Archive for December 27th, 2009
نیزے پر قرآن پڑھنے والے قاری کو سلام by Bushra Rehman
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
آج صدیاں گزریں حضرت امام حسینؓ کا ذکر گھر گھر مےں ہے، کروڑوں دل ہےں جو ان کی محبت سے آباد اور ان کی یاد سے زندہ ہےں۔ حسینؓ زندہ اور قیامت تک زندہ رہےں گے جبکہ یزیدیت ہمیشہ کے لئے ذلت کی علامت بن چکی ہے۔ یہ تمام اقتباسات جناب حضرت محمد برکت علی لدھیانوی قدس سرہ، کی تصنیف تذکرہ¿ حسین‘ شہزادہ¿ کونین علیہ السلام مےں سے رقم کئے جا رے ہےں۔
آپ لکھتے ہےں:
نو اور دس محرم کی درمیانی رات اپنی سیاہ زلفیں بکھیر چکی ہے۔ صحرائے کربلا پر دسویں رات کے چاند کی اداس کرنیں کہہ رہی ہےں
…………
کہ اے کربلا کی سرزمین! تیری پشت پر اس مقدس قافلے کی یہ آخری رات ہے، کل پیاسا قافلہ لٹ جائے گا، اس کے شہیدوں کا خون تیرے خشک ذروں کے ہونٹوں کو سیراب کر دے گا، آج کی رات ان مہمانوں کے ساتھ مروت کے ساتھ گزار دے۔ ان خیموں کے اندر ہونے والی ایک ایک بات کو اپنے سینے مےں محفوظ کر لے، سہمے ہوئے پیاسے بچوں کی آہ و بکا کو اپنے دامن دل مےں جگہ دے دے، عفت مآب بیبیوں کے پیروں کے نقوش اپنی چھاتی مےں چھپالے …….. فضا آج جتنی اداس اور مغموم ہے اتنی کبھی پہلے نہ تھی، سورج کی رنگت پھیکی پھیکی سی ہے، ہوائیں افسردہ سی ہےں، فرات کا پانی بےقراری سے اچھل اچھل کر کربلا کے اس میدان کو دیکھ رہا ہے …. خیمہ گاہِ امام مےں ایک پراسرار خاموشی ہے……..
…………
حضرت صوفی محمد برکت علی قدس سرہ مقالات حکمت مےں فرماتے ہےں….
”….عزم و استقامت کا تذکرہ بزم کونین کی تاریخ کا زریں باب ہے اور اسی سے بزم ہستی مےں کیف ہے۔
بڑے بڑے نامی گرامی شہ زور اس اکھاڑے مےں اترے مگر عزم و استقامت کے معیار پر پورے نہ اترے۔ اس راہ کی پرپیچ وادیوں مےں گھبرا کر یوں بھاگ نکلے کہ آج تک نام و نشان نہ ملا۔ دنیا مےں دنیا میلہ دیکھنے جاتی ہے، عزم و استقامت کا میدان آسمان والوں کے دیکھنے کا میلہ ہے، کروبین کے دیکھنے کا میلہ……..
آسمان والوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا ….
خلیل اللہ کو آتش نمرود مےں پھینکتے دیکھا….
ذبیح اللہ کے حلقوم پر باپ کو چھری چلاتے دیکھا ….
زکریا کو آرے سے چرتے دیکھا ….
ایوب کو آلام مےں مبتلا دیکھا….
یونس کو شکم ماہی مےں محبوس دیکھا….
یوسف کو بازار مصر مےں نیلام ہوتے دیکھا….
وہ کبھی کسی نے کسی میدان مےں نہ دیکھا….
شہزادہ¿ کونین کا سر اقدس بالائے سنان دیکھا….
تاریخ مات کر دی۔ اب بتلا کوئی کیا کچھ پیش کرتا جائے۔
شاہ شمس کی کھال ادھیڑنا…. اور منصور کو سولی پہ کھینچنا عزم و استقلال ہی کے مناظر کی داستانیں ہےں….
شہید جب شہادت کے میدان مےں اپنی جان کی بازی کے لئے آتا ہے۔ عرشی عرش اور فرشی فرش پر اس کی جان کی بازی کے کرتب دیکھنے صف آرا ہوتے ہےں۔ شہادت حیات جاوداں ہے اور موت کا بلند ترین اعزاز….
شہادت قیام شکر ہے نہ کہ قیام شکوہ¿ و شکایت….
ایمان شہادت سے کبھی نہ گھبرایا اور نہ ہی آبدیدہ ہوا …. یہ غم شہادت کا نہیں پامالی¿ حرمت کا ہے، موت کا نہیں تقدس کی تضحیک کا ہے۔ یہ غم بھی شہادت کی طرح جاوداں ہے۔
آج زندہ ہے تو حسینؓ کا نام ….
آج پائیندہ ہے تو حسینؓ کا نام….
یہ نام اور پیغام رہتی دنیا تک مینارہ¿ نور کی صورت جلوہ گر رہے گا۔ عزم جب بھی نکلا
اللہ ہی کی حمایت مےں نکلا …. تن تنہا نکلا….
عزم و استقامت کی بے مثل مثال جو کربلا کے میدان مےں پیش ہوئی۔ اس کی مثال دنیا کی کسی تاریخ مےں نہیں ملتی، ماشاءاللہ….
دریائے فرات کے کنارے عزم کے دونوں بازو کٹ گئے۔ استقامت پانی کی مشک کو منہ مےں پکڑے جا رہی ہے۔ اللہ اللہ ادھر تپتی ریت پر عزم کا سر تن سے جدا ہے اور تن زخموں سے چور زمین پر تڑپ رہا ہے۔ سر نیزے کی انی پر بلند ہے …. استقامت قرآن کریم کی تلاوت کر رہی ہے …. یہ وہ حد ہے جسے کسی ماں کے لال نے کبھی مات نہ کیا اور نہ رہتی دنیا تک کبھی مات کر سکے گا۔
شہسوارِ کربلا کی شہسواری کو سلام
نیزے پر قرآن پڑھنے والے قاری کو سلام
(اقتباسات از مقالات حکمت)



