راہِ نجات by Tayyaba Zia

21 October, 2009 Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

بلوچستان سرحد کے قریب ایرانی صوبے سیستان میں خود کش حملے میںہلاک اور زخمی ہونے والوں کے گھروں میں بھی صف ماتم بچھ گئی ہے۔ پاکستان، افغانستان ، ایران، بلوچستان کو قبرستان بنانے والے شیطان اپنی سازش اور مقصد میں بظاہر کامیاب جا رہے ہیں۔ ایران اپنے مسلمان پڑوسی پر الزام تراشی کی بجائے اس مشکل وقت پر اس کا بازو بنے تا کہ متحد ہو کر شیطان کبیر کی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔ شیطانی طاقتیں اپنی منصوبہ بندیوں کو منزل کے قریب دیکھ رہی ہیں۔ پاک ایران دوستی میں دراڑیں ڈالنے کی کوششیں عرصہ سے جاری ہیں۔ اس وقت جبکہ پاکستان جنوبی وزیرستان میں ”راہِ نجات“ کا بھی آغاز کر چکا ہے اور فوج اندرونی و بیرونی خطرات میں گھری ہوئی ہے دشمن وار پر وار کئے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں کوئی حملہ ہوتا ہے زبان خلق پر پاکستان کا نام پہلے آتا ہے اور جب پاکستان میں حملے ہوتے ہیں تب بھی پاکستان کا ہی نام آتا ہے۔ یہ وہی جنداللہ گروپ ہے جس نے کراچی میں کور کمانڈر پر بھی حملہ کیا تھا اور نہ جانے کتنے حملوں میں ملوث رہا ہے۔ جنداللہ تنظیم 2003ءمیں معرض وجود میںآئی۔ ایران کا الزام ہے کہ جنداللہ تنظیم کا ہیڈ کوارٹر پاکستان بلوچستان میں ہے۔سُنی اسلامی تنظیم ہے۔ سُنی عقیدے کے فروغ اور بلوچی سول رائٹس کی دعوےدار ہے۔ عبدالمالک ریگی جو کہ عبدالمالک بلوچ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے جنداللہ تنظیم کا سربراہ ہے ۔ جنداللہ تنظیم کا دوسرا نام ”ایرانی مزاحمتی تحریک“ (PRMI) People’s Resistance Movement of Iran ہے۔ مختلف ذرائع اور عبد المالک ریگی کے بھائی کے دعوے کے مطابق جنداللہ کو سی آئی اے فنڈنگ کرتا ہے۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دور حکمرانی میں ایران عراق جنگ کے دوران مختلف تنظیمیں وجود میں آئیں۔ صدر صدام حسین ایران کے خلاف مختلف سُنی تحریکوں کی پشت پناہی کرتے تھے ان میں ایرانی بلوچستان میں ” بلوچی گوریلا تحریک“ Baluchi Autonomist Movement (BAM) قابل ذکر ہے۔ ایران عراق جنگ کے بعد BAM مختلف گروپوں میں منقسم ہو گئی جن میں سے ایک کا نام جنداللہ تنظیم ہے۔ جنداللہ کی بنیاد عراق تھی جبکہ پناہ گاہیں ایران بلوچستان میں ہیں۔ پاکستان میں جنداللہ نامی کسی تنظیم کا وجود نہ تھا مگر دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح جنداللہ پاکستانی بلوچی تحریک کا نام بھی معرض وجود میں آ گیا ہے۔ جنداللہ تنظیم کے سربراہ عبدالمالک ریگی نے اکتوبر 2008ءمیں العریبیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی تنظیم میں قریباً 2,000 فوجی، سیاسی اور نظریاتی تربیت یافتہ کارکنوں کے علاوہ ہزاروں جان نثار موجود ہیں۔ اس نے کہا کہ ہماری ایرانی حکومت کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ماسوائے کہ وہ ایران کے سُنی شہریوں کے حقوق کو تسلیم کرے۔ ہماری تحریک سُنی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وجود میں آئی ہے۔ ہم بھی ایرانی ہیں جبکہ ایرانی شیعہ حکمران ہمارے ساتھ دوسرے درجہ کے شہریوں کا سلوک روا رکھتے ہیں۔ عبدالمالک ریگی نے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ رابطوں کا انکار کر دیا۔ ایرانی سکیورٹی کے ہائی رینک افراد کی ہلاکتوں کے علاوہ جنداللہ پر افغانستان اور پاکستان کو ایران سے ڈیزل تیل سمگل کرنے کا الزام بھی عائد ہے۔ ایران کے اخبار ”کیہان“ نے اپریل 2005ءمیں بلوچستان اپریشن کے دوران عبدالمالک ریگی کے قتل کی خبر شائع کی تھی جو کہ غلط ثابت ہوئی۔ اس کے بھائی عبدالحمید ریگی نے انکشاف کیا تھاکہ عبدالمالک ریگی امریکی انٹیلی جنس کے لئے کام کرتا ہے۔ اپریل 2007ءمیں امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نے جنداللہ کی ایران میں سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ
The terrorist group “has been secretly encouraged and advised by American officials” to destabilize the government in Iran.
امریکی ٹی وی چینل کے تحقیقاتی نمائندے برائن روز اور کرسٹفر اشام نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ کے خفیہ ادارے ایران کی حکومت گرانے کے لئے کچھ ایرانی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
The United States government had been secretly encouraging and advising the Jundullah in its attacks against Iranian targets.
بُش انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ ایران کی” فارس نیوز ایجنسی“ نے بھی امریکہ کی جنداللہ کی پشت پناہی کے بارے میں خبریں شائع کی تھیں۔2007 میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے امریکہ اور پاکستان پر جنداللہ کی پشت پناہی کے الزامات عائد کئے تھے۔ جولائی 2008ءمیں امریکی صحافی سیمور ہرش نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ
US congressional leaders had secretly agreed to former president George W. Bush’s USD 400 million funding request, which gives the US a free hand in arming and funding terrorist groups such as Jundullah militants.
ایرانی پارلیمنٹ سپیکرعلی لاریجانی نے 2009 میں ایران کی ایک مسجد میں دھماکے کا مورد الزام بھی امریکہ کو ٹھہرایا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ سپیکر نے کہا کہ
Iran had intelligence reports regarding the United States links with certain terrorist groups operating against Iran and accused the United States, of commanding them. He implicated the United States in trying to start a civil war between shia and sunni segments of Iranian society.Iran would want Pakistan to cooperate fully and not become a mere part of the designs against Iran.
جنداللہ کی پشت پناہی کے بارے میں ایران کی پاکستان پر الزام تراشی محض بد گمانی اور مفروضہ ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے دشمن الگ الگ نہیں ہیں۔ دنیا میں کہیں کوئی دھماکہ ہوتاہے ” سب سے پہلے پاکستان“ نظر آتاہے جبکہ پاکستان میں دھماکوں پر بھی پاکستان ہی شرمندہ نظر آتا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کی آگ میں دہک رہا ہے لہٰذا ایرانی حکومت کو پاکستان کے جذبات اور حالات کا خیال رکھنا چاہئے اور ایسی سنگین صورتحال میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ مسلمانوں کے لئے پیغام کربلا کافی ہے کہ اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہو کر یزید کے سامنے ڈٹ جا¶۔ ایران پاکستان کے یزید کو بھی جانتا ہے۔ مسلمانوں میں کبھی شیعہ سُنی کا جھگڑا نہیں رہا بلکہ ہر دور میں یزید نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ ایران کا مخلص اور حمایتی رہا ہے۔ پاکستان کے لوگ ایرانیوں سے پیار کرتے ہیں، ان کے مسلک اور جذبے کا احترام کرتے ہیں۔ ایرانی اور پاکستانی جنداللہ‘ افغانی اور پاکستانی طالبان، پاکستانی اور سعودی القاعدہ ۔۔۔ ان طرح طرح کی عربی، فارسی، بھارتی، امریکی تنظیموں کا مرکز پاکستان کو قرار دیا جا چکا ہے۔ ایک گھنا¶نی سازش کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونک دیا گیا ہے جبکہ ”راہِ نجات“ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔

Categories : Tayyaba Zia, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image