Labor Policy by Saeed Assi

4 May, 2010
(0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook  |  

لیبر پالیسی

سعید آسی ـ

ایک زمانہ تھا جب مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کرنے کے مطالبات حقیقت پسندانہ نظر آتے تھے۔ بابائے مزدور بشیر احمد بختیار کی تان ہی اس پر ٹوٹا کرتی تھی مگر اب تو لیبر لیڈران بھی یہ نعرہ لگاتے ہوئے حجاب محسوس کرتے ہیں۔ پچھلے چار پانچ سال کے عرصہ کے دوران سونے کے نرخ آواز جیسی تیز رفتاری کے ساتھ آسمانوں کی جانب بلند ہوئے ہیں، پانچ سے چھ ہزار روپے فی تولہ سونے کے نرخ بہت عرصے تک مستحکم رہے ہیں۔ پھر یکایک ہوا ایسی چلی کہ سونے کے نرخ کہیں ٹھہر ہی نہیں پائے۔ کہاں چار سال قبل کے چھ ہزار اور کہاں اب کے 37 ہزار روپے فی تولہ۔
پہلے دل کو یقین سا ہوا کرتا تھا کہ مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونا کے مساوی کرنے کا تقاضہ ہو رہا ہے تو کبھی یہ تقاضہ پورا ہونے کی نوبت بھی آجائے گی مگر اب تو اس تقاضے پر عملدرآمد ایک ایساخواب نظر آتا ہے جس کی تعبیر ممکن ہی نہیں ہوسکتی اس لئے اب مزدور تنظیموں نے بھی یہ مطالبہ تقریباً ترک ہی کردیا ہے۔ مگر بھائی! مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر نہیں تو کم از کم اسے زندہ رہنے کاحق تو ملنا چاہئے۔ وزیراعظم صاحب نے یوم مئی پر لیبر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بہت تیر مارا اور مزدور کی کم از کم تنخواہ ایک دم سات ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کردیا یعنی سابقہ حکومتی مقرر کردہ تنخواہ میں یکمشت ایک ہزار روپے کا اضافہ، مزید کرمفرمائی۔ اگر کبھی مزدور کو ملازمت سے جبری برطرفی کے خلاف کیس لڑنے کی ضرورت محسوس ہوتو اسے وکیل مقرر کرنے کیلئے سرکاری خزانے سے پندرہ ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے اور اسے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کے تحت پچاس سال کی عمر سے ہی پنشن والی مراعات ملنا شروع ہو جائیں گی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس لیبر پالیسی کو فی الواقع مزدوروں کی فلاح و بہبود کی پالیسی کا نام دیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ اس میں کبھی دیہاڑی دار مزدور کے حقوق و مفادات کا خیال نہیں رکھا جاتا حالانکہ حقیقی مزدور یہی دیہاڑی دار مزدور ہوتا ہے۔ بلاشبہ تنخواہ دار طبقہ بھی مزدور پیشہ ہی ہے مگر لیبر پالیسی صرف اس طبقے تک تو محدود نہیں ہونی چاہئے اور پھر اس طبقے کی بھی اس پالیسی میں بھلا کہاں نگہداشت ہوپاتی ہے۔ جس تنخواہ دار مزدور کی کم ازکم تنخواہ سات ہزار روپے ہوگی،وزیراعظم صاحب اس کے گھرکا بجٹ تو بنا کر دکھائیں۔ اس درجے کے مزدور طبقہ کا سروے کرائیں تو معلوم ہوگا کہ اس کی اکثریت ذاتی مکان کی نعمت سے یکسر محروم ہے جبکہ اس طبقے کا کنبہ بالعموم بڑا ہوتا ہے اور جب تک اس مزدور خاندان کے بچے کمانے کی عمر کو پہنچتے ہیں، کنبے کا سربراہ ایڑیاں رگڑتے، مزدوری کرتے دہرا ہو چکا ہوتا ہے۔
اب ذرا تصور کیجئے۔ اس خاندان کی حالتِ زار کیاہے۔ تنخواہ سات ہزار روپے(جس کا ابھی محض اعلان ہوا ہے) کھانے والے سات آٹھ افراد، مکان کا کرایہ، بجلی، پانی، گیس کا بل، بچوں کے تعلیم کے اخراجات اور روزمرہ کا خرچہ۔ آج کے جان لیوا مہنگائی کے دور میں سات ہزار روپے میں سات آٹھ افراد پر مشتمل کنبے کے ماہانہ روز مرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوسکتے چہ جائیکہ اتنی تنخواہ میں یوٹیلٹی بل بھی ادا ہوں، مکان کا کرایہ بھی نکل آئے اور بچوں کے تعلیم کے اخراجات بھی پورے کئے جائیں۔ مصیبت تو یہ ہے کہ ایسی پالیسیاں وضع کرنے والوں کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ادراک ہی نہیں ہوتا کیونکہ ان کا کبھی ان حقائق سے واسطہ ہی نہیں پڑتا۔ پھروہ حقائق کا ادراک کئے بغیر مزدوروں کی فلاح و بہبود کی کوئی پالیسی بنائیں گے تو اپنی جانب سے تیر ہی ماریں گے۔ گزشتہ سال یہ تیر مزدور کی کم از کم تنخواہ چھ ہزار روپے مقرر کرکے مارا گیا اور اب اس میں ایک ہزار روپے اضافہ کا تیر چلایا گیا ہے اور ظلم یہ ہے کہ اس پالیسی پر بھی من و عن عملدرآمد نہیں ہوپاتا۔ ابھی تو کم از کم تنخواہ چھ ہزار روپے والی منزل بھی مزدور طبقہ کو حاصل نہیں ہوئی اگر کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر مقرر کرنے کا تقاضہ برقرار رہے تو کسی مزدور کی زندگی میں تو اس کا یہ تقاضہ پورا نہیں ہو پائے گا۔ پھر یہ سارے ڈھکوسلے کس کو خوش کرنے کیلئے ہیں۔ جبکہ لیبر پالیسی میں حقیقی مزدور کو ویسے ہی نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کبھی سوچا ہے اقتدار کی بلند فصیلوں کے نرم گرم ماحول میں بیٹھے ان پالیسی سازوں نے کہ آج دیہاڑی دار مزدور پر کیا بیت رہی ہے۔ آج بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے سب سے بُرے اثرات تو اسی طبقہ پر مرتب ہوئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ سے فیکٹریاں، کارخانے اور دوسرے کاروباری مراکز بند ہو رہے ہیں تو اس کی سزا روزانہ کی بے کاری اور بے روزگاری کی صورت میں دیہاڑی دار مزدور کو ہی بھگتنا پڑ رہی ہے۔ جس خاندان کی گزر اوقات ہی اس کے سربراہ کی روزانہ کی اجرت پر ہو رہی ہو اس کی بیکاری کا دن اس خاندان کی فاقہ کشی کا دن ہوگا۔ پھر یہ اجرت بھی اس کی مرضی کی نہیں، کام پر لگانے والے کی مرضی کی مقرر ہوتی ہے۔”ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“ درحقیقت اسی دیہاڑی دار مزدور کے اوقات میں جس کیلئے جینا بھی ایک سزا ہے اور مرنا بھی ایک عذاب۔ کیا ہمارے پالیسی سازوں نے کبھی کوئی ایسی لیبر پالیسی مرتب کی ہے جس میں دیہاڑی دار مزدور کی روزانہ کی مزدوری کا تحفظ حاصل ہو۔ شاید ایسا ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ اس طبقہ کی روزی تو ہوائی روزی ہوتی ہے۔ کام ملا تو روزی، نہ ملا تو روزہ اور پھر اس طبقہ کی اکثریت کو تو اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا کہ مزدوروں کی فلاح وبہبود کےلئے کوئی لیبر پالیسی بھی موجود ہے۔ وہ کام پر جُتے ہوتے ہیں تو جسمانی مشقت میں کوئی دوسری سوچ ان کے ذہن میں دخل در معقولات نہیں کر پاتی اور بیکار ہوتے ہیں تو انہیں صرف یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کوآج کھانا کیسے کھلائیں گے۔ آج اگر گداگروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کا یہی پس منظر ہے کہ جس روز کسی مزدور کو کام نہیں ملتا وہ اپنے اوزار کاندھے پر رکھے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتا ہے اور اگر آج چوری، ڈکیتی، راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کا پس منظر بھی یہی ہے کہ مزدور کو دیہاڑی نہیں ملتی تو اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے آنے پر وہ ان کی بھوک مٹانے کی خاطر چھینا جھپٹی پرمجبور ہوجاتا ہے۔ ان پالیسی سازوں کیلئے صرف یہی عرض کرسکتا ہوں کہ….
جب تک اپنی قوم کے انساں تن سے ننگے پھرتے ہیں
تب تک اپنی قوم کا ننگا پن بھی چھپ نہ پائے گا
تب تک اپنی قوم تمدّن میں نہ آگے جائے گی
جب تک ایک اک فرد ہمارا پیٹ نہ بھر کے کھائے گا


Categories : Saeed Assi,Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)