Archive for December 7th, 2009
Banaam Khadim-e-Aala… by M. Amir Khakwani
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


ڈاکٹر اور ڈاکو میں فرق مٹ گیا ….؟ by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی بنائی ہے جس میں نذر چوہان اور ڈاکٹر اسد اشرف ہیں۔ تیسرے ممبر ڈاکٹر زاہد پرویز تھے‘ شکر ہے کہ وہ بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ وہ ہر دور حکومت میں ایم ایس ہوتے ہیں۔ اچھے لوگ بھی ہیں مگر بہت کم ہیں۔ ڈاکٹر اسد اشرف غم و غصے میں تھے۔ وہ ایسے تمام ہسپتال بند کرنے کے حق میں ہیں مگر حکمرانوں اور بیوروکریٹوں کی اتنی مصلحتیں اور مفادات ہیں کہ ہر شعبے میں کرپشن اور خرابیاں ہیں۔ ڈاکٹر اسد اشرف کے علاوہ ایمان کے اجڑے پجڑے والد کا خیال ہے کہ ڈاکٹر کمار کے علاوہ بھی کچھ ڈاکٹر اور نرسیں میری بچی کے قاتل ہیں مگر میرے اصل مجرم ڈاکٹر ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر اور انتظامیہ ہے۔ قتل کا مقدمہ ان کے خلاف درج ہونا چاہئے۔ ہسپتال کی فارمیسی ڈی سی او سجاد بھٹہ کی نگرانی میں سیل کر دی گئی ہے۔ سارے پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی فارمیسیاں پوری طرح چیک ہونا چاہئیں۔ فارمیسی کے ٹھیکیدار ملک خالد نے میڈیا کو گالیاں دیں اور کیمرے توڑ دیئے۔ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ صدر زرداری کی طرح ملک خالد بھی کہتے ہیں کہ ہماری لوٹ مار اور ظلم و ستم کو بھی میڈیا نے مشتہر کیا ہے۔ حکومت کی طرح ہمیں بدنام کرنے والے بھی یہی ہیں۔ اس نے کئی لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے اور ہسپتال کے باہر بھی ایک فارمیسی بنا لی ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہوٹل بھی بنا لیا ہے۔ سارے کاروبار اور دواﺅں کا کاروبار ایک جیسے ہیں۔ ضمیر فروشی اور وطن فروشی بھی کاروبار ہے۔ سیاست و حکومت بھی کاروبار ہے۔ ہسپتال کی فارمیسی میں کئی زائد المیعاد دوائیں اور غیر رجسٹرڈ دوائیں تھیں۔ فریج میں رکھی جانے والی دوائیں فرش پر پڑی تھیں۔ ملک خالد اس کاروبار میں شریک کئی لوگوں کے پیسے کھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور دوا فروشوں کا ایک بدمعاش مافیا وجود میں آ چکا ہے جس کے سامنے حکومت اور بیوروکریسی بھی بے بس ہے۔ فارمیسی اور بیوروکریسی کتنے ملتے جلتے لفظ ہیں۔ ان لوگوں نے مل کے سول انتظامیہ‘ حکومت اور اسمبلی کو بھی غیر موثر کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ شہباز شریف کے دور میں ہو رہا ہے جو سخت گیر اور منتظم کے طور پر معروف ہیں۔ وہ تقریر کریں تو انقلابی لگتے ہیں مگر صوبے میں لوگ ذلت اور اذیت میں مبتلا ہیں۔ خوابوں اور خیالوں میں میرے جیسے بے اختیار آدمی بھی انقلابی ہیں۔ حکمران سے امیدیں اور طرح کی ہوتی ہیں۔ اس لرزہ خیز حد تک ظالمانہ اور شرمناک واقعے کو شہباز شریف عبرتناک بنا دیں۔ ایسا ایکشن لیا جائے جو بے مثال ہو تاکہ پھر کسی ہسپتال میں اس طرح کی بدعنوانی‘ کرپشن اور ظلم نہ ہو۔ سارے پرائیویٹ ہسپتالوں میں فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں۔ وسیم اکرم کی اہلیہ بھی نیشنل ہسپتال کی مہنگائی اور شہرت میں مس ہینڈلنگ اور ناتجربہ کاری کا شکار ہوئیں اور بھارت جا کر فوت ہو گئیں۔
یہ تو ڈاکٹر ہسپتال کی انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی نہیں ظلم ہے اور ظالم کو معاف کر دینے سے مظلوم مزید مظلوم ہو جاتے ہیں۔ ایم پی اے فائزہ اصغر خود کو ہسپتال کا ایم ڈی کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم سے صلح کر لیں….! تو کیا خون پر سودا ہوتا ہے۔ یہ صرف سیاستدان کر سکتے ہیں‘ کسی ہسپتال کا نام مریضوں کا ہسپتال بھی ہونا چاہئے تھا۔ ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ میں ڈاکٹر بن کر عوام کی خدمت کروں گا۔ ایک بچے نے کہا کہ مریض بن کر ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا۔ یہ خدمت ختم ہی نہیں ہوتی۔ فائزہ ا صغر چائلڈ پروٹیکشن میں ہیں اور اس کے ڈاکٹر ہسپتال میں بچوں کیلئے وینٹی لیٹر نہ تھا‘ ایمبولینس نہ تھی اور نہ قاتل ڈاکٹر چلڈرن ہسپتال تک دکھی ماں باپ کے ساتھ گیا جو اپنی بیٹی کی لاش لے کے جا رہے تھے۔ تھانوں میں قتل ہوتے ہیں یا ہسپتالوں میں قتل ہوتے ہیں۔ مریض اور مقتول میں فرق مٹ گیا ہے۔ دونوں قسم کے قاتلوں کا کبھی کچھ نہیں بگڑا۔ جہاں ظالم اور حاکم ایک ہو جائیں وہاں انصاف کی کیا توقع ہے۔ دعا اور دوا دونوں بے اثر ہو گئی ہیں!
Quran Ki Pukar by Hamid Mir
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook



Qerzy Herep… by Irfan Siddiqui
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Masoom Logon ko… by Ansaar Abbasi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Mukhlis Munafeyqeen by Dr Safdar Mehmood
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Mien Ata Rahoon… by Abdulla Tariq Sohail
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Sefarishaat… by Munno Bhai
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Mian Shahbaz Sharif… by Asad ullah Ghalib
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Noshta-e-Dewaar by Tariq Butt
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook





