Archive for December 7th, 2009

ڈاکٹر اور ڈاکو میں فرق مٹ گیا ….؟ by Dr Ajmal Niazi

7 December, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
”ڈاکٹر“ نے بچی کو بیک وقت تین ٹیکے لگا کر موت کی نیند سلا دیا۔ تو کیا یہ واردات قتل نہیں ہے۔ پورا ہسپتال جس طرح اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں جھوٹ بول رہا تھا تو یہ قاتلوں کی نفسیات نہیں ہے؟ تین سال کی بچی ایمان اتنی پیاری اور بھولی بھالی ہے کہ میں اس کی تصویر دیکھ کر روتا رہا ہوں۔ اس دور میں سوائے رونے دھونے کے ہمارے پاس کیا بچا ہے۔ میرے گھر میں اتنی عمر کی میری نواسی تعبیر ایک روشنی اور خوشبو کی طرح بھاگی پھرتی ہے۔ لوگو! اس دوزخ بنتی ہوئی زمین پر بچے جنت کے باشندے ہیں۔ ہم نے ان سے بچپن چھین لیا ہے۔ ان سے زندگی بھی چھین لی ہے۔ ہندوانہ نام کے ڈاکٹر کمار کے دل میں درد نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اکثر ڈاکٹر بے رحم مخلوق ہیں۔ صرف پیسے اکٹھا کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ بچی کا ہاتھ تھوڑا سا جل گیا تھا اور اس معصوم کو اندھا دھند ٹیکے لگا کے مقتول بنا دیا گیا۔ یہ تو طبعی موت نہ تھی تو پھر قتل ہی ہے اور نام نہاد مسیحا ایک قاتل ہے۔ اس طرح کے آدمی کو موت سے بڑھ کر کوئی سزا دی جانی چاہئے۔ مجھے برادرم ڈاکٹر اسد اشرف نے بتایا کہ بچی کے ہاتھ پر تھوڑی سی برنول لگا دی جاتی مگر باپ اور ماں کا دل تو دل کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے۔ ماں جیسا تو کوئی ہو نہیں سکتا۔ بیٹی کے باپ سے بڑھ کر بھی کوئی نہیں ہوتا۔ مشرق میں بیٹی کا باپ ماں سے کم غمگسار نہیں ہوتا۔ عقیل احمد ملک برطانوی نیشنلٹی رکھتے ہیں مگر پاکستانی ہیں۔ وہ سیاستدان نہیں ہیں مگر اپنے وطن کے جانثار ہیں۔ ہمارے حکمران باہر عید‘ بقر عید کرتے ہیں۔ وہ گھر آئے تھے۔ کاش وہ نہ آتے۔ اب یہ ملک اپنے لوگوں کیلئے جہنم بنا دیا گیا ہے۔ موت کی وادی بنا دیا گیا ہے جہاں موت بانٹی جاتی ہے۔ اس ملک میں ڈاکٹر ڈاکو بن گئے ہیں۔ وہ لوٹ مار میں شریک ہیں۔ ڈرگ مافیا اور پرائیویٹ ہسپتال مافیا بن جائے تو کیا وہ ملک رہنے کے قابل ہے مگر سن لو ظالمو! کہ ہم یہاں مرنے کے لئے زندہ ہیں۔ ہم اپنے وطن میں مریں گے۔ قتل ہو کے مریں تو یہ اعزاز ہے مگر ہم ایڑیاں رگڑ کر بھی مرنے کیلئے تیار ہیں۔ میں اپنی بیٹی ایمان کی روح سے شرمندہ ہوں۔ اس کے ماں باپ سے شرمندہ ہوں۔ میرے پاس زندگی نہیں ہے‘ صرف شرمندگی ہے اور میرے دیس کے حکمرانوں‘ افسروں اور ”مسیحاﺅں“ کے پاس درندگی ہے۔ ہماری بے بس زندگی‘ شرمندگی اور درندگی کے درمیان سسک رہی ہے۔ ایمان بیٹی کو کیا بتاﺅں کہ ہمارے ایمان اور یقین کی لہولہان وادی میں راکھ اڑ رہی ہے جس کے لئے آگ حکمرانوں اور مسیحاﺅں نے لگائی ہوئی ہے۔ ایمان بیٹی تم چلی گئی ہو اور تمہیں پتہ چل گیا ہو گا کہ ہم سب بے ایمان ہیں۔ وہ جو مسیحا کہلاتے ہیں درد و غم سے بھی خالی ہیں۔ وہ بے رحم ہیں۔ کہتے ہیں کہ پرائیویٹ ہسپتال سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ مقتل ہیں۔ سارے پرائیویٹ ہسپتال ایسے ہیں بلکہ ایسے ویسے ہیں۔ وہاں ڈرگ مافیا کا راج ہے اور پرائیویٹ ہسپتال مافیا بھی چھا چکا ہے جو افسروں اور لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والے انسپکٹروں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حکمران لوٹ مار کر رہے ہیں اور لوگوں کو ذلیل و خوار کر رہے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں غیر تربیت یافتہ لوگ سپیشلسٹ ہوتے ہیں جنہوں نے ہاﺅس جاب بھی نہیں کیا ہوتا۔ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بھی ایسے ہی جونیئر ڈاکٹروں کو لگایا جاتا ہے۔ کوئی سینئر ڈاکٹر نہیں ہوتا۔ مریض تڑپتے رہتے ہیں اور ڈاکٹرز تاش کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کا میچ دیکھتے ہوئے توجہ نہیں کرتے اور ایمرجنسی مریض کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔ ایمان کے والد نے بتایا کہ جس ”ہندو“ ڈاکٹر نے پھول سی بیٹی کو پورے تین انجکشن لگائے‘ اس کی آنکھیں نیند اور غصے سے بھری ہوئی تھیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی بنائی ہے جس میں نذر چوہان اور ڈاکٹر اسد اشرف ہیں۔ تیسرے ممبر ڈاکٹر زاہد پرویز تھے‘ شکر ہے کہ وہ بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ وہ ہر دور حکومت میں ایم ایس ہوتے ہیں۔ اچھے لوگ بھی ہیں مگر بہت کم ہیں۔ ڈاکٹر اسد اشرف غم و غصے میں تھے۔ وہ ایسے تمام ہسپتال بند کرنے کے حق میں ہیں مگر حکمرانوں اور بیوروکریٹوں کی اتنی مصلحتیں اور مفادات ہیں کہ ہر شعبے میں کرپشن اور خرابیاں ہیں۔ ڈاکٹر اسد اشرف کے علاوہ ایمان کے اجڑے پجڑے والد کا خیال ہے کہ ڈاکٹر کمار کے علاوہ بھی کچھ ڈاکٹر اور نرسیں میری بچی کے قاتل ہیں مگر میرے اصل مجرم ڈاکٹر ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر اور انتظامیہ ہے۔ قتل کا مقدمہ ان کے خلاف درج ہونا چاہئے۔ ہسپتال کی فارمیسی ڈی سی او سجاد بھٹہ کی نگرانی میں سیل کر دی گئی ہے۔ سارے پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی فارمیسیاں پوری طرح چیک ہونا چاہئیں۔ فارمیسی کے ٹھیکیدار ملک خالد نے میڈیا کو گالیاں دیں اور کیمرے توڑ دیئے۔ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ صدر زرداری کی طرح ملک خالد بھی کہتے ہیں کہ ہماری لوٹ مار اور ظلم و ستم کو بھی میڈیا نے مشتہر کیا ہے۔ حکومت کی طرح ہمیں بدنام کرنے والے بھی یہی ہیں۔ اس نے کئی لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے اور ہسپتال کے باہر بھی ایک فارمیسی بنا لی ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہوٹل بھی بنا لیا ہے۔ سارے کاروبار اور دواﺅں کا کاروبار ایک جیسے ہیں۔ ضمیر فروشی اور وطن فروشی بھی کاروبار ہے۔ سیاست و حکومت بھی کاروبار ہے۔ ہسپتال کی فارمیسی میں کئی زائد المیعاد دوائیں اور غیر رجسٹرڈ دوائیں تھیں۔ فریج میں رکھی جانے والی دوائیں فرش پر پڑی تھیں۔ ملک خالد اس کاروبار میں شریک کئی لوگوں کے پیسے کھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور دوا فروشوں کا ایک بدمعاش مافیا وجود میں آ چکا ہے جس کے سامنے حکومت اور بیوروکریسی بھی بے بس ہے۔ فارمیسی اور بیوروکریسی کتنے ملتے جلتے لفظ ہیں۔ ان لوگوں نے مل کے سول انتظامیہ‘ حکومت اور اسمبلی کو بھی غیر موثر کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ شہباز شریف کے دور میں ہو رہا ہے جو سخت گیر اور منتظم کے طور پر معروف ہیں۔ وہ تقریر کریں تو انقلابی لگتے ہیں مگر صوبے میں لوگ ذلت اور اذیت میں مبتلا ہیں۔ خوابوں اور خیالوں میں میرے جیسے بے اختیار آدمی بھی انقلابی ہیں۔ حکمران سے امیدیں اور طرح کی ہوتی ہیں۔ اس لرزہ خیز حد تک ظالمانہ اور شرمناک واقعے کو شہباز شریف عبرتناک بنا دیں۔ ایسا ایکشن لیا جائے جو بے مثال ہو تاکہ پھر کسی ہسپتال میں اس طرح کی بدعنوانی‘ کرپشن اور ظلم نہ ہو۔ سارے پرائیویٹ ہسپتالوں میں فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں۔ وسیم اکرم کی اہلیہ بھی نیشنل ہسپتال کی مہنگائی اور شہرت میں مس ہینڈلنگ اور ناتجربہ کاری کا شکار ہوئیں اور بھارت جا کر فوت ہو گئیں۔
یہ تو ڈاکٹر ہسپتال کی انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی نہیں ظلم ہے اور ظالم کو معاف کر دینے سے مظلوم مزید مظلوم ہو جاتے ہیں۔ ایم پی اے فائزہ اصغر خود کو ہسپتال کا ایم ڈی کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم سے صلح کر لیں….! تو کیا خون پر سودا ہوتا ہے۔ یہ صرف سیاستدان کر سکتے ہیں‘ کسی ہسپتال کا نام مریضوں کا ہسپتال بھی ہونا چاہئے تھا۔ ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ میں ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کروں گا۔ ایک بچے نے کہا کہ مریض بن کر ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا۔ یہ خدمت ختم ہی نہیں ہوتی۔ فائزہ ا صغر چائلڈ پروٹیکشن میں ہیں اور اس کے ڈاکٹر ہسپتال میں بچوں کیلئے وینٹی لیٹر نہ تھا‘ ایمبولینس نہ تھی اور نہ قاتل ڈاکٹر چلڈرن ہسپتال تک دکھی ماں باپ کے ساتھ گیا جو اپنی بیٹی کی لاش لے کے جا رہے تھے۔ تھانوں میں قتل ہوتے ہیں یا ہسپتالوں میں قتل ہوتے ہیں۔ مریض اور مقتول میں فرق مٹ گیا ہے۔ دونوں قسم کے قاتلوں کا کبھی کچھ نہیں بگڑا۔ جہاں ظالم اور حاکم ایک ہو جائیں وہاں انصاف کی کیا توقع ہے۔ دعا اور دوا دونوں بے اثر ہو گئی ہیں!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , , ,