آگئی جان شکنجے اندر by Taufeeq Butt

24 November, 2009 Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
ہم تو اس بات پر حیران ہےں کہ حکومت نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے کی ”غیرت مندی“ کا مظاہرہ کر کیسے لیا؟ یقیناً اس ضمن مےں بھی کوئی اندرونی یا بیرونی پریشر ہوگا ورنہ اپنے اور ”اتحادیوں“ کے پیٹ ننگے کرنا معمولی واقعہ نہیں۔ حکومت مےں شامل کئی سیاستدانوں اور افسروں کے پیٹ اتنے پاپی نکلے کہ صاف ظاہر ہو رہا تھا آدھے سے زیادہ پاکستان یہ کھا گئے اور اگر میڈیا ماضی کی طرح اندھا‘ گونگا و بہرہ رہتا تو باقی کا بھی کھا جاتے۔ شکر ہے اس کا انہیں موقع نہیں ملا ورنہ ان مےں کون ہے ہوس‘ حرص‘ طمع اور لالچ کی دوڑ مےں جو دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش مےں نہ ہو؟ اب چیختے ہےں کہ وہ ”بے گناہ“ ہےں۔ پاکستان کی ”روشن تاریخ“ مےں کوئی سیاستدان یا افسر ایسا بھی ہے جس نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہو؟ یہاں تو عام آدمی خود سے سرزد ہونے والے جرم تو دور کی بات ہے معمولی سی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا، سیاستدان تو ویسے ہی ”وکھری مخلوق“ ہوتے ہےں۔ سرخاب کے پروں والی، جو جرم کرنے پر اول تو پکڑی نہیں جاتی‘ پکڑی جائے تو کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا لہٰذا این آر او کی فہرست جاری ہونے کے بعد کوئی اس خوش فہمی مےں مبتلا ہے کہ اس مخلوق کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی تو اس سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا انہیں عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟ اپنے عہدوں پر نہ بھی رہیں تو جتنی لوٹ مار یہ کر چکے ہےں ان کی شاہانہ زندگی مےں رتی بھر فرق نہیں آتا۔ پروٹوکول بھی ملتے رہتے ہےں آن دی ریکارڈ نہ سہی آف دی ریکارڈ سہی کہ حکومتی عہدوں پر ان کے مامے چاچے ہی بیٹھے ہوتے ہےں جو ان کے مفادات کا تحفظ ”کارِ ثواب“ کی طرح کرتے ہےں!
وہ یقیناً ”خوش قسمت“ ہےں جن کے نام این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست مےں شامل نہیں مگر ان مےں کچھ ”فرشتے“ ایسے بھی ہےں جو سیاست مےں آنے سے پہلے اتنے کنگال تھے کہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں تک ادا کرنا ان کےلئے مشکل تھا۔ اب ان کے پاس خیر سے زمینوں‘ جائیدادوں‘ بنگلوں‘ ملوں‘ فیکٹریوں اور لمبی لمبی کاروں کی قطاریں لگی ہیں۔ اندرون و بیرون ممالک ان کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات خود انہیں بھی معلوم نہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں‘ کیا یہ ان کی محنت اور حلال کی کمائی ہے؟ کیا محض اس بنیاد پر انہیں فرشتہ قرار دے دیا جائے کہ این آر او کی فہرست مےں ان کا نام شامل نہیں؟؟؟ …. اور عدلیہ سے ”فرشتگی“ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والوں کی ”اصلیت“ بھی لوگ خوب جانتے ہےں۔ ماضی مےں عدلیہ ہر گز ایسے مقام پر نہیں تھی کہ کسی کو ”فرشتگی“ کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی تو لوگ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے مجرموں اور منصفوں کے گٹھ جوڑ نے اس ملک کا جوڑ جوڑ ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان حالات مےں عدلیہ کا سرٹیفکیٹ لہرانے والے اگر یہ تاثر دیں کہ ان کے نچوڑے ہوئے دامنوں سے فرشتے وضو کرتے ہےں تو میرے خیال مےں ”فرشتوں“ کے ناک اتنے بند نہیں کہ آبِ زم زم اور گندے پانی کا فرق بھی محسوس نہ کرسکیں۔ آج عدلیہ بہت حد تک آزاد اور نیک نام ہے۔ یہ آزادی اور نیک نامی ان کی وجہ سے نہیں ملی 28 نومبر کے بعد جن کے کیس عدلیہ کے سپرد ہونے والے ہےں لہٰذا اگر کوئی ”باعزت بری“ ہوتا ہے تو اس کا دامن یقیناً صاف دکھائی دے گا مگر موجودہ عدلیہ سے اپنے ”آلودہ دامن“ صاف کروانا اتنا آسان نہیں جتنا این آر او یافتہ سیاستدان اور افسران سمجھتے ہےں۔ موجودہ عدلیہ کے حوالے سے یہ کسی ”اعتماد“ مےں مبتلا ہےں۔ تو میرے خیال مےں مستقبل مےں ان کے ”اعتماد“ کو ایسی زد پہنچنے والی ہے جس کا یہ تصور بھی نہیں کر سکتے!
این آر او کی فہرست مےں موجودگی کا اعزاز پانے والے‘ اثرورسوخ استعمال کر کے نام نکلوانے والے ہی ”قومی مجرم“ نہیں۔ حکمران چاہے فوجی ہوں یا سیاسی، اونچے درجے کے ہوں یا نچلے درجے کے، اختیارات اور طاقت کا غلط استعمال کریں گے تو قوم کی نظروں مےں ”قومی مجرم“ ہی ٹھہریں گے۔ اختیارات کے غلط استعمال حکمرانوں نے ہمیشہ ذاتی اور مالی مفادات کی خاطر ہی کئے۔ قومی مفاد کا کوئی مسئلہ درپیش آیا تو جائز اختیارات کا استعمال بھی گراں گزرا۔ اس ملک مےں کتنے حکمران‘ کتنے وزیر‘ کتنے افسر ایسے ہےں جنہوں نے اختیارات کا درست استعمال کرتے ہوئے ایک پیسے کا مالی مفاد حاصل نہ کیا ہو؟۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر بطور سپیکر قومی اسمبلی ملازمتیں بانٹنے کا الزام لگا تو انہوں نے انتہائی فخریہ انداز مےں فرمایا ”بے روزگاروں کو ملازمتیں دینا جرم ہے تو یہ جرم مےں بار بار کروں گا“۔ کون ان سے پوچھے حضور آپ ہوتے کون ہےں ریوڑیوں کی طرح ملازمتیں بانٹنے والے؟ آپ نے ہمیشہ ”سیاسی ایمانداری“ دکھائی‘ ذرا اصلی ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایئے ”بے روزگاروں“ کو ملازمتیں آپ نے میرٹ پر فراہم کی تھیں۔
این آر او کی فہرست دیکھ کر یہ احساس پھر سے جاگا دنیا مےں پاکستان کا نام ہمیشہ اس کے شاعروں‘ ادیبوں‘ دانشوروں‘ اداکاروں‘ گلوکاروں‘ کھلاڑیوں اور سائنسدانوں نے روشن کیا جبکہ حکمران‘ سیاستدان اور افسران ہمیشہ اس کا ناک کٹواتے رہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک پاکستان کی سترہ کروڑ بھیڑ بکریوں کے ”قوم“ بننے کا پروسس مکمل نہیں ہوجاتا۔ قوم بننے کے لئے یہ سنہری موقع ہے یہ جنہوں نے دو دو ہاتھوں سے کئی کئی بار اس ملک کو لوٹا اب وقت ہے کہ ان سے سارے حساب چکتے کئے جائیں۔ انہیں اس عبرتناک انجام تک پہنچا دیا جائے کہ اقتدار کبھی ان کی جھولی مےں بھی آکر گرے تو اسے قبول نہ کریں۔ جو دولت اس ملک سے انہوں نے لوٹی اور بوریاں بھر بھر کر باہر لے گئے انہیں مجبور کر دیا جائے کہ اسے واپس لائیں‘ جو قرضے باپ کا مال سمجھ کر انہوں نے حاصل کئے اور دادے کا مال سمجھ کر ہڑپ کر گئے ان کی گردن اس انداز مےں دبوچی جائے کہ سارے قرضے اُگل دیں۔ پھر ان کے لئے بڑے بڑے پنجرے بنوا کر شہر کی مین شاہراﺅں پر رکھوا دیئے جائیں جس مےں انہیں بند کر دیا جائے‘ لوگ انہیں دیکھ کر عبرت پکڑیں‘ سبق سیکھیں‘ بظاہر یہ بڑا مشکل ہے لیکن ”سترہ کروڑ بھیڑ بکریاں“ متحد ہو کر باہر نکل آئیں تو ان ”بھیڑیوں“ کو قابو کرنا بڑا ہی آسان ہوگا۔ آزمائش شرط ہے!
Categories : Taufeeq Butt, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image