعرہ مستانہ لگاتی ہے کہ عوام کی اکثریتی طاقت سے آئے ہیں…. 2018ءتک نہیں جائیں گے۔ دما دم مست قلندر کر دیں گے وغیرہ وغیرہ….
مگر کس برتے پر….؟
اگر اتنی بڑی سیاسی و جمہوری حکومت کوئی کارنامہ کر دکھانے کی اہل نہیں ہے۔ تو کم از کم بھارت کے ساتھ پانی کا تصفیہ ہی کر کے دکھائے…. تصفیہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ تو اس مسئلے کو عالمی عدالت میں اٹھا کر دکھائے….
فرینڈز آف پاکستان کے آگے دستِ سوال کرنے والی حکومت کم از کم فرینڈز آف پاکستان کے ضمیر ہی جگا کر دکھا دے….!
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , , , , , , , ,

ہو گاستارکوئی بڑھ کے تیری ذات سے کیا by Bushra Rehman

1 March, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
کیا یہ ایک فیشن ہے یا محبت ہے؟ ….
یکایک ٹیلی ویژنوں کے چھم چھم کرتے اور دھک دھک کرتے پروگراموں کے بیچ گنبد خضریٰ کی تصویریں نظر آنے لگیں۔ درودوصلٰوة کی مہکار اٹھی اور ربیع الاول کے حرمت والے مہینے کا اعلان ہونے لگا۔ پھر باری باری ہر شہر کو سجائے جانے، محافل میلاد کروانے اور بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے جلسے اور جلوس کے منعقد کرنے کے اعلانات ہونے لگے۔ ماحول کی بے راہ روی میں ایک اسلامی ملک سے ان آوازوں کا بلند ہونا بہت اچھا لگا…. نبی آخرالزمان کے میلاد کی خوشی میں، مسلمانوں کا بازار سجانا، چراغاں کرنا، ثنا خوانی کرنا، عقیدت و احترام کی محفلیں سجانا، ذکر اور فکر کے موتی لٹانا سمجھ میں آتا ہے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہی نہیں ایمان ہے اور ایمان پر سب قربان ہے۔
اللہ تعالی سورہ آل عمران میں فرماتا ہے…. آپ فرما دیجئے کہ اگر تم خدا تعالی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف کر دے گا اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑی عنایت کرنے والا ہے….“ سورہ النساءمیں ارشاد ربانی ہے جس شخص نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی….“
سب جانتے ہیں ایسے احکامات روز پڑھتے ہیں لیکن اطاعت اور محبت کے معانی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایک مہینہ جو محبت کے اظہار کے لئے ہم نے وقف کر رکھا ہے کیا اس ایک مہینے میں ہماری گفتار ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں کچھ فرق پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لے کر بتا سکتے ہیں کہ محبت کے تقاضوں نے ہمارے اندر کس قدر تبدیلی پیدا کی۔ کیا سیکھا…. کیا چھوڑا…. کیا اپنایا…. کس کس کا حق ادا کیا۔ اللہ کی راہ میں کتنا خرچ کیا۔ جھوٹ اور غلو سے کتنا پرہیز کیا۔ وعدوں کو کس حد تک نبھایا…. یا صرف مجالس کی حد تک اور نعت خوانی کی حد تک ہم اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ سورہ النساءمیں ارشاد ربانی ہے۔ ”….اور جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوںسے نکل جائے گا۔ اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اس کو مستقل سزا ہو گی اس سزا میں ذلت بھی ہو گی….“
آج ہمارا ملک ایک مسلسل بے سکونی میں گرفتار ہے۔ اللہ کی تمام نعمتیں موجود ہونے کے باوجود کسی شعبے میں بھی خود کفیل نظر نہیں آتا۔ اغیار کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ سود در سود قرضوں میں جکڑا جا رہا ہے۔ جس ملک کو گندم میں خود کفیل ہونا تھا وہ حرص وہوس بو رہا ہے جس شخص کو دیکھو وہ دولت اور راحت کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ جس معاشرے میں حد سے زیادہ جھوٹ بولا جائے اس معاشرے سے برکت اڑ جاتی ہے۔ آج ربیع الاول کا مقدس مہینہ خود جمیع مسلمانوں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا تم واقعی اطاعت گزار اور پیروکار ہو….؟
احادیث مبارکہ میں حضور انور کے ارشاد کی روشنی میں ہر شخص اپنے اعمال اور کردار کو جانچنے کی ایک کوشش بھی اس مہینے میں کر لے…. تو کتنا اچھا ہو….
1….آپ نے فرمایا…. چار صفات ایسی ہیں۔ جس میں یہ پائی جائیں وہ منافق ہے۔
(1)امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
(2)…. بولے تو جھوٹ بولے۔
(3)….عہد کرے تو اسے توڑ دے۔
(4)….لڑے تو شرافت کی حد سے گزر جائے۔
2…. اصل مجاہد وہ ہے جو خدا کی فرمانبرداری میں خود اپنے نفس سے لڑے اور اصلی مہاجر وہ ہے جو ایسے تمام کام چھوڑ دے جسے اللہ نے منع فرمایا۔
3….مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جان اور مال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
4….ایمان، تحمل اور فراخ دلی کا نام ہے۔
5…. تم میں سے سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔
6….جو شخص اپنا غصہ نکالنے کی طاقت رکھتا ہو اور پھر ضبط کر جائے اس کے دل کو اللہ ایمان اور اطمینان سے لبریز کر دیتا ہے۔
7خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی بدی سے اس کا ہمسایہ امن میں نہ ہو۔
8…. جھوٹی گواہی اتنا بڑا گناہ ہے کہ شرک کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
9….بہترین ایمانی طاقت یہ کہ دوستی و دشمنی خدا کے واسطے ہو۔ تیری زبان پر خدا کا نام جاری ہو۔ تو دوسروں کے لئے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔
10…. جس شخص نے عیب دار چیز بیچی اور خریدار کو عیب سے آگاہ نہ کیا اس نے خدا کے غصے کو دعوت دی اور فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
12…. جس نے چالیس دن غلہ اس نیت سے روکے رکھا کہ قیمتیں چڑھ جائیں تو بیچے گا، چالیس دن اس خیال سے روکنے کے بعد اگر وہ تمام غلہ خیرات بھی کر دے تو معاف نہیں کیا جائے گا۔
سرکار دوعالم کے ان چند فرمودات ہی کی روشنی میں …. اپنا اپنا محاسبہ کریں…. مگر کون کرے…. وہ تو اپنے آپ کو مطمئن کر لینے کی تاویلیں گھڑے ہوئے ہیں۔ میں ایک مرتبہ امریکہ کے ایک سٹور میں تھی۔ میں نے ایک چیز خریدی جو بظاہر بہت دلکش تھی جب کاﺅنٹر پہ گئی تو سیلز گرل باہر نکل آئی اور بولی آپ یہ نہ خریدیں اس میں نقص ہے۔ میں نے کہا کہاں نقص ہے۔ اس نے نکال کر دکھایا جو مجھے نظر نہیں آ رہا تھا…. میں حیران رہ گئی…. اور پھر اداس بھی ہو گئی یہ سوچ کر کہ ہمارے ہاں دکانداری میں یہ دیانت دارانہ رویہ نہیں ہے…. اہل مغرب نے یہ باتیں کہاں سے سیکھیں۔ ظاہر ہے انہوں نے اسلام کی اچھی باتیں اپنائیں۔ یہاں یہ عالم ہے بعض دکانداروں نے دکان کے اوپر حدیث مبارکہ لکھ کر لٹکائی ہوتی ہے…. مگر برابر ناقص مال بیجتے رہتے ہیں اور تول میں جھوک دیتے رہتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے رہتے ہیں۔
چینی عنقا ہو گئی۔ ساری ملیں تو متمول اور مقتدر مسلمانوں کی تھیں۔ 18 روپے کلو سے 70 روپے کلو پر لے آئے۔ کیا محفل میلاد سجانے سے بخشے جائیں گے۔ گندم میں تو یہ ملک خودکفیل تھا کہاں چلا گیا آٹا…. اپنے مفاد کی خاطر چھپایا یا سرحد پار بھیجا غریب کو مفلس اور مجبور کیا…. ساری مارکیٹ میں چراغاں کر دیں کیا بخشے جائیں گے۔ اس ملک میں اشیائے خوردنی واجناس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ کمی ہے تو جذبہ ایمانی اور اطاعت مسلمانی کی….!
سب آجر تاجر، غریب امیر، بڑے چھوٹے، حکمران عوام…. سارا سال نہ سہی اس ایک مہینے ہی کے احترام میں اپنے طرز عمل میں بہتری پیدا کر لیا کریں۔ تیس دن صرف تیس دن محبت کا تقاضا تو نبھائیں۔
میرے ہر جرم کو رحمت نے تیری ڈھانپ لیا
ہو گا ستار کوئی بڑھ کے تیری ذات سے کیا ؟
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , ,

یہ کس قسم کی دہشت گردی ہے….؟ by Bushra Rehman

21 February, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
قومی اسمبلی میں، میں نے سوال اٹھایا کہ موبائل ٹیلی فونوں کے بارے میں الیکٹرانک میڈیا پر جو اشتہار بازی چل رہی ہے۔ وہ سماجیات اور اخلاقیات کے دائرے سے باہر نکلتی جا رہی ہے۔ اس پر کوئی قدغن ہے یا نہیں…. منسٹر کی طرف سے جواب آیا کہ یہ صرف آپ کا مفروضہ ہے ہمیں پبلک کی طرف سے شکایات موصول نہیں ہوتیں۔ اگلے روز بہت سے ہم وطنوں کے مجھے فون آنے لگے کہ ہمیں شکایات ہیں مگر کہاں درج کرائیں۔ منسٹری نے فرمایا کہ پیمرا کے اندر ایک شکایات سیل تشکیل دیا گیا ہے وہاں درج کرائیں۔ جب پیمرا سے رجوع کیا گیا تو اس نے کہا ابھی تک اس سیل میں شامل کرنے کے لئے ناموں کا فیصلہ نہیں ہو سکا…. کہ ارکان کتنے ہوں اور کس کس شعبہ زندگی سے ہوں۔ وغیرہ وغیرہ…. خواتین اس میں شامل ہوں کہ نہیں…. ہمارے قارئین کے لئے یہ امر باعث دلچسپی ہوگا کہ قومی اسمبلی میں ہمہ وقت میرا صوبہ میرا صوبہ کھیلا جاتا ہے۔ میرا پاکستان کوئی نہیں کہتا۔ جب کوئی کمیٹی کمیشن بورڈ یا ادارہ بنایا جاتا ہے تو ارکان اسمبلی صرف یہ پوچھا کرتے ہیں۔ اس میں میرے صوبے کے کتنے آدمی ڈالے ہیں۔ پنجاب چونکہ آبادی اور وسائل کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے اگر اس کے ارکان کی تعداد زیادہ ہو تو شور مچایا جاتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی ادارہ تشکیل دینے سے پہلے سارے صوبوں سے ممبر مانگے جاتے ہیں بلکہ فاٹا والے بھی اٹھ کر پوچھتے ہیں۔ اور پاٹا والے بھی…. اصولاً تو یہ بات ہے بھی درست…. ہر صوبے کے علاوہ فاٹا اور پاٹا کے ارکان بھی ہر کمیٹی میں شامل ہونے چاہئیں۔ ان کی آبادی اور وسائل کے مطابق …. مگر اس تو تو میں میں بعض اوقات بہت ضروری کام بھی التواءمیں پڑے رہتے ہیں جو حکومت دو سال کے طویل عرصے میں اپنے قدم نہ جما سکی ہو۔ جس کی پالیسیاں ہر آن بدلتی رہی ہوں۔ جو آرڈیننس جاری کر کے واپس لے لیتی ہو اور بیان دے کر اس سے مکر جاتی ہو۔ اس حکومت کو تو اپنے ہی لالے پڑے رہتے ہیں۔ اس کی بلا جانے عوام پر کیا گزر رہی ہے اور کیا گزر جائے گی۔
دوسرے اس حکومت کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ جس خرابی کی طرف توجہ دلائی جائے اس کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ ہمہ وقت مشرف کی پالیسیوں کو برا بھلا کہنے والی حکومت مشرف کی پالیسیوں ہی کو درست سمجھ رہی ہے۔ نہ ان کے پاس اپنا کوئی وژن ہے اور نہ منصوبہ…. اس لئے حکومت رینگ رینگ کر چل رہی ہے…. دنیا میں کوئی بھی شے جب ایجاد کی جاتی ہے تو وہ انسانوں کی بھلائی کے لئے اور ان کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے۔ موبائل فون اکیسویں صدی کی ایسی ہی ایجاد ہے۔ اس نے فاصلے کم کئے۔ پیغام رسانی کو آسان کیا۔ ہسپتالوں میں، جنگوں میں، سفروں میں اپنی افادیت کو اجاگر کیا لیکن جب اس نعمت کا غلط استعمال ہونے لگے تو یہ زحمت بن جاتی ہے….
اول تو یہ کہ اس غریب ملک میں اتنی زیادہ فون کمپنیوں کو آنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ جہاں اسی فیصد عوام تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ پچاس فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور محنت مزدوری کر کے نان و نفقہ کا بندوبست کرتے ہیں ان کو ٹیلی فون سے زیادہ زندگی کی بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے مگر فون کمپنیوں کے دلکش اور دلآویز اشتہاروں نے آج ہرکس و ناکس کی جیب میں موبائل فون پہنچا دیا ہے۔ چلئے یہ کوئی بری بات بھی نہیں۔ ہر فرد کو یہ سہولت حاصل کرنے کا حق ہے لیکن کیا ہر فرد کو اس کے استعمال کے اصولوں کا بھی پتہ ہے….
جنگل کی آگ کی طرح موبائل فون بستی بستی قریہ قریہ پھیل گئے۔ اوپر سے ہر روز نئی نئی سکیمیں معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے لئے نکالی جا رہی ہیں۔ ایس ایم ایس کرنے کا ایک تکلیف دہ سلسلہ ہے۔….
وہ تمام لوگ جو مذہبی فقرے، بزرگانِ دین کے اقوال اور عبادات کے نسخے وقت بے وقت دوسروں کو بھیجتے رہتے ہیں میں ان سے پوچھتی ہوں اگر وہ خود ان پر عمل کرتے رہتے تو بہت اچھا ہوتا۔ دوسروں کو نیند سے جگا کر یہ کہہ دینا کہ اس قسم کی سو ایس ایم ایس اگر آگے نہ بھیجیں تو آپ کو عذاب ہو گا کہاں کا ثواب ہے۔ غضب خدا کا اب بھکاری بھی ایس ایم ایس کر کے کہتے ہیں کہ ایک سو روپے کا ایزی لوڈ مجھے بھیج دو کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہسپتالوں کے مریض اور مختلف قسم کے چندہ مانگنے والے نوکری مانگنے والے رعایت مانگنے والے وقت بے وقت ایسے پیغام بھیجتے رہتے ہیں۔ ان کو اس بات کی تمیز نہیں ہے کہ جس کو ایس ایم ایس کر رہے ہیں وہ کون ہے اور اس وقت قسم عالم میں ہوگا۔
گھریلو خواتین کی زندگی ویسے تباہ ہو گئی ہے کہ خانصاماں کی جیب میں فون ہے۔ ہانڈی پکاتے وقت بجتا ہے تو وہ ہانڈی چھوڑ کر باتیں کرنے لگتا ہے۔ ڈرائیور کی جیب میں ہے فون بجتا ہے تو وہ سٹیئرنگ سے بے پرواہ ہو کر فون سننے لگتا ہے۔ الغرض چوکیدار، مالی، جمعدار، عورتیں، مرد سارا دن فون منہ سے لگائے ایک دوسرے کو اکھاڑتے پچھاڑتے ہیں۔ اس ایزی لوڈ نے اور بھی مصیبت ڈالی ہوئی ہے کہ ملازم روزانہ سودا سلف میں سو پچاس بچانا اپنی ضرورت سمجھتے ہیں اور پھر مجرمانہ وارداتیں بھی بڑی آسان سے ہونے لگی ہیں۔ مریضوں کو تنگ کیا جانے لگا ہے اور ظلم یہ ہے کہ ہمارے مزدور طبقہ کا یہ سارا پیسہ غیر ملکی کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے۔ اسی لئے تو دھڑا دھڑ ہر روز نئے سے نئے اور بے ہودہ اشتہارات سامنے آ رہے ہیں۔ جو ایک خاص قسم کے طبقے کے لئے باعثِ کشش ہوتے ہیں…. ہر سہولت کا غلط استعمال اور ہر شے کی زیادتی اس کے زوال کا باعث ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے دنیا میں بس ایک ہی دلکشی ہے اور وہ ہے موبائل فون کا استعمال….
میرے جیسے لوگ ایسی مسڈ کالوں اور ایس ایم ایس سے بے زار ہو کر ہمہ وقت اپنا فون بند رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں سہولت کو زحمت بنتے کتنی دیر لگتی ہے….؟
ان کمپنیوں نے پی ٹی سی ایل کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔…. ایک خوبصورت طریقہ کارکردگی تھا وہ ماضی کاحصہ بن گیا۔ جس حکومت کی بھی یہ غلطی تھی ہو گی لیکن موجودہ حکومت کیا کر رہی ہے پیمرا اس کے لئے کوئی قانون سازی کرنے کی مجاز ہے یا نہیں…. لیکن چھوڑئیے….
حکومتِ وقت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ وہ جوڑ توڑ اور کہہ مکرنیوں کے ایک گنجلک عمل میں اس حد تک ڈوب چکی ہے کہ ملکی معاملات اس کی نہج اور عقل سے دور چلے گئے ہیں۔
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , ,

عبدالعزیز خالد…. ایک عہد by Bushra Rehman

8 February, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
وہ بھی کیا دن تھے….؟ اسی لاہور شہر میں ہر شام ادیبوں اور شاعروں کی ایک کہکشاں اترا کرتی تھی، کسی ہوٹل میں کسی ہال میں ، کسی مرکز میں، کسی ادارے میں…. بڑے بڑے جغادری ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار عرفان و آگہی کے سپہ سالار محفلیں سجایا کرتے تھے۔ کتابوں کی پذیرائیاں ہوتی تھیں…. کتنا ارمان اور خفقان ہوتا تھا ان محفلوں میں جانے کا اور نہ جا سکنے کا…. کچھ سننے کا،کچھ کہنے کا….
یہ غالباً 1985ءکی بات ہے کہ اردو کی محترم اور معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی نے ایک ادبی تنظیم ’بزم ہم نفساں‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ بزم گروہی تعصب، ذاتی حسد اور صفاتی چپقلش سے ماوریٰ تھی۔ دیکھتے دیکھتے سائرہ ہاشمی نے لاہور کے تمام جیّد اور قابل ذکر ادیبوں، شاعروں اور خواتین و حضرات کو اس پلیٹ فارم پر جمع کر لیا۔اس ایک بات پر سارے دانشور متفق ہوئے کہ ہر ماہ کسی ایک اہل قلم کے گھر پر ’بزم ہم نفساں‘ سجائی جائے۔ یوں باقاعدگی سے باری باری سب کے ہاں ایک خوبصورت ادیبانہ شاعرانہ شام سجائی جانے لگی…. گنگناتی مسکراتی اور فکر کے موتی لٹاتی ہوئی…. ہر محفل میں افسانہ، سفرنامہ، کوئی باب، کوئی صنف سخن، سنی جاتی۔ شعرو شاعری کا دور بھی چلتا…. یہ ایک عظیم کارنامہ تھا جو سائرہ ہاشمی نے تقریباً بیس سال بغیر کسی تعطل کے اور صلہ و ستائش کی پرواہ کئے بغیر جاری رکھا۔اسی بزم ’ہم نفساں‘ میں پہلی بار میری ملاقات جناب عبدالعزیز خالد اور ان کی بیگم صاحب خالدہ آپا سے ہوئی۔ میں کافی عرصہ سے ان کا کلام پڑھ رہی تھی اور ان کے کلام پر جو بحث بعض حلقوں نے شروع کر رکھی تھی وہ بھی سن رہی تھی۔ کسی زمانے میں میں نے ان کی کتاب فارقلیط خریدی تھی اور اس کو یوں ورق ورق پڑھا تھا جیسے کوئی صحیفہ پڑھا جاتا ہے۔ گو اپنی کم علمی کے باعث بہت سی اصطلاحات اور تعلیمات میری سمجھ سے بالاتر تھیں مگر پھر بھی ان کے ساتھ ایک عقیدت اور احترام کا رشتہ سا جڑ گیا۔ میں ان سے ملی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ وہ ایک سادہ اطوار، حلیم الطبع، منکسر المزاج، خوش خلق اور مٹی ہوئی طبیعت والے انسان تھے۔ ان کو صدارت کرنے اور مہمان خاص بننے کا ذرا بھی شوق نہیں تھا۔ وہ محفل میں یوں بیٹھے رہتے جیسے سب اہل محفل ان سے بہتر ہیں۔ وہ ہر ایک کی بات یوں سنتے کہ جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔ ہر اچھی تخلیق کی خوب داد دیتے۔ کبھی کوئی متنازع بات نہیں کرتے تھے، نہ اپنا کلام سنانے پر راضی ہوتے۔ بہت سے شاعر اور شاعرات تقدیم و تاخیر کی الجھن میں گرفتار رہتے ہیں۔ ان کو ایسا کوئی کمپلیکس نہیں تھا۔ میں میں کرنے والوں سے اکثر دور رہتے تھے۔ اپنی ذات پر کوئی خود پسندی اور خود زعمی کا کلف نہیں لگا رکھا تھا حسِ مزاح بھی رکھتے تھے۔ ہنسنے والی باتوں پر جی کھول کر ہنستے تھے۔ ان کی شائستگی اور رواداری کا پورا رنگ ان کی بیگم صاحبہ پر چڑھا ہوا تھا۔ دونوں میاں بیوی ہر محفل میں اکٹھے آتے اور بہت اچھے لگتے تھے….
انہوں نے اردو شاعری اور تراجم میں نئی روایات کی طرح ڈالی۔ اسلوب کو ایک نیا آہنگ عطا کیا جس طرح ان کا زاویہ نگاہ منفرد تھا۔ اسی طرح ان کا کلام بھی نرالا اور انوکھا ہے۔ ہر بڑے آدمی کی طرح منہ پر اپنی تعریف سننا ناپسند کرتے تھے۔ بعض کوتاہ نظر ان کی شاعری کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ مسکرا کر سنتے اور ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ دیباچے اور فلیپ کسنے سے احتراز کرتے تھے۔ خواہ مخواہ بحث میں نہیں ±الجھتے تھے۔
ان کو دیکھ کر اور ان سے مل کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ علم و عرفان، قاری اور قرآن، آگہی اور ایقان کا ایک ایسا جھرنا ہیں جو دھیرے دھیرے اپنی من مستی میں بہہ رہا ہے۔ مضامین غیب سے اتر رہے ہیں اور ان کے مالا مال قلم کی برکت خیال آرائیوں کو اوڑھ کر وہاں پہنچ گئی ہے۔ جہاں جذبے مستجاب ہوتے ہیں اور آنسو باریاب ہوتے ہیں۔ ورنہ ایک بندے کے لئے آسمانی کیفیتوں کو کاغذوں پر اتارنا کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کی شاعری ایک یقین میں گندھی ہوئی تھی اور اس یقین کا محرم صرف ایک عاشق رسولﷺ ہی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ان کی ڈھیروں ڈھیر کتابیں تراجم اور شاعری کے نسخے ایک طرف رکھ دیں تو بھی جس طرح انہوں نے اردو لغت کو دوسری زبانوں کے نئے اور ہرے بھرے الفاظ و اصطلاحات سے مالا مال کیا ہے اور نئی تراکیب وضع کی ہیں۔ اردو زبان کا م¶رخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
خوشا وہ لوگ جو اس دنیا کی خوبصورتیاں بڑھانے کے لئے آتے ہیں۔ اس دنیا کو کچھ دے کر جاتے ہیں۔ اپنے کردار کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ گوشہ نشین ہو گئے تھے…. مگر قلمی طور پر ہر ادبی رسالے میں نظر آ رہے تھے…. اور ہم ان کی موجودگی کو غنیمت سمجھے بیٹھے تھے کہ اخبار میں خبر آ گئی۔ع
اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پر تیر کون
افوہ…. یہ دنیا کیسی ہے…. سب اپنے آپ میں مگن ہو جاتے ہیں۔ کوئی لمحہ بھر کو ٹھہر کر نہیں سوچتا کہ ایک بڑا ہی خوبصورت شخص عبدالعزیز خالد ہر محفل میں موجود ہوتا تھا۔ عافیت نشین کیوں ہوگیا۔ دیکھیں تو سہی۔ اس پہ کیا بیتی…. کیا نفسا نفسی ہے اور کیا عالم ہے یا پھر یہ کہ یہ دنیا ایک گورکھ دھندا ہے اور کوئی اس کے شکنجے سے نکل نہیں سکتا۔ دانشور ادیب اور شاعر جو اخلاقی روایات اور روحانی اقدار کے علمبردار ہوتے ہیں وہ بھی دنیا داری کے معاملوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اپنی کسی ساتھی کو تلاش نہیں کرتے۔ کیا وہ بھی اخبار میں ایک خبر لگنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ پل بھر میں جمع بھی ہوجاتے ہیں…. دکھ کو بیان کرنا جو کسی کے جانے سے ہوتا ہے بہت مشکل ہے…. یادوں کی ایک قطار ہے جو چلی آتی ہے….
اسی بزم ہم نفساں کے توسط سے میرے غریب خانہ پر بھی شعرو ادب کی عظیم المرتبت شخصیات تشریف لاتی رہیں۔ میں نے ان سے آداب زندگی اور سلیقہ بندگی سیکھا انسانیت نوازی اور آدمیت طرازی کا قرینہ سیکھا۔ حرف کی حرمت اور لفظ کی لذت سے آشنائی سیکھی…. وہ سب شخصیات عبدالعزیز خالد کی طرح عہد ساز ہی تھیں…. جناب شیخ منظور الٰہی…. عارف عبدالمتین…. اشفاق احمد…. احمد ندیم قاسمی…. غلام رسول ازہر…. ڈاکٹر وحید قریشی…. آغا سہیل…. اور بہت سے لوگ….
ایک عہد ایک دفینہ ایک فخر….کہاں گئے وہ لوگ…. اب جناب عبدالعزیز خالد بھی یہ دیکھنے کو کہ وہ جہاں کیسا ہے جہاں سب جاتے ہیں مگر کوئی لوٹ کے نہیں آتا ان کے پیچھے چل دئیے ہیں۔ کیا کیجئے
یہ مسافر لوگ پت جھڑ میں چلے جاتے ہیں دور
ان کی خاطر شیشہ¿ دل کو لہو مت کیجئے
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,

پہنچی کہاں کہاں ہوں میں تجھ کو پکارنے….؟ by Bushra Rehman

24 January, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
میں نے وہاں کھڑے ہو کر دیکھا…. عمارت بڑی تیزی سے بن رہی تھی۔ خوب بن رہی تھی۔ جب یہ عمارت مکمل ہو گی تو پہاڑوں کی آغوش میں ایک نیا منظر ابھرے گا….
پچھلی حکومت نے یہ منصوبہ منظور کیا تھا۔ میں نے اکثر یہاں بدلتی ر±ت دیکھی ہے۔ مجھے یاد نہیں میں کب سے یہاں آ رہی ہوں۔ شاید بچپن میں کبھی اپنی امی کے ساتھ آئی تھی۔ پھر اپنی بڑی بہن کے ساتھ آئی تھی۔ جب سے اسلام آباد پڑا¶ بنا ہے۔ اکثر آتی ہوں…. یہ اعلیٰ حضرت بری امام قدس سرہ کا مزار ہے۔ جس کی تعمیر نو ہو رہی ہے۔ ولی اللہ کنکریٹ ریت اور اینٹوں سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ بندہ اپنی نیاز مندی کا اظہار کرنے کے لئے اپنے جذبوں کو کنکریٹ کی زبان دیتا رہتا ہے۔ ہر صدی میں کوئی آتا ہے۔ عقیدت کا کوئی نیا پھول چڑھاتا ہے۔
آپ مزار پر کیوں آتی ہیں….؟
ایک عورت نے میرے قریب آ کر پوچھا۔
زندہ اور لافانی لوگوں کو دیکھنے کے لئے….
اللہ کے محبوب بندے کبھی مرتے نہیں۔ ان پر سے شب و روز، سال صدیاں گزرتی رہیں۔ وہ تابندہ رہتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی میں زندگی گزارنے والے، اللہ کے بندوں کو راستہ اور روشنی دکھانے والے۔ اللہ کے بندوں کے کام آنے والے اور اللہ کے احکامات بجا لانے والے ہمیشگی کی زندگی پاتے ہیں۔ ان کے نشانات تاابد رہتے ہیں۔
یہاں ہر وقت ایک میلہ لگا رہتا ہے۔ عورتیں مرد اور بچے…. لوگ مرادیں بھی مانگتے ہیں۔ نذر نیاز بھی چڑھاتے ہیں۔ آنسو بھی بہاتے ہیں۔ یہ سب دنیادار ہیں۔ انہیں اپنے والدین اور گھر کے بزرگوں کا حال پوچھنے کی فرصت نہیں ہے۔ یہ گھڑی دو گھڑی کسی بیمار کی عیادت نہیں کر سکتے۔ جنہیں اپنے اکثر فرائض فراموش ہوئے رہتے ہیں۔ ان کے پاس یہاں آنے کا وقت ہے۔
یہ میلے اکثر مزارات پر دیکھے۔ باہر ایک بارونق بازار ہے۔ جس میں پھول اور چادروں کے علاوہ ہر شے ملتی ہے۔ دور دیگوں والے بیٹھے ہیں۔ دانہ و دام لئے…. روز دیگیں پکائی جاتی ہیں اور تقسیم کی جاتی ہیں۔ غور کریں۔ ان مزاروں پر کتنے غریب غربا۔ یتیم ویسیر اور مسافر آ کر کھانا کھاتے ہیں….
ان کے سائے میں آ کے سو جاتے ہیں۔ عافیت پاتے ہیں۔ یہ بھی ان بزرگوں کا فیض ہے….
ان کے وسیلے سے سینکڑوں لوگوں کا روزگار لگا ہے۔ ایک جہان آباد ہے یہاں….
اور اب ان کے مزار کی توسیع اور نو تعمیر ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کے نورانی بندے ہیں۔ ہر صدی انہیں سلام کرتی ہوئی آتی ہے…. ہر صدی انہیں نوازنا چاہتی ہے۔ ہر صدی کے لوگ انہیں خراج پیش کرتے ہیں۔ ان کے توسط سے مرادیں مانگتے ہیں….
دور کھلا آسمان تھا۔ نیچے سر اٹھائے پہاڑ…. اور ان کے درمیان نئے گنبد اور نئے مینار سر اٹھا رہے تھے۔ کار کمال کن …. کار کمال کن….
کہ عزیز جہاں شوی!
میرے دل کو وہاں بڑی ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی کہ یکایک میری نظر تازہ اخبار کی شہ سرخیوں پر پڑ گئی جو غالباً کوئی پڑھتے پڑھتے وہاں چھوڑ گیا تھا….
سارا اخبار چیختے چلاتے ہوئے بیانات سے بھرا پڑا تھا…. میں ….میں…. کی آوازیں نکل رہی تھیں۔
صاحب اقتدار کہہ رہے تھے ہمیںگرانے کی کوشش کی گئی تو کچھ بھی باقی نہ رہنے دیں گے….
اک ذرا سا اختیار کیا دیا اللہ نے وہ تو ساری دنیا کو تہس نہس کرنے پر آمادہ نظر آنے لگے۔ صدر زرداری صاحب گورنر ہا¶س میں ہی تقریر کر رہے تھے۔ فیصل آباد میں تقریر کر رہے تھے….
ویسی ہی تقریر جو ہر سربراہ کرتا ہے۔ ویسا ہی زعم جو ہر بادشاہ کو ہوتا ہے۔ ویسا ہی خوف جو ہوسِ اقتدار کے ماروں کو ہوتا ہے۔ ویسی ہی دھمکیاں جو کمزوری کی علامت ہوتی ہیں۔ ویسے ہی حواری جو ہر کرسی کے گرد مکھیوں کی طرح بھنبھناتے رہتے ہیں۔ ویسا ہی موسم جو جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے لئے سازگار ہوتا ہے۔
کبھی کسی سربراہ نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس کرسی پر بٹھایا گیا ہوں۔ جب وہ چاہے گا وہ مجھے اس کرسی سے اٹھا دے گا اور میں اٹھ جا¶ں گا۔ جمہوری بادشاہ ہمیشہ کہتا ہے۔ میں عوام کی طاقت سے آیا ہوں۔ مگر اس کے پیچھے ہمیشہ خواص ہوتے ہیں۔ خواص کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں انہیں کرسی کے پیچھے لگا دیں۔ وہ چپک جائیں گے….
تاوقتیکہ کوئی دوسرا نہ آجائے….
میں نے دنیا کے بیشتر ملک دیکھے ہیں سیاح کی حیثیت سے پرانے بادشاہوں کے محل اور مقبرے بھی دیکھے ہیں۔ وہ محلات اور مقبرے عبرت کا نشان لگتے ہیں۔ وہاں میلہ نہیں لگتا۔ بس ٹکٹ لگتی ہے۔ جسے خرید کر دنیا بھر کے سیاح ان کی آخرت دیکھنے جاتے ہیں۔ محلوں نے مزارات کبھی جنم نہیں دئیے۔ محلات نے عبرت اور ویرانیاں جنم دی ہیں۔
نزدیک تریک مثال فراعینِ مصر کی ہے۔ ہمیشہ دنیا میں رہنے کے لئے، ہمیشہ حکمرانی کرنے کے لئے….
ہمیشہ دولت سے کھیلنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے انہوں نے…. مگر اللہ کی ذات کو بھول گئے آج ان کا نام دنیا میں عبرت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اپنی ممیاں تو حنوط کر لیں مگر روح کو قیامت تک بھٹکنے کی سزا دے دی۔
پرانے بادشاہوں کے مقبرے ہمارے ملک میں بھی ہیں۔ آپ جہانگیر کے مقبرے پر جا کر دیکھ لیں….
یا نور جہاں کا مقبرہ دیکھ لیں…. جو برملا کہتا ہے
بر مزارما غریباں نے چراغے نے گلے
نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے!
یہ دنیا اعمال کا ایک نگر ہے….
مگر کتنی عجیب بات ہے کہ جو آدمی سربراہِ مملکت بن جاتا ہے۔ وہ ازخود اپنے آپ کو ایک ماورائی مخلوق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اعمال سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اس کے ابرو کے اشارے پر ساری کائنات چل رہی ہے۔ جب اس کے اندر ایسا کیڑا سر اٹھاتا ہے….گرفت کی آنچ اس کی طرف بڑھتی ہے۔ جب باری تعالیٰ دنیا میں لامحدود اختیار دے دیتا ہے تو اعمال و کردار کا ترازو بھی اس پر تان دیتا ہے۔ نہ کہ وہ لامحدود خواہشات کا داعی بن جائے….
وہ آئین کی شق نمبر 61/62 کو چاہے تسلیم نہ کرے مگر قدرت اسے ایک حد تک تزکیہ نفس کی تلقین کرتی ہے اسے کچھ باتیں اپنے اوپر حرام کر لینی چاہئیں کیونکہ ایک خلقت اس کو دیکھتی ہے اور اس جیسا بن جانا چاہتی ہے۔
قیادت دو قسم کی ہوتی ہے سیاسی قیادت اور روحانی قیادت!۔
سیاسی قیادت کو ہمیشہ دینوی عزہ و جاہ اور مال و دولت کی طلب ہوتی ہے۔ وہ مناصب اور مراتب تقسیم کر کے لوگوں سے سلامیاں لیتا ہے اور دولت کے انبار لگا کے اپنے آپ کو محفوظ بناتا ہے۔
خواہ یہ دولت خلقت کا خون چوس کے اکٹھا کی ہو۔
روحانی قیادت، عیش و نشاط اور دینوی جاہ و جال سے بے نیاز ہوتی ہے۔ وہ اپنے خالق کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتی ہے۔ نفس عمارہ کے فریبوں سے نکل جاتی ہے۔ دنیا کو فنا کا گھاٹ سمجھتی ہے اور خلقت کی بے لوث خدمت کرتی ہے اس لئے اس کا نام دنیا میں رہ جاتا ہے۔
بادشاہئیت بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔
دنیوی بادشاہ اور
روحانی بادشاہ….
دنیوی بادشاہ دنیا کی ہر حرص و ہوس کا اسیر ہوتا ہے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ اقتدار میں رہنا چاہتا ہے۔ سلامیاں لینا چاہتا ہے ہر بندے سے اونچا نظر آنا چاہتا ہے۔ اقتدار کی بساط پر براجمان رہنے کے لئے ہر مہرہ استعمال کرتا ہے ہر قسم کی چال چلتا رہتا ہے۔ خلقت سے زیادہ اسے اپنا خیال ہوتا ہے۔ خود پسندی خود زعمی اور خودپرستی میں ڈوبا ہوتا ہے۔ لوگ اسے زیادہ دن یاد نہیں رکھتے۔ زیادہ سے زیادہ تاریخ میں اس کے لئے چند فقرے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
مگر روحانی بادشاہ جو دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کے لئے آتے ہیں وہ خلقت کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ ایک مٹی کے ٹیلے پر بیٹھ کر یا ایک گھنے درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلقت پر راج کرتے ہیں۔ ان کو زندگی کی رمزیں بتاتے ہیں۔ ان کے قلوب کو زندہ کرتے ہیں اور ان کو آدمیت کی معراج سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ روحانی بادشاہ صدیوں اس دنیا پر حکومت کرتے ہیں۔ دلوں پر حکومت کرتے ہیں….
ان کے مزار زندہ ہوتے ہیں اور ان کے نام پر کئی فلاحی کام ہوتے رہتے ہیں….
آپ مزار پر کیوں آتی ہیں….؟
ابھی تک وہ عورت میرا سوچ میں کھویا چہرہ دیکھ رہی تھی….
رب نظر آتا ہے یہاں….؟
کعبے میں، مسجدوں میں، مزاروں میں، دہر میں
پہنچی کہاں کہاں ہوں میں تجھ کو پکارنے؟
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب؟ by Bushra Rehman

10 January, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
المناک حادثہ ہوا اس کی تفتیش، تشویش اور بحث ابھی جاری ہے۔ راکھ کریدی جا رہی ہے۔ کتنی چنگاریاں برآمد ہو رہی ہیں۔ چنگاری کو معمولی کبھی نہ جانو۔ ذرا سی چنگاری پورا گھر پھونک سکتی ہے۔ سیانوں نے یہی کہا ہے ہاں تو یاد آیا پچھلے دنوں ایک پرائیویٹ چینل عاشورہ حادثے کی فوٹیج دکھا رہا ہے اور حسب دستور مختلف شخصیات کا نکتہ نظر معلوم کر رہا تھا کہ منظر پر کراچی کے ناظم مصطفیٰ کمال آ گئے۔ دوران سوال جواب طیش میں آ گئے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں دو مرتبہ ایک گالی کا سہارا لیا۔ پہلے کہا کیا کراچی کے لوگ الو کے پٹھے ہیں ….
دوسری مرتبہ آخری فقرے کے ساتھ پھر کہا الو کے پٹھے …. معلوم نہیں ہو سکا اس مرتبہ انہوں نے کس کو کہا۔ آگ لگانے والوں کو، آگ بجھانے والوں کو، تماشا دیکھنے والوں کو یا تماشا بن جانے والوں کو! یہ پاکستان ہے۔ یہاں محبت اور نفرت دونوں میں گالیاں جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ ہوا میں گالیاں پھینکنے کا رواج عام ہے۔ کچھ لوگوں کی گفتگو میں سے اگر گالیاں نکال دیں تو ان کی گفتگو کا متن بے کار ہو جاتا ہے۔
مگر ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب اینکر صاحب بھولا منہ بنا کر گالی کو پی گئے۔ اگرچہ یہ گالی ان کے لئے نہیں تھی مگر پوچھ ہی لیتے صاحب! کس کو الو کا پٹھا کہہ رہے ہیں اور کس خوشی میں کہہ رہے ہیں کیونکہ اکثر اینکر پرسن بڑے نازک مزاج ہوتے ہیں۔ ان کی مرضی کے خلاف بات کر دی جائے تو سارا دن اس شخصیت عورت ہو یا مرد کا حشر کر دیتے ہیں اور نشر کر دیتے ہیں۔ ان کی گالی کیسے پی گئے۔
یادش بخیر! ایک بار مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھرے مجمعے میں ایک گالی اچھال دی تھی تو یار لوگوں نے اس گالی کو نیشنلائز کر لیا تھا۔ اس کے مقابلے میں الو کے پٹھے ایک بے ضرر گالی ہے اور چاروں صوبوں میں مستعمل ہے بلکہ ہردلعزیز اور کثیرالمقاصد ہے۔ ہر امیر غریب کی زبان پر رہتی ہے۔ بازاروں میں چلتی ہے گھروں میں ملازموں کی پھٹکار کے لئے محاورہ ہے۔
اعلیٰ ترین ماڈرن قسم کی بیگمات اکثر اپنے شوہروں کو پیار بھرے انداز میں کہہ دیتی ہیں
جانو! تم بڑے الو کے پٹھے ہو۔ پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہاری پروموشن ہو گئی ہے۔ اس طبقے کے شوہر بھی لاڈ پیار میں کہہ دیتے ہیں
ڈارلنگ! تم اتنی الو کی پٹھی ہو مجھے اندازہ نہ تھا
گھر میں بیٹھنے والی تھکی ماندی اور چڑچڑی عورتیں اکثر اپنے بدتمیز بچوں سے کہتی رہتی ہیں اوئے الو کے پٹھے! بندہ بن جا نہیں تو تیرے باپ کو بتا دوں گی
بہت سی غمزدہ مائیں اپنے بچوں کو اس طرح لوری دیتی ہیں
الو کے پٹھے سو جا
چابی کے لٹھے سو جا
یاد رہے چابی کے لٹھے کا اس وقت رواج تھا جب سبز جالی منظر پر نہیں آئی تھی۔ الو کا پٹھا انگیخت کرنے والی گالی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے پسر الو۔ جبکہ اہل مغرب الو کو انتہائی دانا و بینا جانور سمجھتے ہیں اور اسے بعض جگہوں پر خوش قسمتی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ کئی گالیاں محض چڑانے کے لئے دی جاتی ہیں۔ ہر معاشرہ اپنی گالیاں خود ایجاد کرتا ہے۔
آج کل ہمارے ہاں پاکستان میں چڑانے اور دانت کچکچانے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ کوئی مشرق کی طرف منہ کرکے للکارتا ہے۔ کوئی مغرب کی طرف منہ پھیر کر پکارتا ہے
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کوئی مسکرا کر پتہ پھینکتا ہے، کوئی تلملا کر گوٹ چلتا ہے
موسم سرد ترین ہوتا جا رہا ہے۔ دھند ہے کہ چھٹتی ہی نہیں۔ بادل ہیں کہ برستے ہی نہیں۔ دبی دبی افواہوں اور گھٹی گھٹی آہوں کی وجہ سے ہی ماحول میں کچھ گرما گرمی ہے۔ ویسے سننے والوں کی سمجھ میں فوراً آ جاتا ہے کہ کون کس کے اشارے پر کس کو سنا رہے ہے
منہ پھیر کے ادھر کو بڑھا کر ادھر کو ہاتھ!
سب سے دلچسپ بولیاں گورنر پنجاب یعنی سلمان تاثیر صاحب کی ہوتی ہیں۔ ہمیں پنجاب اسمبلی میں کچھ عرصہ ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔ تب یہ ایسے نہیں تھے۔ تب زرداری صاحب بھی کچھ نہیں تھے۔ اب یہ زرداری صاحب کے ”سپوکس مین“ نظر آتے ہیں۔ جو کچھ وہ نہیں کہہ سکتے ان سے کہلوا دیتے ہیں۔ ویسے یہ بھی درست نہیں کیا کچھ ہے جو وہ نہیں کہہ سکتے۔
سلمان تاثیر کبھی کہتے ہیں پسو میرے پیچھے لگا دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں مسلم لیگ نون اپنا نام الصابرین رکھ لے۔ ان کا نشانہ سیدھے سیدھے مسلم لیگ نون ہی ہوتی ہے۔
ایک روز فرمانے لگے سترہویں ترمیم یا تیسری بار وزیراعظم کی شق تبدیل کرنے سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ پہلے تو گیلانی صاحب دو مرتبہ وزیراعظم بنیں گے پھر بلاول دو مرتبہ وزیراعظم بنے گا۔ پھر ہم ترمیم کریں گے کہ بلاول ہی تیسری مرتبہ وزیراعظم بن سکے
من چہ خیالیم و فلک درچہ خیال؟
یہی تو ہر آمر نے بھی کہا کہ اپنا عرصہ اقتدار بڑھانے کے لئے ترامیم پہ ترامیم کرتا چلا گیا مگر تابہ کے؟ آخر تو جانا ہی پڑتا ہے۔
آنے اور جانے کا ایجنڈا کوئی حکمران خود طے نہیں کر سکتا۔ یہاں اس کی پلاننگ دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔
ادھر مسلم لیگ نون کے لیڈر جناب نواز شریف دھیمے لہجے میں تردید کرتے رہتے ہیں۔ کہتے رہتے ہیں کہ اگر صدر کے خلاف کوئی سازش ہوئی تو حکومت سے پہلے ہم میدان میں ہوں گے۔ ان کے میدان میں ہونے سے ہی تو صدر صاحب کو سازشوں کا نزلہ ہوا رہتا ہے اور وہ بڑی تیزی سے اپنی برہمی کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے وفادار گورنر صاحب کی باتوں کا جواب دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ٹرین چل رہی ہے۔ مسافر بیٹھے ہوئے ہیں کون کب تک بیٹھے گا کون جانے۔
دو پہلوان اکھاڑے میں ہیں۔ دونوں جانب سے شائقین ٹکٹ خرید کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ریفری سویا پڑا ہے۔ سیٹی کی آواز نہیں آ رہی
سارا دنگل بے روح لگ رہا ہے۔ خیر چھوڑئیے ان باتوں کو ہم نے بات شروع کی تھی یوم عاشورہ کے حادثہ سے۔ اس روز اس رات کی فوٹیج دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سب سوچا سمجھا منصوبہ تھا
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!
اگر کوئی نیا دشمن ہے۔ کوئی موقعہ پرست ہے۔ کوئی ہوس پرست ہے۔ کوئی لینڈ مافیا ہے۔ کوئی پاگل ہے یا آلہ کار …. سٹی گورنمنٹ اور وزارت داخلہ کو باہم اتفاق سے کھوج لگانا ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور دہشت گردی کی آگ میں جلتا ہوا پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آ جائے۔ یہ وقت ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا نہیں ورنہ لوگ کہیں گے
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے وہن بگڑا
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ….؟ by Bushra Rehman

4 January, 2010 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اس مرتبہ سال ہجری اور سال عیسوی آگے پیچھے آئے۔ اگلے سال ممکن ہے کہ ان میں اتفاق بھی ہو جائے اور دنیا کی دو بڑی قومیں ایک ساتھ سالِ نو کا استقبال کریں اور یہ بھی جان لیں کہ ایک دوسرے کے مذہب، ثقافت اور اقدار کو برداشت کرنا ہی رواداری ہے ورنہ خالی خولی ہاتھ بڑھا کر سمیٹ لینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ دنیا کروٹ بدل رہی ہے۔
ا±مید انسانی جبلت کی روشنی ہے۔ ہر نئے دن نئے سال اور نئی حکومت سے ا±میدیں وابستہ کر لیتا ہے جو سال گزر گیا کتنے غم کتنے اندوہ، کتنے چرکے لگا گیا۔ پاکستان نے دہشت گردی، خود کش حملوں اور ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کراہتے ہوئے 2009ءگزارا۔ ایک بے یقینی بدگمانی کو ہوا دیتی رہی اور ایک بدگمانی بدفطرتوں کو راہ دیتی رہی۔
قدرتی سی بات ہے جب انتخابات کے بعد کوئی نئی حکومت آتی ہے تو ووٹ دینے والوں کی امیدیں اس حکومت سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اس بات سے اہل اقتدار کو چیں بہ چیں نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کے عوام برسر اقتدار جمہوری حکومت سے سخت ناامید ہوئے ہیں۔ دو سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ اس دو سال کے عرصے کی کامیابیاں کیا ہیں۔
ہر لمحہ یہ شور مچاتے رہنا کہ ہم عوام کی طاقت سے آئے ہیں۔ ہمارے ساتھ عوام کی طاقت ہے۔ ہم عوام کی آواز ہیں بے معنی ہیں۔ عوام کہاں ہیں؟ عوام کون ہیں؟ عوام کس حال میں رہتے ہیں۔ عوام کی توقعات کیا ہیں؟ عوام کے مطالبات کیا ہیں؟ عوام کی آواز کہاں ہے….؟ سب فرضی قصے ہیں۔ اقتدارکے ایوانوں میں عوام محض ایک مفروضہ ہے۔ اہل اقتدار کو انتخاب کے دنوں میں فقط عوام کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے اگر یہ ضرورت درختوں کے پتوں سے پوری کی جا سکتی تو کر لی جاتی۔ عوام کی اہمیت تو درخت کے سوکھے پتوں سے بھی کم ہے۔
ہر سیاسی پارٹی عوام صرف اپنی پارٹی کے نمائندوں اور کارکنوں کو کہتی ہے۔ انہی کی آواز سنتی ہے۔ ان ہی کی بات سنتی ہے اور ان کو ہی خوش کرنے میں لگی رہتی ہے۔ پاکستان میں عوام صرف محاورے میں ہیں۔ جب کوئی حکومت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ عوام عوام کا شور مچانے لگتی ہے۔
اگر کہیں سے سلیمانی ٹوپی مل سکے تو ہمارے اہل اقتدار وہ ٹوپی پہن کے ذرا عوام کی محفلوں میں جائیں مختلف مراکز میں جائیں۔ مختلف جگہوں میں جائیں اور آپ سن لیں کہ عوام کیا کہہ رہے ہیں بے سکونی کس حد تک ہے اور بدامنی نے ان کی زندگانی اجیرن کر رکھی ہے۔
جن کے دل میں عوام کا درد ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی سہولت تو عوام کو دیتے ہیں۔
ذرا 2009ءکا جائزہ لیجئے۔ بجلی گیس تیل بتدریج مہنگے ہوتے گئے اور ان کا عذر دے کر تمام اشیائے خوردونوش کے دام بڑھتے ہی گئے، بڑھ رہے ہیں۔ عوام کی سانسیں رکی جا رہی ہیں اور وہ عوام عوام کی گردان کر رہے ہیں۔ عوام زندگی کی گاڑی کھینچنے سے قاصر ہیں اور یہ عوام عوام کی س±ریلی بانسری بجاتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا اس بانسری کی دھن عوام کو مست کر سکتی ہے۔
پھر بھی جب نیا سال آتا ہے تو لوگ اس سے ساری امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور دعائیں بھیجتے ہیں۔ سردی سے ٹھٹھہرتا ہوا۔ وسوسوں کا کمبل اوڑھے….آس کا دیپ جلائے سال 2010ءآ تو گیا ہے اور پھر فہم و ادراک کے ماروں نے پیشین گوئیاں شروع کر دی ہیں۔
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
یہ بھی انسانی جبلت ہے کہ نامعلوم کو جاننے کی دھن میں رہتا ہے اور جو کچھ معلوم اور موجود ہے اس کی پروا نہیں کرتا نہ اس سے فائدہ اٹھانے کی راہ بناتا ہے اور جب سانپ نکل جاتا ہے تو لکیر پیٹا کرتا ہے….
چراغ گل نہ کرو صبحِ نو کے متوالو
کہ پو پھٹی ہے مگر بڑھ رہی ہے تاریکی!
نئے آنے والے سال کے لئے ہم بھی صرف دعا ہی کر سکتے ہیں مگر اس کا حساب کتاب دیکھیں تو یہ سال پاکستان کی تاریخ میں نہایت اہم سال ہو گا۔ کس لحاظ سے، یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس سال کے قرائن 1947ءسے بہت ملتے جلتے ہیں۔
بیگم نسیم ولی صاحبہ کا بہت شکریہ انہوں نے حاجی عدیل کی تجویز کی نفی کر دی ہے جو انہوں نے درفنتنی چھوڑی تھی کہ پاکستان کے آئین سے اسلامی کا لفظ حذف کر دیا جائے۔ ابھی انہیں چار دن کی خدائی ملی ہے تو پہلے پختونخواہ اور پھر لفظ اسلامی ….کھٹکا…. چار دن اور مل گئے تو خدا جانے یہ عوام کے نام پر پاکستان کا چہرہ کس کس طرح سے بگاڑیں گے۔ پاکستان کا نام بدلنے والے پاکستان کا عنوان بدلنے والے اور پاکستان کو توڑنے کی باتیں کرنے والے نہ پاکستان کے وفادار ہیں نہ پاکستانی عوام کے ووٹوں کے حقدار ہیں۔ عوام کو انتباہ ہو……..
چھوٹی چھوٹی کرسیاں بچانے کے لئے اتنے بڑے پاکستان کو تباہ کرنے والے تاریخ کا حصہ نہیں بن سکتے اور جغرافیہ بھی ان کو فراموش کر دیا کرتا ہے۔
اس طرف کے ہوں یا ا±س طرف کے…. باور ہو! آج پاکستان کے اندر جو بھی شخصیت برسر اقتدار و اختیار ہے وہ اسی پاکستان کی وجہ سے ہے۔ اسی پاکستان کے صدقے میں ہے۔ کوئی شخصیت پاکستان اور قائداعظم سے بڑی نہیں…. وہ اپنی خوش فہمی دور کر رکھیں جن کو وہ عوام کہہ رہے ہیں وہ اندھے نہیں ہیں۔ سماعت اور گویائی سے بھی عاری نہیں ہیں۔
ان لوگوں نے ملک کو ایک عجیب سا اکھاڑہ بنا دیا ہے….
سب کی سمجھ میں آ رہا ہے۔
ایک طرف سے آواز آتی ہے یہ منی لانڈرنگ والی رقوم باہر سے اپنے ملک میں لائیں اور پاکستان کے عوام کو سہولتیں فراہم کریں۔
دوسری طرف سے آواز آتی ہے یہ لوٹی ہوئی اور خورد برد کی ہوئی رقم خزانے میں واپس لائیں۔ عوام التجا بھری نظروں سے دونوں کو دیکھ رہے ہیں۔ کون رقم پہلے لائے گا۔ کون عوام کا دکھ بٹائے گا۔
ایں خیال است و محال است و جنوں!
صدر مملکت آصف علی زرداری کا سارا زور آج کل تقریروں پر ہے….
کیسے کیسے محاورے ایجاد ہو رہے ہیں۔ تاج و تخت اگر پلیٹ میں رکھ کر مل جائے تو بھی تاج و تخت کا بوجھ اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے……..
چہرہ تراشی کھیل نہیں ہے ہاتھ لہو ہو جاتے ہیں
یکایک زرداری صاحب فرمانے لگے ہیں۔ میرے اندر بھٹو اور بینظیر کی روحیں بولنے لگی ہیں۔کیا بولتی ہیں یہ انہوں نے نہیں فرمایا۔ ایک بندے کے اندر بیک وقت باپ اور بیٹی دونوں کی روحیں بولنے لگیں۔ حیرت کا مقام ہے۔ کیا انہیں روحوں کی زبان سمجھنے پر دسترس ہے۔ پوری سلطنت کا بوجھ تو اٹھا نہیں سکے۔ کیا دو روحوں کا بوجھ اٹھا سکیں گے۔ ہمیں خوف آ رہا ہے کہ ان کے اندر بھی بولتی بولتی بینظیر کی روح اگر باہر نکل کر سچ بولنے لگی تو کیا ہوگا۔
چلیئے اس موقع پر زرداری صاحب کو اقبال کے کچھ اشعار سناتے ہیں اگر وہ اقبال کو سننا گوارا کریں۔
خودی میں گم ہے خدائی تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لئے اب صلاحِ کار کی راہ
برہنہ سر ہے تو عزمِ بلند پیدا کر
یہاں فقط سرِ شاہیں کے واسطے ہے کلاہ
نہ ہے ستارے کی گردش نہ بازی افلاک
خودی کی موت ہے تیرا زوالِ نعمت و جاہ!
حدیثِ دل کسی درویش بے گلیم سے پوچھ
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ!!
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

کیا حکومت نام کی کوئی چیز ہے….؟ by Bushra Rehman

30 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
کراچی کے اندر عاشورہ کے سب سے بڑے اور منظم جلوس پر خود کش حملہ ہو گیا…. پاکستان ہل کر رہ گیا‘ ہر پاکستانی نے جگر تھام لیا۔ کونسی آنکھ تھی جو پرنم نہ ہوئی۔ کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اتنی تدبیروں اور اتنے حفاظتی منصوبوں کے باوجود اس قسم کا اندوہناک حادثہ دیکھتے دیکھتے دن دہاڑے ہو جائے گا۔ ہزار باتیں ہو سکتی ہیں دس ہزار تادیلیں ہو سکتی ہیں۔ مگر انہونی کو کوئی نہ روک سکا…. اب تو جو بھی ہو جاتا ہے۔ میڈیا پل پل کو دکھا دیتا ہے۔ روز حشر کیا چیخ و پکار اور آہ و بکا ہو گی جو عاشورہ کے روز دیکھی اور سنی گئی…. ہر جان جو گئی‘ ہر فرد‘ جو شہید ہوا‘ اپنے مقام پر بہت بیش قیمت تھا نہ اس کی کمی پور ہو گی نہ اس کے اقربا اسے فراموش کر سکیں گے نہ کوئی تعویز ہے جو جانے والوں کو واپس لے آئے۔ یہ درست ہے کہ جب مصیبت نازل ہوتی ہے تو اوسان خطا ہو جاتے ہیں…. مگر بہت سی قوتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جوہنگامی حالات میں اپنے اوسان بھی قابو میں رکھتی ہیں اور عوام کے حوصلوں کو بھی بکھرنے نہیں دیتیں۔ حادثے کے وقت زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھانے لے جانے‘ ہسپتالوں میں پہنچانے اور عزیز و اقارب کو تسلی دینے کے لئے اداروں کا مصروف ہو جانا سمجھ میں آتا ہے تو کیا جائے حادثہ کو فوراً خالی چھوڑ دیا جاتا ہے…. جنگی حکمت عملی میں تو پچھلا محاذ کبھی بھی خالی نہیں چھوڑا جاتا….!!
لوگ اس وقت بھی چلا رہے تھے کہ آگ د کانوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سارے میڈیا چینلز آگ کے لپکتے ہوئے شعلے برابر دکھا رہے تھے۔ صرف ایک فائر بریگیڈ اتنی زیادہ آگ نہیں بجھا سکتا تھا۔ جو نفری باہر بیٹھی ہوئی تھی اس کو آگے بڑھ کے باقی کا کام سنبھالنا چاہئے تھا۔ جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملہ نہیں کر سکتا۔ یہ پاکستان کا کوئی بیرونی دشمن ہو سکتا ہے۔ یا بہت سارے بیرونی دشمن ہو سکتے ہیں۔تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اکیلا نہیں یہ کام کر سکتا اندرونی طور پر اس کے ساتھ ایک پوری چین یا ایک پورا سلسلہ ہے۔ خود کش حملے کے بعد بھی وہ کچھ کریں گے۔ خاموشی سے مرنے سننے کا نظارہ نہیں کرتے رہیں گے۔ تمام محافظ ادارے‘ لاشیں اٹھا کر نشانیاں سمیٹ کر اس جگہ کو خالی کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔
جس دشمن نے اتنی بڑی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس دشمن کے پروگرام میں کراچی جیسے سب سے بڑے کاروباری شہر کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنا تھا۔ لوگوں کے سکون اور قرار کو لوٹنا تھا۔ پاکستان کی معیشت کو سب سے بڑا دھچکا لگانا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ کراچی شہر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے سارے صوبوں کے کاروباری دفاتر اور مراکز کراچی میں ہیں۔ بیرون ملک سے بھی سارا کاروبار کراچی کے توسط سے ہی چلتا ہے۔ کراچی روزگار کا ایک پہیہ ہے۔ اگر یہ پہیہ جام کر دیا جائے تو پورے پاکستان کی معیشت منہ کے بل گر سکتی ہے اس لئے دشمنوں نے اس حملے سے فائدہ اٹھایا اور رات بھر دکانوں کو آگ لگاتے رہے۔ کاروباری منڈی جلاتے رہے شعلے رات بھر فریاد کرتے رہے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا …. آگ بجھانے کا انتظام ہونا چاہئے تھا۔ جو بچ گیا تھا اسے محفوظ کرنے کی تدبیر ہونی چاہئے تھی۔
اگلے روز صبح فریاد کرتے ہوئے شہری اور دکاندار باری باری میڈیا کو بتا رہے تھے کہ رات گئے کچھ لوگ موٹر سائیکلوں پر آئے اور بند دکانوں کے تالے توڑ توڑ کر انہیں جلاتے رہے آگ بڑھتی رہی معیشت جلتی رہی اور کسی کو خبر نہ ہوئی …. وہاں بڑی دکانیں بھی تھیں اور چھوٹے دکاندار بھی تھے۔ جن کی زندگی بھر کی پونجی بس یہی دکانیں تھیں پتہ نہیں کتنے جتن کے بعد اب وہ اپنے پاﺅں پر کھڑ ہونے کے قابل ہوئے تھے…. پتہ نہیں اب اور کتنے برس لگیں گے انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے لئے …. ان کی مارکیٹ کے صدر جناب میر عتیق بڑی دردمندی کے ساتھ ان کا دکھ بیان کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ابھی تک آگ بجھائی نہیں جا سکی۔ حادثے کے وقت صرف چند دکانوں کو نقصان پہنچا تھا ساری رات سینکڑوں دکانیں کیسے جل گئیں۔ اور پھر جلتی ہی چلی گئیں…. بھڑکتی ہوئی آگ کو کن نمعلوم ہاتھوں نے اور بھڑکایا حیرت کی بات ہے …. کراچی جلتا رہا اور کسی کو پتہ نہ چلا …. اتنی جلدی نقصان کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے یہ نقصان صرف ایک شخص کا نہیں ہو گا‘ پورے پاکستان کا ہو گا پاکستانیوں کا ہو گا باور ہو کہ …. 27 دسمبر کو بھی ایسے ہی واقعات ہوئے تھے جب محترمہ بینظیر صاحبہ کو شہید کیا گیا تھا۔ تخریب پسند عناصر کونوں کھدروں سے نکل آئے تھے۔ احتجاج کرنے والے برباد نہیں کرتے احتجاج کا چلن اور ہوتا ہے مگر وہ لوگ کون تھے کس کے پلانٹ کئے ہوئے تھے۔ جنہوں نے قطار اندر قطار گاڑیاں جلائیں بنک جلائے بلڈنگیں جلائیں کراچی اور سندھ کو مفلوج کر دیا ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ موقع پر ست دشمن مچان لگائے بیٹھا ہوتا ہے۔ حادثہ گزر جاتا ہے۔ …. مگر دشمن حادثے کی آڑ میں پاکستان کو مالی جانی اور اخلاقی نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ع
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں
میمن برادری کے صدر جناب احمد چنوائے نے بھی یہی کہا ہے کہ حادثے کے بعد اس مارکیٹ کو تنہا چھوڑ دیا گیا سب دکاندار پوچھ رہے ہیں کیا پاکستان کے اندر آج کل کوئی حکومت ہے؟ اگر ہے تو وہ کیا کر رہی ہے۔ پشاور برباد ہوا…. لاہور پر تباہی آئی اور اب دشمنوں نے کراچی کو تاک لیا…. آگے دشمن کا کیا ارادہ ہے؟ محض بیان دینے سے مالی امداد سے‘ ہسپتالوں میں عیادت کرنے سے آگے بات جائے گی کہ نہیں …. دکانداروں کا نقصان کون پورا کرے گا…. دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط پالیسی بنے گی یا نہیں….؟
اگر دہشت گرد ساری حفاظتی باڑیں توڑنے کے طریقے وضع کر لیتے ہیں تو حکومت فول پروف ضابطے کیوں نہیں بنا سکتی۔ ان حادثات میں کیا حفاظتی اداروں کے محب وطن اور جانثار لوگ بھی اسی بیدردی سے شہید ہوتے رہیں گے اپنے غریب گھروں کے دلارے چھوٹے چھوٹے سپاہی‘ حفاظتوں پر مامور دستے …. کسی کا بھائی کسی کا بیٹا اپنی جان دے کر بھی لوگوں کو نہ بچا سکے گا…. اللہ کی رحمت ہو ان سارے معصوم شہداءپر …. جو انسانیت کو بچاتے ہوئے انسانیت کا فرض ادا کرتے ہوئے حیوانیت کی بھینٹ چڑھ گئے…. یہ کب تک ہوتا رہے گا ….یہ کب تک برداشت ہو گا…. اس کو کب تک نہ روکا جا سکے گا….؟ کراچی کے بیقرار ‘ مضمحل اور سوگوار شہری پوچھتے ہیں…. کیا اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا کر رہی ہے؟! بھائیو! وہ اپنی کرسی بچا رہی ہے!!
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

نیزے پر قرآن پڑھنے والے قاری کو سلام by Bushra Rehman

27 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
”سبطِ رسول جگر گوشہ¿ بتول سید شبابِ اہل الجنة‘ شہیدِ کرب و بلا مظلوم و شبت نینوا، شہزادہ¿ کونین حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت تاریخ اسلام کا وہ عظیم المیہ، دلخراش اور اندوہناک سانحہ ہے کہ اس پر قیامت تک ماتم برپا رہے گا۔ مظلوم امام کے سوگ مےں 61ھ سے لیکر آج تک اتنے آنسو بہائے گئے کہ اگر ان کو یکجا کر دیا جائے تو دنیا کی ہر چیز اس مےں ڈوب جائے کیونکہ امام حسینؓ ایک شخصیت ہی نہ تھے، ایک اصول تھے۔ ایک تہذیب تھے۔ ایک سیاست، ایک عہد کی تاریخ تھے، دین قیم کی تفسیر تھے۔
آج صدیاں گزریں حضرت امام حسینؓ کا ذکر گھر گھر مےں ہے، کروڑوں دل ہےں جو ان کی محبت سے آباد اور ان کی یاد سے زندہ ہےں۔ حسینؓ زندہ اور قیامت تک زندہ رہےں گے جبکہ یزیدیت ہمیشہ کے لئے ذلت کی علامت بن چکی ہے۔ یہ تمام اقتباسات جناب حضرت محمد برکت علی لدھیانوی قدس سرہ، کی تصنیف تذکرہ¿ حسین‘ شہزادہ¿ کونین علیہ السلام مےں سے رقم کئے جا رے ہےں۔
آپ لکھتے ہےں:
نو اور دس محرم کی درمیانی رات اپنی سیاہ زلفیں بکھیر چکی ہے۔ صحرائے کربلا پر دسویں رات کے چاند کی اداس کرنیں کہہ رہی ہےں
…………
کہ اے کربلا کی سرزمین! تیری پشت پر اس مقدس قافلے کی یہ آخری رات ہے، کل پیاسا قافلہ لٹ جائے گا، اس کے شہیدوں کا خون تیرے خشک ذروں کے ہونٹوں کو سیراب کر دے گا، آج کی رات ان مہمانوں کے ساتھ مروت کے ساتھ گزار دے۔ ان خیموں کے اندر ہونے والی ایک ایک بات کو اپنے سینے مےں محفوظ کر لے، سہمے ہوئے پیاسے بچوں کی آہ و بکا کو اپنے دامن دل مےں جگہ دے دے، عفت مآب بیبیوں کے پیروں کے نقوش اپنی چھاتی مےں چھپالے …….. فضا آج جتنی اداس اور مغموم ہے اتنی کبھی پہلے نہ تھی، سورج کی رنگت پھیکی پھیکی سی ہے، ہوائیں افسردہ سی ہےں، فرات کا پانی بےقراری سے اچھل اچھل کر کربلا کے اس میدان کو دیکھ رہا ہے …. خیمہ گاہِ امام مےں ایک پراسرار خاموشی ہے……..
…………
حضرت صوفی محمد برکت علی قدس سرہ مقالات حکمت مےں فرماتے ہےں….
”….عزم و استقامت کا تذکرہ بزم کونین کی تاریخ کا زریں باب ہے اور اسی سے بزم ہستی مےں کیف ہے۔
بڑے بڑے نامی گرامی شہ زور اس اکھاڑے مےں اترے مگر عزم و استقامت کے معیار پر پورے نہ اترے۔ اس راہ کی پرپیچ وادیوں مےں گھبرا کر یوں بھاگ نکلے کہ آج تک نام و نشان نہ ملا۔ دنیا مےں دنیا میلہ دیکھنے جاتی ہے، عزم و استقامت کا میدان آسمان والوں کے دیکھنے کا میلہ ہے، کروبین کے دیکھنے کا میلہ……..
آسمان والوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا ….
خلیل اللہ کو آتش نمرود مےں پھینکتے دیکھا….
ذبیح اللہ کے حلقوم پر باپ کو چھری چلاتے دیکھا ….
زکریا کو آرے سے چرتے دیکھا ….
ایوب کو آلام مےں مبتلا دیکھا….
یونس کو شکم ماہی مےں محبوس دیکھا….
یوسف کو بازار مصر مےں نیلام ہوتے دیکھا….
وہ کبھی کسی نے کسی میدان مےں نہ دیکھا….
شہزادہ¿ کونین کا سر اقدس بالائے سنان دیکھا….
تاریخ مات کر دی۔ اب بتلا کوئی کیا کچھ پیش کرتا جائے۔
شاہ شمس کی کھال ادھیڑنا…. اور منصور کو سولی پہ کھینچنا عزم و استقلال ہی کے مناظر کی داستانیں ہےں….
شہید جب شہادت کے میدان مےں اپنی جان کی بازی کے لئے آتا ہے۔ عرشی عرش اور فرشی فرش پر اس کی جان کی بازی کے کرتب دیکھنے صف آرا ہوتے ہےں۔ شہادت حیات جاوداں ہے اور موت کا بلند ترین اعزاز….
شہادت قیام شکر ہے نہ کہ قیام شکوہ¿ و شکایت….
ایمان شہادت سے کبھی نہ گھبرایا اور نہ ہی آبدیدہ ہوا …. یہ غم شہادت کا نہیں پامالی¿ حرمت کا ہے، موت کا نہیں تقدس کی تضحیک کا ہے۔ یہ غم بھی شہادت کی طرح جاوداں ہے۔
آج زندہ ہے تو حسینؓ کا نام ….
آج پائیندہ ہے تو حسینؓ کا نام….
یہ نام اور پیغام رہتی دنیا تک مینارہ¿ نور کی صورت جلوہ گر رہے گا۔ عزم جب بھی نکلا
اللہ ہی کی حمایت مےں نکلا …. تن تنہا نکلا….
عزم و استقامت کی بے مثل مثال جو کربلا کے میدان مےں پیش ہوئی۔ اس کی مثال دنیا کی کسی تاریخ مےں نہیں ملتی، ماشاءاللہ….
دریائے فرات کے کنارے عزم کے دونوں بازو کٹ گئے۔ استقامت پانی کی مشک کو منہ مےں پکڑے جا رہی ہے۔ اللہ اللہ ادھر تپتی ریت پر عزم کا سر تن سے جدا ہے اور تن زخموں سے چور زمین پر تڑپ رہا ہے۔ سر نیزے کی انی پر بلند ہے …. استقامت قرآن کریم کی تلاوت کر رہی ہے …. یہ وہ حد ہے جسے کسی ماں کے لال نے کبھی مات نہ کیا اور نہ رہتی دنیا تک کبھی مات کر سکے گا۔
شہسوارِ کربلا کی شہسواری کو سلام
نیزے پر قرآن پڑھنے والے قاری کو سلام
(اقتباسات از مقالات حکمت)
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

چراکارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی by Bushra Rehman

20 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اب کیا ہو گا………….. اب آگے کیا ہو گا؟
جس گلی سے گزریں، جس دفتر میں جائیں، جس بینک میں داخل ہوں۔ کسی محفل میں شریک ہوں، شادی کی تقریب ہو، کوئی ماحول ہو کوئی منظر ہو، لوگ ہر جگہ یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ انجام کار ہو گا کیا؟
یہ ساری مشق اور مشقت کیوں کی گئی، رازِ دروں مشتہر کیوں ہوئے اعمال نامے ظاہر کیوں کئے گئے۔
ایک عرصہ تک تو لوگ باگ یہ سمجھا کئے کہ جو کھا گئے، وہ ڈکار گئے، ہضم کر گئے، جنم سہل کر گئے اب کون واپس لائے گا انہیں یا ڈکاری ہوئی رقموں کو– ایک عرصہ تک اسمبلیوں کے اندر شور اٹھتا رہا، مخالف سمتوں سے کھانے اڑانے کے الزام لگتے رہے۔ دوسری طرف سے انکار ہوتے رہے، قرضہ لے کر ہڑپ کرنے والے، معاف کروانے والے، غبن کرنے والے وغیرہ وغیرہ کس ڈھٹائی سے اسمبلیوں کے اندر اور باہر دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ثابت ہو جائے تو کرسی چھوڑ دیں گے، مرتبہ چھوڑ دیں گے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن ثابت ہوا کہ کاغذوں پر جو رقم ہو جاتا ہے اسے وقت کی گرد نہیں مٹا سکتی جن کو رب مسند اقتدار پر بیٹھا دیتا ہے یا جنہیں عنانِ اختیار سونپ دیتا ہے وہ خود خزانے کے مالک کیوں بننا چاہتے ہیں جبکہ سب جانتے ہیں، کوئی حیثیت دائمی نہیں ہوتی، تو کیا ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی دولت رفیق حال یا مستقبل ہو سکتی ہے-؟ حیرت کا ایک جہاں کھلتا ہے، جب دولت مندوں کو ہی ہوس دولت میں مبتلا دیکھا جاتا ہے۔ خیر سیاست دانوں کی کرپشن تو ہر دور میں کھل کر سامنے آتی رہی اور وہ ڈھٹائی کی حدبندی سے انکار بھی کرتے رہے مگر باقی طبقات ہمیشہ پردے میں رہے، مثلاً ان فہرستوں میں ایک بڑی تعداد بیوروکریٹ کی ہے۔ ہم نے اس سے پہلے بھی کئی بار لکھا ہے بعض سرکاری افسروں کی شان اور آن بان دیکھی نہیں جاتی اور ان کی شاہانہ تب و تاب ان کے بچوں کی شادی کی تقریبات میں ابھر کر سامنے آتی ہیں، ان کے کھردے مزاج سے بھی نکلتی ہے۔ بیوروکریسی کی گردن اس لئے اڑکی رہتی ہے کہ الزام کی رسی بہرحال سیاست دانوں کی گردن کو ہی ناپتی ہے۔ سیاسی شخصیات جب الزام کی زد میں ہوتی ہیں تو کوئی بیوروکریٹ ان کو بچانے کیلئے آگے نہیں آتا بلکہ برے وقتوں میں راستہ بدل لیتا ہے۔
لوگ گھبرا گھبرا کر پوچھتے ہیں۔
اب کیا ہو گا؟
کیا ملبہ ہٹانے کا کام صرف اسی لئے کیا گیا ہے کہ ہڈیاں شمار کی جا سکیں۔ روایت چل نکلی ہے تو اسے ہدایت بھی بننا چاہئے۔
ہمارے ہاں استعفے دینے کا رواج نہیں ہے، بن ہی نہیں سکا کیونکہ ہر شخصیت اپنے تئیں اپنے آپ کو مستند اور حرف آخر سمجھتی ہے۔ کوئی بھی کرسی چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں ہوتا۔ استعفے دینے بہت بہادری کا کام ہے۔ الزام لگنے پر بھی بعض شخصیات ردعمل کے طور پر استعفے دے دیتی ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسا بہادر آدمی دور تک نظر نہیں آتا۔
اب رہ گئی بات مال وصول کرنے کی اور وہ بھی بمعہ سود!
وہ تو ہونا چاہئے، اب سپریم کورٹ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے رقوم وصول کرنے کی۔ پاکستان کا اجڑا ہوا خزانہ بھرنے کی اور ذلت قرضے واپس کرنے کی۔
شخصیات عہدوں کے ساتھ چمٹی رہیں گی۔ اس وقت لوہا گرم ہے ان سے پائی پائی وصول کی جا سکتی ہے۔ 55 ارب کے غیرملکی قرضے ادا کئے جائیں۔ اس کے علاوہ جو کھربوں ارب کا کالا دھن بینکوں میں موجود ہے، وہ بھی اسی طریقے سے نکلوایا جائے اور لڑکھڑاتی ہﺅی معیشت کو سہارا دیا جائے۔
جتنی تیزی سے یہ گرد اٹھی ہے اتنی تیزی سے اس کو عملی انجام تک پہنچانا بہتر ہو گا۔
ورنہ لوگوں کا عدالتی فیصلوں پر سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا۔
پورا ملک ایک سوالیہ نشان بنا کھڑا ہے۔
ڈالر مہنگا ہوتا جا رہا ہے، روپے کی قیمت گر رہی ہے، مہنگائی منہ زور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ معاملات الجھتے جا رہے ہیں، اعتماد اٹھتا چلا جا رہا ہے، بے یقینی عادت سی بن گئی ہے۔ اعتماد کسی پر بھی نہیں رہا، جھوٹ اتنا بوٹا جا رہا ہے کہ معاشرے کی برکت کو گھن کی طرح چاٹتا جا رہا ہے۔
اب بھی اگر سچ نہ اگلوایا گیا تو ساری مشق بے کار ہو جائے گی۔
جمہوریت میں یہ رسم ہے کہ ساری پارٹی مل کر اپنے لیڈر کا دفاع کرے، وہ جھوٹا ہو، دغاباز ہو، کرپٹ ہو، بے عملا ہو مگر پارٹی کے سارے لوگ سُر میں سُر ملا کر اس کی تسبیح کرنا شروع کر دیں۔ آج الیکٹرانک میڈیا پر اسی قسم کی مالائیں جپی جا رہی ہیں اور سنگیت سُر ملائے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی آگے بڑھ کر اپنا قصور ماننے کو تیار نہیں ہے، کسی کے لب پر معذرت خواہانہ الفاظ نہیں ہیں، کوئی بھی تھوڑا سا خجل شر شرمسار نظر نہیں آ رہا۔ کمال ہے…. ڈھٹائی اس درجہ طاقتور، یہ بہت بڑا امتحان ہے!
سب کے لئے….
اور سولہ کروڑ عوام بھی اس امتحان میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے ووٹ دیئے ہیں ان سب لوگوں کو جو منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔
بعض اوقات بدترین حالات میں سے بھی بہترین نتائج نکل آتے ہیں۔ گھپ اندھیرے رات میں کوئی ستارہ نکل آتا ہے۔ ممکن ہے بدترین این آر او میں سے بھی خوبی قسمت کا کوئی استعارہ نکل جائے جو ڈوبی ہوئی کشتی کو ساحل کی طرف لے آئے….
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں اپنے عزیزوں سے ملنے کینیڈا گئی ہوئی تھی۔ پاکستانی کمیونٹی نے مجھے مدعو کیا۔ اس دعوت میں بہت سے پاکستانی نوجوان شریک تھے جو وہاں کے مختلف بینکوں میں جاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں پاکستانی بیوروکریٹس کی ایک کثیر تعداد آباد ہے جو پاکستان سے اربوں روپیہ غبن کر کے ان کے بینکوں میں لے آئے ہیں۔ اس سرمائے کے عوض اپنے بچوں کو بینکوں میں بہترین جاب دلوا رکھے ہیں اور خود آرام اور آسائش کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اگر بندے کے پاس ضمیر جیسی کوئی چیز باقی نہ رہے…. تو
کیا بے تحاشا دولت….
آسائش کی زندگی….
اور سب سے بڑا عہدہ اسے ذہنی سکون عطا کر سکتا ہے؟
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,