Archive for December 9th, 2009

دوری ہو ایسے قانون کیلئے ! by Rafeeq Dogar

9 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
مبارک ہو! قبل از وقت ہے؟ آ ملا ہے سینہ چاکان این آر او سے قانون اور آئین کی حکمرانی والا سینہ چاک؟ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے ! چلو ذرا پیچھے چلتے ہیں 12۔ اکتوبر 2007ء تک۔ ملک پر کنگ ڈرٹو کی حکمرانی ہے ان کا بنک لٹا¶ مال بناﺅ شوکت غریب ڈرٹی کھیل کی کپتانی کر رہا ہے قرض خور قبیلہ ویسے ہی چمکتا دھمکتا پھر رہا ہے جیسے آج کل اپنی نیک نامی کے پھریرے لہراتا گرجتا پھر رہا ہے۔ آج این آر او قبیلہ ہے قرض خور قبیلہ ہے اور رشوت رول قبیلہ ہے۔ ہارس سٹیل ملز کا فروغ رشوت قبیلہ ہے۔ تینوں معزز قبیلوں کے معززین ترین افراد آج اس ملک اور معاشرے پر قابض ہیں اور سپریم کورٹ نے ایک بار پھر این آر او کے غیر قانونی اور غیر انسانی ہونے کے بارے میں روئیداد خاں کی درخواست کی سماعت شروع کر دی ہے۔ اس درخواست کی جو انہوں نے کنگ ڈرٹو کی اور قرض خور قبیلے کی شاہی کے دور میں دائر کی تھی اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری نے 12 اکتوبر 2007ء کو اس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ”حتمی فیصلہ آنے تک کسی کو ریلیف نہ دیا جائے اور نہ ہی کوئی حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ غلط کیس کا فیصلہ ریویو بورڈ نہیں عدالت عالیہ ہی کر سکتی ہے این آر او کی چار دفعات آئین سے متصادم نظر آتی ہیں آئین کو آپریشنل ہونے سے نہیں روکا جا سکتا“ چیف جسٹس آف پاکستان نے 12 اکتوبر 2007ء کو اس درخواست کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کی تھی جو کل 7 دسمبر 2009ء کو پھر سے شروع ہو چکی ہے اور ان کے ساتھ فل بنچ میں سولہ مزید جج صاحبان شامل ہیں۔ اتنا طویل التوا؟ چلو ختم ہو گیا۔ کیا اس کے لئے مبارکباد دینا بھی قبل از وقت ہے؟ لاہور کے ایک ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے ایک معصوم بچی کو غلط ٹیکہ لگا دیا زیادہ مقدار میں دوائی دے دی اور وہ معصوم اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی ان بے چاروں نے اپنی محنت کی کمائی سے بھاری فیسیں دے کر اپنی معصوم بچی کیلئے کیا حاصل کیا ہے؟ زندگی؟ جس کی امید ہر کسی کے دل میں ہوتی ہے اور اس معصوم کو تو ایسا کوئی موذی مرض بھی نہیں تھا۔ اس کے والدین کی حالت کا اندازہ کرکے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیسے کیسے نایاب ماہرین ہیں اپنے ہاں۔ جو بھاری فیسیں وصول کرکے معصوموں اور مجبوروں سے ان کی زندگیاں چھین لیتے ہیں۔ کنگ ڈرٹو نے بھی اس مجبور قوم کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا ہوا ہے اس کے وجود میں این آر او کا مہلک ٹیکہ گھونپ کر اس مجبور غریب قوم سے بھاری فیسیں اس کے ماہرین بھی اسی طرح وصول کرتے رہے ہیں اندرون اور بیرون ملک ان مقدمات کی پیروی کیلئے این آر او کے ٹیکہ سے سب برباد ہو گئی تھیں وہ فیسیں بھی جو زندگی بخش فیصلہ کیلئے خرچ کرتی رہی تھی یہ قوم۔ کنگ ڈرٹو نے اس کے جسم سے این آر او کا جو زہر اتار دیا ہوا ہے وہ اب اس کی زندگی کے درپے ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے اس بچی سے زندگی چھین لینے والے قاتل ماہرین کی گرفتاری تو کروا دی ہے مفروروں کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ان قاتل ماہرین کو کون پکڑے گا جنہوں نے اس غریب قوم سے بھاری فیسیں لی تھیں؟ اس کنگ ڈرٹو سے کوئی پوچھ سکا کہ تم نے قوم کے خرچ پر قوم کے وجود میں این آر او کا زہر کیوں اتار دیا ہوا ہے؟ کوئی پکڑ کر لائے گا اسے؟ کر سکے گا کوئی اسے کسی حوالات میں بند؟ اور وہ جو این آر او شاہی ہے؟ جرم تو جرم ہی ہوتا ہے ہمیشہ جرم ہی رہتا ہے کیا کسی اخلاقی انسانی اور مہذب معاشرے میں یہ دلیل چل جاتی ہے کہ کوئی جرم کرنے والا اگر کسی طرح ملک کا صدر بن جائے تو اس کے صدر بننے سے پہلے والا اس کا کوئی بھی جرم جرم نہیں رہتا؟ جرم کو قانون تحفظ فراہم کر دیتا ہے؟ دوری ہو ایک لاکھ دس کروڑ بار ایسے قانون اور م¶قف کیلئے۔ اس معصوم بچی کا مفرور قاتل بنگلوں اور ویرانوں میں چھپتا پھرتا رہے اور پھر کسی وقت کسی طرح سربراہ مملکت بن جائے تو اس کا یہ قتل جرم نہیں رہے گا؟کیا کنگ ڈرٹو کا ملک اور قوم کے وجود میں زہر اتار دینا جرم نہیں رہے گا اگر وہ پھر سے سیاست میں آ کر کسی نئے این آر او کی قوت سے اقتدار اور اختیار پر قابض ہو جائے؟ کیا سیاست فروغ جرائم کی قومی اور عوامی خدمت ہی ہوتی ہے؟ دوری ہو ایسی سیاست اور خدمت کیلئے۔ اگر کل کو ملک کے ڈاکٹروں یا کمپوڈروں کی یا جعلی ادویات فروشوں کی کوئی تنظیم کسی کاروباری دھندے سے مزید مال بنانے کیلئے ان قاتلوں کی بے گناہی کی مہم شروع کر دے تو کیا کسی انسانی معاشرے کا کوئی اخلاقی ضابطہ کوئی اصول کوئی قانون ان کی بات مان لے گا؟ کر لیں گے۔ چودھری اعتزاز احسن ان کی قیادت اور بے گناہی کی وکالت قبول؟ پنجاب کے بہت ہی اعلی خادم ڈراتے رہتے ہیں کہ خونی انقلاب آ جائے گا۔ ہو سکتا ہے اس سے بڑا کوئی اور خونی انقلاب؟ وہ انقلاب جس میں این آر او قبیلہ قرض خور قبیلہ اور رشوت رول قبیلہ کے ارکان مل جل کر غریب اور بے بس عوام کا خون چوس چوس کر اتنے موڑے ہو چکے ہیں اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ان پر کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہو سکتا۔ بے چارہ قانون۔ اس تینوں قبیلوں میں سے کسی ایک معزز فرد کو دے سکا ہے کبھی کوئی قانونی ادارہ کبھی کوئی سزا؟ کیوں نہیں؟ اسی لئے تو نہیں کہ یہ سب ایک ہی ماں کے جائے ہیں؟ ان کے باپ الگ الگ ہیں مگر ماں سب کی ایک ہے۔ ایک بھائی ایک قبیلے میں دوسرا دوسرے میں تیسرا تیسرے میں۔ عوام کو تو ان برادران نے قریب المرگ کر دیا ہے مل جل کر ان کا خون چوس چوس کر۔ یہ وہ جنگل ہے جس پر بھیڑیوں، گیدڑوں اور گدھوں کی مشترکہ حکمرانی ہے۔ ہر طرف خون بہہ رہا ہے ایک ماں کے جائے سب خون چوس رہے ہیں بے بس عوام کا۔ یہ خونی انقلاب سے بھی بڑا خونی انقلاب ہے۔ اس میں خون چوس تو نہیں ہوتے لوگوں کو قسطوں میں تو نہیں مارا جاتا؟ اور ماہرین فرماتے ہیں کہ کروڑوں انسانوں کو اس طرح ترسا ترسا کر مار دینے والوں کے خلاف تو کسی قانون کے تحت کسی قانونی کارروائی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس لئے ماہرین بھی ان ہی ماں کی جائے ہیں کسی اور خاوند سے؟ دودھ تو سب نے ایک ہی ماں کا پیا ہوا ہے غریب اور بے بس عوام کا خون چوسنے والے سب برادران نے۔ اگر قانون اور انصاف اسی کا نام ہے تو لعنت ہے ایسے قانون اور انصاف پر۔ خالق و مالک کائنات نے ایک بار نہیں کئی بار لعنت کی ہے قرآن کریم میں ایسے قانون اور انصاف پر۔ خالق کے فرما ن کا ذکر کرنا بھی جرم ہے اس جنگل میں؟ ہم تو کریں گے ایسا کہ ہم کسی جنگل کے بادشاہ کی رعایا نہیں بن سکتے۔ دوری ہو ایسے قانون اور انصاف کیلئے۔!!
٭٭٭٭٭٭
دوری ہو ایسے قانون کیلئے !
مبارک ہو! قبل از وقت ہے؟ آ ملا ہے سینہ چاکان این آر او سے قانون اور آئین کی حکمرانی والا سینہ چاک؟ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے ! چلو ذرا پیچھے چلتے ہیں 12۔ اکتوبر 2007ء تک۔ ملک پر کنگ ڈرٹو کی حکمرانی ہے ان کا بنک لٹا¶ مال بناﺅ شوکت غریب ڈرٹی کھیل کی کپتانی کر رہا ہے قرض خور قبیلہ ویسے ہی چمکتا دھمکتا پھر رہا ہے جیسے آج کل اپنی نیک نامی کے پھریرے لہراتا گرجتا پھر رہا ہے۔ آج این آر او قبیلہ ہے قرض خور قبیلہ ہے اور رشوت رول قبیلہ ہے۔ ہارس سٹیل ملز کا فروغ رشوت قبیلہ ہے۔ تینوں معزز قبیلوں کے معززین ترین افراد آج اس ملک اور معاشرے پر قابض ہیں اور سپریم کورٹ نے ایک بار پھر این آر او کے غیر قانونی اور غیر انسانی ہونے کے بارے میں روئیداد خاں کی درخواست کی سماعت شروع کر دی ہے۔ اس درخواست کی جو انہوں نے کنگ ڈرٹو کی اور قرض خور قبیلے کی شاہی کے دور میں دائر کی تھی اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری نے 12 اکتوبر 2007ء کو اس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ”حتمی فیصلہ آنے تک کسی کو ریلیف نہ دیا جائے اور نہ ہی کوئی حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ غلط کیس کا فیصلہ ریویو بورڈ نہیں عدالت عالیہ ہی کر سکتی ہے این آر او کی چار دفعات آئین سے متصادم نظر آتی ہیں آئین کو آپریشنل ہونے سے نہیں روکا جا سکتا“ چیف جسٹس آف پاکستان نے 12 اکتوبر 2007ء کو اس درخواست کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کی تھی جو کل 7 دسمبر 2009ء کو پھر سے شروع ہو چکی ہے اور ان کے ساتھ فل بنچ میں سولہ مزید جج صاحبان شامل ہیں۔ اتنا طویل التوا؟ چلو ختم ہو گیا۔ کیا اس کے لئے مبارکباد دینا بھی قبل از وقت ہے؟ لاہور کے ایک ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے ایک معصوم بچی کو غلط ٹیکہ لگا دیا زیادہ مقدار میں دوائی دے دی اور وہ معصوم اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی ان بے چاروں نے اپنی محنت کی کمائی سے بھاری فیسیں دے کر اپنی معصوم بچی کیلئے کیا حاصل کیا ہے؟ زندگی؟ جس کی امید ہر کسی کے دل میں ہوتی ہے اور اس معصوم کو تو ایسا کوئی موذی مرض بھی نہیں تھا۔ اس کے والدین کی حالت کا اندازہ کرکے سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیسے کیسے نایاب ماہرین ہیں اپنے ہاں۔ جو بھاری فیسیں وصول کرکے معصوموں اور مجبوروں سے ان کی زندگیاں چھین لیتے ہیں۔ کنگ ڈرٹو نے بھی اس مجبور قوم کے ساتھ کچھ ایسا ہی کیا ہوا ہے اس کے وجود میں این آر او کا مہلک ٹیکہ گھونپ کر اس مجبور غریب قوم سے بھاری فیسیں اس کے ماہرین بھی اسی طرح وصول کرتے رہے ہیں اندرون اور بیرون ملک ان مقدمات کی پیروی کیلئے این آر او کے ٹیکہ سے سب برباد ہو گئی تھیں وہ فیسیں بھی جو زندگی بخش فیصلہ کیلئے خرچ کرتی رہی تھی یہ قوم۔ کنگ ڈرٹو نے اس کے جسم سے این آر او کا جو زہر اتار دیا ہوا ہے وہ اب اس کی زندگی کے درپے ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے اس بچی سے زندگی چھین لینے والے قاتل ماہرین کی گرفتاری تو کروا دی ہے مفروروں کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ان قاتل ماہرین کو کون پکڑے گا جنہوں نے اس غریب قوم سے بھاری فیسیں لی تھیں؟ اس کنگ ڈرٹو سے کوئی پوچھ سکا کہ تم نے قوم کے خرچ پر قوم کے وجود میں این آر او کا زہر کیوں اتار دیا ہوا ہے؟ کوئی پکڑ کر لائے گا اسے؟ کر سکے گا کوئی اسے کسی حوالات میں بند؟ اور وہ جو این آر او شاہی ہے؟ جرم تو جرم ہی ہوتا ہے ہمیشہ جرم ہی رہتا ہے کیا کسی اخلاقی انسانی اور مہذب معاشرے میں یہ دلیل چل جاتی ہے کہ کوئی جرم کرنے والا اگر کسی طرح ملک کا صدر بن جائے تو اس کے صدر بننے سے پہلے والا اس کا کوئی بھی جرم جرم نہیں رہتا؟ جرم کو قانون تحفظ فراہم کر دیتا ہے؟ دوری ہو ایک لاکھ دس کروڑ بار ایسے قانون اور م¶قف کیلئے۔ اس معصوم بچی کا مفرور قاتل بنگلوں اور ویرانوں میں چھپتا پھرتا رہے اور پھر کسی وقت کسی طرح سربراہ مملکت بن جائے تو اس کا یہ قتل جرم نہیں رہے گا؟کیا کنگ ڈرٹو کا ملک اور قوم کے وجود میں زہر اتار دینا جرم نہیں رہے گا اگر وہ پھر سے سیاست میں آ کر کسی نئے این آر او کی قوت سے اقتدار اور اختیار پر قابض ہو جائے؟ کیا سیاست فروغ جرائم کی قومی اور عوامی خدمت ہی ہوتی ہے؟ دوری ہو ایسی سیاست اور خدمت کیلئے۔ اگر کل کو ملک کے ڈاکٹروں یا کمپوڈروں کی یا جعلی ادویات فروشوں کی کوئی تنظیم کسی کاروباری دھندے سے مزید مال بنانے کیلئے ان قاتلوں کی بے گناہی کی مہم شروع کر دے تو کیا کسی انسانی معاشرے کا کوئی اخلاقی ضابطہ کوئی اصول کوئی قانون ان کی بات مان لے گا؟ کر لیں گے۔ چودھری اعتزاز احسن ان کی قیادت اور بے گناہی کی وکالت قبول؟ پنجاب کے بہت ہی اعلی خادم ڈراتے رہتے ہیں کہ خونی انقلاب آ جائے گا۔ ہو سکتا ہے اس سے بڑا کوئی اور خونی انقلاب؟ وہ انقلاب جس میں این آر او قبیلہ قرض خور قبیلہ اور رشوت رول قبیلہ کے ارکان مل جل کر غریب اور بے بس عوام کا خون چوس چوس کر اتنے موڑے ہو چکے ہیں اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ان پر کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہو سکتا۔ بے چارہ قانون۔ اس تینوں قبیلوں میں سے کسی ایک معزز فرد کو دے سکا ہے کبھی کوئی قانونی ادارہ کبھی کوئی سزا؟ کیوں نہیں؟ اسی لئے تو نہیں کہ یہ سب ایک ہی ماں کے جائے ہیں؟ ان کے باپ الگ الگ ہیں مگر ماں سب کی ایک ہے۔ ایک بھائی ایک قبیلے میں دوسرا دوسرے میں تیسرا تیسرے میں۔ عوام کو تو ان برادران نے قریب المرگ کر دیا ہے مل جل کر ان کا خون چوس چوس کر۔ یہ وہ جنگل ہے جس پر بھیڑیوں، گیدڑوں اور گدھوں کی مشترکہ حکمرانی ہے۔ ہر طرف خون بہہ رہا ہے ایک ماں کے جائے سب خون چوس رہے ہیں بے بس عوام کا۔ یہ خونی انقلاب سے بھی بڑا خونی انقلاب ہے۔ اس میں خون چوس تو نہیں ہوتے لوگوں کو قسطوں میں تو نہیں مارا جاتا؟ اور ماہرین فرماتے ہیں کہ کروڑوں انسانوں کو اس طرح ترسا ترسا کر مار دینے والوں کے خلاف تو کسی قانون کے تحت کسی قانونی کارروائی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس لئے ماہرین بھی ان ہی ماں کی جائے ہیں کسی اور خاوند سے؟ دودھ تو سب نے ایک ہی ماں کا پیا ہوا ہے غریب اور بے بس عوام کا خون چوسنے والے سب برادران نے۔ اگر قانون اور انصاف اسی کا نام ہے تو لعنت ہے ایسے قانون اور انصاف پر۔ خالق و مالک کائنات نے ایک بار نہیں کئی بار لعنت کی ہے قرآن کریم میں ایسے قانون اور انصاف پر۔ خالق کے فرما ن کا ذکر کرنا بھی جرم ہے اس جنگل میں؟ ہم تو کریں گے ایسا کہ ہم کسی جنگل کے بادشاہ کی رعایا نہیں بن سکتے۔ دوری ہو ایسے قانون اور انصاف کیلئے۔!! 
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,

پنجاب حکومت‘ پنجاب پولیس اور پنجاب میں دھماکے by Dr Ajmal Niazi

9 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
سنا تھا کہ قیامت آئے گی اور پھر یوم حساب ہو گا۔ قیامتیں تو گزرتی رہتی ہیں مگر روز حساب نہیں آتا۔ قیامتوں میں تڑپتے ہوئے لوگ سوچتے ہیں ابھی قیامت نہیں آئی….؟ وفاقی حکومت سے لوگ بیزار ہیں۔ پنجاب حکومت ان ہنگامی لمحوں میں فرینڈلی اپوزیشن بن جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف تو باقاعدہ اپوزیشن لیڈر لگتے ہیں۔ ان کی تقریر سن کر دل طوفانوں سے بھر جاتے ہیں مگر تقدیر نہیں بدلتی۔ پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ اب تک ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ وہ چودھریوں کی پہلے کی طرح مخالفت کرتے ہیں‘ جب وہ واقعی اپوزیشن لیڈر تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ جب پنجاب حکومت کو وفاقی وزارت داخلہ سے باقاعدہ اطلاع تھی تو پھر یہ دھماکہ کیسے ہو گیا۔ رانا ثناءاللہ نے غصے سے رپورٹر کو دیکھا جیسے کہ رہے ہوں کہ بس ہو گیا دھماکہ؟ ایک سینئر رپورٹر فرحان چودھری کے مطابق کئی وزیروں اور پولیس افسروں کے بیانات میں تضادات کی وجہ سے یہ طے نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کیسے ہوا۔ حکمرانوں‘ افسروں اور پولیس افسروں کا اتنا کام ہے کہ انہوں نے دھماکہ کی پھر مذمت کر دی ہے جیسے ہر بار وہ مذمت کرتے ہیں۔ ایسے ہی دھماکے ہو جاتے ہیں۔ پولیس والے یہ کہہ کر فارغ ہو جاتے ہیں کہ خودکش بمبار کا سر پھر مل گیا ہے۔ ایس پی اقبال ٹاﺅن علی رضوی اچھے پولیس افسر کے طور پر مشہور ہیں مگر اچھے پولیس افسر کا کارنامہ دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مون مارکیٹ میں مشکوک تھیلے کی اطلاع ملی۔ ہم دیکھنے جا رہے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔ بیگ رکھے جانے سے پہلے چونکہ انہیں اطلاع نہ تھی تو وہ کیا کرتے۔ پولیس والے ہمیشہ واردات کے بعد موقع واردات پر پہنچتے ہیں۔ کہا گیا کہ فلاں جگہ پر لڑائی ہو رہی ہے اور آپ ابھی تک تھانے میں ہیں۔ جواب ملا کہ بھائی ابھی کوئی قتل وتل تو نہیں ہوا۔ ہمارا کام تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ہمیشہ دھماکے کے بعد پولیس پہنچتی ہے۔ کسی جگہ آگ لگی تو پوچھا گیا کہ کوئی چیز بچی ہے؟ جلے ہوئے سامان کے مالک نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑی بالکل محفوظ ہے کہ وہ دیر سے پہنچی تھی۔ مون مارکیٹ اقبال ٹاﺅن لاہور میں بھی ریسکیو 1122 کی گاڑیاں فوراً پہنچی تھیں۔ لوگ ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ 1122 ہمیں چودھری پرویز الٰہی کی یاد دلاتی ہے۔ کسی حکمران نے اچھا کام کیا ہے تو اسے یاد رکھا جاتا ہے۔ کاش سارے حکمران یاد رکھے جائیں۔ کئی گھنٹوں کے بعد مون مارکیٹ گیا۔ وہاں اب بھی سروں میں راکھ ڈالے عورتیں اپنا اپنا مون (چاند) تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ع
نہیں لبھنے لعل گواچے تے مٹی نہ پھرول جوگیا
گم ہو چکے (بلکہ راکھ ہو چکے) لعل (بچے) نہیں ملیں گے لہٰذا اے جوگی! راکھ کریدنے کی کوشش نہ کرو۔
رانا صاحب سے غمزدہ صحافیوں نے پوچھ لیا کہ یہ خوفناک اور شرمناک دھماکے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کی ناکامی ہے۔ وفاقی وزیروں پر تنقید کرتے ہو تو خود استعفے نہیں دیتے! اس پر رانا صاحب غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔ استعفیٰ دینے کی غیرت کی جاتی تو اب تک ایک وزیر بھی نظر نہ آتا۔ معروف صحافی امجد وڑائچ کہتے ہیں کہ سوال جیسا بھی تلخ ہو‘ جواب اچھا ہو تو ماحول خوشگوار رہتا ہے۔ مقصد لاجواب کرنا ہو تو گڑبڑ پیدا ہوتی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو‘ میڈیا کو اپنا دشمن سمجھتا ہے‘ رانا صاحب کو وہ وقت یاد نہیں جب وہ حکمران نہ تھے۔ رانا صاحب سیاست سے پہلے پولیس میں تھے۔ وہ لگتے بھی پولیس افسر ہیں۔ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کزن ہیں۔ کبھی چیف صاحب سے ڈر نہیں لگا۔ رانا صاحب بھی ڈرانے دھمکانے کی خود کوشش نہیں کرتے۔ ان سے خود بخود ڈر لگنے لگتا ہے۔ ایسے میں استعفیٰ کے مطالبے پر غصے میں آنا جائز ہے۔ ان کا بس چلے تو وہ بم دھماکوں کا الزام بھی اپنے سیاسی مخالفین پر لگا دیں۔ یہ موقع سیاسی رواداری اور صبر و تحمل کا ہے۔ اس کے لئے جرات دکھانے کی ضرورت امریکہ اور بھارت کے مقابلے میں ہے۔
صحافیوں نے سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی پرویز راٹھور سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف کہا کہ مجھے رانا ثناءاللہ نے آپ سے بات کرنے سے روک دیا ہے۔ پرویز راٹھور نے اپنے دفتر کے ہمسائے میں دھماکے کے بعد کہا تھا کہ دہشت گردی میں بھارت کی ”را“ ملوث ہے۔ پھر رحمان ملک برہم ہو گئے تو راٹھور بھی درہم برہم ہو گئے اور اپنے بیان سے مکر گئے۔ اب کمشنر لاہور خسرو پرویز نے کہا کہ دہشت گردوں کو بھارت تربیت دے رہا ہے اور یہ بات اپنے دل میں روک لی کہ بھارت کو امریکہ تربیت دے رہا ہے۔ خسرو پرویز بھی پرویز راٹھور کی طرح چند دنوں کے بعد اپنا بیان بدل لیں گے۔ افسران اور پولیس افسران دھماکے کے بعد دیر سے پہنچے۔ صوبائی وزیر عبدالغفور چودھری سب سے پہلے جائے حادثہ پر پہنچے اور کہا کہ بھارت پاکستان میں آگ لگانا چاہتا ہے مگر اسے شکست دیں گے۔ پوچھا جائے کہ افسران اور پولیس افسران کی دہشت گردی کے خلاف کیا کارکردگی ہے۔ حکمرانوں کی طرح ان کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں۔ حکمرانوں کے لئے تو یہ مسئلہ ہی نہیں۔ ان کا مسئلہ سترھویں ترمیم‘ این آر او اور اختیارات ہیں۔ مہنگائی اور دہشت گردی ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ اب تک اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ہوا‘ صرف فوج کو الجھا دیا گیا ہے۔ عوام فوج کے ساتھ ہیں کہ وہ انہیں دہشت گردوں سے نجات دلائے۔ اس کے علاوہ وزیر شذیر اور افسر وغیرہ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ یہ تھیلی ڈالروں اور روپوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں کرپشن اوپر کی آمدنی اور لوٹ مار کا پیسہ ہی رکھا جا سکتا ہے۔
مون مارکیٹ کے بالکل سامنے تھانہ اقبال ٹاﺅن ہے۔ کوئی بتائے کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ البتہ تھانے والوں کو سب پتہ ہوتا ہے کہ ہماری حدود میں کہاں کہاں کیا کیا ہو رہا ہے…. جوا کہاں ہوتا ہے…. کون کون اس میں شریک ہوتا ہے…. کون اس کا سرپرست ہے۔ منشیات کہاں بکتی ہے…. اس کاروبار کے شراکت دار کتنے ہیں…. کس مکان میں عصمت فروشی ہوتی ہے اور تھانے والوں کو منتھلی کتنی آتی ہے…. مگر صرف دہشت گردوں کیلئے انہیں خبر نہیں ہوتی۔ وہ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ اپنا کام کرتے ہیں۔ ان سے تھانے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تو ان کی نگرانی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ناکوں پر عام لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ داڑھی والے اور خوفزدہ لوگوں کو بلیک میل کر کے اپنی دیہاڑی لگائی جاتی ہے۔ خدا کی قسم تھانے والے چاہیں تو دہشت گردوں پر قابو پایا جا سکتا ہے…. مگر وہ کیوں چاہیں گے؟ وہ تو مجرموں کے محافظ ہیں۔ ان کا کام صرف حکمرانوں اور افسروں کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ ان کے خلاف دہشت گردی نہیں ہوتی۔
میں پریشان ہوں کہ پنجاب حکومت کے وزیر شذیر‘ افسران اور پولیس افسران بھارت کے خلاف باتیں کر رہے ہیں اور نواز شریف بھارت کی تعریفیں کرتا ہے۔ اس سے بھارت کو کیا پیغام جا رہا ہے۔ تجزیہ نگار برادرم ناصر اقبال خان نے عجب بات کی کہ بم دھماکے سے چند دن پہلے بھارت میں حکمرانوں نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ ناصر نے نہیں بتایا مگر نواز شریف کی بھارت کی تعریف اور ششی کپور کی پاکستان کی تعریف میں قدرِ مشترک کیا ہے؟
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,