شرم و حیا پر شرم کرو by Rafeeq Dogar

24 November, 2009 Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
پارک کے کونے میں چند فالتو بوڑھے اخبار پڑھ رہے تھے خاکروب نے اپنا جھاڑو چھنک کر ایک طرف رکھ دیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ’’دیکھیں تو میرا بھی نام ہے اس فہرست میں؟‘‘ ایک بوڑھا مسکرایا اور مزید مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’ان کی نہیں اپنی شکل دیکھی ہے تم نے کبھی‘ جو ملک کے معزز ترین لوگوں کی فہرست میں اپنا نام ڈھونڈنے کو کہہ رہے ہو؟‘‘ خاکروب نے جھاڑو زمین پر رکھ دیا ’’ہو سکتا ہے میری بھی لاٹری نکل آئی ہو؟‘‘ بوڑھے نے قہقہہ لگایا اور اخبار پھیلا کر بلند آواز میں این آر او قبیلہ کے معززین کے نام پڑھنے لگا۔ وہ پوری فہرست پڑھ چکا تو خاکروب نے قہقہہ لگایا ’’میرا نہیں تو تم میں سے بھی تو کسی کا نام نہیں اس فہرست میں۔ شرم کرو! تم اتنے پڑھے لکھے بنتے ہو تم نے بھی اپنی عمریں ساری ضائع ہی کر دی ہیں کچھ کی ہوتی کوئی نیکی‘ قوم کی کوئی خدمت تو تم میں سے بھی کسی ایک کا تو نام ہوتا معززین کی اس فہرست میں‘‘ بوڑھوں نے سر جھکا لئے۔ خاکروب نے اپنا جھاڑو اٹھایا اس کے تنکے پارک میں بکھیر دئیے ’’میں کسی سے کم ہوں جو تم جیسے لوگوں کی خدمت کروں۔ جوان ہوں کوئی ایسا کام کیوں نہ کروں جس سے معزز لوگوں میں شامل ہو سکوں؟ منصب نہ بھی سہی ایسے بامنصب اہل عزت کا جیالا تو بن ہی جائوں گا‘‘ بوڑھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور شرم سے سر جھکا لئے۔ ملک میں کتنے لوگ ہوں گے جو ان بوڑھوں کی مانند شرم کے مارے سر نہیں اٹھا سکتے آج؟ سولہ سترہ کروڑ کی آبادی میں سے معززین صرف 8041۔ یہ تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں‘ شرم آنی چاہئے ان سولہ سترہ کروڑ اہل پاکستان کو اور ان میں بھی اہل سیاست و خدمت صرف 33 ۔ یہ تو ان سولہ کروڑ کے ساتھ ساتھ ملک کے جملہ اہل خدمت و سیاست کے لئے بھی مزید شرم کی بات ہے۔ معلوم نہیں اہل عدل و انصاف کون سے لحاف میں منہ چھپائے ہوئے پڑے ہیں ان سولہ سترہ کروڑ کے لئے جیلوں میں گنجائش نہ ہو تو وہ کم از کم ان غیر معزز اہل خدمت و سیاست کو ہی جیلوں میں بند کر دیں جن کا نام نامی معززین کی کسی فہرست میں شامل نہیں۔ جرم کیا ہو کوئی یا نہ کیا ہو کر دیں ان سب کو جیلوں میں بند۔ شامل فہرست معززین میں سے کون سا کسی نے کوئی جرم کیا تھا؟ وہ بھی تو سب ان کی مانند ہی پاک صاف اور نہائے دھوئے ہوتے تھے۔ وہ کوئی غلط کہتے پھر رہے ہیں؟ اور کیا ان سب اپنے کو جیلوں میں بند کرنے کرانے والوں سے گلے ملتے ہوئے نہیں دیکھ رہے اہل عدل و انصاف؟ اگر ان کے بھائیوں مہربانوں اور قدردانوں نے انہیں بے گناہ جیلوں میں بند نہ کیا ہوتا تو پہنچ سکتا تھا ان میں سے کوئی اتنے بلند مقام و مرتبہ تک؟
پرانی بات ہے ہم سون سکیسر کے جنگلوں اور ویرانوں میں گھوم پھر رہے تھے جس بھی کسی گائوں کے قریب سے گزرتے لائوڈ سپیکر پر ایک نماز جنازہ میں شرکت کرکے ثواب دارین حاصل کرنے کا اعلان گونج رہا ہوتا تھا ہمارے پاس تو ثواب حاصل کرنے کو وقت نہیں تھا ایک مقامی بندے سے اپنی مجبوری اور محرومی عرض کی اور پوچھا یہ کون بزرگ ہیں جن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے جا رہے ہیں اہل سون اور سکیسر انہوں نے نام بتا دیا۔ واپس آ کر ہم نے ڈاکٹر خالد رانجھا کے دفتر سے اس ’’بزرگ‘‘ کی نیکیوں کی بھاری فائل منگوائی۔ اس نے اپنی اکثر عمر جیلوں میں گزاری ہوئی تھی درجنوں ناکردہ گناہوں کے جرم میں کہ اکثر عدالتوں نے تو اس کے دم آخریں تک اسے کوئی سزا سنائی ہی نہیں تھی۔ ان جرائم کی یا اس کی بے گناہی کی جس سے اس کے درجات اتنے بلند ہو گئے تھے کہ سون سکیسر کی ہر مسجد سے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے اپنے اپنے درجات کی بلندی کی دعوت دی جا رہی تھی کتنے اہل عدل و انصاف ہوں گے جن کے درجات بھی اس ’’بزرگ‘‘ عالی مرتبت کی وجہ سے مزید بلند ہو گئے ہوں گے۔ ہم اس روز اسی وادی سے ایک بھاری پتھر اٹھا لائے تھے۔ نہیں پتھر نہیں ایک درخت جو کسی زمانے میں کسی شرم کے مارے پتھر ہو گیا تھا۔ شرم سے یا بے شرمی سے؟ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کچھ ماہرین تو کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں درختوں کو بھی شرم آ جایا کرتی تھی اور وہ شرم کے مارے پتھر ہو جایا کرتے تھے مگر اس روز کے پارک اور خاکروب کے واقعہ کے بعد سے ہمیں زندہ چیزوں کے شرم سے پتھر بن جانے کے اس نظریہ سے کچھ اختلافات سے ہو گئے ہیں۔ بہرحال وہ پتھر ہمارے پاس موجود ہے اور ہم نے پروگرام بنایا تھا کہ اسے پارک کے اس کونے میں رکھ آئیں جہاں وہ بوڑھے اب سر جھکائے بیٹھے نظر آتے ہیں اپنی اپنی عمریں ضائع کر دینے کی شرم کے مارے۔ ان سے عرض کیا کہ تمہارا حوصلہ بڑھانے کے لئے ہم ایک پتھر درخت اس کونے میں گاڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ’’اس کی حفاظت کون کرے گا؟‘‘ ہمیں حیرانی ہوئی ’’حفاظت؟‘‘ ایک کچھ زیادہ ہی پڑھے پڑھائے بزرگ نے فرمایا ’’پتھر ہو چکے ایسے نایاب نوادرات تو اونچے اونچے محلوں کی زینت ہیں اور وہاں ان کی حفاظت پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے یہ قوم۔ ہم اس نایاب پتھر کی حفاظت کیسے کریں گے؟‘‘ واقعی وہ بہت نایاب پتھر ہے ہم نے اس پر عطر کا چھڑکائو کیا اس نے ہمارا شکریہ تک ادا نہ کیا۔ ایک دن ایک چوہا بلی ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے آئے اس نایاب پتھر پر جو کر سکتے تھے کیا۔ اس نے پھر بھی کوئی حرکت نہ کی اپنے مقام سے ذرا بلند نہ ہوا۔ اتنا نایاب پتھر اور ہمارے مقدر میں؟ ہمیں تو رشک آنے لگا ہے اپنے آپ پر۔ لیکن وہ بوڑھے ہیں کہ ہماری خوشیوں میں شریک ہی نہیں ہو رہے۔ ہر وقت شرم شرم! کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ ایک دوپہر وہ سابق ہو چکا خاکروب ان کے سامنے ایک بینر اٹھائے کھڑا تھا جس پر لکھا تھا ’’تمہیں شرم آنی چاہئے شرم محسوس کرتے ہوئے‘‘
لَلّو جا وڑیا ملتان……. لوکی سوہن حلوہ کھان
دوڑی آئی ملتانی رانی………….. لَلّو وے! جَلّو وا
کوئی نذر نیاز پھڑا……… این آر او دی قبر تے چادر پا
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists Tags : , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image