کیا ہم کٹھ بڑھئی بھی نہیں؟ by Khalid Ahmad
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
’’کٹھ بڑھئی‘‘ کی یہ ’’دانش‘‘ الہامی ہے‘ لہٰذا درخت بھی سلامت ہیں اور ان کی ’’نس‘‘ بھی‘ جسے ’’ہد ہد‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے!
درختوں سے لے کر پرندوں تک گھاس پات سے لے کر چرندوں تک اور چرندوں سے لے کر درندوں تک زمین پر رینگنے والی یہ مخلوق کے بال ایک الہامی ہاتھ میں ہیں! انسان اپنی سوچ میں پرندہ بھی ہے، اپنی معاشرتی زندگی میں چرندہ بھی اور اپنے تحفظ کیلئے درندہ بھی، لہٰذا اسے ’’خیر اور شر‘‘ کے درمیان فرق ’’الہام‘‘ کر کے اسے چار الہامی کتب سے بھی نوازا گیا۔
ایک زمانہ تھا کہ صرف سوکھ جانے والے درخت کاٹے جاتے تھے‘ صرف سوکھ کر زمین پر آ رہنے والی شاخیں اور پتیاں چولہوں میں جھونکیں جاتیں! مگر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ہرے بھرے درخت کٹنے اور چولہوں میں جھوکے جانے لگے! کیونکہ درخت اپنی فطرت سے نہیں ٹلے وہ ’’کٹھ بڑھئی‘‘ اور ’’لکڑ ہارے‘‘ کا فرق بھول کر اپنی فطرت میں سربلند اور سایہ گر رہے! لکڑہارے درخت پر کلہاڑے چلاتے چلاتے تھک کر اسی درخت کے سائے میں سو جاتے اور محنت وصول کرنے کے خوابوں میں کھو جاتے! حتٰی کہ جنگل کے جنگل صفا چٹ … ’’میدان‘‘ ہوگئے!
یہ ’’میدان‘‘ اُس ’’میلان‘‘ کے مظہر تھے، جسے ’’غیرالہامی‘‘ ہونے کا شرف حاصل تھا۔ بے حسی اور جلبِ زر آہستہ آہستہ ہر الہامی اصول سے منحرف ہوتی گئی! پیسہ ’’خدا‘‘ مان لیا گیا اور سونے کے بچھڑے کی …… راج پا گئی!
’’انسانی معاشرہ‘‘ ایک مسلسل ارتقاء کی راہ پر گامزن ہے! ہر ’’انسانی معاشرہ‘‘ اپنی بقاء کے ذرائع کے بیش از بیش استحصال میں لگا ہے! اور اپنے تحفظ کی جنگ میں بھی مبتلا ہے! مگر ہم کچھ عجیب سے لوگ ہیں! ہم اپنی ’’بقا کے وسائل‘‘ فروخت کرنے کے چکر میں ہیں اور اپنے ’’تحفظ کی جنگ‘‘ کے پسِ پشت کھڑے ’’وسائل‘‘ غیروں کے ہاتھ میں دے دینے پر کمربستہ ہیں! ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں! کیا ہمارے پاس ایک ’’ہد ہد‘‘ جتنی عمل بھی نہیں! ہم ’’قومی وسائل‘‘ کے درخت میں ’’گھونسلا‘‘ بنا لینے پر کیوں اکتفا نہیں کر پا رہے! ہم ’’درخت‘‘ کا سودا کیوں کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’لوڈ شیڈنگ‘‘ کے بعد ’’بلڈ شیڈنگ‘‘ کا بھی شیڈول مرتب کیا جانے لگے اور اعلان ہونے لگیں کہ اس ’’جمعہ کی نماز‘‘ سے پہلے فلاں شہر میں ’’خودکش دھماکہ‘‘ کیا جائے گا! لوگ جوق در جوق بازاروں میں نکل آئیں تاکہ بیش از بیش حضرات ’’شہادت‘‘ اور ’’شہادتیں‘‘ سمیٹ سکیں! خواتین اور بچے گھروں سے نہ نکلیں تاکہ ’’خودکش بمبار‘‘ کے خلاف آہیں اور کراہیں‘ بددعائوں میں نہ ڈھل سکیں!
حیران کن امر ہے کہ ہم سب کچھ جانتے بوجھتے دم سادھے ہیں! نیٹو فورسز پاکستانی سرحد سے دور کھڑی ہیں تاکہ افغانستان کے پَرے واقع ممالک سے بھرتی کئے جانے والے ’’بھارتی مجاہد‘‘ افغانستان اور پاکستان میں نہ آسکیں! ان ممالک میں 50 ڈالر ماہانہ پر آنے والے ’’بھارتی مجاہد‘‘ اب 1500 ڈالر ماہانہ پر آرہے ہیں! وہ جب تک سانس لیتے رہتے ہیں ان کے گھر یہ رقم پہنچتی رہتی ہے اور جب وہ سانس لینا چھوڑ دیتے ہیں تو ایک ماہ کی تنخواہ کے ساتھ ان کی موت کی خبر ان کے گھر والوں تک پہنچا دی جاتی ہے تاکہ اگلا ’’مجاہد‘‘ روانہ کر سکیں اور یوں ’’شدت پسندی‘‘ کا مرکز آہستہ آہستہ پاکستان اور افغانستان سے نکل کر ’’وسطی ایشیائی‘‘ ریاستوں کی طرف منتقل ہوتا چلا جارہا ہے!
آنے والے برسوں میں ’’وسطی ایشیائی بھارتی مجاہد‘‘ اسرائیلی سرپرستی میں کدھر کا رخ کرنے والے ہیں؟ اور ان تنظیموں میں موجود امریکی ’’ایکٹرز‘‘ ان تنظیموں کے کردار کا رخ متعین کر لینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
اس سوال کا جواب افریقہ سے یورپ تک گیس فراہم کرنے کیلئے متبادل زیرآب گیس پائپ لائن کی تعمیر کے منصوبے پر کام کے آغاز نے دینا شروع کر دیا ہے! یہ پائپ لائن ’’جارجیا‘‘ میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرونفوذ کے نتیجے میں ہو رہا ہے تاکہ ’’رشین فیڈریشن‘‘ کی طرف ’’یورو‘‘ کی منتقلی کا بنیادی ذریعہ اپنی اہمیت کھو دے اور ’’یورو‘‘ کی منتقلی کا سب سے بڑا رستہ امریکی مالکانہ حقوق کے حامل اداروں میں جا نکلے!
پاکستان‘ ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھارت تک پھیل سکے گا؟ یا‘ نہیں؟ ہمیں تو صرف یہ بات کھائے چلی جارہی ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کیلئے ٹرانزٹ کی سہولت افغان وار لارڈز کیلئے اربوں ڈالر مہیا کر رہی ہے اور تھوڑے دنوں بعد افغانستان کے پُرسکون ہوتے ہی یہ ’’ٹرانزٹ ٹریڈ‘‘ افغانستان کی اقتصادیات کا بنیادی پتھر بن کر وسطی ایشیائی ممالک میں ’’بھارتی تجارتی چھائونیاں‘‘ قائم ہو جانے کا سبب بن جائے گی! اور اس کے بعد وسطی ایشیائی ممالک کی پاکستان سے تجارت کرنے کی خواہش کہاں جائیگی؟ جس کے اظہار کیلئے ان تمام ممالک کے سربراہ جناب نواز شریف کے دور میں اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو ’’دو شنبے‘‘ جاتے ہوئے کرنل امام کی سرکردگی میں ایک تجارتی قافلہ زمینی راستے سے کرغزستان میں قدم دھرتے دیکھنا چاہتی تھیں اور کرنل امام نے یہ کام کر دکھایا تھا! کاش ہم الہام کی گئی دانش پر انحصار کرنا سیکھ سکیں اور ’’لکڑہارے‘‘ کی جگہ ’’کٹھ بڑھئی‘‘ کا کردار اپنا سکیں! آمین!
یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے! اللہ اس ملک کا حافظ و ناصر ہو! ثّمہ آمین!




Comments
No comments yet.