Khanqa Serajiya… by Dr Ajmal Niazi

4 May, 2010
(0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook  |  

خانقاہ سراجیہ کا سراج منیر

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ

پی اے ایف ایئربیس میانوالی کے چھوٹے سے عسکری ہوائی اڈے پر جہاز اترا، میانوالی کے ایک جید بزرگ عالم دین اور اللہ کے ولی بہت بڑے صوفی خانقاہ سراجیہ کے حضرت خواجہ خان محمد صاحب کو لے کر ملتان روانہ ہو گیا۔ حضرت خواجہ صاحب کی عمر 98 برس ہے، وہ بہت بیمار ہیں، انہیں موٹر گاڑی کے ذریعے کہیں منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ دو دن پہلے چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی ان کی عیادت کے لئے خانقاہ سراجیہ آئے تھے۔ عیادت اور عبادت میں کوئی فرق نہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد اصل میں ایک ہیں۔ یہ سیاست سے ماوریٰ کوئی عمل ہے سیاست بھی عبادت ہے مگر ہمارے سیاستدان سیاست کی اصل سے واقف نہیں۔ ان باتوں پر چودھری صاحبان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ وہ حضرت خواجہ صاحب کے معتقد ہیں اور یہ بہت بڑا خراج عقیدت ہے۔ حضرت خواجہ صاحب سیاست میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے ان کے بڑے بیٹے عزیز احمد مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ بہت دوستی رکھتے ہیں اور دوسرے بیٹے سعید احمد عمران خان سے محبت رکھتے ہیں یہ دونوں رابطے کی سیاست سے بالاتر ہیں ایسے میں چودھری پرویز الٰہی کا یہ فراخدلانہ اور عقیدت مندانہ رویہ بے حد قابل تعریف ہے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ابھی ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ انہوں نے حضرت خواجہ صاحب کے صاحبزادوں سے بھی کوئی رابطہ کیا ہو۔ مجھے امید ہے کہ دونوں اس حوالے سے خبر گیری کریں گے۔ مولانا مفتی محمود حضرت خواجہ صاحب کے دوستوں میں سے تھے۔ مولانا سلیم اللہ کا رابطہ بھی خانقاہ سراجیہ سے ہے۔ حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی بھی یہاں آیا کرتے تھے۔ ان کا طرہ مولانا نیازی کی یاد دلاتا ہے۔ وہ جو حکومتوں کو کرنا چاہیے وہ ایک سیاستدان نے کر دیا ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ سیاستدان بھی بڑا اور سچا انسان ہو سکتا ہے اس بات کے ذریعے میں کسی سیاست کی بات نہیں کر رہا ہوں یہ چودھری گھرانہ ریت روایت ادب آداب اور محبت و مروت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ مجھے سیاستدان عمومی طور پر اچھے نہیں لگتے مگر جن سے میرا رابطہ ہے وہ اچھے لوگ ہیں۔ چودھری صاحبان سے میرا تعلق برادری کی سطح کا ہے اور برادرانہ ہے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تھا جب میں چودھری ظہورالٰہی سے ملا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ہم چند دوست یہ دیکھنے گئے کہ وہ صبح کے وقت مشکل میں پھنسے ہوئے لوگوں سے کس طرح ملتے ہیں۔ انہوں نے ہر ایک کے ساتھ شفقت کی اور آخر میں ہمیں مخاطب کیا تو ہم نے کہا کہ ہم تو آپ سے ملنے آئے ہیں۔ گورنمنٹ کالج کا سن کر بہت خوش ہوئے ہمارے لئے چائے منگوائی اور پھر ہمیں چھوڑنے کے لئے نیو ہوسٹل تک آئے۔ گاڑی خود ڈرائیو کی۔ ان کی محبت بھری کیفیت کا تاثر ہمیشہ قائم رہا۔ چودھری شجاعت سے میری ملاقات زیادہ نہیں، چودھری پرویز الٰہی نے ہمیشہ دوستانہ کیفیت کو قائم رکھا وہ آدمی کو اتنی عزت دیتے ہیں کہ سیاستدان اور حکمران بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ مجیب الرحمان شامی نے صحافیوں کے ساتھ چودھری پرویزالٰہی کی ملاقات پر کہا تھا کہ ایسے لگتا ہے وزیراعلیٰ ہم خود ہیں۔ یہ بھی شامی صاحب نے کہا تھا کہ جیسے وزارت اعلیٰ میرے گھر میں آ گئی ہے۔
خانقاہ سراجیہ کی بہت محترم اور محبوب شخصیت کے ساتھ اتنی محبت اور عقیدت کا واقعہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ تلہ گنگ کی نوجوان دینی اور سماجی شخصیت حافظ عمار یاسر نے بتایا کہ میرے صرف ایک فون پر چودھری پرویز الٰہی نے یہ اہتمام کیا وہ بہت بڑے دل کے آدمی ہیں کہ اس طرح کے لوگ سیاست میں بلکہ زندگی میں کم کم ہیں۔ خدا سارے سیاستدانوں کو ایسا دل و دماغ عطا کرے۔ حافظ عمار یاسر، چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے چودھری راسخ الٰہی کے دوست ہیں۔ چودھری راسخ سیاست سے بہت دور رہتے ہیں۔ ان کی طبیعت اور مزاج میں مذہب سے وابستگی راسخ ہو چکی ہے۔ وہ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں ان کا خیال ہے کہ دنیاوی آلائشوں میں ڈوب کر آدمی طرح طرح کی آزمائشوں میں پھنس جاتا ہے، حافظ عمار یاسر کا رابطہ خانقاہ سراجیہ کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ چودھری راسخ الٰہی کو بھی دین و دل کو عزیز رکھنے والوں سے بہت لگاو ہے۔ تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل چودھری راسخ الٰہی کی دعوت پر کئی بار چودھری ہاوس خطاب کرنے گئے۔ وہ رائے ونڈ بھی جا چکے ہیں شاید بہت دل والے نعت خواں حسین نوازشریف کی دعوت پر گئے ہوں گے۔
میانوالی کے معروف صحافی برادرم محمود الحسن خان نیازی اپنے ضلع کی تاریخ و تہذیب سے بہت باخبر ہیں۔ محمود نے بتایا کہ ان کے والد خانقاہ سراجیہ کے بہت عقیدت مند تھے۔ یہاں مسلم ایشیا کی سب سے بڑی اسلامی لائبریری ہے جہاں خانقاہ سراجیہ کے مرشد اول حضرت احمد خان صاحب نے تقریباً پوری دنیا کی لائبریریوں سے لاکھوں اسلامی کتب اکٹھی کیں۔ اس روایت کو حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے آگے بڑھایا یہاں سے کوئی کتاب کسی کو ایشو نہیں ہوتی قیام و طعام کا بہترین انتظام ہے کوئی جتنا عرصہ یہاں رہے اور استفادہ کرے۔ یہاں ہر وقت علوم اسلامیہ اور روحانی علوم کے مسافروں کا میلہ لگا رہتا ہے۔ پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں۔ عالم اسلام اور دیار حجاز سعودی عرب میں جن چند دینی اور روحانی شخصیات کی بہت عزت ہے ان میں شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندیؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور خواجہ خان محمد مدظلہ بھی شامل ہیں، خواجہ خان محمد صاحب کے مرشد اور سسر حضرت احمد خان صاحب کے پیر سراج الدین کا تعلق سون سکیسر سے تھا۔ انہی کی نسبت سے خانقاہ سراجیہ معروف ہوئی ہے مجھے وہاں حاضر ہونے کی توفیق ملی ہے بہت کم جگہیں تھیں کہ جہاں حاضری اور حضوری ایک ہو گئیں۔ حضرت سلطان باہوؒ کے مزار پر بہت دیر پہلے جانے کا موقع ملا تھا۔ داتا دربار جا کے درد کے ماروں کے ہجوم میں اکیلا ہوتا ہوں۔ پاکپتن شریف جا کے بھی دل کو بہت قرار آیا بہشتی دروازے سے گزر کر مجھ جیسے گنہگار کو محسوس ہوا کہ شاید میرے لئے بھی بہشت بریں کا دروازہ کھل گیا ہے۔
دل والوں کی محفل بھی آباد تھی اور مرقد بھی آباد ہے خانقاہی نظام ایک باقاعدہ روایت تھی جہاں لوگ ٹھکانہ کرتے تھے دلوں کی ویرانیوں سے بچاتے تھے ۔ لائبریریاں تھیں قیام و طعام کا کھلا اہتمام تھا، لنگر تقسیم ہوتا تھا۔ لنگر میں دل کی کیفیتیں اور بے قراریاں بھی ملتی ہیں جس کا جتنا ظرف ہو اتنا ہی اس کو عطا ہوتا ہے سب کچھ عطا ہوتا ہے۔ امیری بھی فقیری بھی اور بادشاہی بھی خانقاہی بھی۔ کئی لوگ پوری پوری زندگی یہاں گزار دیتے تھے۔ دوسری اچھی سچی باتوں کی یہ صورت حال بھی برباد ہو گئی ہے اب صرف ایک خانقاہ سراجیہ ہے جو خانقاہی نظام کی بچی کھچی نشانی ہے۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب اس کے نگہبان ہیں اللہ انہیں سلامت رکھے۔ ایک پوری صدی کی گواہی کے لئے ان کے صرف دو سال باقی ہیں ایسے کئی سال انہیں نصیب ہوں۔ آسمانوں سے بھی سربلند لوگ دھرتی کو دل دھرتی بنانے والے لوگ اس بدقسمت زمانہ میں اور بدقسمت زمین پر کتنے رہ گئے ہیں۔ اللہ اپنے محبوب رسول کریم کے نام پر قائم ہونے والے ملک کو قائم رکھے۔ خانقاہ سراجیہ اب اس ملک کی امانت ہے دور آباد بستی میں کیسی کیسی سرمستی کا سامان موجود ہے۔ ! ! ….
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمین کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے


Categories : Dr Ajmal Niazi,Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)