اور سرِ شام ہوا‘ ان کیلئے چلتی ہے by Bushra Rehman

24 November, 2009 Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
وہ دونوں ٹیلی ویژن پر اپنے شہید بھائیوں کی خوشبودار باتیں بتا رہے تھے۔ اپنے والدین کے تاثرات بتا رہے تھے اور مادرِ وطن پر قربان ہو جانے کے عزم کو عید کی صورت میں بیان کر رہے تھے اور میرے آنسو بے اختیار بہے چلے جارہے تھے، حالانکہ درد و اندوہ کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہوا تھا۔ جدائی اور صدمے کی کوئی بات ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ان کے چہرے چمک رہے تھے۔ ان کی وردی وقار اور صداقت کی زرہ بکتر لگ رہی تھی ان کے کاندھوں پر ستارے ان کی تقدیر کی خبر دے رہے تھے۔ وہ میرے وطن کے جوان تھے۔ پاکستان کے بیٹے تھے۔ قائد اعظم کے بیٹے تھے۔ میرے بھی بیٹے تھے۔ ہر پاکستانی کے بیٹے تھے۔ جن ماؤں نے انہیں اور ان کے شہید بھائیوں کو جنم دیا تھا۔ میرے آنسو ان ماؤں کو سلام پیش کر رہے تھے۔ انتہائے محبت اور انتہائے عقیدت کا اظہار صرف آنسو ہی کر سکتے ہیں ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اپنے انمول رتن جیسے جوانوں کی باتوں پر فخر نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ ایسی کئی زندگیاں بھی ہوں تو ہم اپنے وطن پر قربان کرنے کو تیار ہیں۔ جب وطن کے جوان بری، بحری اور ہوائی فوج میں بھرتی ہونے کو نکلتے ہیں تو ان کے اذہان میں یہی جذبہ ہوتا ہے اور والدین بھی اسی جذبے کے تحت اجازت دے دیتے ہیں۔ کتنے کڑے وقت آئے اس سرزمین پر … مگر اسی زمین کے بیٹوں نے آگے بڑھ کر ماں کی چنری سنواری اور اپنے لہو سے اسکی مانگ بھر دی۔ وہ سچ بول رہے تھے کہ یہ پاکستان ہے اسکی ایک ایک اینٹ پر اس کا ایک ایک بچہ لڑتے ہوئے قربان ہو جائے گا۔ اگر کسی نے اس ارض پاک کو میلی آنکھ سے دیکھا! جس ملک کی نوجوان نسل ایسے ارادوں کی مالک ہو۔ اس ملک کی ماؤں کے سر فخر سے اونچے رہنے چاہئیں۔ میں نے ٹی وی پر ہی اس ماں کو بھی دیکھا تھا۔ جب اس کے شہید بیٹے کی ٹوپی اس کے آگے بڑھائی گئی تو اس نے اس پر اپنی پیشانی رکھ دی تھی۔ رضائے الٰہی کے آگے جھکنے کا اس سے بہتر طریقہ و سلیقہ اور کیا ہو گا۔ وہ جس کو چاہتا ہے دنیا میں اور عقبٰی میں مناصب اور رفعتیں عطا کرتا ہے۔
جس روز سے راہ نجات کا آپریشن شروع ہوا ہے۔ سارا ملک دعا بن گیا ہے۔ اور نگاہیں خاکی وردی کا طواف کرنے لگی ہیں۔ مذموم ارادے کے لوگ جو گھناؤنے کام کے لئے روپ بدل بدل کر اس خوبصورت سرسبز اور سربلند علاقے میں آ گئے تھے انہوں نے سارے پاکستان کا سکون لوٹ لیا ہے۔ مقامی لوگوں کو دربدر کیا ہے۔ سبزے کو پٹرول دکھا کے آگ لگائی، پھولوں کے پیراہن جلائے… اور انسانیت کے چہرے پر سیاہ دھبے لگائے؟ کون تھے وہ … کس کا ایجنڈا مکمل کرنے آئے تھے۔ سوالات ہزار ہیں مگر آج سوال کرنے کا نہیں‘ عزم کرنے کا وقت ہے۔ اگر خون کا پیاسا شیر بانسوں کے جنگل میں چھپ کر بیٹھ جائے تو اس کو پکڑنے کے لئے جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کا خوبصورت چہرہ کون بگاڑ رہا ہے؟ کیا ایسی تھی اپنی ارض پاک… مسجدوں کے باہر پہرے … ہم نے تو یہ سرزمین اس لئے حاصل کی تھی کہ ہمیں مذہب اور اسکی رسوم ادا کرنے کی آزادی ہو۔ مسجدوں میں جانے اور سجدے کرنے کی آزادی ہو۔ تعمیری کام کرنے، عیدین منانے اور فرائض منصبی ادا کرنے کی آزادی ہو… ہم اپنے اپنے شہر میں خودمختار ہوں۔ ہمارے بچے محفوظ ہوں۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں محفوظ ہوں۔ مگر یہ کیا کہ ہر شہر پر خوف و ہراس کی چادر بچھی ہے۔ آہنی دروازے بن گئے ہیں۔ شرفاء کی تلاشیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ اس ملک میں اب کچھ رذیل لوگ شرفاء کا بھیس بدل کر نکلتے ہیں۔ اور محفلوں کی محفلیں اور شہر کے شہر اجاڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ کیا یہ پاکستانی ہیں؟ ہم نہیں مانتے پاکستانی وطیرہ بنا لینے سے، مسلمان شکل بنا لینے سے کوئی پاکستانی یا مسلمان نہیں بن جاتا۔ ایمان دل کے اندر سے پھوٹتا ہے اور روح تک کو سیراب کر جاتا ہے۔ ایمان تباہ کاری قتل و غارت اور انسانیت کی تذلیل نہیں کرتا۔ دشمن اتنے ہیں کہ دوست کا چہرہ شناخت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ شکوک اتنے ہیں کہ یقین کی منزل دور ہوتی چلی جا رہی ہے۔
سوات دیر مالاکنڈ‘ وزیرستان‘ وانا، بونیر اور پشاور، خوبصورتیوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو باری تعالیٰ نے پاکستان کے حصے میں بھر دی تھیں۔ مگر افسوس آج ان علاقوں میں بارود کی بو اور آگ کے شعلے بھر گئے ہیں۔ اور ان مقامی لوگوں کے حوصلے دیکھو کہ ہر آن کہتے ہیں۔ ہم قربانیوں سے دریغ نہیں کرتے۔ مگر فاسدوں فسادیوں اور دشمنوں کو نیست و نابود کر کے ہی دم لیں گے۔ کیسا موسم آ گیا ہے۔ شادیوں کے شادیانے بجاتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں۔ باراتیں پولیس کے پہرے میں جاتی ہیں۔ اجتماعات کی روشنیاں ہمہ وقت لرزتی رہتی ہیں۔ بڑی بڑی عمارتیں نوحہ کناں ہیں اور مساجد سوگوار ہیں۔ کیا یہ سب ایک دن میں ہو جاتا ہے۔ نہیں… جس نے بھی اس کی منصوبہ بندی کی … سالوں سے کی… جس نے بھی یہ نقشہ بنایا کئی سال اس پر صرف کئے۔ لیکن آج اپنے فوجی جوانوں کے حوصلے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انشاء اللہ ہم اپنی مقدس زمین کو ان درندوں اور وحشیوں سے صاف کر کے رہیں گے۔ جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اور آدمیت کو وشنام بنا رہے ہیں۔ پوری ملت جاگ اٹھی ہے۔ یہ ایک گھر کی آہ نہیں پورے ملک کی آہ ہے۔ یہ ایک شہر کی چیخ نہیں پورے ملک کی چیخ ہے۔ یہ ایک محلے کا مسئلہ نہیں پورے ملک کا مسئلہ بن گیا ہے۔
اگر جسم کا ایک حصہ زخمی ہو جائے حتیٰ کہ چھوٹی انگلی بھی کٹ جائے اور اس میں سے خون رسنے لگے تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ آنکھ روتی ہے۔ زبان آہیں بھرتی ہے۔ ایک ایک عضو دہائی دینے لگتا ہے۔ یہ جنگ اور یہ احتجاج ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ پاکستانی قوم کی ایک خوبی ہے جب مصیبت آن پڑتی ہے تو بند مٹھی کی طرح متحد ہو جاتے ہیں۔ سرخرو ہونے کا یہی ایک قرینہ ہے۔
عید قرباں آ گئی ہے۔
کیا کیا قربان کریں ……… کس کس پہ الزام دھریں؟ ………….. قرض بھی لیں۔
سود بھی لیں……… مفت میں عدم استحکام بھی لیں……….. آؤ آج ایک کام کریں۔
روکھی سوکھی کھائیں……….. اک اک پائی واپس کر دیں …………. اپنی عادات بدلیں ………. جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔
ان شہیدوں کے نام پہ۔ ان کی ماؤں کے نام پہ۔ ان رداؤں کے نام پر جو آگ کا ایندھن بن گئیں۔ ان پیاروں کے نام پہ جو راہ گزاروں میں کہیں کھو گئے؎
لوگ کہتے ہیں کہ پربت سے نکل کر چشمے ………. کسی کھوئی ہوئی منزل کو بہا کرتے ہیں
اور سرشام ہوا ان کے لئے چلتی ہے ……………… جن کے محبوب کہیں دور بسا کرتے ہیں
Categories : Bushra Rehman, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image