Mezdoor Ki Jedojehed by Marvi Memon

3 May, 2010
(0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook  |  

مزدور کی جدو جہد

تحریر:ماروی میمن… ایم این اے………..
کہا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ قدیم مصر کے مشہور فرعون Ramses-IIIکے دور میں Royal Necropolisکے کاریگروں نے Strike کی یوں تب سے اب تک عوام حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔پی پی پی کی حکومت سے جو سوشلسٹ نظریات سے وابستگی کی وجہ سے مشہور ہے توقعات بہت زیادہ تھیں تاہم حکومت نے اپنے دوسالہ دور میں کئی مسائل پر عوامی احتجاج اور دھرنے دیکھے جنہیں وہ اب تک حل نہیں کر پائی۔ اس سال یکم مئی کی اہمیت میرے لئے بہت خاص ہے کیونکہ میں نے لیبر کے لئے باتوںسے زیادہ عملی کام کئے ہیں۔ میں نے پچھلے دوماہ مزدورں کے ساتھ جدو جہد میں گزارے ۔ میں نے سات دن رات نیشنل پروگرام فار امپروومنٹ آف واٹر کورسز کے ملازمین کے ساتھ اُن کی ریگولرائزیشن کےلئے فٹ پاتھ پر گزارے حالانکہ 12مارچ کو وزیراعظم نے کمٹمنٹ دی کہ اُن سب کی ریگولرائزیشن ہوجائے گی تاہم ہم اب یکم مئی کو اُس جدوجہد کا کچھ ثمر پارہے ہیںجب بلوچستان کے چیف منسٹر نے بلوچستان کے NPIWکے ورکروں کی ریگولرائزیشن کا اعلان کیا۔ میں نے حال ہی میں آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کے لانگ مارچ کا حصہ تھی جو پانچ دن کے ملک گیر سفر کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا ۔ اس لانگ مارچ کا ثمر ہمیں 15مئی کے بعد ملنے کی توقع ہے کیونکہ یہ وہی ڈیڈ لائن ہے جو حکومت نے کلرکوںکے مطالبات پورے کرنے کے لئے مانگی تھی۔ اِن تمام WARRIORSکے لئے جنہوں نے اس لانگ مارچ میں حصہ لیا میں اُمید کرتی ہوں کہ اُن کی جدوجہد کامیاب رہے گی۔میں نے اُن نرسوں کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذکرات کئے جنہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے اپنے مطالبات کے لئے ایک دن رات تک دھرنا دیا۔ اس جدوجہد اور تحریکوں کے دوران میں نے ایک بات سیکھی کہ ایک مزدور کا دوسرے مزدور کے ساتھ تعلق لسانی، سماجی اور فرقہ واریت کے تضاد سے بالا تر ہوتا ہے یہ تعلق بہت مضبوط ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق انسانیت سے ہے اور بنیادی انسانی ضرویات سے ہے جو ان تمام اختلافات کے باوجود ایک سی ہیں۔ حالیہ حکمرانوں نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے کیونکہ اُنہوں نے اِن دوسالوں میں عوامی ریلیف کے جو وعدے کئے انہیں پورا کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہےں اور یہی وجہ ہے کہ Labour Policy-2010میں کئے گئے اعلانات مثلاََ کم از کم تنخواہ 7,000/-روپے کو عوام شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ حکومت ا ب تک 6,000/-روپے کا وعدہ اپنی غلط Implementation Strategy کی وجہ سے پورا نہیں کرپائی۔ عوام اس حالیہ اضافے کے اعلان کو محض خواب ہی مان رہے ہیں۔ویسے بھی بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی میں 7,000/-روپے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ حکومت اب تک انصاف کو کامیابی سے ٹالے ہوئے ہے اور کئی مزدور تحاریک اِسی لئے کامیاب نہیں ہوسکیں کیونکہ حکومت نے بڑی کامیابی سے Divide & Rule سے کام لیا ہے تصور کریں اگر مزدور لیڈران اس بات کا تہیہ کرلیں کہ وہ سڑکوں پرنکلیں اور اُس وقت تک گھر وں کو نہیں لوٹیں گے جب تک اُن کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو حکومت کے لئے اُن کے مطالبات رد کرنا ناممکن ہے۔ بدقسمتی سے جو ہجوم سڑکوں پر نکلتا ہے وہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ حکومت کو ڈرا کر اپنے جائز مطالبات منوا سکے۔اگر مطالبات حق پر ہیں تو اُن پر Negotiationکا کوئی جواز نہیں بنتا پھر وہ ایک عظیم مقصد ہوتا ہے جس کے لئے جان بھی دی جاسکتی ہے۔ اگر جذبہ یہ ہوتو کسی بھی حکومت کی جرات نہیں ہوسکتی کہ وہ اِن کا راستہ روکیں اور مطالبات کو ٹھکرا دیں۔ تمام حکومتوں کی یہ ذمہ دار ی ہوگی کہ وہ اُن مطالبات کا احترام کریں۔ مزدور بہت بہادر ہوتے ہیں وہ حکومتوں کی دہشتگردی کے خلاف پُر امن احتجاج کرنے کے لئے سٹرکوں پر نکلتے ہیں اورحکومت کے ناجائز غصے کا نشانہ بنتے ہیں۔
ایک بار جب مزدور خودکو منظم کرلیں اپنی طاقت کو یکجا کرلیں اور اُن کے مطالبات کو باقی عوام کی حمایت حاصل ہوجائے ، وہ حق پرCompromiseنہ کریں تو پوری قوم اُن کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔ بدقسمتی سے ہم پاکستان میں مزدور اور عام آدمی کے بیچ خلا کو دور نہیں کر پائے ہیں ۔ عوام کو مزدور ں کے مطالبات سے تعلق جوڑنا ہوگا، اُنہیں اپنانا ہوگا ، اُنہیں اپنی طرف سے آگے بڑھانا ہوگا۔ اُنہیں اپنے مزدور بھائیوں کے شانہ بشانہ اُن تحریکوں میں کھڑا ہوا پڑے گا اگر ایسا ہوجائے تو مزدورں کے مطالبات کو حکومت کے لئے رد کرنا ناممکن ہوجائے گا۔
پاکستان کی واحد اپوزیشن ہونے کے ناطے ہم چاہیں گے کہ ہم حکومت کو اُس کے روٹی کپڑا اور مکان کے ناکام وعدے یاد دلائیں جو اب بھوک ، بے روز گاری اور میرٹ کے قتل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ ریگولرائزیشن دینے کی بجائے اب نوکریاں بیچ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے اس موڑ پر حکومت کو سوچنا چاہے کہ یہ احتجاج بھیانک صورتحال اختیار کرسکتے ہیں اگر Haveاور Have Notsکے درمیان اس Frustration کو ختم نہ کیا گیا ۔
جیسا کہ قائداعظم نے فرمایا ”اسلام کے خادم بن کر آگے بڑھو، لوگوں کو معاشی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی طور پر منظم کرو اور مجھے یقین ہے کہ تم ایک ایسی طاقت بن جاﺅ گے جو سب کو قبول ہوگی“۔


Categories : Marvi Memon,Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)