Archive for July 31st, 2009
Dil Key Khusrey (Part 2) by Javaid Choudry
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Nip the evil in the Bud by Haroon ur Rashed
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Wazir-e-Azam ka Khawab by Abdulla Tariq Sohail
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Aslah Berdaroon Ko… by Kishwer Naheed
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Justice Mushtaq Ka… by Nazir Naji
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Siah Raj Hens (last Part) by Mubashir Lucman
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Nawab Bugti Key… by Irshad Ahmed Haqani
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

80 Hezaar Sey Islamic… by Hassan Nisar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

بدمعاشوں کی حکومت اور شریف لوگ by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر بہت اچھے پولیس افسر ہیں۔ اس سے زیادہ انسان ہیں۔ ہمارا ذاتی کام اُس کے ساتھ نہیں پڑا۔ خدا ایسا موقع نہ لائے۔ کسی پولیس افسر کی طرف سے عام آدمیوں کی اتنی عزت افزائی دیکھ کے میں پریشان ہو گیا تھا مگر وہ بھی شریف لوگوں کے لئے اب تک کچھ خاص نہیں کر سکے‘ نجانے ان کی کیا مجبوری ہے مگر وہ مجبور لوگوں کے لئے جو کر رہے ہیں شاید کوئی اور پولیس افسر ایسا نہیں کر سکے گا۔ مجھے یقین ہے کہ سیاسی مداخلت نہ ہو تو وہ کوئی کارنامہ کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے ان پر اعتماد کیا ہے تو ان کو پوری طرح آزاد بھی کریں۔ ڈوگر صاحب اتنا تو کریں کہ ’’پولیس گردی‘‘ کم کرا دیں۔ وہ اپنی پولیس کے دل سے انتقامی جذبہ نکال لیں۔ حکمران‘ افسران اور پولیس افسران منتظم کم‘ منتقم زیادہ ہیں۔ پولیس ملازمین تو پولیس افسران کے غلام ہیں۔
طلبہ اور اساتذہ پر پولیس کا حیوانی تشدد دیکھ کر
مجھے نیند نہیں آئی۔ سڑک پر لٹا لٹا کے انہیں مارا گیا۔ وکیلوں کی طرف سے پولیس کے تھانیدار کی توہین پر بھی میرا دل بھر آیا مگر وہ اس کا بدلہ بھی کمزوروں سے لیں گے۔ کیوں یہ تاثر ہے کہ پولیس ظالموں کی ساتھی ہے۔ کھلی کچہریوں میں 90 فیصد شکایتیں اور فریادیں پولیس والوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ وکلا کیوں بے لگام ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے لوگوں کے بغیر وہ کچھ بھی نہ تھے۔ صحافیوں پر وکلا کا تشدد شرمناک ہے۔ جسٹس خواجہ شریف نے بدمعاشوں کی حکومت والے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس میں ایک خاتون کے مکان پر قبضہ کرنے والوں کی مدد پولیس کر رہی تھی۔ SSP آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ قبضہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے خود پولیس قبضہ گروپ کے ساتھ تھی۔ جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ ایک غریب علاقے قلعہ محمدی راوی روڈ میں بزرگ آدمی ارشد قریشی کے مکان پر اپنے بھتیجے رفیق قریشی اور شاہد اقبال نے برسوں سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ پولیس نے رفیق قریشی کو عدالت بھجوایا‘ ایک برس سے مقدمہ چل رہا ہے۔ رفیق قریشی مدعی ہونے کے باوجود سول جج نوید خالق کی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتا۔ اسے بدمعاشوں کی مدد حاصل ہے‘ ایسے ہی بدمعاشوں کی حکومت چل رہی ہے۔ پولیس ان بدمعاشوں کے ساتھ ہے‘ شریفوں پر ظلم ہو رہا ہے؟!
ایک ’’وکھری‘‘ قسم کاDoctrine of necessity by Kernel Akraam Ullah
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook



