Web Hosting
Web Hosting Instructions
Recommend

Tehqeeqati Report… by Tayyaba Zia

3 April, 2010
(1) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook  |  

تحقیقاتی رپورٹ اور جنرل کیانی کا دورہ نیویارک

طیبہ ضیاء ـ 6 گھنٹے 14 منٹ پہلے شائع کی گئی
بے نظیر قتل کیس سے متعلق اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا اجراءحکومت پاکستان کی درخواست پر ملتوی کر دیاگیا ہے۔یہ رپورٹ منگل 30مارچ کو جاری ہونا تھی لیکن اس کو ملتوی کر کے عوام کو”اپریل فُول“ بنا یا گیا ہے ۔ محترمہ کے شوہر نے قاتلوں کی تلاش میں اقوام متحدہ تک رسائی حاصل کی اور قوم کے کئی ملین ڈالر صرف کر دئیے لیکن جب رپورٹ قوم کے سامنے لانے کا مرحلہ آیا تو حسب عادت ڈنڈی مار دی گئی ہے۔ موصوف نے کبھی کوئی کام روٹین کے مطابق نہیں ہونے دیا ۔ہر کام میں اپنی ٹانگ اڑائی ہے جو ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔کمیشن رپورٹ میں تاخیر کئی سوالات اور خدشات کا سبب بن رہی ہے بالخصوص نیویارک کے حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ جنرل اشفاق کیانی کی نیویارک میں موجودگی کے دوران کمیشن رپورٹ کے موخر ہونے کی اطلاعات کوایک دوسرے کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل کیانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ منگل 30 کی شام تک نیویارک میں موجود تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کا وفد واشنگٹن سے پاکستان روانہ ہو چکا تھا اور جنرل کیانی وفد کے ہمراہ واشنگٹن سے پاکستان روانگی کی بجائے نیویارک تشریف لے آئے ۔ اقوام متحدہ کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کااجرا ان کے نیویارک قیام کے دوران ملتوی ہوا۔۔۔گو کہ جنرل کیانی کا نیویارک میں کم از کم پانچ روزہ قیام اور کمیشن رپورٹ کا اجرادو الگ معاملات ہیں مگر لوگ شبہات میں مبتلا ہیں۔۔۔ جنرل کیانی کے نیویارک قیام کوپاکستان کمیشن اور قونصلیٹ نے خفیہ رکھا اوران کے نجی وزٹ کو مکمل پروٹوکول دیا ۔کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر کی وجوہات کو حکومت دبانے کی کوشش کرر ہی ہے مگر نیویارک کے حلقوں میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے ۔ لاتعداد سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔کیا تحقیقاتی رپورٹ کے اجراءسے پاکستان کے سول اور فوجی اعلیٰ حلقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔۔۔؟کیارپورٹ کے اجراءمیں تاخیر پندرہ اپریل کو کسی اہم اقدام کے پیش نظر کی گئی ہے ۔۔۔؟ کیا گارنٹی ہے کہ پندرہ اپریل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔۔۔؟ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا اجراءاس سے پہلے بھی دو بار حکومت پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا جا چکا ہے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ ہارو ن صدر زرداری کے اس اقدام پر حیرت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لانے کے سلسلے میں عبدللہ ہارون نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے کئی ملاقاتیں بھی کیں۔ حکومت پاکستان رپورٹ کے اجراءمیں تین بار حائل ہو چکی ہے جس سے اقوام متحدہ کے”شفاف“ ہونے کے بارے میں بھی بے یقینی کی فضاءپیدا ہورہی ہے۔
پاکستانی میڈیاپر آجکل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ اور کرکٹر شعیب ملک کا نکاح چھایاہوا ہے۔شعیب ملک کا پہلا نکاح اور کمیشن رپورٹ گو کہ دو مختلف ایشوہیں مگر ان میں ”دھوکے“ کا عنصر واضح ہے۔دھوکہ منکوحہ نے دیا ہے یا کہ شعیب نے یہ تو اللہ بہتر جانتاہے مگر کمیشن رپورٹ میں رکاوٹوں کے پیچھے قوم کوجو دھوکہ دیا جا رہاہے وہ ضرور کوئی ”چن چاڑھے“ گا۔ بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات کسی نٹ کھٹ کھلاڑی کا غیر سنجیدہ” انٹرنیٹ معاشقہ“ نہیں بلکہ ایک نہایت حساس نوعیت کا مسلہ ہے۔آصف علی زرداری تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ بی بی کے قاتلوں کو جانتے ہیں اس کے باوجود انہو ں نے معاملہ اقوام متحدہ کو سونپ دیا۔۔۔؟ قوم کے کروڑوں ڈالر خرچ کر ڈالے۔۔۔ ؟ اپنی جیب سے ایک کھوٹا سکہ خرچ کرنے کا حوصلہ نہ ہو ا۔۔۔؟امریکہ کے جس شہر میں جڑواں عمارتیں دہشت گردی کی نذر ہو گئیں، سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے لیکن ”کھوجی“ تحقیق میں ناکام رہے، اقوام متحدہ کی عمارت بھی اسی شہر میں ہے جو سات سمندر پار دہشت گردی کے ایک واقعہ کا کھوج لگا رہا تھا اوروہ کامیاب ہو گیا ۔۔۔؟نا ممکن کو ممکن کر دکھا یا۔۔۔؟بی بی کے قاتلوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔۔۔؟ تحقیقاتی رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔۔۔؟ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے پاس الٰہ دین کا چراغ ہے جس سے وہ انہونی کو ہونی کر سکتی ہے۔۔۔بے نظیر بھٹو کے قتل کے فوری بعدجائے وقوعہ سے نشانات مٹا دئے گئے تھے ۔تمام شواہد ہٹا دئے گئے تھے اس کے باوجود ”علم غیب“ سے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار ہو چکی ہے۔۔ ۔؟محترمہ پر قاتلانہ حملوں کے شواہد کراچی سانحہ کارساز اور پنڈی لیاقت باغ سے ہی نہیں دھوئے گئے تھے بلکہ مرتضیٰ بھٹو کے جائے وقوعہ کو بھی رگڑ رگڑ کر دھویاگیا تھا۔۔۔صرف سانحہ کارساز کی رات ہی لائٹس آف نہیں ہوئی تھیں بلکہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل سے پہلے بھی سٹریٹ لائٹس گُل ہو گئی تھیں ۔۔۔محترمہ کے قتل کیس کی حیران کن رپورٹ منظر عام پر آناتھی کہ بی بی صاحبہ کے شوہر نے اسے دو ہفتوں تک ملتوی کرنے کا حکم فرما دیا ہے۔۔۔؟محترمہ کا قتل جس میں پہلے ہی بہت شبہات پائے جاتے ہیں رپورٹ میں تاخیر نے اسے مزید مشکوک بنا دیاہے۔چیزیں جب معمول سے ہٹ کر ہوتی ہیںتو ان میں جھول پیدا ہوتے ہیں اور پھرسوالات و خدشات جنم لیتے ہیں ۔جنرل کیانی کی فیملی کا ہمراہ امریکہ آنا عجب بات نہیں ۔پاکستانیوں کے سرکاری دورے بمعہ اہل عیال ہوتے ہیں۔چند روزہ قیام ہفتوں میں بدل جاتا ہے۔ جہاز کے ٹکٹ سے شاپنگ تک کے اخراجات سرکاری کھاتوں سے ہوتے ہیں البتہ جنرل کیانی کی فیملی کے اخراجات کس کھاتے سے ہوئے یہ کھوج کون لگائے گا۔۔۔؟چھڈو جی ! مٹی پاﺅ….!


Categories : Tayyaba Zia,Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments
April 3, 2010

Dear Scholar
Just reply one question and you will reply to all your questions.
” Who fund all the journalists who accompany such missions/delegates and report for their employers, who is actually responsible for them and benefit from their reports.”
You decide.

thanks and regards.
zaighamz

Posted by zaighamz
Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image