ایک اور شفاف انتخابات by Taufeeq Butt

14 November, 2009 Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
گلگت اور بلتستان الیکشن میں حکمران جماعت جیت گئی ظاہر ہے ویسے ہی جیتی ہو گی جیسے اکثر حکمران جماعتیں جیت جاتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے اور ڈھونڈیئے کوئی ایسا الیکشن یا ضمنی الیکشن جو ’’حکمران جماعت‘‘ نے نہ جیتا ہو ایک آدھ سیٹ ہاری بھی تو جان بوجھ کر ہاری، اس لئے کہ دھاندلی کا تاثر قائم نہ ہونے پائے، سو پیپلز پارٹی کے جیتنے پرکم از کم مجھے تو کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں ایسے بہنے لگی ہیں جیسے آج کل لوگوں کے ناک بہتے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کوئی ایسی فوجی یا سیاسی جماعت نہیں آئی عوام کی خدمت میں جو اس طرح جیتی ہو جیسے پیپلز پارٹی جیتی ہے۔ ملک میں امن وامان کی صورت حال یہ ہے لوگ اب گھروں کے دروازے کھول کر سوتے ہیں، مائیں بچوں کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیج کر یوں مطمئن ہوتی ہیں جیسے بچے نانی کے گھر گئے ہوں۔ لوگوں کے کاروبار ہیرے کی طرح چمکنے لگے ہیں، فیکٹریاں اور ملیں یوں چل رہی ہیں کہ تین تین شفٹوں میں بھی کام مکمل نہیں ہوتا۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں جوق در جوق تشریف لا رہے ہیں اتنی سرمایہ کاری غیر ملکیوں نے پاکستان میں کبھی نہیں کی جتنی اب کر رہے ہیں۔
اصل میں جتنی سہولتیں آرام اور تحفظ انہیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے فراہم کیا ہے اس سے قبل کسی حکومت نے نہیں کیا پھر وہ کیوں بے خوف و خطر سرمایہ کاری نہ کریں؟ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزراء ایمانداری، عوام دوستی اور اہلیت میں ثانی نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ان کے محکمے تیر کی طرح سیدھے تُک ہو چکے ہیں۔ ہر وزیر کے پاس صرف ایک سرکاری کار ہے اکثر وزراء کی بیگمات اور بال بچے رکشوں، موٹر سائیکلوں اور ٹیکسیوں پر سفر کرتے ہیں بعض وزراء تو سرکاری خزانے سے تنخواہ بھی نہیں لیتے، کئی تو ہر مہینے کچھ رقم ’’خالی خزانے‘‘ میں پلے سے جمع کروا دیتے ہیں۔ وزیروں کو دو دو ایکڑ کے بنگلے دیئے گئے تو ملک وقوم اور خالی خزانے کے مفاد میں انہوں نے فیصلہ کیا وہ صرف دس دس مرلے کے گھروں میں رہیں گے چنانچہ اسلام آباد کی ’’منسٹر کالونی‘‘ میں سرکار نے ایک ایک وزیر کے لئے وقف بنگلے میں دس دس گھر تعمیر کر کے وہاں کے دس دس وزیروں کو ایسے کھپا دیا جیسے وزیر آج کل اپنے اپنے حلقے کے عوام کو ’’کھپا ‘‘ رہے ہیں۔ کیا بچت اور سادگی کی ایسی مثالیں اس سے قبل کسی فوجی یا غیر فوجی حکومت نے قائم کیں!؟
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء کی ’’ایمانداری‘‘ کا یہ عالم ہے کہ قیمتی سے قیمتی کام بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘ کرتے ہیں حالانکہ ان میں کروڑوں، اربوں کا کمشن حاصل کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ انہیں کوئی رشوت یا کمیشن کی آفر کرے تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔ سنا ہے ایک وزیر کو کسی نے پچاس کروڑ کی آفر کی تو اس نے فوراً محکمہ انٹی کرپشن کو اطلاع کر دی اور آفر کرنے والے کو رقم سمیت موقع پر گرفتار کروا کر اس کا ثواب ڈائریکٹ صدر مملکت کی نذر کر دیا۔ وزراء یہ سب کچھ اپنی پارٹی کے سربراہ اور صدر حکومت جناب آصف علی زرداری کی تقلید میں ہی کر رہے ہیں جنہوں نے اٹل فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اب کے بار کسی سے ’’دمڑی ‘‘ نہیں لینی چاہے چمڑی کیوں نہ اتر جائے۔ یہی وجہ ہے صدر مملکت کی ’’ایمانداری‘‘ کے چرچے پوری دنیا میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ کسی معاملے میں ان سے سودے بازی کرنا تو درکنار اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کے تو کیا ہی کہنے۔ نہ صرف خود بلکہ ان کے اہل خانہ یعنی بال بچے وغیرہ بھی ’’ایمانداری‘‘ کی ایسی ایسی مثالیں قائم کر رہے ہیں کہ ان کی پوجا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسا وزیراعظم آیا ہو گا ایمانداری میں جو اتنا آگے ہو کہ پیچھے سے ایک انگلی بھی نہ اٹھے۔
کیسی ’’صاف ستھری حکومت‘‘ ہے جس کے ارکان پارلیمنٹ پہ ’’فرشتوں‘‘ کا گمان ہوتا ہے کسی کی جرأت ہے انہیں کوئی ناجائز کام کہے؟ نہ کمشن نہ ٹھیکہ نہ پلاٹ نہ پرمٹ… تو جناب اس پارٹی کی بلے بلے کیوں نہ ہو جس کے ارکان پارلیمنٹ اتنے ’’اللہ لوگ‘‘ ہیں کہ ایک ہزار کے نوٹ تک کی پہچان نہیں رکھتے۔ یہ یقیناً ہر وقت اللہ اللہ کرنے والے صدر، وزیراعظم، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی دعاؤں کا صدقہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے گلگت اور بلتستان میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ورنہ اپوزیشن نے ’’سازشوں‘‘ کے ایسے ایسے جال بچھائے تھے کہ پیپلز پارٹی کے لئے ایک سیٹ جیتنا مشکل تھا۔ اپوزیشن کا یہ واویلا بڑا ناجائز ہے کہ گلگت اور بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ اصل میں عوام کی طرح اپوزیشن نے بھی اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کی ہوئی ہیں اسے پیپلز پارٹی کے وہ ’’کارنامے‘‘ دکھائی ہی نہیں دیتے جو عوام کے مفاد میں گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں اس نے اس انداز میں کئے کہ آج اگر ملک میں الیکشن ہوں تو پیپلز پارٹی کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ تو جناب جو پارٹی اپنے ’’ بے شمار کارناموں‘‘ کی بنیاد پر ملک بھر میں دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے صرف گلگت اور بلتستان میں کیوں نہیں کر سکتی؟
اپوزیشن کو ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی نے عین اس وقت ایک جلسے سے خطاب کیوں کیا جب الیکشن مہم عروج پر تھی ان کا خیال ہے وزیراعظم اپنی پارٹی کو جتوانے کے لئے الیکشن پر اثرانداز ہوئے ہیں میرے خیال میں اپوزیشن کا یہ الزام بھی درست نہیں ہے۔ ہمارے محترم وزیراعظم اتنے ’’ہومیو پیتھک‘‘ ہیں کہ کسی بھی ’’انتخاب‘‘ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے چاہے یہ وزراء کا انتخاب ہی کیوں نہ ہو، بعض لوگوں کے مطابق تو جناب وزیراعظم گلگت اور بلتستان کے جلسے سے خطاب نہ کرتے تو پیپلز پارٹی 23 میں سے کم از کم 20 نشستیں تو ضرور حاصل کر لیتی جو وزیراعظم کے خطاب کے بعد صرف گیارہ حاصل کر سکی ہے۔ ویسے 23 میں سے گیارہ نشستیں حاصل کرنے کا جو فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا اس کا ’’کریڈٹ ‘‘ گلگت اور بلتستان کے گورنراور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب قمر الزمان کائرہ کو جاتا ہے ان کی شخصیت اتنی ’’پرکشش‘‘ ہے کہ صدر مملکت کو وفاقی وزرات کے ساتھ ساتھ گلگت اور بلتستان کی گورنری بھی انہیں سونپنا پڑی۔ اب گلگت اور بلتستان میں اپنی پارٹی کو زبردست بلکہ ’’زبردستی‘‘ اکثریت دلا کر پارٹی کی جو خدمت انہوں نے کی ہے امید کی جاتی ہے کہ اس کے صلے میں انہیں مزید بڑے عہدوں سے نوازا جائے گا۔ بڑے عہدوں میں وہ عہدہ بھی ہو سکتا ہے جس سے صدر مملکت آج کل کچھ ناراض ناراض اور اپوزیشن کچھ خوش خوش رہتی ہے۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں!
Categories : Taufeeq Butt, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image