- PKColumns - http://www.pkcolumns.com -

National Art Gallery… by Muhammad Musaddiq

Posted By On May 4, 2010 @ 11:00 am In Muhammad Musaddiq,Urdu Columnists | No Comments

نیشنل آرٹ گیلری میں ڈرامے کے نام پر ڈرامہ

محمد مصدق ـ

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی قیادت جب سے معروف فنکار توقیر ناصر کے پاس آئی ہے اس نے پورے پاکستان میں ادارے کو متحرک اور فعال کر دیا ہے اور صرف تین مہینے میں اتنے اچھے ثقافتی ”فنکشن“ کئے کہ ماضی میں ادارہ ثقافت سال بھر میں بھی اتنے اچھے فنکشن کرنے میں ناکام رہتا تھا، لیکن چند روز پہلے ادارہ ثقافت پاکستان میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا جس کی مثال نہ تو اس سے پہلے ہے اور نہ ہی شاید اس کے بعد بنے۔ اسلام آباد کی ایک تنظیم ایکشن ایڈ پاکستان نے ادارہ ثقافت پاکستان کو درخواست دی کہ وہ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اجوکا تھیٹر کے ساتھ مل کر ان کا ڈرامہ ”کالا مینڈھا“ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس نے اجازت دے دی اور ہال بھی فری فراہم کر دیا۔ دو گھنٹے پہلے ڈرامے کی ٹیم نیشنل آرٹ گیلری میں پہنچ گئی اور بتایا کہ وہ ڈرامہ ”کالا مینڈھا“ پیش کریں گے۔ ایکشن ایڈ پاکستان کی کمپیئر شمیلہ نے اعلان کیا کہ اب آپ ڈرامہ ”کالا“ دیکھیں گے۔ لیکن یکایک مدیحہ گوہر سٹیج پر آ گئیں اور اعلان کیا کہ آپ ڈرامہ ”برقع برگنزا“ دیکھیں گے اور اگر اے این سی اے کی طاقت ہے تو اسے روک کر دکھا دے ذمہ دار افسروں نے فوراً ڈی جی توقیر ناصر کو خبر کی کہ یہ واردات ہو گئی ہے، توقیر ناصر نے نوائے وقت کو بتایا میں اگر چاہتا تو فوراً ڈرامہ بند بھی کرا سکتا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت ہال میں دو اڑھائی سو تماشائی جمع ہو چکے تھے اور اگر ڈرامہ بند کر دیا جاتا تو توڑ پھوڑ ہوتی اور املاک کو سنگین قسم کا نقصان بھی پہنچ سکتا تھا اس لئے میں نے ڈرامہ جاری رکھنے کا حکم دیا، جب ڈرامہ ختم ہوا تو سوال و جواب کا سیشن بھی تھا اس میں حاضرین نے اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کیا اور کہا کہ جب ہم آپ کی نیم عریانی پر اعتراض نہیں کرتے تو آپ ہمارے برقع کا تمسخر کیوں اڑاتے ہیں۔ اس کا کوئی تسلی بخش جواب مدیحہ نہ دے سکی۔ چنانچہ اس کے بعد اجوکا تھیٹر کے خلاف نعرہ بازی شروع ہو گئی اور حاضرین نے اجوکا کے پوسٹرز اور بینرز بھی پھاڑ دیئے اور انہیں نذر آتش کر دیا۔ اسلام آباد کے مجسٹریٹ پولیس فورس لے کر پہنچ گئے اور انتظامیہ نے تماشائیوں اور احتجاج کرنے والوں کو بلڈنگ سے باہر نکال دیا۔
اس واقعہ کے بعد ایکشن ایڈ پاکستان کی رخسانہ شمع نے پی این سی اے کو افسوس نامہ لکھا جس میں معذرت کی گئی کہ پروگرام کے مطابق ہم ڈرامہ کرنا چاہتے تھے لیکن زبردستی دوسرا ڈرامہ پیش کر دیا گیا جس سے ایکشن ایڈ پاکستان کی بہت بدنامی ہوئی ہے اور ہم معذرت خواہ ہیں۔ ناصر عباس ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے بتایا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ادارے کے خلاف مدیحہ نے پریس کانفرنس کی۔ وزارت ثقافت تمام صورتحال کا جائزہ لے کر مستقل نوعیت کا فیصلہ کرے گی۔ ادھر لاہور میں جو افسر اجوکا کو مفت الحمرا ہال لے کر دیتے تھے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ فری ہال دینے کے لئے نہیں کہیں گے جب کہ لاہور آرٹس کونسل کی انتظامیہ اپنا لائحہ عمل طغ کر رہی ہے کیونکہ مفت ہال دینے کے چکر میں الحمرا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ثقافت نے برقع برگنزا کیس کو اپنا موضوع بنایا اور مدیحہ گوہر کو بھی بلایا۔ مدیحہ نے حسب دستور سٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان پر چڑھائی کر دی اور بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا جس پر اسے بتایا گیا کہ آپ اجوکا تھیٹر میں ڈرامہ نہیں کر رہی بلکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے حاضر ہیں اور آواز بالکل نیچی رکھیں جس پر مدیحہ نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا کہ وہ جذباتی ہو گئی تھیں جس پر ایک رکن نے کہا اگر ہم جذباتی ہو گئے تو بہت کچھ ہو جائے گا۔ نیلوفر بختیار کی سربراہی میں دیگر ارکان نے بھی حصہ لیا۔ سینیٹر پیرزادہ نے کہا ”آپ کی جرات کیسے ہوئی کہ آپ نے میری ماں کے برقعہ کی تضحیک کی“ مصباح نے کہا کہ نام ہی مضحکہ خیز ہے بھلا برقعہ اور برگنزا ایک جگہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ سیکرٹری کلچر ایس ایم طاہر نے کہا کہ کسی کو بھی ڈرامے کے ذریعہ مذہبی شعائر کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ گلشن نے پہلے تو اونچا بولنے پر غصہ کا اظہار کیا اور باہر نکال دینے کی دھمکی بھی دی اور پھر کہا کہ آپ کے شوہر شاہد ندیم پی ٹی وی پر ڈی ایم ڈی ہیں آپ یہ ڈرامہ ان کی سفارش سے پی ٹی وی پر چلا کر دیکھیں تو پتا چلے گا کہ اس کا کیا ردعمل آتا ہے۔ مدیحہ گوہر نے کہا کہ سال پہلے بھی یہ ڈرامہ نیشنل آرٹ گیلری میں کیا گیا تھا لیکن کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا جس پر حقائق درست کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت بھی ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اور ایک ایف آئی آر ہی کافی ہے۔ بعد میں سٹینڈنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مدیحہ انڈر ٹیکنگ دیں گی اور تحریری طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کریں گی اور آئندہ سے ان کا ڈرامہ سکروٹنی کمیٹی اگر پاس کرے گی تو اسے سٹیج کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور یہ بات طے ہے کہ کسی بھی ایسے ڈرامے کو سٹیج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑایا جائے گا۔ ایڈوائزر گل نے کہا اسلامی کلچر کے خلاف بات نہیں ہو گی۔
urdu columns [1]

Article printed from PKColumns: http://www.pkcolumns.com

URL to article: http://www.pkcolumns.com/2010/05/04/national-art-gallery-by-muhammad-musaddiq/

URLs in this post:

[1] urdu columns: http://www.pkcolumns.com

Copyright © 2014 PKColumns. All rights reserved.