شرم و حیا پر شرم کرو by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پرانی بات ہے ہم سون سکیسر کے جنگلوں اور ویرانوں میں گھوم پھر رہے تھے جس بھی کسی گائوں کے قریب سے گزرتے لائوڈ سپیکر پر ایک نماز جنازہ میں شرکت کرکے ثواب دارین حاصل کرنے کا اعلان گونج رہا ہوتا تھا ہمارے پاس تو ثواب حاصل کرنے کو وقت نہیں تھا ایک مقامی بندے سے اپنی مجبوری اور محرومی عرض کی اور پوچھا یہ کون بزرگ ہیں جن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے جا رہے ہیں اہل سون اور سکیسر انہوں نے نام بتا دیا۔ واپس آ کر ہم نے ڈاکٹر خالد رانجھا کے دفتر سے اس ’’بزرگ‘‘ کی نیکیوں کی بھاری فائل منگوائی۔ اس نے اپنی اکثر عمر جیلوں میں گزاری ہوئی تھی درجنوں ناکردہ گناہوں کے جرم میں کہ اکثر عدالتوں نے تو اس کے دم آخریں تک اسے کوئی سزا سنائی ہی نہیں تھی۔ ان جرائم کی یا اس کی بے گناہی کی جس سے اس کے درجات اتنے بلند ہو گئے تھے کہ سون سکیسر کی ہر مسجد سے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے اپنے اپنے درجات کی بلندی کی دعوت دی جا رہی تھی کتنے اہل عدل و انصاف ہوں گے جن کے درجات بھی اس ’’بزرگ‘‘ عالی مرتبت کی وجہ سے مزید بلند ہو گئے ہوں گے۔ ہم اس روز اسی وادی سے ایک بھاری پتھر اٹھا لائے تھے۔ نہیں پتھر نہیں ایک درخت جو کسی زمانے میں کسی شرم کے مارے پتھر ہو گیا تھا۔ شرم سے یا بے شرمی سے؟ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کچھ ماہرین تو کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں درختوں کو بھی شرم آ جایا کرتی تھی اور وہ شرم کے مارے پتھر ہو جایا کرتے تھے مگر اس روز کے پارک اور خاکروب کے واقعہ کے بعد سے ہمیں زندہ چیزوں کے شرم سے پتھر بن جانے کے اس نظریہ سے کچھ اختلافات سے ہو گئے ہیں۔ بہرحال وہ پتھر ہمارے پاس موجود ہے اور ہم نے پروگرام بنایا تھا کہ اسے پارک کے اس کونے میں رکھ آئیں جہاں وہ بوڑھے اب سر جھکائے بیٹھے نظر آتے ہیں اپنی اپنی عمریں ضائع کر دینے کی شرم کے مارے۔ ان سے عرض کیا کہ تمہارا حوصلہ بڑھانے کے لئے ہم ایک پتھر درخت اس کونے میں گاڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ’’اس کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘ ہمیں حیرانی ہوئی ’’حفاظت؟‘‘ ایک کچھ زیادہ ہی پڑھے پڑھائے بزرگ نے فرمایا ’’پتھر ہو چکے ایسے نایاب نوادرات تو اونچے اونچے محلوں کی زینت ہیں اور وہاں ان کی حفاظت پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے یہ قوم۔ ہم اس نایاب پتھر کی حفاظت کیسے کریں گے؟‘‘ واقعی وہ بہت نایاب پتھر ہے ہم نے اس پر عطر کا چھڑکائو کیا اس نے ہمارا شکریہ تک ادا نہ کیا۔ ایک دن ایک چوہا بلی ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے آئے اس نایاب پتھر پر جو کر سکتے تھے کیا۔ اس نے پھر بھی کوئی حرکت نہ کی اپنے مقام سے ذرا بلند نہ ہوا۔ اتنا نایاب پتھر اور ہمارے مقدر میں؟ ہمیں تو رشک آنے لگا ہے اپنے آپ پر۔ لیکن وہ بوڑھے ہیں کہ ہماری خوشیوں میں شریک ہی نہیں ہو رہے۔ ہر وقت شرم شرم! کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ ایک دوپہر وہ سابق ہو چکا خاکروب ان کے سامنے ایک بینر اٹھائے کھڑا تھا جس پر لکھا تھا ’’تمہیں شرم آنی چاہئے شرم محسوس کرتے ہوئے‘‘
لَلّو جا وڑیا ملتان……. لوکی سوہن حلوہ کھان
دوڑی آئی ملتانی رانی………….. لَلّو وے! جَلّو وا
کوئی نذر نیاز پھڑا……… این آر او دی قبر تے چادر پا




Comments
No comments yet.