Aftab Iqbal

کلاسیفائیڈ اشتہارات by Aftab Iqbal

7 September, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
شوہر متوجہ ہوں
ہرگاہ خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کو شک گزرے یا باقاعدہ محسوس ہو کہ وہ فلمسٹار میرا کا شوہر نامدار یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز یعنی عاشق جاں نثار ہے تو وہ ایک بار پھر سوچ لے کہ ع
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے ’’مرنا ‘‘ ہے!
تا ہم اگر مذکورہ کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے افراد اور آوارہ ٹائپ احباب پھر بھی باز نہ آئیں اور اپنی ضد زوجیت پر قائم و دائم رہیں تو پھر ان سے گزارش ہے کہ پندرہ یوم کے اندر اندر اپنے کلیم معہ ثبوت‘ یعنی نکاح نامہ (جو کہ یقیناً جعلی ہو گا)‘ گواہان کے بیانات حلفی (اللہ ان سب کو غارت کرے آمین ثم آمین) اور تصاویر وغیرہ لے کر دفتر ہذا پیش ہوں تا کہ معاملے کی جانچ پڑتال جدید سائنسی بنیادوں پر ہو سکے۔
پندرہ یوم گزر جانے کی صورت میں فلمسٹار مذکورہ کسی قسم کی بھی بکواسیات سننے کی پابند نہیں ہو گی کیونکہ وہ آج بھی نہ صرف لالی وڈ بلکہ بالی وڈ اور اگر تھوڑی ’’محنت‘‘ مزید کر لے تو ہالی وڈ کی صف اول کی اداکارہ ہے اور اس کے پاس لغویات کے لئے چنداں وقت نہیں ہے۔ وہ ایک مصروف کار ہیروئن ہے جو بلاشبہ یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ فلموں میں کام کئے بغیر بھی بیحد مصروف ہے کہ اس کا پارٹ ٹائم پراپرٹی کا بھی بزنس ہے۔
یہاں یہ بتانا بھی ازحد ضروری ہے کہ فلمسٹار مذکورہ آجکل بھارتی فلم پروڈیوسر و ہدایتکار مہیش بھٹ کی طرف سے ملنے والے صدمات کے سبب بھی نہایت پریشان اور رنجیدہ ہے۔ اس بڈھے کھوسٹ کی بھی سنئے کہ آگے پیچھے میرا میرا کرتا نہیں تھکتا تھا مگر پچھلے دنوں عتیق الرحمن نامی ایک صاحب کے پریشان کرنے پر جب ممبئی فون کرکے میرا نے اس سے مدد کی درخواست کی تو یہ کھوسٹ کہنے لگا کہ اگر میرا نے ماضی میں ’’اس قسم کی‘‘ حرکتیں کر رکھی ہیں تو پھر اسے بھگتنی پڑیں گی۔ لعنت ہے ایسی دوستی پر۔ میرا نے اسی صدمے کے سبب عہد کر لیا ہے کہ آئندہ مہیش جی جیسے قریب المرگ عشاق پر دور سے ہی لعنت بھیج دینی ہے۔
یاد رہے کہ شادی وغیرہ کا الزام ثابت نہ ہو سکنے کی صورت میں قذف کا قانون بروئے کار لایا جائے گا‘ تا ہم اس صورت میں بھی بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے اور دونوں جانب کے معزز وکیل کروڑ دو کروڑ کی حقیر رقم بطور ہرجانہ مقرر کر کے اداکارہ کی تلافی کر سکتے ہیں۔
المشتہر : انجمن خیر خواہان و مداحین میرا (رجسٹرڈ) لاہور
جنات درکار ہیں
چالیس روپے فی کلو والے عدالتی حکم پر عملدرآمد کروانے کے لئے فرض شناس اور کارآمد قسم کے جنات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے تمام وزیر‘ مشیر‘ افسران و دیگر مخولیئے مسئلہ حل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ خواہشمند جنات اپنا سی وی ہمراہ تازہ تصویر (خواہ کتنی ہی بدشکل کیوں نہ ہو) زیر نظر پتے پر ارسال کرکے اس قومی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔
المشتہر : گڈ گورننس گروپ‘ تندور پورہ‘ لاہور
خراج تحسین
رزق حرام کا حصول آسان بنانے اور کرپشن سمیت دیگر خباثتوں کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے احتساب بل کے عنوان سے جو خدمات سرانجام دی ہیں‘ اس پر ہم اپنی اور تمام اہل وطن کی طرف سے اپنے جواں ہمت حکمرانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہ کارنامہ رہتی دنیا تک موجودہ حکومت کی ’’نیک نامی‘‘ کا سبب بنتا رہے گا۔ اس سے جہاں لاکھوں سرکاری ملازمین کی آل اولاد مزید کروڑ پتی اور بعض صورتوں میں ارب پتی بن سکے گی وہاں ’’انہی‘‘ کے گھر میں ڈانگ پھیرنے کی جو روایت پچھلے تیس سال سے قائم و دائم ہے، اس میں نئی جان بھی پڑ جائے گی۔ ہم ماضی، حال اور خصوصاً مستقبل کے، راشی، مرتشی اور ’’کاریگر‘‘ افسروں کو اس بل کے حوالے سے پیشگی مبارکباد دیتے ہیں کہ آپ احباب کے دم قدم سے ہی دنیائے کرپشن میں رونق میلہ لگا ہوا ہے۔المشتہر: ’’انہی کے گھر میں ڈانگ پھیر‘‘ ایسوسی ایشن پاکستان۔
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

فلمسٹار میرا اور بارشوں کا موسم by Aftab Iqbal

1 September, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اوائل جوانی میں انواع و اقسام کی بیہودگیاں کرنے والے اکثر ’’شرفا‘‘ کو ادھیڑ عمری میں لاحق سب سے بڑا خطرہ یہی ہوتا ہے کہ ماضی کی کوئی بھولی بسری خاتون کسی روز ہاتھ میں ایک عدد نکاح نامہ پکڑے ان کے گھر پر ہی نہ پہنچ جائے۔ اس قماش کے حادثے عموماً مردوں اور فلمسٹار عورتوں کو ہی پیش آتے ہیں جن کی وجوہات بیشمار ہیں۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھر اس صورتحال کا اکثر شکار رہتے ہیں مگر کیا مجال جو آپکے چہرے پر کبھی پریشانی کا شائبہ بھی نمودار ہوا ہو۔ ویسے اس صبروتحمل کی وجہ کثرتِ غم ہی بتائی جاتی ہے کہ موصوف آئے دن اس طرح کے کسی جھنجھٹ میں کسی نہ کسی طور الجھے ہی رہتے ہیں۔ آج کل ان کے صبر کا امتحان نیلوفر نامی ایک محترمہ لے رہی ہیں!
بارشوں کے موسم میں جہاں مختلف حشرات الارض، کیڑے مکوڑے اور ’’سپ سلونگ‘‘ وغیرہ نکلتے ہیں، وہاں ہر دوسرے تیسرے سال برسات میں اداکارہ میرا کا ایک آدھ نام نہاد شوہر بھی کسی کونے کھدرے سے ضرور ہی برآمد ہو جاتا ہے۔ اس سال بارشیں جوں جوں تھمتی جا رہی تھیں، ہماری حیرت بھی توں توں ہی بڑھتی جا رہی تھی کہ امسال بھی بارشوں کے موسم میں نہ تو سیلاب آئے، نہ لاہور کی کوئی قابل ذکر تاریخی عمارت یا حویلی منہدم ہوئی، نہ شہباز قلندر کے زائرین کو ماسوائے ایک آدھ کے کوئی لمبا چوڑا حادثہ پیش آیا، نہ ہمارے دوست عزیزی ناہنجار کو ہیضہ ہوا اور نہ ہی فلمسٹار میرا کے کسی مبینہ شوہر نے اپنے ظہور کا اعلان کیا۔
خیر میرا کی طرف سے ہماری حیرت بھی میرا ہی کی طرح کافی ’’کم عمر‘‘ واقع ہوئی ہے۔ کل ہی اس کا ایک اور مبینہ شوہر عتیق الرحمن نامی منظرعام پر آ گیا۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ اب تک میرا پر مبلغ پانچ کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے۔ یہ بات اس آدمی کے دماغی توازن کا اندازہ کرنے کیلئے کافی ہونی چاہئے۔ ہمارے دوست عزیزی ناہنجار کا دعویٰ ہے کہ یہ شخص یا تو پاگل ہے اور یا پھر جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ فلمسٹار میرا پر پانچ کروڑ خرچ کرنے والے کو پہلی فرصت میں ہی کسی اچھے ڈاکٹر سے دماغی صحت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہئے۔
ناہنجار مصر ہے کہ اگر عتیق صاحب دماغی طور پر ہلے ہوئے نہیں تو پھر یقینا جھوٹ بول رہے ہیں اور یا پھر انہیں مغالطہ لگا ہے کہ پانچ لاکھ کو پانچ کروڑ کہتے چلے جا رہے ہیں۔ تاہم اگر دیکھا جائے تو مذکورہ کیس میں پانچ لاکھ بھی زیادہ ہے جس پر عتیق صاحب کا پاگل نہیں تو کم از کم بیوقوف ہونا تو ضرور ہی ثابت ہوتا ہے۔
میرا نے منظرِعام پر آنے والے اس شوہر کی تصدیق کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور اس ’’واردات‘‘ کو اپنے کسی ماموں کی سازش قرار دیا ہے جو مبینہ طور پر عتیق صاحب کے ساتھ مل کر اس سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر عتیق صاحب کے پاس نہ صرف نکاح نامے کی مصدقہ نقل موجود ہے بلکہ انہوں نے کہیں سے چند نایاب قسم کی ’’تصویرِ بتاں اور حسینوں کے خطوط‘‘ بھی پیدا کر لئے ہیں جن میں فلمسٹار میرا سر پر دوپٹہ اوڑھے ایک نیک پروین کے روپ میں نظر آتی ہے۔ ویسے یہ بھی کوئی فلمی سین ہی لگتا ہے!
گالی گلوچ اور جھگڑے کے بعد معاملہ کورٹ کچہری تک جا پہنچا ہے اور عتیق صاحب بیچارے اس وقت ڈبل پریشانی کا شکار ہیں کہ موصوف کی پہلی بیوی اور بچوں پر مشتمل فیملی فیصل آباد میں موصوف کی ’’لِتریشن‘‘ کا نہایت مناسب بندوبست کئے بڑی شدت کے ساتھ اس شبھ گھڑی کا انتظار کر رہی ہے۔ البتہ فلمسٹار مذکورہ کو بظاہر کسی لمبی چوڑی پریشانی کا ہر گز سامنا نہیں ہے کیونکہ کھر صاحب کی طرح اس بیچاری پر بھی اس قماش کی مشکلیں کچھ اتنی پڑ چکی ہیں کہ اب آساں ہو گئی ہیں!
عتیق صاحب مصر ہیں کہ وہ میرا کے شوہر ہیں جبکہ میرا کا کہنا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور صرف جائیداد ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔ عزیزی ناہنجار کا کہنا ہے کہ اگر عتیق صاحب اس مبینہ چھینا جھپٹی کی بجائے میرا کے ہاں بس اپنا ہومیوپیتھک سا آناجانا جاری رکھتے تو فریقین کو ہرگز پریشانی نہ ہوتی۔ بلکہ اپنی ہر آمد پر اگر وہ میرا کو یہ شعر بھی سنا دیا کرتے تو ماحول قدرے رومانٹک بھی رہتا اور میرا کو جائیداد کی فکر بھی لاحق نہ ہوتی۔ شعر دیکھئے۔ … ؎
تیری محفل سے مجھے کچھ نہیں لینا دینا
میں تو بس یاددہانی کے لئے آیا ہوں
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

قصہ چہار وزیر by Aftab Iqbal

31 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ہمارے مخبر اعلیٰ کی طرف سے آنے والی تازہ ترین خبر کے مطابق ایک اہم وفاقی وزیر یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کی غرض سے اس سال شمالی یورپ کے ایک ملک تشریف لے گئے۔ جاتے جاتے موصوف چار افراد کو بھی اپنے ہمراہ یہ کہہ کر لے گئے کہ یہ لوگ میرے وفد کا حصہ ہیں۔ تاہم چاروں اشخاص مذکورہ ملک پہنچتے ہی دائیں بائیں ہو گئے اور تاحال لاپتہ ہیں۔ مخبر کا کہنا ہے کہ وزیر محترم نے چاروں افراد سے فی کس بارہ لاکھ روپے وصول کرکے اپنے آپ کو ازلی اور ابدی ضرورت مند ثابت کر دیا ہے۔
مذکورہ وزیر کے ساتھ ہمیں واحد اختلاف بس یہی ہے کہ یہ حضرت ہر تیسرے دن کوئی نہ کوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہی رہتے ہیں مگر تقریباً ہر کارنامے کے فوراً بعد ایکسپوز بھی ہو جاتے ہیں، دیکھنے میں تو کافی سمجھدار لگتے ہیں مگر یہ باتیں انتہا درجہ ناسمجھی کی ہیں۔ چنانچہ ہم ذاتی طور پر یہ ہی سمجھیں گے کہ یہ واقعہ اگر ہوا ہے تو بیچارے وزیر سے بالا بالا ہی ہوا ہے کیونکہ کوئی بھی سیانا شخص اس قماش کی حرکت کر ہی نہیں کر سکتا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چاروں مذکورہ بھگوڑے وزیر محترم کے خاص ورکر ہوں اور کسی شدید سیاسی مصلحت اور مجبوری کی بنا پر موصوف کو یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا ہو بہرحال، اصلی تشویش ہمیں اس بات کی ہے کہ متعلقہ سفارت خانہ تو کھپ ڈال کر اس حکومت کی رہی سہی مٹی بھی پلید کر ڈالے گا جب کہ رہی سہی کسر وزیر باتدبیر کے سیاسی مخالفین نکال دیں گے کہ اس طرح کی باتیں زیادہ دیر چھپی نہیں رہتیں۔
اگر دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کا ہر تیسرا وزیر آج کل کسی نہ کسی سکینڈل میں ضرورت ملوث نظر آتا ہے۔ یہ دوست صبح و شام الزامات کی بوچھاڑ کا سامنا کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے فی الحال اقبالی بیان تو کسی ایک کی طرف سے بھی نہیں آیا اور نہ ہی آنے کی توقع ہے، بلکہ ہر متعلقہ وزیر پوری شدومد کے ساتھ ان الزامات سے انکار کر رہا ہے اور ہم بھی حسن ظن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر وضاحت اور ہر صفائی پر سر تسلیم خم ہی کرتے چلے جا رہے ہیں۔
پچھلے ہفتے ہم نے وزیر صنعت و پیداوار میاں منظور احمد وٹو کے بارے میں ادھر ادھر ہونے والی چہ میگوئیاں بارے کچھ قلم زنی کا ارتکاب کیا تھا۔ میاں صاحب کا فون آیا اور ایک طویل عرصے بعد موصوف کی ڈیپریشن میں ڈوبی آواز سننے کا اتفاق ہوا۔ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی فرمائش کی کہ ان کے وضاحتی خط کو ہم اپنے کالم میں ضرور شامل کریں تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی اُجاگر ہو سکے مگر جب موصول ہوا دیکھ کر یوں لگا جیسے حضرت خط نہیں بلکہ کتاب لکھنے کا ارادہ کر چکے تھے بس کسی مصلحت کے تحت ہم پر رحم کھا گئے اور محض خط پر ہی اکتفا کر لیا۔ چنانچہ خط کی طوالت کے سب ہم آج کی گپ شپ یہیں پر ختم کرتے ہیں تاکہ موصوف کا محبت نامہ من و عن شامل کیا جا سکے۔ آج ہم نے تذکرہ تو کرنا تھا چار عدد وزیروں کا مگر جگہ کی قلت کے سبب آج فقط دو پر ہی اکتفا کیجئے، باقی آئندہ! اور میا ں صاحب کا خط:
عزیزی آفتاب اقبال صاحب!
السلام علیکم! مزاجِ گرامی!
آپ کا کالم حسب حال نظر سے گزرا، آپ نے اپنے مخصوص انداز میں میری اور میری وزارت کی گوشمالی کی ہے۔ اور ساتھ ہی کچھ مفید مشوروں سے بھی نوازا ہے۔ میں اس کرم فرمائی کیلئے آپ کا سپاس گزار ہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو چند گزارشات پیش خدمت کروں امید ہے آپ انہیں اپنے خوبصورت کالم کی زینت بنانے کا شرف بخشیں گے۔ میرے اسلوب سیاست اور ذاتی معاملات سے آپ خوب واقف ہیں۔ میں نے پوری زندگی دیانتداری اور سخت محنت کو اپنا شعار بنائے رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرے خاندان کی آج بھی وہی پراپرٹی ہے جو آج سے پچیس سال پہلے تھی۔ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ 1998ء میں اپنے دور اقتدار سے پہلے اور بعد کے اپنے خاندان کے اثاثوں کا روزنامہ جنگ سمیت قومی اخبارات میں بذریعہ اشتہارات اعلان کیا آج بھی میں اس ڈکلیریشن پر قائم ہوں۔ اس میں میرے بچوں نے ایک عدد سکول اور ایک پٹرول پمپ کا اضافہ کیا ہے۔
یہ درست ہے کہ رب العزت کے کرم سے میرے علاقے کے لوگوں نے مجھے اپنی محبت سے نوازا اور پوے ملک کے اندر یہ منفرد اعزاز بخشا کہ آزاد حیثیت میں مجھے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب کیا اور میری بیٹی کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب کیا اور میرے بیٹے کو ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب کیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے مجھے وزارت صنعت و پیداوار کے منصب سے نوازا۔ میں نے وزارت صنعت و پیداوار کے حصول کیلئے پارٹی قیادت سے نہ کبھی مطالبہ کیا اور نہ کوشش کی۔ پارٹی نے خود اس کا فیصلہ کیا اور میں نے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے اس کو قبول کیا۔
میں یونین کونسل کے چیئرمین سے لیکر دو مرتبہ ضلع کونسل کا چیئرمین ، چار مرتبہ صوبائی اسمبلی کا ممبر، چار مرتبہ قومی اسمبلی کا ممبر، تین مرتبہ سپیکر صوبائی اسمبلی، اور دو مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب آئینی طریقے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہوں۔ الحمد اللہ! میرے سیاسی کیریئر پر ایک بھی نامزدگی کا داغ نہیں ہے۔ آپ کی واقفیت کیلئے عرض کروں کہ سیاست میں کوئی کسی پر رحم نہیں کرتا۔
انگریزی میں اس کیلئے کہتے ہیں
“Its a Game of Survival for the Fittest.”
آپ نے میری عمر اور محنت پر زور دیا ہے میں خداوندتعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے صحت مند زندگی عطاء کی ہے۔ میں روزانہ سولہ سترہ گھنٹے منظم طریقے سے محنت کرتا ہوں۔ میرا طویل کیرئیر جس میں زندگی کی ٹھوکریں پارلیمانی اور انتظامی تجربہ اور میرا سیاسی مقام میری قوم کی امانت ہے۔ اور جب تک اللہ تعالیٰ نے توفیق دی شبانہ روز محنت کے ذریعے پرخلوص طریقے سے اپنی قوم کو لوٹاتا رہوں گا۔ انگریزی کا مشہور قول ہے۔
“Anyone who stops Iearning is old, Whether at Twenty
or eighty. Anyone who Keeps learning stays young.”
آپ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے میری مخالفت کا ذکر کیا ہے میں ان کی بے حد عزت کرتا ہوں اس لئے کہ وہ سیلف میڈ ہیں میرا اور ان کا تعلق ایک ہی سیاسی برادری سے ہے اور انہوں نے سخت محنت کے ذریعے اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر پاکستانی سیاست میں اپنا مقام بنایا ہے میں ویسے بھی ملک میں موجود قومی مفاہمت کی فضا کو قائم رکھنے کا زبردست حامی ہوں اس لئے کہ موجودہ گھمبیر مسائل اور چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کا قومی یکجہتی کے بغیر اور کوئی حل نہیں ہے۔
1995ء میں میرے وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد میرے اور میرے خاندان کے خلاف بارہ مقدمات بنائے گئے اور میرے بیٹے سمیت میرے خاندان کے سبھی قابل ذکر افراد کو پابند سلاسل کیا گیا یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے مجھے اور میرے خاندان کے افراد کو سب مقدمات میں باعزت بری کیا اس لئے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں نے ثابت کر دیا کہ میری سیاست صاف اور شفاف ہے۔
میری پریس کانفرنس کا آپ نے مخولیہ انداز میں ذکر کیا ہے۔ حالانکہ 1994ء سے لے کر جب میری وزارت اعلیٰ میں آپ میرے میڈیا ایڈوائزر تھے تو آپ میری پریس ہینڈلنگ کی تعریف کرتے رہے ہیں اور بعد میں کچھ عرصہ سے آپ سے رابطے میں کمی رہی اس کو میں دور کرنے کی کوشش کروں گا۔
والسلام ۔آپ کا خیر اندیش ۔میاں منظور احمد وٹو ۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اسلام آباد
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

کرپشن by Aftab Iqbal

25 August, 2009 (2) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ہم نے کافی غوروخوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ قوم اور اس کے حکمران دنیا بھر کے ڈھیٹ ترین لوگ واقع ہوئے ہیں۔ ان کی کھلڑی اس قدر موٹی ہے کہ اس پر چھوٹی موٹی تو درکنار لمبی چوڑی بات بھی اثر نہیںکرتی۔ ہم نے پچھلے چند سالوں کے دوران اس بات کا ڈھنڈورا سینکڑوں بار پیٹا ہے کہ ہمارا پیارا وطن پاکستان کرپشن کی ایسی آماجگاہ بن چکا ہے کہ اب اس کی صفائی ستھرائی کسی انسان کے بس کا روگ نہیں ہے اور اللہ کریم ہی کچھ کرے تو کرے، ہمارا اپنا کوئی کھاتہ نہیں، مگر ہماری اس حال دہائی کا کسی فریق پر بھی چنداں اثر نہیں ہوا، کرپشن کا بازار شان و شوکت کے ساتھ گرم ہے کہ اس گرمئی بازار میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اب ہمیں اس ذلت پیہم کو بھگتنے کی عادت اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ اب ہمارے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں رہی۔ ہمارے قومی نتھنے اب اس تعفن کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ وہ اب کسی تازہ ہوا میں سانس لے ہی نہیں سکتے۔ کرپشن اب ہماری ضرورت نہیں بلکہ عادت بن چکی ہے، پوری کائنات کے برعکس ہمارے یہاں جھوٹ اور دھوکہ دہی ضرورتاً نہیں بلکہ عادتاً رائج ہے۔
اصولی طور پر تو یہی چاہئے تھا کہ ہم اس بے ہودہ سے پندونصائح والے سلسلے کو ختم کرکے واپس ہنسی مذاق کی طرف چلے جاتے اور اس سلسلہ ذلالت کو جاری رہنے دیتے مگر کیا کریں کہ اپنے گردونواح میں پھیلی کرپشن کی یہ غلاظت دیکھ کر تو ہم مزاح نگاری بھی بھول چکے ہیں۔ اب ہم چاہیں بھی تو ہمیں کوئی مخولیہ بات باآسانی نہیں سوجھتی، ہمیں بے پناہ تردد کرنا پڑتا ہے اور تردد کرکے لکھا گیا کالم جو اب مضمون بن جاتا ہے کالم نہیں رہتا۔ بہرحال، ڈھٹائی چونکہ ہم میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس لئے ہمت ہم نے بھی نہیں ہاری، ہم نے بھی سوچ لیا ہے کہ خواہ کسی پر اثر ہو نہ ہو، ہم نے کرپشن کا راگ الاپتے ہی رہنا ہے۔
اس ملک کو ٹھیک کرنے کی فکر ویسے تو یہاں کے تقریباً 16 کروڑ عوام کو بیک وقت ہی لاحق ہے اور ہر کوئی اس ملک کو حسب توفیق ’’تُھک‘‘ بھی لگاتا چلا جا رہا ہے مگر چند ایک سر پھرے آج بھی بہرحال موجود ہیں کہ جن کے دم قدم سے امیدکی ایک موم بتی آج بھی روشن ہے، پچھلے کئی ماہ سے روزانہ بیسیوں بار لگاتار سوچ سوچ کر بھی ہم اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کرپشن میں کمی نہیں بلکہ خاتمہ کئے بغیر آپ پاکستان کو تباہ وبرباد ہونے سے بچا نہیں سکتے، اور کرپشن کا خاتمہ احتساب کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ہمارے حکمرانوں اور حکومتی اداروں کی کج روی نے اب تک ثابت کر دیا ہے کہ یہ تمام نصابی باتیں عظیم مخول ہیں کہ سب سے بڑا احتساب الیکشن ہوا کرتے ہیں، اور یہ کہ سب سے بڑا انتقام جمہوریت ہوتا ہے، یہ سب کچھ صریحاً بکواس ہے کیونکہ الیکشن والا احتساب زیادہ سے زیادہ ان بھیڑیوں کو پانچ سال کیلئے نظروں سے اوجھل کرتا ہے مگر پھر ٹھیک چند سالوں بعد یہی بدبودار کردار اور بدنما چہرے بار دیگر آپ کے اعصاب پر آن سوار ہوتے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ ایبڈو اور پروڈا جیسے جمہوریت کش قوانین کی مخالفت کی ہے کہ جنہیں استعمال کرکے ایوب اور یحییٰ جیسے ملٹری ڈکٹیٹروں نے سیاسی لوگوں کا جینا حرام کئے رکھا۔ منتخب نمائندوں کو جب کرپشن کے نام پر نااہل قرار دیا گیا تو بڑے بڑے گندے لوگ نکال باہر کئے گئے، مگر یہ شاید اتنا ہی ضروری تھا جتنا کہ آج نظر آتا ہے، اس وقت بھی گیہوں کے ساتھ گھن پیسا تھا اور پاکستانی سیاست حسین شہید سہروردی جیسے بے مثل سیاستدانوں سے بھی محروم ہو گئی تھی مگر ایبڈو کی سب سے بڑی قباحت ہی یہی تھی کہ ایوب خان نے کوئی فالو اپ پلان تیار نہیں کیا تھا اور محض اپنی ذات کے گرد گھومنے پھرنے والا ایک واہیات سا سیاسی نظام دے کر ملک کو سینکڑوں سال پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔
امید تھی کہ عدلیہ اور سول سوسائٹی ہی کوئی کردار ادا کرکے احتساب کے اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے کہ جو مشرف کی نااہلی اور بدنیتی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مگر لگتا یہ ہے کہ سفاک اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کے پر بھی حسب ضرورت کاٹ ڈالے ہیں اور وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا کردار ادا نہیں کر پا رہی جو اس سے متوقع تھا۔ سول سوسائٹی بھی اس لطیفہ نگری کے اسرارورموز کو کچھ کچھ سمجھتے ہوئے کنارہ کش ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو کسی نے اس بات پر شور مچانے کی زحمت گوارا کی کہ پی پی ایل کی تقریباً چھ ارب روپے مالیت کی عمارت واقع لاہور کو کس ڈھٹائی کے ساتھ بعض ’’دوستوں‘‘ کو محض دو کروڑ روپے میں 33 سال کی لیز پر دے دیا گیا۔ آخر کوئی تو اس بدنصیب ملک میں ایسا ہونا چاہئے کہ جو ان تمام متعلقہ افسران سے پوچھ سکے کہ بھئی خدا کے بندو، تم نے آخر یہ ظلم کس برتے پر کر ڈالا۔ کیا تم نے خدا کو جان نہیں دینی۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی ویژن اس وقت تین آدمیوں کی کرپشن کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ صرف گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اس کم نصیب کو مبلغ ستر کروڑ روپے کا ٹیکہ بذریعہ کرپشن لگایا جا چکا ہے اور اس بار تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان ٹیلی ویژن خسارے کا بجٹ پیش کرنے جا رہا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ارباب بست و کشاد کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
آخری گزارش ایک بار پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہی کی جا سکتی ہے کہ قبلہ اگر جونیجو مرحوم اپنے تین وزیر کرپشن کے سبب نکال سکتے تھے تو آپ کو ایسی کیا مجبوری لاحق ہے، آپ بھی بسم اللہ کیجئے۔ کم از کم پچاس وزرائے کرام اس مظلوم قوم کو اپنے بوجھ سے نجات دلوا سکتے ہیں۔ خدارا، ان نام نہاد پبلک سرونٹس سے بھی بازپرس ضرور کریں کہ جو مختلف محکموں میں بیٹھے صبح و شام ’’انہی‘‘کے گھر میں ڈانگ پھیرتے چلے جا رہے ہیں۔
یاد رکھئے‘ اگر آپ نے یہ کام شروع نہ کیا تو پھر کوئی اور کرے گا اور وہ صورتحال آپ کیلئے قطعاً قابل قبول نہ ہو گی۔ چلیئے شاباش، اٹھیئے، پہلا قدم اٹھائیے۔ اس ماہ کریم کو ایک درخشاں مثال بنا کر اپنا نام تاریخ میں محفوظ کروائیے۔ چلئے شاباش اٹھیئے اور اس بار سچ مچ کچھ کرکے دکھائیے!
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں by Aftab Iqbal

21 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
خبر ہے کہ بھارتی شہر شملہ میں بیویوں کے ستائے شوہروں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس کا اہتمام بنگلور کی ایک این جی او نے کیا ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں بھارتی کرکٹر انیل کمبلے کی بیگم صاحبہ کے سابق شوہر نامدار بھی بطور متاثرہ خاوند شرکت کر رہے ہیں۔
ہمارے بے شمار مظلوم قسم کے دوستوں نے بھی اس کانفرنس کے جملہ اغراض و مقاصد کو سراہتے ہوئے اسی کی طرز پر اپنے یہاں بھی ایسی پرآشوب تقاریب کی اشد ضرورت بیان کی ہے۔ ویسے خدا لگتی تو یہی ہے کہ اس طرح کا کم از کم ایک آدھ فورم تو یہاں ضرور ہونا چاہئے تاکہ بے زبان یعنی شریف ٹائپ شوہر حضرات بھی ایک جگہ بیٹھ کر غم غلط کر سکیں۔ ہمارا اپنا شمار بھی شوہروں کی اسی کیٹیگری میں ہوتا ہے مگر ہم ذاتی طور پر اس قماش کے کسی اکٹھ میں شریک ہونے کا رسک ہرگز نہیں لے سکتے کیونکہ کسی نہ کسی طور ہماری اس حرکت کی مخبری ہمارے گھر پہنچ سکتی ہے اور اس کا انجام کافی عبرتناک بھی ہو سکتا ہے چنانچہ ہم خود تو ایسی متنازعہ قسم کی کسی کانفرنس میں شریک نہیں ہونگے مگر جو احباب ’’کثرتِ غم خواری‘‘ کے سبب اب اپنی ہڈیوں کے اندربیگمات کی متشددانہ کارروائیوں (مراد لتریشن وغیرہ) کا ڈر خوف محسوس نہ کرتے ہوں یا جن کے ہاتھ‘ پیر‘ منہ‘ سر و دیگر مقامات حوادث زمانہ کے سبب سن ہو چکے ہوں‘ ان کے لئے ہم ہر طرح کی معاونت کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ کسی بھی معاملے میں ہمارا نام نہ آئے۔
بعض دوستوں کا خیال ہے کہ واپڈا اور پولیس کے ستائے لوگوں کی بھی ایک آدھ دو تین روزہ کانفرنس ہونی چاہئے۔ یہ خیال ہے تو خاصا نیک مگر اس میں صرف ایک ہی قباحت ہے اور وہ یہ کہ ان محکموں کے متاثرین تعداد میں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں یکجا کرنے کیلئے کم از کم میدانِ حشر ہی درکار ہو گا۔
ہمارے بعض بیوقوف دوستوں کا ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ واپڈا کے ہر گرڈ کے سامنے ایک عدد چھوٹا سا موبائل نوعیت کا احتجاجی کیمپ لگایا جائے جس میں کم از کم دو گھنٹے کیلئے لائوڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت ہو۔ لائوڈ سپیکر پر ملی نغمے سنائے جائیں اور ہر نصف گھنٹے بعد پانچ منٹ کا ’’وقفہ برائے مغلظات‘‘ کیا جائے تاکہ علاقہ کے چھٹے ہوئے بدمعاش‘ لفنگے‘ کن ٹُٹے و دیگر معززین ان پانچ منٹوں میں اپنی اور اہل محلہ کی اجتماعی بھڑاس نکال سکیں۔ گو کہ کثرتِ غم خواری (جس کا اوپر تذکرہ کیا جا چکا ہے) کے سبب واپڈا پر بھی اس لتریشن کا چنداں اثر نہیں ہو گا تاہم عوام قدرے پرسکون ہوتے چلے جائیں گے۔
اسی قماش کے احمق دوستوں میں سے چند ایک یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ بیویوں کے ستائے شوہروں اور واپڈا و پولیس کے ہاتھوں خوار و خستہ ہونے والے شہریوں کیلئے فورم قائم کرنا بہت اچھی بات ہے مگر ان کم نصیبوں کی بھی تو کچھ نہ کچھ دادرسی ہونی چاہئے جو حکمرانوں کے ستائے ہوئے ہیں۔ آخر انہیں بھی تو بھڑاس نکالنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر واپڈا اور پولیس کے خلاف مجوزہ احتجاجی کیمپوں کی طرز پر حکمرانوں کے خلاف بھی گلی گلی احتجاجی کیمپ قائم کر دیئے جائیں اور پانچ منٹ کے وقفہ برائے مغلظات کا اہتمام بھی کر دیا جائے۔
یہ آئیڈیا تو بہت اچھا ہے بلکہ آج سے برسوں پہلے انگریز کو بھی سوجھ چکا ہے اور اس نے لندن کے شہرہ آفاق ہائیڈ پارک کا ایک گوشہ اس نیک کام کیلئے مخصوص بھی کر رکھا ہے مگر ہمارے خیال کے مطابق اس آئیڈیا میں ایک بڑی قباحت ہے… اور وہ یہ کہ ہمارے حکمران کثرتِ ذلت کے باعث دماغی طور پر نہ صرف مائوف بلکہ پوری طرح سے سُن ہو چکے ہیں۔ آپ لائوڈ سپیکر پر پانچ منٹ تو کیا‘ اگر روزانہ پانچ گھنٹے بھی انکی ’’خدمت‘‘ کرتے رہیں‘ یہ تب بھی ٹس سے مَس نہیں ہونگے۔ اس لئے کہ اب تنقیدی الفاظ انکے لئے کلیشے بن چکے ہیں۔ انکی کھلڑیاں اس قدر موٹی اور قوتِ سماعت اس قدر کمزور ہو چکی ہیں کہ اب کسی بھی طرح کے الفاظ ان پر اثر نہیں کرتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دن رات جاری ٹی وی مذاکرے اور اخباری کالم و اداریئے انکا حشر کر ڈالتے مگر بے سود!
سچ پوچھیں تو ہمارے حکمرانوں کو جو بیماری لاحق ہے‘ اس کا علاج کم از کم کسی انسان کے بس کا تو روگ ہے ہی نہیں‘ کوئی غیبی ہاتھ اس بدنصیب قوم کی مدد کو آئے تو آئے ورنہ صرف کہے سنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا‘ آزمائش شرط ہے! بلکہ اب تو بیچارے حکمران بھی اپنے لاعلاج ہونے کا گلہ کچھ یوں کرتے ہیں؎
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں!
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

’’کہتے ہیں کہ اس عمر میں اچھا نہیں لگتا! ‘‘ by Aftab Iqbal

20 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
آج تک پیپلز پارٹی کا عظیم ترین المیہ ہی یہی رہا ہے کہ یہ جونہی اقتدار میں آتی ہے، تونہی اس بدنصیب کا ہاسا نکل جاتا ہے، اس جماعت کا یہ خاصا ہے کہ اس کی ہر ہر حکومت کے پاس کائنات کے مخولیہ ترین وزیروں کی فوج ظفر موج ہمہ وقت موجود ہوتی ہے، اور پھر وہ شخص تو مخولیہ ہونے کے حوالے سے شرطیہ میٹھا نکلتا ہے جو الیکشن تو آزاد حیثیت میں جیتا ہو مگر پھر وزارت ’’ودیگر مراعات‘‘ کے عوض پیپلز پارٹی میں جا شامل ہوا ہو، اس سلسلہ مذاقیہ کی آخری کڑی ہمارے بزرگ دوست سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو ہیں کہ جنہوں نے اوکاڑہ سے دو ڈھائی نشستیں جیت کر زرداری صاحب کی خدمت اقدس میں پیش کر دیں اور اس کے عوض ایک وزارت قبول کرکے نئے سیاسی سفر کا آغاز کر دیا۔ تقریباً دس سال کی غیر حاضری کے بعد موصوف نے پہلی مرتبہ اقتدار کی شکل دیکھی اور غالباً دیکھتے ہی رہ گئے۔
وزارت مذکورہ چونکہ صنعت میں ’’پیداوار‘‘ ہے اس لئے اسلام آباد کی اکثر دیو مالائوں کا موضوع آج کل منظور وٹو صاحب ہی ہیں۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وٹو صاحب نے یہ وزارت مانگی ہی اسی لئے تھی کہ اس میں ’’پیداوار‘‘ کے امکانات بے حد روشن رہتے ہیں، وٹو صاحب کی جملہ بدنصیبیوں میں سرفہرست یہی ہے کہ آپ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل رہے ہوں یا سپیکر پنجاب اسمبلی، وزیراعلی رہے ہوں یا وفاقی وزیر، ’’پیداوار‘‘ کے الزامات نے آپ کا تعاقب سائے کی طرح کیا ہے۔ خدا کرے کہ موصوف پر لگنے والے حالیہ الزامات بے جان ثابت ہوں مگر کہنے والے تو کھاد کی امپورٹ بارے ہی بہت کچھ کہتے چلے جا رہے ہیں اور کراچی کی بجائے گوادر مال منگوانے والے فیصلے اور پانچ سو روپے فی بوری اضافی قیمت کے مسلسل تذکرے کی بے ہودہ بازگشت ابھی جاری و ساری تھی کہ اب چینی بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔
گزشتہ روز شوگر ملز مالکان کے ساتھ نہایت پراسرار سے حکومتی مذاکرات کے بعد چینی کی ’’ایکس ملز‘‘ قیمت اڑتیس روپے کلو سے بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی جس سے حکومت کو بلکہ غریب عوام کو پورے تیس ارب روپے کی تازہ ’’تُھک‘‘ لگا دی گئی ہے، اس واردات کے بعد حکومت جس بھونڈے انداز میں میڈیا کے سامنے پیش ہوئی، وہ منظر بذات خود دیدنی تھا۔ حکومت کی نمائندگی ظاہر ہے وزیر پیداوار قبلہ منظور احمد وٹو نے ہی کرنی تھی چنانچہ کی مگر اس سے زیادہ ولایوڑ اور مخولیہ نمائندگی ہوتے ہم نے آج تک نہیں دیکھی، یعنی موصوف دور جدید کے انتہائی مؤثر اور ماہر میڈیا کے سامنے یوں آئیں بائیں شائیں کر رہے تھے جیسے بصیرپور یا حجرہ شاہ مقیم کی کسی یونین کونسل سے خطاب فرما رہے ہوں۔
وقت بہت بدل چکا ہے۔ محض ذاتی تعلقات‘ وفاداریاں اور جٹکا سا سادہ منش انداز اب کام نہیں کرتا۔ اب تو آپ جو کچھ سوچ بھی رہے ہوتے ہیں، کیمرہ، سیٹلائٹ کے ذریعے اسے کروڑوں لوگوں پر آ شکار کرتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ اب معمولی سے معمولی موضوع پر بھی آپ کو مکمل تیاری کے ساتھ جانا پڑے گا اور چینی کا بحران تو خیر ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ وٹو صاحب جسے ایک روٹین کی معمولی سی پریس کانفرنس سمجھ بیٹھے تھے وہ اس سے کہیں زیادہ اہم تھی اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں نے موصوف کے وہ لتے لئے کہ آپ کافی دیر تک یاد رکھیں گے۔ اور اگر آپ کی وزارت تبدیل نہ ہوئی اور آپ بدستور وزیر پیداوار ہی رہے تو آئندہ کبھی بغیر تیاری کئے، میڈیا کا سامنا نہیں کریں گے۔ ویسے ہمارا برادرانہ بلکہ برخوردارانہ مشورہ تو یہی ہے کہ آپ سیاحت یا کلچر جیسی کوئی سیدھی سادھی ہومیوپیتھک سی وزارت لے کر کوئی ایسا کام کر جائیں کہ لوگ یادرکھیں کہ کوئی باذوق شخص وزارت چلانے آیا تھا۔
دوسری التجا یہ ہے کہ وزارت پیداوار رہے یا نہ رہے، آپ پہلی فرصت میں ہی ایک نئی پریس کانفرنس پھڑکائیے اور بھرپور تیاری کے ساتھ میڈیا کو مطمئن کرنے اور یقین دلانے کی سعی کیجئے کہ ’’معاملہ کھاد کا ہو یا چینی کا، دونوں میں ہی سرکاری بدنظمی اور بدانتظامی کا دخل تو رہا ہے، بدعنوانی اور بدنیتی کا ہرگز نہیں‘‘ تاہم یہ راستہ نہایت پرخار اور پیچیدہ ہے اس لئے میڈیا جلدی مطمئن نہیں ہو گا کیونکہ اگر آپ بذات خود پاک صاف ہوں بھی، تب بھی بیورو کریسی میں کسی نہ کسی جگہ کرپشن ضرور ہوئی ہے اور اگر آپ اس کی نشاندہی نہیں کرتے اور تمام متعلقہ احباب کی گوشمالی نہیں ہوتی تو پھر میڈیا کی طرف سے خیر کی توقع مت کریں۔ تاہم جو بھی کریں بھرپور تیاری کے بغیر مت کریں۔
ہماری ذاتی اطلاعات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے وٹو صاحب کی وزارت بارے وزیراعظم گیلانی پر زبردست پریشر ڈالنا شروع کر دیا ہے، نواز لیگ کی طرف سے بھی ’’اندرو اندری‘‘ دبائو بہت زیادہ ہے اور عین ممکن ہے گیلانی صاحب اس پریشر کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکیں۔
آخر میں ان تمام خواتین و حضرات سے اپیل ہے کہ جنہیں پچھلی عمرے وزیر بننے کا شوق چراتا ہے، خدارا، اس کام سے اجتناب ہی برتیں تو بہتر ہے کہ آپ لوگ نہ تو مناسب محنت کر سکتے ہیں اور نہ ہی میڈیا کا مقابلہ۔ دور جدید کے جملہ تقاضوں سے صریحاً نابلد ہونے کے سبب نہ تو آپ کو ماڈرن طریقے سے حکومت کرنی آتی ہے اور نہ ہی کرپشن۔ میڈیا کے ٹن ٹن کرتے کیمرے دیکھ کر آپ ہکلانے لگتے ہیں اور اگر کوئی آڑا ترچھا سوال پوچھ لیا جائے تو آپ کا ’’ہاسا‘‘ نکل جاتا ہے۔ آپ کو تو بس اسی پر ہی اکتفا کرنا چاہئے کہ…؎
اس شوخ پہ مرنا تو بڑی بات ہے لیکن
کہتے ہیں کہ اس عمر میں اچھا نہیں لگتا !
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

ہمارا کام صرف سمجھانا ہے by Aftab Iqbal

18 August, 2009 (1) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
جس دن سے رچرڈ ہالبروک نے میاں نواز شریف کے ساتھ راہ و رسم پیدا کی ہے‘ جناب حسین حقانی کو نئی فکریں لاحق ہونے لگی ہیں۔ حکومتی حلقوں کی بالائی منزل میں تعینات ہمارے کم و بیش چار معزز مخبرانِ کرام نے ایک ہی دن میں ہمیں ایک ہی طرح کی پانچ سات اطلاعات فراہم کی ہیں جن کا لب لباب یہی ہے کہ ایوان صدر نے واشنگٹن بیٹھے قبلہ حقانی صاحب کو یاد دلایا ہے کہ بھائی صاحب ہم نے آپ کو وہاں سفارتکاری کیلئے بھیجا ہے‘ لوکاٹ بیچنے کیلئے نہیں۔ شاید اسی یاددہانی کا نتیجہ ہے کہ حقانی صاحب نے اچانک امریکی حکومت کو لتاڑنا شروع کر دیا ہے۔ آپ اپنے ایک تازہ ترین ٹی وی انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ’’امریکہ نے پاکستانی خودمختاری کی پاسداری نہیں کی‘‘۔
ویسے تو اسی انٹرویو میں سفیر محترم نے آگے چل کر ایک بار پھر پاک امریکہ دوستی کی ناگزیریت بیان کی ہے لیکن اگر آپ تھوڑی توجہ کے ساتھ مذکورہ انٹرویو کی جزئیات اور حقانی صاحب کی بدن بولی پر نظر ڈالیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ حقانی صاحب امریکہ کی جملہ نالائقیوں پر سخت ناخوش ہیں۔ ان میں سے ایک تو واشنگٹن کی وہ خاموشی ہے جو اس نے پاکستانی معاملات میں آجکل روا کر رکھی ہے۔ ایوان صدر اور پیپلز پارٹی کے زرداری حلقوں میں آجکل یہ تشویش بڑی شدت کے ساتھ پائی جا رہی ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ’’زرداری کش‘‘ عزائم کی طرف سے مکمل صرف نظر کرتی چلی جا رہی ہے۔ ’’مائنس ون‘‘ جو کہ خالصتاً اسٹیبلشمنٹ کی وضع کردہ اصطلاح ہے‘ آجکل پورے تزک و احتشام کے ساتھ مارکیٹ میں گردش کرتی پھرتی ہے اور جس کے سبب ہر وہ چھوٹا بڑا پاکستانی جس کا عہدہ‘ رزق یا حیثیت کسی نہ کسی حوالے سے عزت ماب قبلہ آصف علی زرداری مدظلہ‘ کے ساتھ وابستہ ہے‘ اس وقت بدترین پریشانی کا شکار ہے۔ این آر او کی لٹکتی تلوار اس وقت دہشت کی علامت بن کر ان احباب کو مزید پریشان کر رہی ہے۔ کیانیؔ اور گیلانیؔ کے ’’مشترکہ تیور‘‘ بھی کچھ زیادہ اچھے نظر نہیں آتے اور اب رہی سہی کسر ہالبروکؔ جیسے بے موسمی بزرگوں نے یہ کہہ کر نکالنی شروع کر دی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا عین امریکی مفاد میں ہے۔
زرداری صاحب کی طرف سے اٹھنے والی اس دبی دبی سی صدائے احتجاج کا شور تو خیر کسی نے نہیں سنا البتہ اس کی گم گشتہ سی بازگشت اب بہت سوں کو سنائی دینے لگی ہے۔ صدر اپنے دورۂ چین کو بھی ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں اور ہم خود اس کی بھرپور توقع رکھتے ہیں کہ موصوف کم از کم اس مرتبہ ترقیاتی اور اقتصادی نوعیت کا کوئی نہ کوئی سانپ ضرور نکالیں گے جس کی امید میں پوری پیپلز پارٹی ’’پھاوا‘‘ ہو چکی ہے۔
امریکی سفارتخانے کی ایک حرکت ہمیں بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں لگی اور وہ یہ کہ پاکستان کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرنے والے اس سیکورٹی اہلکار کو سزا کے طور پر اسلام آباد سے واپس امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔ اب بندہ یہ پوچھے کہ اس میں بھلا سزا والی ایسی کیا بات ہے؟ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کو اس بدزبانی اور بدکلامی پر باقاعدہ نوازا گیا ہے کہ اسے پاکستان سے اٹھا کر واپس اس کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ اس بات سے بھی امریکی حکام کی بدنیتی جھلکتی ہے ورنہ سزا تو یہی تھی کہ اس گستاخ کو اگلے دس سال یہیں رکھا جاتا اور اگر اس کے مزاج پھر بھی درست نہ ہوتے تو اسے کابل تعینات کر دیا جاتا اور اگر اس کی بدمزاجی یونہی جاری و ساری رہتی تو وہ کسی بھی وقت دوچار خوش مزاج اور ’’باذوق‘‘ افغانیوں کے ہتھے چڑھ جاتا۔ اسے کم از کم چھ ماہ مسلسل ’’حبس بے جا‘‘ وغیرہ میں رکھا جاتا اور جب نیٹو افواج اسے کسی پوشیدہ مقام سے برآمد کرتیں تو اس کی ’’انگریزی‘‘ کا مکمل ستیاناس ہو چکا ہوتا اور وہ کم نصیب فرفر پشتو یا فارسی بول بول کر اپنی نہایت دلدوز آپ بیتی سنا رہا ہوتا مگر افسوس کہ ہمارے دفتر خارجہ کی غفلت کے سبب یہ نادر موقعہ بھی ضائع ہو گیا!!
آخری گزارش ہمیں قبلہ آصف علی زرداری سے کرنی ہے کہ جناب پارٹی معاملات پر آپکی گرفت بتدریج ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے اور وہ ’’بلاول کارڈ‘ جس پر آپ ضرورت سے زیادہ تکیہ کئے بیٹھے ہیں‘ وہ معجزے ہرگز ہرگز نہیں کر سکے گا جن کی آپ کو توقع ہے کیونکہ نوجوان تو ابھی تعلیمی مراحل ہی مکمل نہیں کر پایا‘ وہ سیاست کو وقت کس طرح دے گا۔ سو بہتر ہے کہ آپ فی الحال یوسف رضا گیلانی پر ہی اکتفا کریں کیونکہ جس تیزی کے ساتھ انکی اور شہباز شریف صاحب کی دوستی پروان چڑھ رہی ہے‘ کوئی بعید نہیں کہ یا تو گیلانی صاحب نواز لیگ میں شامل ہو جائیں اور یا پھر یہ دونوں احباب بہلا پھسلا کر میاں نواز شریف کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنوا دیں اور آپ صرف انکے منہ ہی دیکھتے رہ جائیں۔
اپنی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ہمیں بس یہی کہنا ہے کہ بلوچستان‘ سندھ اور خصوصاً کراچی کے حالات فی الحال ایسے ہرگز نہیں کہ ’’مائنس ون‘‘ یا اس سے ملتا جلتا کوئی بھی اور پنگا لیا جا سکے۔ ہمارا ذاتی گمان تو یہی ہے کہ آپ احباب کی طرف سے اس کام کی تیاریاں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ کی جا رہی ہیں مگر ہمارا بن مانگا مشورہ یہی ہے کہ آپ اس سے گریز ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ پاکستان کی حالت اب اس دانت کی سی ہو چکی ہے جو آئے دن کسی نہ کسی حادثے یا چھوٹی موٹی ٹکر کے باعث کافی کمزور ہو کر ہلنے لگتا ہے۔ چنانچہ جب تک آپ اسے بارِدیگر مضبوط نہیں کرتے اور اس کے گرد و پیش کو درست نہیں کرتے خدارا تب تک باکسنگ کے اس کھیل سے اجتناب ہی برتیں جو آپ ہر تین چار سال بعد کھیلنے لگتے ہیں۔ حالات اب وہ پہلے جیسے نہیں ہیں۔ بجلی اور چینی کے ستائے لوگوں کو تو صرف بہانہ چاہئے۔ اس لئے مائنس ون یا مائنس آل کی بجائے ’’پلس آل‘‘ پر ہی توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ صورتحال پر اب آپکی گرفت وہ نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔
آگے آپ کی مرضی کہ ہمارا کام صرف سمجھانا ہے اور وہ ہم نے کر دیا۔ اب آپ جانیں اور آپ کا کام!
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,

کرپشن شناس میڈیا اور بیچارے وزیر by Aftab Iqbal

13 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
حکمرانوں پر جب تنقید کی جائے یا ان کی نالائقی اور کرپشن کا بھانڈا عین بیچ چوراہے میں پھوڑا جائے تو بے چارے تلملاتے اور چلاتے تو بہت ہیں مگر اپنی صفائی میں کوئی لمبی چوڑی دلیل نہیں دیتے بس ایک ہی بات لگاتار کرتے چلے جاتے ہیں کہ کیا میڈیا کو یہ سب کچھ اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا جب ہم سے پہلے حکمران یہی کچھ کر رہے تھے؟
وزیر محنت خورشید شاہ کی پارلیمنٹ میں وہ حیرت انگیز تقریر جس کا حوالہ ہم نے کل بھی دیا تھا، صرف اور صرف اسی ایک نقطے پر مرکوز رہی ہے کہ میڈیا کو اس وقت تو ہوش نہیں آتی جب اقتدار پر ڈکٹیٹر قابض ہوتے ہیں مگر جونہی بیچاری جمہوریت واپس پٹڑی پر آنے لگتی ہے، میڈیا کرپشن اور نااہلی کی دہائی ڈالنے لگتا ہے، وزیر محترم نے ہائوس کو ایک ترغیب نما مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ معزز اراکین پارلیمنٹ اتفاق رائے سے ایک سٹینڈنگ کمیٹی قائم کریں تاکہ وقتاً فوقتاً ہر گستاخ ٹی وی اینکر، کالم نگار یا رپورٹر کو طلب کرکے اس کی طبیعت درست کی جا سکے۔ ہمارے خیال میں ایسے فورم کا قیام ایک صحتمند اقدام ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس کی ترتیب میں ایک عدد جیوری کی گنجائش بھی نکالی جائے جس کا فیصلہ حتمی ہو اور اس میں سول سوسائٹی اور عدلیہ کو بھی شامل کیا جائے۔ علاوہ ازیں اگر مذکورہ کمیٹی کی کارروائیاں میڈیا پر براہ راست نشر کرنے کا بندوبست بھی ہو جائے تو یہ سونے پر سہاگہ ثابت ہو گا۔ خیر ہمیں چونکہ یقین ہے کہ ہمارے دیگر قیمتی مشوروں کی طرح ارباب بست و کشاد اس مشورے پر بھی نہایت سکون کے ساتھ تین حرف بھیجیں گے اور وہی کریں گے جو ان کو مناسب لگا، اس لئے ہم ان تمام ٹی وی اینکروں کو بروقت مطلع کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو بیچارے اسلام آباد سے دور کسی اور شہر میں بیٹھ کر پروگرام کرتے ہیں، آج سے ہی اپنے چینل کے اسلام آباد بیورو یا مرکز میں اپنا ایک عدد عارضی سیٹ لگوا لیں کیونکہ اگر آپ نے پنگا لینے سے باز نہیں آنا، تو پھر آپ کو وفاقی دارالحکومت میں اپنے اکثروبیشتر قیام وطعام کا بندوبست رکھنا چاہئے تاکہ دن کے وقت آپ اپنے کئے کی سزا کے طور پر پیشی بھگتیں اور شام کو اپنا شو کریں۔ ہمارا دوست عزیزی ناہنجار جو ہر بات کا منفی پہلو ہی دیکھتا ہے، آج کل یہ مشورہ بھی دیتا سنائی دیا ہے کہ اگر ممکن ہو سکے تو اڈیالہ جیل میں بھی کوئی واقفیت پیدا کر لی جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔
ایک گزارش ہمیں یہ بھی کرنی ہے کہ خورشید شاہ تھوڑا تردد مزید گوارا کر لیں اور اپنے کسی ڈپٹی سیکرٹری کو مامور کرکے ریکارڈ کو کھنگا لیں، آپ کو معلوم ہو گا کہ میڈیا نے مشرف کو کس طرح تگنی کا ناچ نچایا تھا، آپ کو یہ پتہ بھی چلے گا کہ بیچاری ق لیگ آج جن حالوں میں ہے، اس کے پیچھے بھی آپ احباب کا ’’حسن کارکردگی‘‘ کارفرما نہیں بلکہ میڈیا کی لگاتار یلغار ہے۔ اگر میڈیا یہ سب کچھ نہ کرتا تو آج آپ زیادہ سے زیادہ ضلع سکھر کے نائب ناظم ہوتے۔ ہمیں اس بات سے ہرگز اختلاف نہیں کہ آپ نے اپنے اوپر الزام تراشی کرنے والے کسی ایک صحافی یا اینکر کے لتے لئے ہیں کیونکہ اگر الزام لگانا اور اس کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا اس کا حق ہے تو اپنا دفاع کرنا اور اس کی ’’جھاڑ جھمب‘‘ کرنا آپ کا حق ہے اور اس کے لئے پارلیمنٹ کا فلور بہترین فورم ہے۔ تاہم ہمارے اعتراض اور اختلاف کی وجہ صرف آپ کا انداز تخاطب ہے کہ جس میں آپ نے ایک طرح سے سارے میڈیا کو ایک ہی کھونٹے سے باندھ دیا ہے۔ آئندہ یہ مت کیجئے گا، آپ کی بڑی مہربانی ورنہ یقین کیجئے آپ کی زندگی کے کم از کم چالیس پچاس قیمتی سال صرف صفائیاں دیتے گزر جائیں گے۔
البتہ ایک حماقت ایسی ضرور ہے کہ جس کا ارتکاب ہمارے اکثر ’’کرپشن شناس‘‘ ٹی وی اینکر اور کالم نگار دھڑا دھڑ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہ آپ کو بھی لے دے کر بیچارے سیاستدان ہی ملتے ہیں کیونکہ انہوں نے یقیناً اگلے تین چار سال میں اقتدار سے باہر اور عموماً جیل وغیرہ کے اندر ہونا ہوتا ہے، آخر آپ کا دھیان ان ملک دشمن کرپٹ افسروں کی طرف کیوں نہیں جاتا جن کے مقابلے کی دیہاڑیاں سیاسی لوگ کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں لگا سکتے۔ کیا آپ اپنے تحقیقی جوہر اس میدان میں دکھا سکتے ہیں کہ کتنے افسران ایسے ہیں جو کل بھی کلیدی پوزیشن پر بیٹھے ’’انہی کے گھر‘‘ میں ڈانگ پھیرتے رہے ہیں اور آج بھی نہایت لذیذ پوسٹ پر بیٹھے تخلیق پاکستان کے جملہ مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا آپ نے کبھی یہ تخمینہ لگوانے کی سعی فرمائی ہے کہ کتنے سول اور ملٹری افسر، دوران سروس اور بعداز ریٹائرمنٹ، ظاہری وسائل سے کہیں بڑھ چڑھ کر زندگی گزار رہے ہیں؟ آپ زیادہ دور مت جائیں کیس سٹڈی کے طور پر پچھلے تین عدد چیئرمین ریلوے، سیکرٹری پانی و بجلی، مواصلات و پروڈکشن وغیرہ پر فوکس جما کر دیکھیں، آپ کو کافی کچھ ملے گا، لکھنے کو اور بولنے کو۔ اسی طرح صوبہ پنجاب اور سندھ کے وہ سیکرٹری صاحبان جو کلیدی (مراد زیادہ بجٹ والے) محکموں کے انچارج رہے ہیں، ذرا انہیں بھی کھنگال کر دیکھ لیں، یہ احباب آپ کو حیران کرکے رکھ دیں گے، اور پھر چلتے چلتے ذرا پچھلی حکومت کے آخری پانچ سالوں میں خرچ ہونے والے ان 16 ارب روپے کا حساب کتاب بھی چیک کریں جو صرف محکمہ انفرمیشن نے اشتہارات کی شکل میں پھونک ڈالے۔
پہلے ان معاملات پر غور کر لیں، وزیر بیچارے تو ان کے مقابلے میں سب کے سب حاجی ثنااللہ ہیں ! !
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,

مائینس ون یا مائینس آل ؟ by Aftab Iqbal

12 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں اگر جناب آصف علی زرداری کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کی کوشش کی تھی تو، …؎
کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے!
ہم پوری دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ زرداری صاحب کے سارے امیج کا ستیاناس کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے مشیروں کا ہے مگر اس ’’کارخیر‘‘ میں اس سے بھی بڑھ کر حصہ خود موصوف کا اپنا ہے کہ وہ سعادت مندی کے ساتھ اس ’’احمق ایسوسی ایشن‘‘ کو اپنی آنکھ کا تارا بنائے ہوئے ہیں۔ تازہ ترین واردات یہ سننے میں آ رہی ہے کہ ایوان صدر نے میڈیا میں موجود بعض سرکش عناصر کی گو شمالی کا ’’نیک ارادہ‘‘ کر لیا ہے اور آغاز کے طور پر دو چار ٹی وی اینکروں اور کالم نگاروں کی متعلقہ سی ڈیز یا کٹنگ چینل اور اخبار مالکان کو ارسال کی جانے لگی ہیں۔ ایوان صدر سے موصول ہونے والے ان پراسرار پیکٹوں میں نجانے اور کیا کیا شکایتی میٹریل موجود ہوتا ہے، مگر یہ سلسلہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ بلکہ بھگت چکے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی گزارش تو یہ ہے کہ آپ کی میڈیا بالعموم اور پارٹی و حکومتی ٹیم بالخصوص بلا کی نالائق ہے کہ بجائے ان سرکش عناصر کو دلیل، دوستی، محبت یا ترلے کے ساتھ منانے کے، آپ نے ایک انتہائی مریل سا روٹ اپنا لیا ہے۔ اس دوڑ میں خالص تھارو بریڈ گھوڑا بننے کی جگہ، آپ شکایتی ٹٹو بننے پر مصر ہیں کیا آپ بھول گئے ہیں کہ مشرف نے بھی میڈیا کو قابو کرنے کیلئے یہی بے ہودہ سا روٹ اپنایا تھا تو پھر آپ نے اس کا انجام دیکھا؟ آپ کا وزیر خورشید شاہ جسے ابھی کل تک ہم ایک معقول آدمی سمجھنے کا ارتکاب کرتے رہے ہیں فلور آف دی ہائوس پر ٹی وی اینکروں کے لتے لیتا رہا ہے۔ تو اس کے جواب میں وہ اینکروں اور کالم نگاروں سے کیا توقع رکھتا ہے کہ وہ آپ کی حمدوثنا کریں؟ دوسری گزارش یہ ہے کہ مالکان اپنی گوناگوں وضعداریوں اور جملہ مجبوریوں کا شکار ہو کر زیادہ سے زیادہ ایک آدھ آنچ کم کرنے کو تو کہہ سکتے ہیں، اپنے ٹی وی پروگراموں اور اخباری کالموں کو خصی ہرگز نہیںکروا سکتے کہ پھر عوام میں پذیرائی صفر رہ جائے گی کہ عوام حکومت پر تنقید سن کر کم از کم یہ اطمینان ضرور محسوس کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی ایسا ہے ضرور جو اس ملک میں رہ کر بھی جاگ رہا ہے۔ تاہم اگر مالکان میں سے کچھ ایسے بھی ہوں جو آج بھی کمزور وکٹ پر کھیلنا گوارا کرتے ہوں تو ان کے اداروں سے وابستہ کالم نویسوں، صحافیوں اور اینکروں کو ہمارا مخلصانہ مشورہ تو یہی ہے کہ آنکھ بند کرکے وہ ادارہ چھوڑ دیں جو عزت، رزق اور پذیرائی آپ کا مقصد ہے، وہ آپ کو سرراہ بھی مل جائے گی۔ مگر اس کے لئے یہ بھی اولین شرط ہے کہ آپ جو کچھ بھی کہیں، لکھیں یا کریں، وہ ملکی مفاد کے منافی نہ ہو اور آپ کی اپنی پسند ناپسند کا دخل اس میں کم سے کم ہو۔
پچھلے ایک سال کے دوران ہم آصف علی زرداری کی ٹیم کے تقریباً ہر فرد سے کئی کئی بار مل چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی وزیر مشیر ایسا ہو جو ہمارے ریڈار میں نہ آتا ہو، مگر ماسوائے ایک سلمان فاروقی، پرنسپل سیکرٹری کے ہمیں اس میلہ مویشیاں میں ایک بھی معقول اور صائب الرائے شخص دکھائی نہیں دیا۔ بلکہ زیادہ تر تو ایسے ہیں جو کسی بھی کھیتی یا ادارے کی ’’ڈی مارکٹنگ‘‘ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی اگر کسی بہت بڑے ادارے کا ستیاناس کرنا مقصود ہو تو ان احباب میں سے فقط دو ایک دانے ہی آپ فرنٹ ڈیسک پر بٹھا کر تماشہ دیکھیں کہ یہ لوگ اپنے کام میں کس حد تک ’’ماہر ہیں۔ ان میں سے دو ایک کی چھانٹی تو ہو چکی ہے اور سنتے ہیں کہ دو ایک مزید ہیں جو عنقریب فارغ البال ہونے والے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اب تک جو نقصان یہ نادان دوست آصف علی زرداری، اس کی جماعت اور حکومت کو پہنچا چکے ہیں، کیا اس کا ازالہ کبھی ہو سکے گا؟ اور تو اور، گورنر پنجاب قبلہ سلمان تاثیر کو بھی یونہی بیٹھے بٹھائے اچانک نجانے کیا ہوا ہے کہ وہ پھر سے وہی ایک سال پرانی پراسرار سی باتیں اور حرکتیں کرنے لگے ہیں۔ آپ کا تازہ فرمان یہ ہے کہ ’’جو لوگ زرداری کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ دراصل پاکستان کے مخالف ہیں‘‘ لاحول ولا قوۃ! اس سے زیادہ بھلا کوئی کیا تبصرہ کرے گورنر صاحب کے ان افکار عالیہ پر۔
گورنر صاحب کی معلومات میں اتنا اضافہ کرنا بہرحال ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم ذاتی طور پر آصف علی زرداری کو ناپسند نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے پاس اس کا کوئی معقول جواز ہے مگر زرداری کے کارہائے نمایاں جب بھی ہماری نظر سے گزرتے ہیں، بخدا قلم اور زبان سے تنقید خود بخود نکلنے لگتی ہے، اب اگر آپ اس تنقید کو مخالفت سمجھیں تو یہ آپ کا حسن طلب ہی ہے اور کچھ نہیں۔ ہماری کوشش صرف اتنی سی ہوتی ہے کہ شاید حضرت صاحب اب بھی سمجھ جائیں اور وہ نظام جو بڑی مشکل کے ساتھ واپس پٹڑی پر چڑھا ہے، کہیں بار دیگر ڈی ریل نہ ہو جائے کہ ہماری اطلاع کے مطابق واشنگٹن، لندن، دبئی، جدہ اور پاکستان میں اس وقت کم وبیش چودہ پندرہ متوقع نگران وزیر اپنے اپنے لیپ ٹاپ پر پاکستان کو شاہراہ ترقی پر دوڑتا دکھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ احباب بڑی شدت کے ساتھ آئندہ آنے والے بنگلہ دیشی ماڈل سیٹ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور بعض ایک نے تو اپنے اپنے متعلقہ اداروں سے دو دو سال کی چھٹی بھی مانگ لی ہے۔ اس لئے خدارا، زرداری صاحب، میاں صاحب ودیگر سیاسی دوستو، پہلی فرصت میں ہی کسی دور افتادہ جزیرے پر بیٹھ کر اپنے اپنے بنیادی معاملات سلجھا لو اور کوشش کرو کہ یہی لنگڑا لولا نظام جڑیں پکڑ لے اور کسی کو بامر مجبوری کوئی ’’راست اقدام‘‘ نہ کرنا پڑے۔ بظاہر تو ماحول ’’مائینس ون‘‘ کا بنتا نظر آتا ہے یا کم از کم آج اخبارات میں چھپنے والی سوات کی ایک تصویر سے تو یہی لگتا ہے، مگر اس قماش کی پلاننگ بعض اوقات ’’مائینس آل‘‘ کا روپ بھی دھار لیا کرتی ہے، ذرا اس کا دھیان کر لیں!
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

حکومت کے ساتھ ہماری ہمدردیاں by Aftab Iqbal

11 August, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ہمیں اپنی حکومت کے ساتھ بڑی محبت اور ہمدردی ہے۔ یہ حکومت ہمیں بے حد پیاری لگتی ہے اور کیوں نہ ہو‘ یہ ہماری اپنی حکومت ہے نا‘ اس لئے۔ اس کے بلند و بانگ دعوے سن کر ہمیں کبھی غصہ نہیں آتا بلکہ ہمارے دل میں تو اس کے لئے ہمدردی‘ پیار‘ اخوت اور دوستی کے جذبات جنم لیتے ہیں تاہم بعض سیاسی مخالف اور چھچھوری قسم کے نقاد‘ محض تعصب کے سبب اس کے ہر دعوے کا مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے عناصر کو سوچنا چاہئے اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ حکومت ہے تو عوامی اور پاکستانی‘ بھارتی یا امریکی تو نہیں! ویسے مذاق اڑانے کو کس کا دل نہیں چاہتا اور پھر جناب آصف علی زرداری اور انکے پچیس پیاروں کو دیکھ کر تو یہ دل مزید چاہنے لگتا ہے لیکن ہم اس خواہش کو ہمیشہ دبائے ہی رکھتے ہیں حالانکہ واپڈا ہو یا داخلہ‘ خارجہ ہو یا خزانہ‘ اپنی اس پیاری اور معصوم سی ہومیوپیتھک حکومت کے ہر بلند و بانگ دعوے پر ہمیں وہ سردار جی والا لطیفہ بے اختیار یاد آتا ہے مگر کیا مجال جو ہم نے اس کا اثر قبول کیا ہو حالانکہ ہمارے بعض ناعاقبت اندیش دوست اس لطیفے کو بذریعہ ایس ایم ایس آگے بڑھانا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ ویسے تو یہ بیہودہ سا لطیفہ آپ کو سنا کر آپ کا ذہن بھی متزلزل کرنے والی بات ہی ہے مگر پختہ ایمان والوں کو اس قماش کے لطیفوں اور ’’بھانڈ زدگیوں‘‘ سے ہرگز نہیں گھبرانا چاہئے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے:
ایک سردار جی اپنی بیگم کو مطلع کرتے ہیں کہ ’’آج شام چار بجے فلاں میدان میں کھوتوں‘ یعنی گدھوں کی دوڑ ہے اس لئے مجھے بہرصورت وہاں پہنچنا ہے‘‘۔ سردارنی حقارت اور ہمدردی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بولی ’’آپ سے چلا تو جاتا نہیں‘ دوڑ آپ نے کیا خاک لگانی ہے‘‘۔ بہرحال‘ اس بات میں بھی چنداں شک نہیں کہ ہماری یہ نہایت پیاری اور مجذوب سی حکومت اب ایک بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔ ہمارے ملک میں یہ کوئی نئی بات نہیں‘ ہر سول حکومت اِدھر اپنا سفر شروع کرتی ہے تو اُدھر یہاں کی پراسرار قوتیں اپنے ہرکارے بھیج کر اس بدنصیب کو بند گلی کی طرف ہانک لاتی ہیں۔ زرداری حکومت کی ایک اور بہت بڑی شکست مشیر برائے پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کا استعفیٰ ہے۔ یہ حضرت‘ آصف علی زرداری کے بے حد قریب ہیں اور آپکے کریڈٹ پر بھی سب سے بڑی بات ہے ہی یہی کہ آپ بھی دیگر انگنت قریبی دوستوں کی طرح ایام جیل و ہسپتال کے دوران زرداری صاحب کی ہڈی پسلی کا خیال رکھا کرتے تھے۔ موصوف‘ صدر مملکت کے انتہائی قریب تھے اور شاید اسی نسبت کے سبب بے شمار مسائل و تنازعات کی زد میں تھے۔ آپ کی ’’شکایات‘‘ اندرون ہی نہیں‘ اب تو بیرون ملک سے بھی آنے لگی تھیں۔ چنانچہ وہ پراسرار فہرست جو صدر مملکت کو آج سے دو ایک ماہ پہلے بعض اہم حلقوں کی طرف سے تھمائی گئی تھی جس میں ان آٹھ احباب کے اسمائے گرامی درج تھے جنہیں ایوان صدر سے خارج کرنے اور انکے دفاتر باہر منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی‘ اس میں ابتدائی دو تین ناموں میں سے ایک ڈاکٹر عاصم کا ہی تھا۔ یاد رہے کہ ہم نے اس فہرست کا تذکرہ سب سے پہلے کیا تھا۔ ڈاکٹر عاصم کی فراغت زرداری کیلئے انتہائی سنگین نوعیت کی ڈویلپمنٹ اور لمحۂ فکریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ آجکل شدید غم و غصے کا پیکر دکھائی دیتے ہیں اور اپنے وزیراعظم سمیت مختلف اہم پارٹی عہدیداروں اور بعض گستاخ بلکہ ناخلف صحافی دوستوں کے خلاف شکایات کرتے پائے جاتے ہیں۔
اگلا دھچکا آپ کو چودہ اگست کے دن لگ سکتا ہے کہ ہماری ذاتی اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایوان صدر میں برپا ہونے والی یوم آزادی کی تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے اور مذکورہ پروگرام میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی‘ تو پھر آرمی چیف کی یہ غیرحاضری بے حد معنی خیز ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ روایت یہی ہے کہ اس روز آرمی چیف ایوان صدر کی تقریب میں شرکت ضرور کرتے ہیں۔ دمِ تحریر‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی سیدو شریف میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پائے جا رہے ہیں جبکہ اس تقریب میں وزرائے اعلیٰ سرحد اور پنجاب بھی موجود ہیں۔ ان تمام اہم کرداروں کا یکجا ہونا بھی ایوان صدر کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔
گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن نے ایوان صدر میں وزیراعظم گیلانی کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کی۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے مولاناؔ نے بعض پراسرار وجوہات کی بنا پر حکومت سے علیحدگی کی ایک دھواں دھار دھمکی دے رکھی تھی اور بعض حلقے یقین کر چکے تھے کہ اس مرتبہ مولانا صاحب واقعی حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے تاہم مبینہ طور پر انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی مذکورہ ملاقات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مولانا نے حکومت سے 5000 کا حج کوٹہ بزورِ شمشیر طلب کر لیا ہے اور صدر زرداری نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ حکومتی پالیسی تبدیل ہو چکی ہے‘ موصوف کو مذکورہ کوٹے سے نواز دیا ہے۔ چنانچہ اب مولانا کی مزید ناراضی کا جواز کم از کم اگلے چار پانچ ماہ کیلئے تو ختم ہی سمجھیں۔ البتہ اس ’’واردات‘‘ کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان اپنا اپنا حج کوٹہ بار دیگر بحال کروائیں گے اور ہر ممبر اسمبلی حسب توفیق حکومت کو بلیک میل کر کے وہ تمام کروانے کی کوشش کرے گا جو پچھلے ماہ سے التواء کا شکار تھے۔
سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کی تبدیلی کا تذکرہ آجکل ہوا کے دوش پر ہے اور امکان یہی ہے کہ شاہ صاحب کو اب دروازہ دکھا دیا جائے گا۔ یہ بھی زرداری صاحب کیلئے عظیم الشان لمحہ فکریہ ہے۔
مشرف کو ٹانگنے کے حوالے سے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی خواہ مخواہ ایک دوسرے پر ملبہ ڈال رہی ہیں حالانکہ دونوں کو اس معاملے میں اپنی اپنی مجبوریوں کا خوب علم ہے۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ یہ باتیں اسی کالم میں ہم بیسیوں بار کر چکے ہیں۔ بہرحال ہمیں اپنی پیاری حکومت کے ساتھ بے حد ہمدردی اور محبت ہے مگر نجانے کیوں اسے اس کا احساس ہی نہیں ہوتا!!
Categories : Aftab Iqbal, Urdu Columnists Tags :