Archive for October 13th, 2009
Berf Ki Dukaney by Javaid Choudry
13 October, 2009
(2) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Javaid Choudry, Urdu Columnists
GHQ Per Hemla! by Asad ullah Ghalib
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Asad ullah Ghalib, Urdu Columnists
Ye Kahani Kal Sehi by Haroon ur Rashed
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Haroon ur Rashed, Urdu Columnists
اتنی رسوائی کے بعد کچھ تو کرو by Dr Ajmal Niazi
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا تو صدر بش نے اسے امریکہ پر حملہ قرار دیا اور پھر ساری دنیا کو خطرے کا خوف دلا کر عالم اسلام اور پاکستان کو تباہ کر دیا۔ ممبئی ہوٹل پر حملے کے بعد بھارتی حکمرانوں اور میڈیا نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا اور ناکام کرنے کیلئے بے قرار ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے فوجی مرکز جی ایچ کیو پر حملے کے بعد صدر زرداری کیا کرتے ہیں؟ وہ نہیں کرتے تو جنرل کیانی کیا کرتے ہیں؟ یہ پاکستان پر حملہ ہے۔ شرم اور غصے سے ہمارا خون ابل رہا ہے۔ اس میں اپنے بھی شامل ہیں اور کچھ اپنے بھارت اور امریکہ کی غلامی اور سلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ کیا بات ہے کہ حکومت پاکستان اور کسی حکمران نے اس واقعہ پر اتنی گرمجوشی نہیں دکھائی جتنی وہ معمولی سے معمولی دہشت گردانہ واقعہ پر دکھاتے ہیں۔ اور اس واقعے کی کڑیاں وزیرستان کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیتے ہیں پچھلے کالم میں بتایا گیا تھا کہ ایک وزیرستان اسلام آباد میں بھی ہے اور وہ وزیروں کا علاقہ ہے۔ یہ وزیر صدر زرداری کے ہیں۔ وزیراعظم بھی انہی کا ہے۔ کیا اس شکست کا ردعمل صرف یہ ہے کہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ وزیرستان میں کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔ جی ایچ کیو کے خلاف شرمناک کارروائی کے فوری بعد اس بیان کی کیا ضرورت تھی؟ وہ لوگ کہاں ہیں جو کہتے تھے کہ طالبان اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور رہ گئے ہیں اب یہ بھی کہیں کہ ایوان صدر‘ وزیراعظم ہائوس‘ سپریم کورٹ‘ پارلیمنٹ اور اسلام آباد کا وزیرستان اب جی ایچ کیو سے کتنے دور ہیں۔ جی ایچ کیو پر حملہ باوردی لوگوں نے کیا ہے۔ وردی کا یہ استعمال توہین ہے۔ کیا اس توہین کو آرمی کمانڈرز نے محسوس کیا ہے۔ ایوان صدر کی حفاظت پر فوجی مامور ہیں۔ سوات مالاکنڈ کے کامیاب آپریشن اور کیری لوگر بل کے ناکام آپریشن کے بعد جی ایچ کیو پر حملہ ہوا ہے۔ فوج کی نیک نامی پر کالک کون مل رہا ہے؟ سوات امن معاہدے کی طرح وزیرستان امن معاہدہ بھی ہونا چاہئے تھا۔ اس سے پہلے ایسے ہی ایک معاہدے کے بعد نیک محمد قتل ہوا تھا۔ بیت اللہ محسود کے قتل سے پہلے کیا کچھ ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے پوچھیں۔ امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے بیت اللہ محسود کے قتل کا کریڈٹ پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرف سے بے چارے رحمن ملک کو لینا پڑا ہے یعنی صرف بیان دینا پڑا ہے۔لینا دینا ہماری حکومتوں کی مجبوری ہے۔ بیت اللہ محسود کو قتل کرنے کی کئی بار پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے نشاندہی کی مگر امریکہ انٹی پاکستان یعنی پرو امریکہ بھارت لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا۔ وہ تو انہیں پالتا پوستا رہتا ہے۔ امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ پاک فوج اور آئی ایس آئی وغیرہ کی مدد کے بغیر اس خطے میں کچھ نہیں کر سکتا مگر وہ پاکستان کو کمزور بھی کرنا چاہتا ہے خود امداد دیتا ہے تو شرطیں لگاتا ہے اور امداد لیتے ہوئے غیر مشروط کی پابندی لگاتا ہے۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ بھارت اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا مگر پاکستان کے سینے پر مونگ دلنے کیلئے کارروائیاں کرتا رہتا ہے۔ امریکیوں اور ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہے کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے دلوں میں یہ احساس جاگزیں کیا جاتا ہے کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور بھارت بھی یہی سمجھتا ہے کہ پاکستان ہمارا دشمن ہے‘ کبھی بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا اظہار نہیں کیا مگر ہمارے حکمرانوں کو پاک بھارت دوستی کا بخار چڑھا رہتا ہے۔ یہ ’’ حرارت‘‘ فرینڈلی اپوزیشن کے بڑے سیاستدانوں میں بھی ہے۔
یہ نہیں کہ پاک فوج وزیرستان میں آپریشن نہیں کرنا چاہتی وہ ان نام نہاد طالبان کے خلاف ایکشن کرنا چاہتی ہے جو انٹی پاکستان ہیں جو پورے ملک میں دہشت گردی کی آگ سلگائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا آخری نشانہ جی ایچ کیو تھا۔ جو ہماری رسوائی جگ ہنسائی اور گہری ڈپریشن کا باعث بنا ہے۔ پاک فوج کو سلام کہنے والوں کو کیا پیغام ملا ہے۔ یہ طالبان روس کی طرح امریکہ کو بھی یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکہ بھارت ان طالبان کے خلاف ایکشن کرانا چاہتے ہیں جو ’’پرو پاکستان‘‘ ہیں۔ جو امریکہ بھارت اور ان کی کٹھ پتلی افغان حکومت کے ایجنٹ ہیں‘ ان کا اسلحہ اور کرنسی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اسی طرح کا آپریشن کرے جو سوات مالاکنڈ میں کیا گیا ہے جس سے امریکہ بھارت اسرائیل اور افغان حکومت پریشان ہوئے ہیں۔ اس گوریلا جنگ میں جو کامیابی پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ افغانستان میں طالبان کے مقابلے میں ہار چکا ہے۔ اب چاہتا ہے کہ پاکستان بھی ہار جائے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم آئی ایس آئی کے مداح ہو۔ تو پھر کیسے جی ایچ کیو پر حملہ ہو گیا۔ آئی ایس آئی اور خفیہ ایجنسیاں کہاں تھیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔ یہ تو ہمارے لئے داغ ہزیمت ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کا دکھ تازہ ہو گیا۔ جی ایچ کیو پر حملہ امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگان سے بڑا حملہ ہے۔ پاک فوج نے تو دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اب ڈاکٹر عثمان آئی ایس آئی کے قابو آیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح کامیاب ہوتی ہے۔ اس میں امریکہ اور بھارت بھی شامل ہیں۔ جرات اور مہارت کے ساتھ تفتیش کرو۔ سب کچھ سامنے لائو دشمنوں کو کبھی معاف نہ کرو۔ جو اپنے اس غداری میں شامل ہیں۔ انہیں بھی بے نقاب کرو۔ ہمارا شہید بریگیڈیئر اور کرنل گیٹ پر تو نہیں کھڑے تھے اور اتنے بہت بندے کس طرح یرغمال بنے۔ امریکی کہہ رہے ہیں کہ ان میں پاک فوج کے اپنے بندے بھی تھے۔ وہ کون ہیں؟ پتہ کرو اور جلدی کرو ورنہ پاک فوج کے دیوانے لوگ پاگل ہو جائیں گے اس سے زیادہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔
امریکہ نے بیت اللہ محسود کو مارا کہ ان کے پاس ان سے زیادہ ظالم اور انٹی پاکستان حکیم اللہ محسود ہے۔ اب جو کارروائیاں ہو رہی ہیں تو کیا یہ امریکی بھارتی منصوبہ بندی کی کامیابی نہیں؟ اسے ناکام کرنا پاک فوج کا کام ہے۔ ورنہ؟ اس کے بعد میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی سنئے۔ ’’پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں‘‘ یہ طنز ہے وہ تو کہتے تھے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے والے ہیں۔ اس بات کے پیچھے کیا سازش ہے۔ جی ایچ کیو پر حملے سے امریکہ اور بھارت نے کیا پیغام دیا ہے؟ یہ کوئی کمپرومائز امریکہ اور بھارت سے نہ کریں۔
یہ نہیں کہ پاک فوج وزیرستان میں آپریشن نہیں کرنا چاہتی وہ ان نام نہاد طالبان کے خلاف ایکشن کرنا چاہتی ہے جو انٹی پاکستان ہیں جو پورے ملک میں دہشت گردی کی آگ سلگائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا آخری نشانہ جی ایچ کیو تھا۔ جو ہماری رسوائی جگ ہنسائی اور گہری ڈپریشن کا باعث بنا ہے۔ پاک فوج کو سلام کہنے والوں کو کیا پیغام ملا ہے۔ یہ طالبان روس کی طرح امریکہ کو بھی یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکہ بھارت ان طالبان کے خلاف ایکشن کرانا چاہتے ہیں جو ’’پرو پاکستان‘‘ ہیں۔ جو امریکہ بھارت اور ان کی کٹھ پتلی افغان حکومت کے ایجنٹ ہیں‘ ان کا اسلحہ اور کرنسی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اسی طرح کا آپریشن کرے جو سوات مالاکنڈ میں کیا گیا ہے جس سے امریکہ بھارت اسرائیل اور افغان حکومت پریشان ہوئے ہیں۔ اس گوریلا جنگ میں جو کامیابی پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ افغانستان میں طالبان کے مقابلے میں ہار چکا ہے۔ اب چاہتا ہے کہ پاکستان بھی ہار جائے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم آئی ایس آئی کے مداح ہو۔ تو پھر کیسے جی ایچ کیو پر حملہ ہو گیا۔ آئی ایس آئی اور خفیہ ایجنسیاں کہاں تھیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔ یہ تو ہمارے لئے داغ ہزیمت ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کا دکھ تازہ ہو گیا۔ جی ایچ کیو پر حملہ امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگان سے بڑا حملہ ہے۔ پاک فوج نے تو دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اب ڈاکٹر عثمان آئی ایس آئی کے قابو آیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح کامیاب ہوتی ہے۔ اس میں امریکہ اور بھارت بھی شامل ہیں۔ جرات اور مہارت کے ساتھ تفتیش کرو۔ سب کچھ سامنے لائو دشمنوں کو کبھی معاف نہ کرو۔ جو اپنے اس غداری میں شامل ہیں۔ انہیں بھی بے نقاب کرو۔ ہمارا شہید بریگیڈیئر اور کرنل گیٹ پر تو نہیں کھڑے تھے اور اتنے بہت بندے کس طرح یرغمال بنے۔ امریکی کہہ رہے ہیں کہ ان میں پاک فوج کے اپنے بندے بھی تھے۔ وہ کون ہیں؟ پتہ کرو اور جلدی کرو ورنہ پاک فوج کے دیوانے لوگ پاگل ہو جائیں گے اس سے زیادہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔
امریکہ نے بیت اللہ محسود کو مارا کہ ان کے پاس ان سے زیادہ ظالم اور انٹی پاکستان حکیم اللہ محسود ہے۔ اب جو کارروائیاں ہو رہی ہیں تو کیا یہ امریکی بھارتی منصوبہ بندی کی کامیابی نہیں؟ اسے ناکام کرنا پاک فوج کا کام ہے۔ ورنہ؟ اس کے بعد میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی سنئے۔ ’’پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں‘‘ یہ طنز ہے وہ تو کہتے تھے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے والے ہیں۔ اس بات کے پیچھے کیا سازش ہے۔ جی ایچ کیو پر حملے سے امریکہ اور بھارت نے کیا پیغام دیا ہے؟ یہ کوئی کمپرومائز امریکہ اور بھارت سے نہ کریں۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists
Rehem Aata Hai?? by Dr Safdar Mehmood
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Dr Safdar Mehmood, Urdu Columnists
نااُمیدی ان کی by Rafeeq Dogar
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
منحصر امریکی سفیر پہ ہو جن کی اُمید‘ نااُمیدی ان کی دیکھا چاہئے!… اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ان کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف جنرل کیانی نے روز رفتہ کیری لوگر بل کے پیدا کردہ بحران پر نہایت گہرائی میں اتر کر غور فرمایا تھا ان کی مجلس غور و فکر میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔ ملک کی عسکری قیادت نے صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ملک کے سیکورٹی اداروں کی بل کے بارے میں تشویش سے بھی آگاہ کیا تھا۔ اس بریفنگ اور ملک کے سیاسی اور سول حلقوں کی تشویش پر اس سہ فریقی غور و فکر کے بعد اتفاق کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ میں بل کے بارے میں اتفاق پیدا کیا جائے اور اس اتفاق کو صدر اوباما کو پیش کر کے متنازعہ شقیں بل سے خارج کرنے کی درخواست کی جائے پارلیمنٹ بل کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرے گی پاکستان میں امریکہ کی سفیر پیٹرسن ان تحفظات سے اپنے صدر کو آگاہ کریں گی۔ ان کے صدر اپنی سفیر کے فراہم کردہ ہماری پارلیمنٹ کے تحفظات پر غور فرمائیں گے اور جو چاہیں گے فیصلہ فرمائیں گے گویا ہمارے سترہ کروڑ عوام کی اور ہماری مسلح افواج کے چیف کمانڈر کی اور ان کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کی اور مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کی سب کی اُمیدوں کے پورا ہونے کا دار و مدار امریکہ کی سفیر کی کوششوں کی کامیابی پر ہے۔ ہم عوام تو خیر جو ہیں ہمیں معلوم ہے لیکن ہمارے تین چیف اور ان کا اتفاق اور اُمیدیں ساری کی ساری امریکہ کی سفیر کی کوششوں سے وابستہ ہوں؟ یہ بھی سنا اور پڑھا ہے کہ صدر مکرم نے اس اتفاق سے امریکہ کی سفیر کو آگاہ بھی فرما دیا ہے اور ان سے مدد کی اپیل کی ہے ان کی اپیل پر پھر سے غور و فکر کے لئے وہ بے چاری اپنے صدر تک ہمارے صدر کی اپیل پہنچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے وزیر خارجہ جو کیری لوگر بل کی برکات سے قوم اور اس کے ارکان کو مزید آگاہ کرنے کے لئے خاص طور پر امریکہ سے پاکستان بلوائے گئے تھے پھر سے امریکہ جا رہے ہیں کیری کو ہمارے تینوں چیفوں کے متفقہ تحفظات سے آگاہ کرنے کے لئے جس روز کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد ملک کی مسلح افواج کی طرف سے اس بل کے بارے میں تحفظات کا اعلان کیا گیا تھا اس سے ایک ہی دن پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فرمایا تھا کہ ’’کیری لوگر بل حکومت کی فتح ہے اس بل کو پڑھے بغیر اس پر تنقید کی جا رہی ہے حکومتی ارکان اس کا مطالعہ کریں‘‘ اس سہ چیفی اجلاس میں مسلح افواج کی طرف سے اپنے چیف کمانڈر اور ان کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو کو جو بریفنگ دی تھی وہ تو انہوں نے اس بل کو اچھی طرح پڑھ کر اس کی ایک ایک شق کے بارے میں سوچ کر اپنے تحفظات اور ان شقوں سے ملکی مفادات کے لئے خطرات کی وضاحت کی تھی اور صدر آصف علی زرداری اور ان کی جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو نے ان خطرات اور تحفظات سے اتفاق کر لیا تھا تو کیا یہ سوچا بھی جا سکتا ہے کہ سترہ کروڑ اہل پاکستان کے ووٹوں سے منتخب ارکان پارلیمنٹ کے متفقہ وزیراعظم اس بل کو پڑھے بغیر ہی اسے اپنے صدر کی حکومت کی کامیابی قرار دیتے رہے تھے؟ اتنے اہم عہدے پر فائز ایک سید نے اگر خود بل پڑھ کر بیان دیا تھا کہ اس پر تنقید کرنے والوں نے اسے پڑھا ہی نہیں تو پھر انہوں نے مسلح افواج کی طرف سے اس بریفنگ کے بعد ان تحفظات سے اتفاق کیوں کر لیا تھا؟ اور اگر اسے پڑھے بغیر ہی سید صاحب نے اسے اپنی حکومت کی فتح قرار دیدیا تھا تو کیوں؟ اس جمہوریت کا چیف ایگزیکٹو جس کے تحفظ کے لئے شریفین سے لے کر ہلیری‘ ملی بھگت بینڈ تک سب کمر تک بستہ ہیں اتنے اہم بل کو پڑھے بغیر ہی اسے اپنی حکومت کی فتح قرار دیدے؟ جبکہ اس کی تیاری کے مراحل میں ان کے مالک نے ان سے کوئی چیفانہ مشورہ بھی نہ لیا ہو۔ نہ ان کے سفیر نے اور نہ ہی وزیر خارجہ نے پوچھا ہو کہ ’’گیلانی کیستی؟ …… کیا بنے گا اس جمہوریت کا جس کے چیف ایگزیکٹو کے ارکان اسمبلی کو حکم کی بے بنیادی ان کے صدر بھی اور وہ خود بھی مان لیں؟ اللہ اس جمہوریت کو اس کے مالکوں سے محفوظ رکھے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اور اس کی مسلح افواج کے چیف کمانڈر بھی تو اس بل کو اپنی فتح قرار دیتے رہے تھے وہ تو اس بل کی تیاری کے ہر قسم کے مشوروں میں بذات خود شریک رہے تھے۔ انہوں نے اس کی خامیوں اور ملکی مفادات کے منافی شقوں کے حوالے سے اپنے زیر کمان مسلح افواج کے ماہرین کے تحفظات سے کیسے اتفاق کر لیا؟ اپنی فتح کو اپنی ناکامی کیوں مان لیا؟ کیا انہیں بھی بل بنانے بنوانے والوں نے دھوکے میں رکھا تھا؟ انہوں نے بھی اسے پڑھے بغیر ہی اپنی فتح قرار دینا شروع کر دیا تھا؟ ان کے ترجمان اور وزیر شذیر بھی اس بل کو پڑھے بغیر ہی قوم کو اس کے فضائل سے آگاہ فرماتے رہے تھے؟ اگر نہیں تو پھر اتفاق کی درخواست کیوں؟ کیا رائے قائم کریں ہم اپنے ملک کے صدر کی حاکمانہ صلاحیتوں کے بارے میں اور ان کے وزراء اور ارکان اسمبلی کے بارے میں؟ یہ سب اوپر سے لیکر نیچے تک ایک ہی جیسے کیوں نہیں؟ اگر آرمی چیف اور ان کے ماہرین نے انہیں کیری لوگر بل کے خطرات سے آگاہ نہ کیا ہوتا تو ان سب نے تو ہم عوام کو مروا ہی دیا تھا ہمارے ملک کی ذلت اور رسوائی کو اپنی فتح قرار دینے والوں نے تو ہمیں کہیں کا بھی نہیں چھوڑا تھا۔ آخر کیوں؟ وہ سب مل کر ہمیں اور ہمارے ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ اور ہاں کیا ان تینوں چیف صاحبان نے امریکی سفیر سے جو اُمیدیں وابستہ کر لی ہیں وہ پوری ہو جائیں گی؟ وہ تو اوباما پر منحصر ہے یا ان کے ہمارے لئے بل اور منصوبہ سازوں کے جذبہ رحم پر۔ ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم سترہ کروڑ عوام ان کے اسمبلیوں کے ارکان ان کے منتخب کئے صدر اور وزیراعظم ہیں کیا چیز۔ بیڑہ غرق ہو۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا انہوں نے ہمیں حوالے کن کے کر دیا ہے؟ جن کی اُمیدیں امریکہ کی خاتون سفیر کی نظر مربیانہ سے بندھی ہوئی ہیں ان کے جن میں سے کوئی ایک بھی ہمارے ملک کے مفاد کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک فوجی ماہرین سمجھانے پر مجبور نہ ہو جائیں!
Categories : Rafeeq Dogar, Urdu Columnists
Dehshet Gerdoon Ki… by Nazir Naji
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Nazir Naji, Urdu Columnists
Kaash Islamabad Mien… by Amaar Choudry
13 October, 2009
(1) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Categories : Amaar Choudry, Urdu Columnists
بہترین توقعات! بدترین خدشات by Khalid Ahmad
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب براک حسین اوباما تک ان کے لئے ’نوبل انعام کے اعلان‘ کی خبر اْن کی بیٹی نے پہنچائی! اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جنابِ آصف علی زرداری نے انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجا تو کس کے کہنے پر ؟ اور اگر نہیں بھیجا تو وہ منگوا لیں گے؟ یا، وہ ہماری ’مبارکباد‘ سے بھی بے نیازانہ گزر جانے کا ارادہ باندھے بیٹھے ہیں! جناب بْراک اوباما نے بہت حیرت آمیز مسّرت، کے ساتھ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے عاجزانہ لب و لہجہ اختیار کیا اور اتنے بلند مرتبہ، ایوارڈ کے لئے ’اپنے انتخاب پر‘۔ اہلیّت کے معیارات بلند تر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اس ’امن انعام‘ کے لائق نہ گردانتے ہوئے گفتگو جاری رکھی مگر ہمارے برقیاتی ذرائع ابلاغ، نے اپنے نشریاتی معیارات بلند تر کرتے ہوئے ان کے ارشادات عالیہ کا گلا گھونٹ دیا۔ تصویر آتی رہی آواز غائب ہوگئی اور ان کی پہلی کہی ہوئی باتیں اردو میں دوہرائی جاتی رہیں! TICKER چلنا شروع ہوگئے؟ میں اس انعام کے لائق نہیں۔ براک اوباما‘۔ ’ امریکی صدر بْراک اوباما کے لئے نوبیل پیس پرائز‘ کا اعلان‘… بْراک اوباما کے لئے نوبیل انعام کا اعلان، بل کلنٹن کے بعد بْراک اوباما ہی دنیا کے لئے ’آس کی کرن‘ ہیں! وہ عراق اور افغانستان سے افواج کی مرحلہ وار واپسی کے درپے ہیں مگر اسلحہ ساز ادارے اس’حکمت آمیز پسپائی‘ کے خلاف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ القاعدہ کے ’گرم تعاقب‘ کی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے اسے پاکستانی سرحدوں کے اندر تک ’سرگرم‘ کر دیا جائے! مگر پاکستانیوں کے سر ’گرم‘ ہو جانے کا خطرہ ’ پوری بساط لپیٹ لینے کا، بہت بڑا خطرہ بھی بن سکتا ہے! یہی ’بہت بڑا خطرہ، امریکی، برطانوی، سویڈن اور اسرائیلی اسلحہ ساز اداروں کے لئے ’روٹی روزی‘ کا سامان مہیا کر رہا ہے! افغانستان میں امریکی اور اتحادی دستوں کے قیام پر سالانہ 600 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں! ان افواج میں ’6 ہزار کمانڈوز‘ کا اضافہ تو ہو ہی رہا تھا اور انکے ساتھ مزید 34 ہزار فوجیوں کا مطالبہ اخراجات کی حد750 ارب ڈالر سالانہ تک لے جا سکتا ہے!۔
ملاّ حامد کرزئی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں کا قیام ان کی ’اجازت‘ تک محدود ہے اور وہ ’منتخب صدر‘ کی حیثیت سے انہیں وہاں رہنے دینے یا، چلے جانے پر مجبور کر سکتے ہیں کیونکہ حالیہ انتخابات کے دوران جناب خلیل زاد کے دَر آتے ہی ملاّ حامد کرزئی اور ملاّ عمر کے درمیان سرد مہری کی دیوار پگھلنا شروع ہوگئی تھی حتیٰ کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تجویز پر ’افغان انتخابی نتائج‘ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کے ہونٹوں سے پھولوں کی طرح جھڑتے متبسم الفاظ میں تسلیم کر لئے گئے، اور یہ رابطے دوبارہ ’سرد مہری‘ کے ’ڈیپ فریزر‘ میں رکھ دئے گئے! ایک دنیا جانتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں اتنے ہی دن ہے، جتنے دن وہ لوگ ’ان کی موجودگی‘ اپنے ’کارِ پسِ پردہ، اور ’کاروبارِ دنیا کے بازارِ اخفا کی گرم بازاری میں حارج ہوتا نہیں محسوس کرتے، ورنہ ’ہرجانہ‘ وصول کرنے کا تو اْن کے آباؤ و اجداد کے زمانے سے ’حمیّت‘ کا درجہ رکھتا ہے! مقامی برطانوی کمانڈر نے قندھار تک برطانوی چھاؤنیوں کا جال بچھ جانے کے بعد وزیری قبائلیوں کا سالانہ وظیفہ بند کرنے کا فیصلہ کیا تو ’طورخم‘ برطانوی قافلے کے لئے واقعی ’اندھا موڑ‘ بن گیا اور صرف ایک ڈاکٹر برطانوی قافلے کے افسروں اور جوانوں پر گزرنے والے واقعات سنانے کے لئے ’زندہ‘ چھوڑ دیا گیا تھا اور وہ بے چارہ گرتا پڑتا پیدل قندھار پہنچا تھا! جنابِ جارج بش افغانستان میں مقیم برطانوی افواج کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے افغانستان میں جا دھمکنے والے برطانوی وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کا نفسیاتی پس منظرنہ جاننے کے باعث افغانستان میں ’روسیوں‘ کا حال بھی بھلا بیٹھے تھے! لیکن جناب بْراک اوباما ایک وسیع المطالعہ انسان ہونے کے ناتے جانتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسری جنگِ عظیم کے آغاز سے پہلے ایڈولف ہٹلر سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ وہ جن قیمتی وسائل کے حصول کے لئے دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتا ہے اور اب تک جنگی تیاریوں پر جتنی دولت خرچ کر چکا ہے، اگر اْس سے نصف دولت اس کے منصوبے کے مطابق خرچ کرنے کے لئے تیار ہو تو اسے نہ جنگ کی ضرورت پڑے گی نہ اپنے اور دوسرے ملک کے انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا پڑے گی تو ایڈولف ہٹلر نے اس پر پستول تان لیا تھا! کیونکہ اس کا ’منصوبہ‘ ناکام نہ ہو سکتا تھا جبکہ ’ہٹلر‘ اپنے ’منصوبے کی ناکامی کا تصوّر‘ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا! جناب جان ایف کینیڈی، جناب نکسن، جناب بل کلنٹن اور جناب براک اوباما پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے! لیکن نکسن پاکستان ’دولخت‘ ہونے سے نہیں بچا سکے! جیرالڈ فورڈ کے بعد از مرگ جاری ہونے والے ’بیان‘ میں عراق افغان جنگ فوراً بند کرنے اور اسے امریکہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہونے کا ذکر ہونے کے باعث اْن کی سرکاری تدفین جناب صدّام حسین کے ساتھ سفّاک سلوک کے بعد ادا کی گئی! حالانکہ جناب صداّم حسین، جناب پرویز مشرف کی طرح عمر بھر امریکی خواہشات کی غلامی میں کبھی ایران اور کبھی کویت پر لپکتے اور جھپٹتے رہے حتیٰ کہ اْن کی موت پر ایران، کویت اور پوری عرب دنیا دم سادھے رہی! بات کہیں سے شروع ہو کسی نہ کسی منطقی انجام سے ہم کنار ہوئے بغیر ’ختم شد‘ کا سٹائل‘ سامنے نہیں آنے دیتی! ہو سکتا ہے یہ ’نوبیل امن انعام‘ واقعی دنیا کے لئے ’امن کا پیغام‘ بن جائے! ہمیں بہترین توقعات کے ساتھ ساتھ بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار اور دعاگو رہنا چاہئے؎
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اْترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اْگے، وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
ملاّ حامد کرزئی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں کا قیام ان کی ’اجازت‘ تک محدود ہے اور وہ ’منتخب صدر‘ کی حیثیت سے انہیں وہاں رہنے دینے یا، چلے جانے پر مجبور کر سکتے ہیں کیونکہ حالیہ انتخابات کے دوران جناب خلیل زاد کے دَر آتے ہی ملاّ حامد کرزئی اور ملاّ عمر کے درمیان سرد مہری کی دیوار پگھلنا شروع ہوگئی تھی حتیٰ کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تجویز پر ’افغان انتخابی نتائج‘ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کے ہونٹوں سے پھولوں کی طرح جھڑتے متبسم الفاظ میں تسلیم کر لئے گئے، اور یہ رابطے دوبارہ ’سرد مہری‘ کے ’ڈیپ فریزر‘ میں رکھ دئے گئے! ایک دنیا جانتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں اتنے ہی دن ہے، جتنے دن وہ لوگ ’ان کی موجودگی‘ اپنے ’کارِ پسِ پردہ، اور ’کاروبارِ دنیا کے بازارِ اخفا کی گرم بازاری میں حارج ہوتا نہیں محسوس کرتے، ورنہ ’ہرجانہ‘ وصول کرنے کا تو اْن کے آباؤ و اجداد کے زمانے سے ’حمیّت‘ کا درجہ رکھتا ہے! مقامی برطانوی کمانڈر نے قندھار تک برطانوی چھاؤنیوں کا جال بچھ جانے کے بعد وزیری قبائلیوں کا سالانہ وظیفہ بند کرنے کا فیصلہ کیا تو ’طورخم‘ برطانوی قافلے کے لئے واقعی ’اندھا موڑ‘ بن گیا اور صرف ایک ڈاکٹر برطانوی قافلے کے افسروں اور جوانوں پر گزرنے والے واقعات سنانے کے لئے ’زندہ‘ چھوڑ دیا گیا تھا اور وہ بے چارہ گرتا پڑتا پیدل قندھار پہنچا تھا! جنابِ جارج بش افغانستان میں مقیم برطانوی افواج کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے افغانستان میں جا دھمکنے والے برطانوی وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کا نفسیاتی پس منظرنہ جاننے کے باعث افغانستان میں ’روسیوں‘ کا حال بھی بھلا بیٹھے تھے! لیکن جناب بْراک اوباما ایک وسیع المطالعہ انسان ہونے کے ناتے جانتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسری جنگِ عظیم کے آغاز سے پہلے ایڈولف ہٹلر سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ وہ جن قیمتی وسائل کے حصول کے لئے دنیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتا ہے اور اب تک جنگی تیاریوں پر جتنی دولت خرچ کر چکا ہے، اگر اْس سے نصف دولت اس کے منصوبے کے مطابق خرچ کرنے کے لئے تیار ہو تو اسے نہ جنگ کی ضرورت پڑے گی نہ اپنے اور دوسرے ملک کے انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا پڑے گی تو ایڈولف ہٹلر نے اس پر پستول تان لیا تھا! کیونکہ اس کا ’منصوبہ‘ ناکام نہ ہو سکتا تھا جبکہ ’ہٹلر‘ اپنے ’منصوبے کی ناکامی کا تصوّر‘ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا! جناب جان ایف کینیڈی، جناب نکسن، جناب بل کلنٹن اور جناب براک اوباما پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے! لیکن نکسن پاکستان ’دولخت‘ ہونے سے نہیں بچا سکے! جیرالڈ فورڈ کے بعد از مرگ جاری ہونے والے ’بیان‘ میں عراق افغان جنگ فوراً بند کرنے اور اسے امریکہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہونے کا ذکر ہونے کے باعث اْن کی سرکاری تدفین جناب صدّام حسین کے ساتھ سفّاک سلوک کے بعد ادا کی گئی! حالانکہ جناب صداّم حسین، جناب پرویز مشرف کی طرح عمر بھر امریکی خواہشات کی غلامی میں کبھی ایران اور کبھی کویت پر لپکتے اور جھپٹتے رہے حتیٰ کہ اْن کی موت پر ایران، کویت اور پوری عرب دنیا دم سادھے رہی! بات کہیں سے شروع ہو کسی نہ کسی منطقی انجام سے ہم کنار ہوئے بغیر ’ختم شد‘ کا سٹائل‘ سامنے نہیں آنے دیتی! ہو سکتا ہے یہ ’نوبیل امن انعام‘ واقعی دنیا کے لئے ’امن کا پیغام‘ بن جائے! ہمیں بہترین توقعات کے ساتھ ساتھ بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار اور دعاگو رہنا چاہئے؎
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اْترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اْگے، وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
Categories : Khalid Ahmad, Urdu Columnists
Chooti Chooti… by Hassan Nisar
13 October, 2009
(0) Comment |
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Categories : Hassan Nisar, Urdu Columnists



