Archive for October 15th, 2009

ایک دورہ اور سہی by Khalid Ahmad

15 October, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
کیری۔ لوگر بل پر تمام اداروں کے تحفظات پر مبنی اتفاق رائے کی تفصیل جناب شاہ محمود قریشی کی زبانی، اہل پاکستان کی زبان دانی کی ’رام کہانی‘ کے طور پر ریاست ہائے متحدہ کے اعلی ترین حلقوں تک پہنچی تو وہ ہماری انگریزی اچھی نہ ہونے پر ہاتھ مل کر رہ گئے اور انتہائی دکھ بھرے لہجے میں اپنا پیغام انتہائی سلیس زبان میں بیان کرنے کے کام سے لگ گئے! کان رکھنے والوں کے مطابق جناب کیری اس گوش گزاری کے دوران جناب قریشی کو ایک حد تک یہ باور کرانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں کہ اس ’بل‘ میں پاکستان کے خلاف کچھ بھی نہیں چھپا بیٹھا اور ہم اپنی تسلی کی خاطر اس ’سوراخ‘ میں اچھی طرح ’جھانک‘ حتی کہ اس میں بلاخوف وخطر انگلی ڈال کر بھی دیکھ سکتے ہیں!
جناب لیسٹر رولوف…. LESTER ROLOF نے ایک بار کہا تھا: AMERICA IS AN INSANE ASYLUM, RUN BY INMATES! یعنی ’امریکہ ذہنی توازن کھو بیٹھنے والوں کی پناہ گاہ ہے جس کا انتظام ان جیسے ہی لوگوں نے سنبھال رکھا ہے!‘ سلیس اردو میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک پاگل خانہ ہے جسے پاگل چلا رہے ہیں! لیکن زیادہ سچی بات ہے کہ یہ بات اب پوری دنیا پر صادق آ چکی ہے! ’پاگل پاگل دنیا‘ اور ہم اس ’دنیا‘ سے الگ نہیں! اگر کسی ملک کے ’جنرل ہیڈ کوارٹر‘ پر حملے کی خبر آئے تو ہم اس خبر سے کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟ اور اگر دنیا یہ خبر سن کر چوکنی ہو گئی تو اس میں ان کا کیا قصور تھا؟ ہمارے درمیان ہوش وحواس سے بے گانہ افراد کی تعداد بڑھتی نہیں چلی جا رہی؟ مگر اس سوال کا جواب ذہنی طور پر پسماندہ افراد سے طلب کرکے کہیں ہم اپنی ذہنی پسماندگی کا اعلان تو نہیں کر رہے!
کل تک ایک محترم خاتون ’عدلیہ‘ پر برس رہی تھیں! آج وہ ’عدلیہ کے استحکام‘ اور ’عدلیہ کی آزادی‘ کے گیت گا رہی ہیں! کل تک ’میثاق جمہوریت‘ کا نام لینا دم پر پاﺅں رکھ دینے کے برابر تھا! آج ’میثاق جمہوریت‘ ایک ’مقدس دستاویز‘ قرار دی جا رہی ہے! کل تک ’نواز شریف کون ہے؟‘ پوچھنے والے آج نون لیگ سے رابطے بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔
اگر ہم پہلے دن ”ججوں کی رہائی‘ کے اعلان کے ساتھ ساتھ ’ججوں کی بحالی‘ کا اعلان بھی کر دیتے تو ملک آج کہاں کھڑا ہوتا؟ اگر ہم پہلے بجٹ میں سب سے پہلے آئی پی پیز کے واجبات ادا کر دیتے تو آج ملک کہاں پہنچ چکا ہوتا! یہ تو کل کی بات تھی، آج صرف ’خدمات عامہ‘ کے ذریعے حاصل ہونے والے ’جنرل سیلز ٹیکس‘ صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے! آج گیس ڈویلپمنٹ کی فکر کی جا رہی ہے! کل تک گیس فیلڈ بیچنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا تھا! کیسی غیر ملکی سرمایہ کاری؟ اور کہاں کی غیر ملکی سرمایہ کاری؟ جس ملک کے سرمایہ کار اپنا سرمایہ اپنے ملک میں محفوظ نہیں سمجھتے اس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کار کیا کرنے آئیں گے؟ اور آئیں گے تو ان پر اپنا تمام منافع ساتھ لے جانے کی اجازت سایہ فگن ہو تو ان میں اس ملک کے مستقبل سے جڑ جانے کی خواہش کب بیدار ہونے دے گی؟
ہم جب تک غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنا 60 فیصد منافع ملک کے اندر دوبارہ لگانے کا پابند نہیں بنائیں گے یہ ملک ترقی کی راہ پر الٹے قدموں ہی سفر کرتا رہے گا! ’بین الاقوامی بنک‘ اپنے گاہکوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ اب سب لوگ کر چکے ہیں!
’آئی پی پیز‘ کا تصور کیا تھا؟ ہر صنعتی ادارے پر لازم کیا جا رہا تھا کہ وہ اپنا بجلی گھر خود لگائے اور اسے چوبیس گھنٹے چلا کر فالتو بجلی واپڈا کے ہاتھ فروخت کر دے! اس وقت یہ رقم ایک روپیہ 87 پیسہ فی یونٹ ہونا تھی! اور بہت سے صنعتی اداروں نے 5 سے 10 میگا واٹ تک بجلی واپڈا کے ہاتھ فروخت کرنا بھی شروع کر دی تھی مگر ہوا کیا؟ یہ ہم سب کے سامنے ہے!
کیری۔ لوگر بل جتنی بھی اچھی نیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہو! پاکستان کے ’ٹھوس سیاسی حالات‘ اور ’ٹھوس زمینی حقائق‘ کے پس منظر میں اگر ہم اس پر شکوک وشبہات کا اظہار کر رہے ہیں تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہمیں اپنے اوپر اعتماد نہیں اور یہ اعتماد اور یہ اعتبار گنوانے میں سب سے بڑا حصہ جناب یحییٰ خان، جناب ضیاالحق اور جناب پرویز مشرف کا ہے! ہم آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ جناب جہانگیر کرامت کی ریٹائرمنٹ اور جناب پرویز مشرف کی تعیناتی کی خبر نشر کرنا تو سٹیٹ ٹیلی ویژن اور تمام خبر رساں اداروں کا فرض تھا مگر جناب پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کی خبر عام کرنا ایک ’جرم‘ تھا! اس سلسلے میں کن کن لوگوں پر کیا کیا ستم ڈھائے گئے ان کا ذکر کئے بغیر ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر جناب پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کا انداز درست نہیں تھا تو جناب افتخار محمد چودھری کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کا انداز کار کس طرح مناسب تھا؟
اگر کیری۔ لوگر بل کسی ترمیم سے گزرنے کے عمل میں آ جاتا ہے تو جناب شوکت ترین ہم پر اور کیا کیا ستم ڈھانے کیلئے نہ ’آزاد‘ ہو جائیں گے؟ کیا صدر مملکت اس دوران امریکہ میں پہلے سے منظور شدہ ’رقم‘ کی ادائیگی کی راہ میں موجود ’تکنیکی رکاوٹ‘ دور کرنے کے لئے امریکہ کا ایک اور دورہ نہیں کر سکتے!
ایک دورہ ہماری فرمائش پر سہی!
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists Tags : , , , , , ,

بارہ اکتوبر1999ء …. بارہ اکتوبر 2009ئ by Dr Ajmal Niazi

15 October, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
12اکتوبر1999ء کا یوم سیاہ اور 27دسمبر2007ء کو شہید بے نظیر بھٹو کی برسی ایک جیسی تقریب ہو کے رہ گئی ہے۔ برسی پر تو میں دسمبر میں بات کروں گا۔ اس بار12اکتوبر1999ء کے یوم سیاہ کو یوم دفاع جمہوریت کے طور پر منایا گیا۔ نواز شریف13اکتوبر کو بیرون ملک کے ایک ماہ کے دورے کے بعد پاکستان تشریف لائے۔ ایک ماہ کی مدت کی سیاسی سیاحت کو دورہ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے بھی صدر زرداری کی طرح عید باہر منائی۔ سعودی عرب میں ایک دن پہلے عید کر کے وہ وطن واپس آ سکتے تھے۔ اسی طرح وہ 13اکتوبر کی بجائے 12اکتوبر کو واپس آ سکتے تھے۔ انہوں نے ائرپورٹ پر بھی میڈیا کو ملنے سے گریز کیا اور دوسرے دن ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی اچانک بغیر وجہ بتائے ملتوی کر دیا۔ چلیں یہ تو ہوا کہ 12اکتوبر کو یوم دفاع پاکستان منایا گیا۔ اس کےلئے بھی کئی مقامات تبدیل کئے گئے۔ وہاں بھی میڈیا کے ساتھ جھڑپ کے بعد اجلاس شروع ہوا جبکہ اس میں قصور میڈیا کے کچھ آمرانہ مزاج کے لوگوں کا بھی ہے جمہوریت کے ایوانوں میں آمریت در آئے گی تو پھر یہ تو ہو گا۔ کشیدگی ہر کہیں سرکشیدہ لوگوں کی وجہ سے بڑھتی ہے۔ اجلاس زیادہ مسلم لیگ ن کے لیڈرز کے لئے نعرے بازی میں گزر گیا۔ کچھ نعرے بازی سیاسی اور سرکاری خاندانوں کے لڑکوں کے لئے بھی تھی۔ موروثی سیاست کا زور پیپلزپارٹی میں بھی ہے بھٹو کا داماد صدر ہو سکتا ہے تو نواز شریف کا داماد کیپٹن صفدر بھی حکومت میں آ سکتا ہے۔ صدر زرداری آجکل آصفہ زرداری بھٹو کو آگے لا رہے ہیں۔ نجانے بختاور بی بی کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟ کس جمہوریت کا دفاع ہو رہا ہے؟ پہلے جمہوریت لاﺅ پھر دفاع کرو جو لوگ اپنے لئے نعرے مروا رہے تھے وہ مشرف کے آمرانہ دور میں کہیں نظر نہ آئے تھے۔ سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں ہے مگر وہ باہر جمہوریت لانے اور پھر اسے بچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میرے خیال میں یوم دفاع جمہوریت منانا بہت ضروری اور اہم ہے۔ ہم نے تو مشرف کے 9برس میں ہر روز یوم دفاع جمہوریت منایا ہے۔ آج بھی جو جمہوریت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے جلاوطنی کی راحتیں پائیں مگر ہم نے ہموطنی کی اذیتیں برداشت کیں۔ جمہوری دور میں بھی ہمارے نصیب میں اپوزیشن کا کالم نگار ہونا لکھا ہے تو وہ بھی ہمیں قبول ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ کبھی مارشل لا نہ آئے۔ جنرل کیانی نے بغیر آئین توڑے اور حکومت پر قبضہ کئے آئینی کردار ادا کیا ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی میں ان کی کوششوں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کے اس اقدام سے جنرل مرزا اسلم بیگ یاد آ گئے ہیں جنہیں تمغہ¿ جمہوریت عطا کیا گیا مگر جنرل کیانی کے خلاف کیری لوگر بل میں شرائط لائی گئی ہیں۔ جنرل مشرف کے خلاف تو امریکہ کو جرات نہ ہوئی تھی جب جمہوری دور آتا ہے تو امریکہ فوج اور سیاست میں تصادم کےلئے کیوں سازشیں کرتا ہے ان سازشوں میں پاکستانی جمہوری حکمران بھی شامل ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کےلئے تو کچھ نہیں کرتے فوج کو کمزور کرنے کےلئے امریکی سہارا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ نجانے یہ لوگ جرنیلوں سے کیوں ڈرتے ہیں جبکہ سیاستدان چاہیں تو کوئی جرنیل کبھی حکومت میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور کبھی ایک دن حکومت نہیں کر سکتے۔ میں سیاستدانوں کی حمایت میں یہ بات کر رہا ہوں کہ وہ ایسا کردار ادا کریں کہ ان کی حکومت بچانے کےلئے لوگ سڑکوں پر آ جائیں اور سارے سیاستدان اکٹھے ہو جائیں۔ اس موقع پر تو اکٹھے ہو جائیں ان کے جانے پر لوگ مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور سیاستدان جرنیلوں کے ذاتی ملازم بن جاتے ہیں۔
12اکتوبر 2009ء ہرصورت میں 12اکتوبر 1999ء سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے۔ بھٹو اور نواز شریف نے ایک جونیئر جرنیل کو آرمی چیف بنایا اور دونوں نے ان کے خلاف مارشل لا لگایا۔ جنرل ضیا نے جس طرح اپنے وزیراعظم جونیجو صاحب کو چین کے دورے کے دوران برطرف کیا نواز شریف نے اپنے آرمی چیف کو سری لنکا کے دورے کے دوران برطرف کیا۔ یہ کام اچھے طریقے سے ہو سکتا تھا۔ جنرل مشرف تو اس وقت فضاﺅں میں اسیر تھے۔ جب نواز شریف کو حراست میں لے لیا گیا۔ ایک منتخب وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک ہم سب کےلئے شرمناک ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے اچھی ہے اس کے بعد اسے مزید محتاج بھی سیاستدان بناتے ہیں۔ اس طرح حکومتیں تو نہیں چلتیں۔ صحت مند مضبوط غیرت مند اور بے غرض طرز حکومت ہی ساز گار ہے۔ بے چارے پاکستانی عوام کےلئے آمریت کسی کام آئی نہ جمہوریت کچھ کام آئی۔ ہم آمریت اور جمہوریت دونوں سے ناآشنا ہیں۔ آمرانہ جمہوریت اور جمہوری آمریت دونوں آئین کو اپنی حمایت میں لے آتے ہیں۔ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ ادارے کے طور پر فوج کو اپنا ماتحت بنانے والوں کو اسے معزز اور معاون بنانا چاہئے۔ عدالت بھی ایک ادارہ ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اقدام پر پورا عدالتی ادارہ متحد ہوا تو جنرل مشرف کو کوئی نہ بچا سکا۔ آج بھی وہی اقدام ہو رہے ہیں جو پہلے ہوتے تھے لہذا 12اکتوبر ایک علامت بن چکا ہے تو کوئی نشانی سیاستدان بھی قائم کریںنہ چینی نہ آٹا نہ بجلی نہ امن و امان۔ دہشت گردی بڑھ گئی۔ ہم امریکہ کے زیادہ غلام ہو گئے۔ جمہوریت کے ساتھ جو کچھ سیاستدان کر رہے ہیں کسی نے نہ کیا ہو گا۔ مارشل لا لگانے والا جرنیل بھی سیاستدان بن جاتا ہے۔ سیاستدان اخبارات میں جرنیل بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی ہے۔ اب صدر کے پاس وہی اختیارات ہیں جو جنرل مشرف کے پاس تھے تو فرق کیا ہے؟ جمہوریت کیا ہے اور آمریت کیا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ملک میں کچھ لوگ یوم دفاع آمریت منائیں۔ پنجاب اسمبلی میں 12اکتوبر کے خلاف قرارداد 12اکتوبر کو پاس نہ ہو سکی جبکہ حکومت بھی ان کی ہے۔ محترمہ سیمل کامران کی نشاندہی پر کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی ہوا۔یہی سرکاری ممبران اسمبلی شریف برادران کی کورنش بجا لانے میں آگے ہی آگے حاضر رہتے ہیں۔ 13اکتوبر کو 12اکتوبر کے خلاف بمشکل قرارداد پاس ہوئی ہے!
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : , , , , , , , ,