Archive for December 23rd, 2009

تعزیت کے ووٹ ۔۔۔ by Tayyaba Zia

23 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
فوزیہ وہاب کہتی ہیںکہ پیپلز پارٹی کوا قتدار بھیک میں نہیں بلکہ بارہ سال کی جدوجہد کے بعد ملا ہے۔۔۔ جملہ ادھورا چھوڑ دیا ہے ؟ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار بھیک میں نہیں ”تعزیت“ میں ملا ہے ۔ محترمہ کی ہمدردیوں کے ووٹ آصف زرداری کی گود میں جا پڑے ۔۔ ۔عوام اپنی کیتی اب بھگت رہے ہیں۔ ہم نے تو اس اقتدار کو حاصل کرنے کےلئے برسوں منصوبہ بندی کی ، بڑے بڑے خطرات مول لئے،جیلیں کاٹیں،امریکہ میںلابنگ کی،آمر کو باپ بنایا، حریفوں کو یار بنایا ، کسی کو راہ سے اور کسی کو نگاہ سے ہٹایا،جس گھڑی کےلئے برسوں انتظار کیا۔۔۔اب اتنی آسانی سے چلے جائیں۔۔۔؟ سترہ رکنی بنچ کا فیصلہ بنی بنائی کھیڈ تباہ کر نا چاہتاہے۔۔۔؟ عدلیہ تو حکمرانوں کے گھر کی لونڈی ہوا کرتی ہے۔اس لونڈی کو ہم نے آزاد کرایا ہے ۔ جو بھی آیا اس نے عدلیہ کو اپنا ہاتھ دکھایا پھر سارا عتاب ہم پر ہی کیوں۔۔۔؟ عدلیہ ہمارے آگے نہیں پیچھے چلنے کا سلیقہ سیکھے۔ ابھی تو کرسی پر صحیح طور سے بیٹھے بھی نہیں تو اٹھ بھی جائیں۔۔۔؟عزت ماآب !مائنس ون ہو گا اور نہ تھری فور ۔۔۔ہمارے اندر کوئی مجرم ہے اور نہ چور۔استعفیٰ کس بات پراور کس کے ہاتھ پر ۔۔۔؟ہمارا وقت ضائع نہ کیا جائے ۔ملک و قوم کی خدمت میں سخت مصروف ہیں۔۔۔آہنی درو دیوار سے باہر جھانکنے کی فرصت تک نہیں ۔۔۔رحمن ملک امن ریلی میں مصروف ۔۔۔مسٹر تاثیر الٹی سیدھی ہانکنے میںمصروف۔۔۔وزیر اعظم اپنی کرسی بچانے میں مصروف ۔۔۔سپریم کورٹ اپنا اگلا آرڈر تیار کرے۔۔۔مشرف ،شوکت عزیز اور الطاف حسین کی واپسی کےلئے بھی ایک بھاری بنچ تشکیل دے ۔۔۔این آر او کا فیصلہ آنے کے بعد حکومتی پارٹی کی بوکھلاہٹ اور سندھ کارڈ کے استعمال سے زیادہ دلچسپ واقعہ ”مشرف باقیات“ جناب سلمان تاثیر کا لطیفہ ہے ۔۔۔! چیف جسٹس سے بھی استعفیٰ طلب کیا گیا تھا مگر انہوںنے تو نہیں دیا تھا پھر ہم کیوںدیں۔۔۔؟ فوزیہ وہاب اور سلمان تاثیر کے بیانات ”سوتنوں کے طعنے“ ہوتے ہیں ۔ چیف جسٹس سے استعفیٰ ایک ڈکٹیٹر نے طلب کیا تھا جبکہ زرداری حکومت سے استعفیٰ عوام طلب کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو عوام انکے ساتھ تھے۔زرداری حکومت نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو عوام انکے خلاف ہیں۔۔۔فرق صاف ظاہر ہے۔غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مگر غلطی اور غبن ۔۔۔جھوٹ اور بلنڈرز۔۔۔چوری اور ڈکیتی۔۔۔میں بڑافرق ہوتا ہے۔چیف جسٹس کا انکار ملک میں انقلاب لے آیا جبکہ ”نقال“ کا انکار ملک میں بھونچال لے آیا۔ بیرون ملک اخبارات یہ تاثر پیش کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں فوجی حکومت ہو یا جمہوری اس کے قیام اور زوال کا تعلق امریکہ کی حمایت سے منسلک ہے جبکہ زرداری حکومت امریکہ کی حمایت کے باوجود کمزور ہورہی ہے جو امریکہ کےلئے بھی تشویش کا باعث ہے ۔امریکہ زرداری کو جمہوری اور آئینی صدر تسلیم کرتاہے مگر اپنی امداد اس کے ہاتھ میں دینے کا اعتبار نہیں کرتا ۔امریکہ کرزئی اور زرداری سے مایوس ہے۔زرداری حکومت کا فیصلہ اب عوام کی عدالت میں ہو گا۔ ایک بھارتی اخبار لکھتاہے کہ صدر زرداری اپنے خلاف اٹھنے والی سازشوں کا سامنا کرنے کا عزم کرتے ہیں مگر وہ اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ پاکستان کے سیاستدانوں کایہی وطیرہ چلا آرہاہے کہ جو بھی اقتدار میں آیا خوب لوٹ مار کی ۔مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے انہیں جیلوںمیں ڈالا اور اپنے لئے قانونی تحفظ حاصل کر لیا۔عدلیہ کو اپنے اشاروں پر چلایا۔پاکستانی حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کو توڑ توڑ کر اور نوچ نوچ کر کھایا ہے لیکن پھر بھی انکا پیٹ نہیں بھرا ۔پاکستان میں دہشت گردی کی بھیانک صورتحال کے درمیان سیاستدانوں کی بد عنوانی نے اس ملک کے جمہوری نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیاہے۔صدر زرداری کے منظر سے ہٹ جانے میں اگر جمہوری نظام برقرار رہ سکتاہے تو انہیں اقتدار کی قربانی دے دینا چاہئے۔مضبوط جمہوری لیڈر سونیا گاندھی کا منموہن جی کو اقتدار سونپ دینا ہندوستان میں امن اور جمہوری نظام کی خاطر ایک بے مثال قربانی ہے جبکہ آصف زرداری ایک کمزور اور داغ دار حکمران ہیں ۔انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے پس منظر میں چلا جانا چاہئے اور حکومت کو میعاد پوری کرنے کا موقع دینا چاہئے ۔ اخبار مزید لکھتاہے کہ اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ بدعنوان ممالک کی فہرست میں 42 ویں مقام پر ہے۔اسکی بڑی وجہ اعلیٰ سطح پر کرپشن کا جا ل ہے۔ کرپشن کو سیاسی مشین چلانے کےلئے ایندھن سمجھا جاتا ہے۔پاکستان میں کبھی کوئی بڑا سیاستدان قانون کے شکنجے میں نہیں آسکا ۔پرویز مشرف خاموشی سے نکل گئے اور آصف زرداری بھی بچ جائیںگے ۔سپریم کورٹ کا قومی مصالحتی آرڈیننس کو مسترد کرنے سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال مزید نازک ہو جائے گی۔پاکستان کو ایک طرف دہشت گردی اور دوسری طرف کرپشن اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔۔۔ حکومت اس وقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اصول اور قانون یہی بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے مطلوبہ افراد کرسیوں سے اتر کر عدالتوں میں پیش ہو جائیں۔
حکومت کاباقی سیٹ اپ ویسے ہی قائم رہ سکتاہے البتہ وزیر اعظم قیادت کا”طوطا“مت بنیں۔پارٹی کے ساتھ بے لگام وفاداری کے وقت عوام کے بے شمار ووٹوں کو بھی یاد رکھا کریں۔عدلیہ کے بارے میں لب کشائی کے وقت بابائے قائد ؒ کے فرمان بھی یاد رکھا کریں۔ عوام جوعدلیہ کو بحال کرانا جانتے ہیں وہ اسکا فیصلہ منوا نا بھی جانتے ہیں ۔۔۔ عدلیہ کی بحالی وزیر اعظم کے اعلان سے نہیں اللہ کے احسان سے ملی ہے۔اس جرا¿ت اور غیرت سے ملی ہے جو اللہ نے پاکستان کے عوام میںپیدا کر دی ہے۔ تعزیت کے ووٹ بھی بھیک کی ایک قسم ہوتے ہیں۔رحم اور ہمدردی کے ووٹ بحالی عدلیہ کی نذر ہو چکے ہیں!
Categories : Tayyaba Zia, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,