ایوان صدر کے ٹی وی چینل سے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
کوئے یار سے نکلیں گے تو سوئے دار چلیں گے۔ جس کوچے میں صدر زرداری ہیں ہم اسے کوئے یار نہیں کہتے۔ تخت اور تختہ میں کوئی زیادہ فرق فاصلہ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ جس طرح تخت پر بٹھائے گئے۔ اسی طرح تختہ دار پر لٹکائے گئے۔ پھانسی کے پھندے سے لٹکنا اور پھانسی پانا دو مختلف کام ہیں۔
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے
یا تخت جگہ آزادی کی یا تختہ مقام آزادی کا
غلامانہ فطرت کا آدمی آزادی کا معانی ہی نہیں جان سکتا۔ ہمارے حکام نے پوری قوم کو غلام بنا دیا ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے جو لوگ موجود تھے انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ جنرل کیانی سب سے خطرناک شہر پشاور چلے گئے تو کیا انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ اس پر تفصیلی کالم لکھنے کا ارادہ ہے۔ ایوان صدر کے ٹی وی چینل پر صدر زرداری کو دیکھ رہے تھے۔ لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا ٹی وی چینل کھول لیا ہے۔ انہیں ٹی وی چینلز پر بہت غصہ ہے۔ ایک ٹی وی کا ذکر نہیں سب چینلز سے وہ ناراض ہیں۔ اب ان کا اپنا ٹی وی ہے وہ کبھی کبھی خطاب کرتے رہیں گے۔ اب شاید پی ٹی وی بھی حکومت کا ٹی وی نہیں رہا۔ پہلے بھی جب پی ٹی وی سرکاری ادارہ تھا تو لوگ ڈرامے اور ڈسکشن وغیرہ دیکھتے تھے۔ خبرنامہ کو صدر نامہ یا وزیر نامہ کہتے تھے۔ اب لوگ پی ٹی وی ہی نہیں دیکھتے۔ ایک پروگرام خوشنود علی خان کا ہے مگر ایک پروگرام سے کیا بنتا ہے۔ لوگ خوش نہیں ہیں تو نجی ٹی وی چینلز مقبول ہوئے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے یا اپنی حکومت کی کارکردگی ٹھیک کرنے کے بجائے یا اپنے وزیروں شذیروں اور کاروباری یاروں کو کرپشن وغیرہ سے منع کرنے کے بجائے ٹی وی اینکرز اور ٹی وی چینلز کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کام کے لئے فوزیہ وہاب، فردوس عاشق اعوان، ذوالفقار مرزا، فرزانہ راجہ اور اس طرح لوگ بہت ہیں جو صدر زرداری کے لئے غصہ وغیرہ کھا سکتے ہیں مگر وہ ناکام ہیں کہ انہیں بھوک زیادہ لگتی ہے۔
کہتے ہیں صدر زرداری نے الطاف حسین کی نقل ماری ہے۔ اب دیکھیں یہاں کون کون الطاف حسین کی نقل مارتا ہے۔جاگیرداری، سرمایہ داری اور وڈیرہ شاہی کے خلاف باتیں‘ روٹی کپڑا مکان کے نعرے سے ملتی جلتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لوگ بھی ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرح زمین پر بیٹھے تھے مگر اپنے لیڈر کے لئے ان میں وہ جذبہ نہ تھا جو ایم کیو ایم والے الطاف حسین کے لئے محسوس کرتے ہیں۔ وہ تو انہیں الطاف بھائی کہتے ہیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ اگر سندھ کارڈ استعمال ہوا تو سندھی بھائی میرا ساتھ دیں گے۔ ذوالفقار مرزا نے سندھ کارڈ کے لئے الطاف حسین کا جواب دیا ہے مگر ان پر بھی کم فوجداری مقدمات نہیں ہیں۔ این آر او آیا تو بے نظیر بھٹو کے لئے تھا اور یہ میثاق جمہوریت کے بعد آیا تھا۔ پھر یہ بھی صدارت اور حکومت کی طرح بی بی کی شہادت کا انعام بن گیا جسے پیپلز پارٹی والے بہترین انتقام کا نام دیتے ہیں اور اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ جو الزام ”جمہوری“ حکمرانوں اور سیاستدانوں پر لگ رہے ہیں اسے بھی جمہوریت کی دشمنی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ ٹی وی چینل جو جمہوریت اور آزاد عدلیہ کے لئے کئی برسوں سے لگے ہوئے ہیں ان کی حکومت پر تنقید کو جمہوریت پر تنقید سمجھا جاتا ہے ہمیشہ ہمارے سیاسی جرنیلوں اور جمہوری آمروں نے حکومت کی مخالفت کو ریاست کی مخالفت قرار دیا ہے اور بہادر لوگوں پر غیر محب وطن ہونے کا الزام لگایا ہے جبکہ ملک و قوم کو نقصان صرف حکمرانوں نے پہنچایا ہے۔
رہی سندھ کارڈ کی بات تو کبھی کشمیر کارڈ بھی بھارت میں استعمال ہوا ہے؟، سندھ کوئی مقبوضہ علاقہ تو نہیں وہاں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جبکہ قائم علی شاہ اور فاروق عبداللہ میں سوائے عمروں کے کوئی فرق نہیں۔ میں ہمیشہ اسے قائم مقام علی شاہ کہتا ہوں۔ جیالے لیڈر الطاف حسین کے لئے واپس آنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اب وہ اپنے صدر زرداری سے بھی کہیں کہ وہ ایوان صدر سے نکلیں اور نکل کر بیرون ملک نہ جائیں بلکہ ملک کے اندر کہیں جائیں۔
جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں انہیں صدر محترم نے سیاسی اداکار کہا ہے حالانکہ جتنی اداکاری سیاستدانوں نے کی ہے اداکاروں نے بھی نہ کی ہو گی۔ انہوں نے فنکاری سے کام لیا ہے، سیاستدان عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہیں۔ اس میں حکومت اور اپوزیشن کے سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں۔ فرینڈلی اپوزیشن سیاسی اداکاری ہی تو ہے لوگوں نے ہمیشہ دھوکہ کھایا ہے اور ووٹ بھی بار بار انہی سیاستدانوں کو دیا ہے لیکن انہیں این آر او کی ضرورت پھر بھی پڑتی ہے۔ ایک غیر تحریری این آر او بھی ہوتا ہے مگر بے چارے عام لوگ۔
جانتے بوجھتے جس شخص نے دھوکہ کھایا
اس کے اندر کوئی فنکار چھپا بیٹھا ہے
صدر زرداری کا اس طرح ایوان صدر کے مورچے اور پناہ گاہ سے خطاب کرنا اچھا نہیں لگا حتیٰ کہ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ٹیلی فونک خطاب جمہوریت کا حسن نہیں مگر ہم اپنے صدر کی عزت کرانا جانتے ہیں۔ پچھلے دنوں اس نے کشمالہ طارق کے ساتھ گفتگو میں اس کا مظاہرہ ٹی وی چینل پر کیا ہے۔ حکومت اس ٹی وی چینل کو بھی سبق سکھانے کے موڈ میں ہے۔ پوچھا گیا کہ ایسی بدزبانی نہیں ہونا چاہئے تھی تو اعوان صاحبہ نے کہاکہ میرے اندر کا حیوان بیدار ہوگیا تھا۔ اعوان سے حیوان بننے میں کتنی دیر لگتی ہے اس کے لئے ہم ڈاکٹر بابر اعوان سے پوچھیں گے کہ وہ شائستہ اور مہذب آدمی ہیں۔




Comments
No comments yet.