Archive for July 31st, 2009

بدمعاشوں کی حکومت اور شریف لوگ by Dr Ajmal Niazi

31 July, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خواجہ شریف ایک بہادر منصف بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار چوہدری کے نقش قدم پر چلتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتنے بڑے منتظم اور سخت گیر وزیر اعلیٰ کے باوجود پنجاب پر پنجاب پولیس کی حکومت ہے انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ اب جسٹس صاحب نے کہا ہے یہاں بدمعاشوں کی حکومت ہے۔ بدمعاش اور پولیس لازم و ملزوم ہیں۔ ریلوے کے مزدوروں نے احتجاج کیا ہے وہ ریلوے افسران کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ افسران کسی محکمے کے ہوں ایک جیسے ظالم اور حاکم ہوتے ہیں۔ خلقِ خدا کو حقیر جانتے ہیں اپنے محکمے کے ملازمین کو ذاتی ملازمین سمجھتے ہیں اور ملازم کے ساتھ ملزم کی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ریلوے والوں پر اسقدر ظالمانہ تشدد پولیس نے کیا ہے جیسے وہ ان سے ذاتی انتقام لے رہے ہوں۔ مزدور پولیس سے تو کوئی مطالبہ نہیں کر رہے تھے جیسے انہوں نے پولیس والوں کو رشوت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ان کے خیال میں بہت بڑا جرم ہے۔ کسی پر جرم ڈالنا ان کا مشغلہ ہے پھر وہ جرم اور ظلم میں فرق مٹا دیتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامیہ کالج سول لائنز کے لڑکوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وحشت اور دہشت میں کوئی فرق نہیں۔ دہشت گردوں سے ڈر کر عوام کے ساتھ دہشت گردوں سے بڑھ کر زیادتی کرتے ہیں۔ جگہ جگہ پر ناکے اور آس پاس ڈاکے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ چیف جسٹس خواجہ شریف نے جو یہ کہا ہے کہ لگتا ہے بدمعاشوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پولیس کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ جسٹس صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ شریفوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ اس سے عام آدمی کی طرف توجہ جاتی ہے مگر شریف برادران کی طرف بھی خیال چلا جاتا ہے۔ شہباز شریف کی وجہ سے شریف لوگوں نے سوچا تھا کہ اب ظلم نہیں ہو گا مگر ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔ سرکاری ظلم کی تو انتہا ہو چکی ہے۔ چیف منسٹر سے بہت امیدیں ہیں مگر چیف جسٹس کو چیف منسٹر سے بات کرنا ہو گی۔ اتفاق کی بات ہے کہ جسٹس صاحب کا نام بھی خواجہ محمد شریف ہے۔ سیشن کورٹ میں ’’باوردی‘‘ وکیلوں کی طرف سے باوردی تھانیدار کو بُری طرح مار کھاتے دیکھ کر دل میں پولیس کیلئے ہمدردی پیدا نہیں ہوئی مگر یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ اچھا نہیں ہو رہا۔ مگر جب پولیس کے ’’شیر جوانوں‘‘ کی طرف سے اسلامیہ کالج سول لائنز کے طلبہ کو بَُری طرح مار کھاتے دیکھا تو دل میں غصہ پیدا ہوا۔ یہ اجازت کس نے دی کہ پولیس پاکستان کے مستقبل پر ہاتھ اٹھائیں اور اس طرح توہین آمیز درندگی کا مظاہرہ کریں جیسے ان طلبہ نے سپاہیوں کی عزت پر ہاتھ ڈال دیا تھا۔ ذاتی دشمنوں سے بھی اس طرح بدلہ نہیں لیا جاتا۔ جس نے یہ منظر دیکھا ہے وہ اپنے دل سے پولیس کے خلاف نفرت کیسے نکالے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام نظریاتی سمر سکول میں کہا کہ میں پاکستان کے مستقبل سے مل رہا ہوں۔ ٹاپ پوزیشن لینے والے طلبہ کے سامنے باادب کھڑے تھے۔ انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس عزت افزائی کیلئے ہم شہباز شریف کو سلام کرتے ہیں۔ ان طلبہ کے اساتذہ بھی کسی عزت کے مستحق ہیں؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کی لاڈلی پولیس اساتذہ پر لاٹھی چارج کرتی ہے‘ وہ بڑی ’’منصف‘‘ ہے طالب علموں اور استادوں میں فرق نہیں کرتی۔ ایک دفعہ ایک چھوٹے تھانیدار کے سامنے اس کا اپنا استاد آ گیا تو اس نے کوئی رعایت نہیں کی ایسی لاٹھی چلائی کہ اپنے استاد کی ٹانگ توڑ دی۔ ’’قانون‘‘ کے سامنے سب برابر ہیں۔ پولیس کو یہ غصہ بھی تھا کہ اساتذہ اپنی معمولی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس والے سمجھتے ہیں کہ صرف ہماری تنخواہ بڑھے گی کسی اور کی کیوں بڑھے۔ پولیس کی تنخواہ شہباز شریف نے دگنی کر دی وہ کچھ اور بپھر گئے ہیں‘ اس دن سے ان کے مظالم کچھ اور بڑھ گئے ہیں۔ ایک چھوٹے تھانیدار کی بے عزتی عدالت کے اندر وکیلوں نے کی۔ وکیلوں نے بُرا کیا۔ مگر جب تھانیداروں کے ہتھے کوئی غریب بے وسیلہ آدمی چڑھتا ہے تو اس کا جو حال کیا جاتا ہے ناقابل بیان ہے۔ بدحال لوگ بے حال ہو جاتے ہیں‘ غریب عورتوں کی جتنی توہین تھانوں میں ہوتی ہے اتنی ہی کچہریوں میں ہوتی ہے۔ کچہری اور تھانے میں کوئی فرق نہیں۔ گرفتاری بھی مار کھانے والوں کی ڈالی جاتی ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز شفیق گجر نے عدالت میں کہا کہ سارے گرفتار طلبہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس سے کوئی یہ تو پوچھتا کہ ان کو پکڑا کیوں گیا تھا اور جو ظالمانہ تشدد پولیس والوں نے کیا اس کا حساب کون کرے گا اور حساب لے گا کون؟ شفیق گجر دلیر پولیس افسر ہے‘ دلیری کے ساتھ دلبری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے لئے دل میں نرم گوشہ ہے مگر کہیں گوشۂ عافیت نہیں ہے۔ اب وہ وکیلوں کا کچھ کر دکھائے جن سے اپنے تھانیدار کی پٹائی اس نے خود بھی دیکھی ہو گی۔ مسکینوں پر ہاتھ اٹھانے والے اس تھانیدار نے بڑے ادب سے مار کھائی۔ مجھے اپنے دوست اور وقت نیوز کے شاہد ملک کی بات یاد آتی ہے کہ پولیس والوں کو بیک وقت یہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ ’’ہتھیں کس طرح پینا اے تے پیریں کس طرح؟ ترجمہ (بیک وقت دست و گریباں ہونا اور پاؤں پڑنا کیسے؟ کسی کو کمزور سمجھ کر بہت زیادتی کرنا اور اسی کا زور چل جانے پر بے تحاشا معافی مانگ لینا دونوں بہت ضروری ہیں۔ اب دیکھیں گے کہ شفیق گجر اور وکیل کس طرح ڈیل کرتے ہیں۔
آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر بہت اچھے پولیس افسر ہیں۔ اس سے زیادہ انسان ہیں۔ ہمارا ذاتی کام اُس کے ساتھ نہیں پڑا۔ خدا ایسا موقع نہ لائے۔ کسی پولیس افسر کی طرف سے عام آدمیوں کی اتنی عزت افزائی دیکھ کے میں پریشان ہو گیا تھا مگر وہ بھی شریف لوگوں کے لئے اب تک کچھ خاص نہیں کر سکے‘ نجانے ان کی کیا مجبوری ہے مگر وہ مجبور لوگوں کے لئے جو کر رہے ہیں شاید کوئی اور پولیس افسر ایسا نہیں کر سکے گا۔ مجھے یقین ہے کہ سیاسی مداخلت نہ ہو تو وہ کوئی کارنامہ کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے ان پر اعتماد کیا ہے تو ان کو پوری طرح آزاد بھی کریں۔ ڈوگر صاحب اتنا تو کریں کہ ’’پولیس گردی‘‘ کم کرا دیں۔ وہ اپنی پولیس کے دل سے انتقامی جذبہ نکال لیں۔ حکمران‘ افسران اور پولیس افسران منتظم کم‘ منتقم زیادہ ہیں۔ پولیس ملازمین تو پولیس افسران کے غلام ہیں۔
طلبہ اور اساتذہ پر پولیس کا حیوانی تشدد دیکھ کر
مجھے نیند نہیں آئی۔ سڑک پر لٹا لٹا کے انہیں مارا گیا۔ وکیلوں کی طرف سے پولیس کے تھانیدار کی توہین پر بھی میرا دل بھر آیا مگر وہ اس کا بدلہ بھی کمزوروں سے لیں گے۔ کیوں یہ تاثر ہے کہ پولیس ظالموں کی ساتھی ہے۔ کھلی کچہریوں میں 90 فیصد شکایتیں اور فریادیں پولیس والوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ وکلا کیوں بے لگام ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے لوگوں کے بغیر وہ کچھ بھی نہ تھے۔ صحافیوں پر وکلا کا تشدد شرمناک ہے۔ جسٹس خواجہ شریف نے بدمعاشوں کی حکومت والے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس میں ایک خاتون کے مکان پر قبضہ کرنے والوں کی مدد پولیس کر رہی تھی۔ SSP آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ قبضہ واگزار کرا لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے خود پولیس قبضہ گروپ کے ساتھ تھی۔ جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ ایک غریب علاقے قلعہ محمدی راوی روڈ میں بزرگ آدمی ارشد قریشی کے مکان پر اپنے بھتیجے رفیق قریشی اور شاہد اقبال نے برسوں سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ پولیس نے رفیق قریشی کو عدالت بھجوایا‘ ایک برس سے مقدمہ چل رہا ہے۔ رفیق قریشی مدعی ہونے کے باوجود سول جج نوید خالق کی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتا۔ اسے بدمعاشوں کی مدد حاصل ہے‘ ایسے ہی بدمعاشوں کی حکومت چل رہی ہے۔ پولیس ان بدمعاشوں کے ساتھ ہے‘ شریفوں پر ظلم ہو رہا ہے؟!
Categories : Dr Ajmal Niazi Tags : , , , , , ,

ایک ’’وکھری‘‘ قسم کاDoctrine of necessity by Kernel Akraam Ullah

31 July, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
گذشتہ ہفتہ عشرہ کے دوران ملک بھر میں بالعموم اور کراچی اور لاہور کے بڑے شہروں کے علاوہ پنجاب کے بعض حصوں میں بالخصوص عوام نے ریل گاڑیوں کو آگ لگا کر اور کاروبار زندگی کو معطل کر کے حکمرانوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں کو جو پیغام دیا تھا وہ قابل فہم ہے یعنی جس سلطانی جمہور اور گڈگورننس کے حصول کیلئے انہوں نے فروری 2008ء کے انتخابات میں اپنے ووٹ ڈالے تھے وہ محض سراب ثابت ہوا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ عوام کے پیغام نے جو وارننگ دی تھی اس کے نتیجہ میں حکومت کے اندر اور باہر تمام شعبہ زندگی کے نمائندے ہر سطح پر آنے والے طوفان کا مداوا کرنے کیلئے قومی اتفاق رائے سے بہتری کی طرف مثبت اقدامات کی منصوبہ بندی کا آغاز کرتے لیکن اس کے برعکس ہر سطح پر قومی منظر نامہ ایسی سمت بڑھ رہا ہے جو ہرگز خوشگوار اور جمہوری عمل کے استحکام کیلئے ممدو معاون نہیں کہا جا سکتا یہ امر نہ صرف ناقابل فہم بلکہ نہایت تکلیف دہ اور حیران کن ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اندر ذمہ دارارکان اور منتخب عوامی نمائندے موجودہ جمہوری عمل کی گاڑی کو جو اچھی بری جیسی بھی چل رہی ہے اسے پٹڑی سے اتارنے کے کیوں درپے ہیں مثال کے طور پر کراچی کے ناظم کی وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی خفیہ ہاتھ تو ضرور سرگرم عمل ہونگے۔ گورنر عشرت العباد کی تبدیلی کی افواہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان انتشار میں غیر معمولی تیزی کوئی اچھا شگون نہیں ہے پنجاب کے بعض ممبران اسمبلی بشمول خواتین کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ انہیں عوام کا منتخب نمائندہ کہتے ہوئے مجھے تو شرم آتی ہے۔ بعض وزراء نے تو ہوائی اڈوں‘ ہوٹلوں‘ تھانوں میں اور نہ جانے کہاں کہاں ایسی حسن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے کہ مہذب دنیا نہ جانے ان چند گندی مچھلیوں کے باعث کہیں یہ نہ سوچنے لگے کہ ہم لوگ بحیثیت قوم جمہوری عمل کو چلانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے لیکن جب ہمارے قابل فخر وکلاء جن پر پوری قوم فخر کرتی ہے سول ججوں کو ان کی عدالتوں کے کمرے میں حبس بے جا میں بند رکھیں۔ ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف نعرے بازی کریں۔ گریڈ 19 کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر کو جو خاتون ہونے کے علاوہ ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی اہلیہ ہونے کے ناطے احترام کا حق رکھتی ہیں ان کے خلاف لاہور چھائونی میں واقعہ ہلڑ بازی کا احتجاج اس وقت تک جاری رکھا گیا جب تک بعض وکلاء کے احتجاج پر اس تجربہ کار پیشہ ورانہ لحاظ سے انتہائی باصلاحیت دیانتدار اور اعلیٰ کردار کی حامل خاتون افسر کو وہاں سے تبدیل نہیں کیا گیا۔ یہ سب باتیں اس لئے تحریر میں لا رہا ہوں کہ ضلع شیخوپورہ اور لاہور میں DCO صاحبان کی کئی میٹنگ میں‘ میں نے اس خاتون افسر کی اعلیٰ کارکردگی کا ذاتی مشاہدہ کیا ہے گذشتہ دو سال کے دوران وکلاء کی تحریک نے اگرچہ عدلیہ کی آزادی کیلئے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں۔ لیکن کیا اس کا یہ نتیجہ نکالنا حق بجانب ہو گا کہ ستر اسی ہزار وکلاء پاکستان کی 17 کروڑ آبادی کے زندگی کے ہر شعبہ میں مختار کل بن کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دھجیاں بکھیریں اور ریاست کی رٹ کو پائوں تلے روندتے ہوئے اسلامی جمہوری ری پبلک کو دنیا کی نظروں میں جگ ہنسائی کا موقع فراہم کریں کہ یہاں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ جنگل کا قانون رائج ہے۔ اگر بار اور بنچ کے قائدین نے نوجوان وکلاء کو قائداعظمؒ کے فرمودات کے مطابق ’’اتحاد‘ ایمان اور تنظیم‘‘ کا درس دیا ہوتا تو گذشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج لاہور کی کچہری کے باہر ایک باوردی ڈیوٹی پر حاضر اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس کی چند وکلاء کے ہاتھوں (وجوہات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں) اس طرح اس شرمناک طریقے سے پٹائی نہ ہوتی جو پوری دنیا کی نظروں میں ملک وقوم کیلئے شرمندگی اور بدنامی کا باعث بن چکی ہے جن پانچ وکلاء کے خلاف مقامی تھانہ میں پرچہ کاٹا گیا ہے انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج لاہور سے 10 اگست تک گرفتار نہ کئے جانے کا سٹے آرڈر لے لیا ہے۔ پنجاب بار کونسل نے ایک طرف تو ان پانچوں وکلاء کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے اور دوسری طرف تازہ ترین لطیفہ یہ ہے کہ سیکرٹری لاہور بار ایسوسی ایشن نے حفظ ماتقدم کیلئے یہ بیان جاری کر دیا ہے کہ متعلقہ اے ایس آئی کی پٹائی کرنے والے اشخاص کی تلاش جاری ہے اور ساتھ پریس کو یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ متعلقہ اے ایس آئی پر حملہ کرنے والے بھلا وکیل کیسے ہو سکتے ہیں یقیناً یہ ساری کارروائی کسی سازش کا حصہ ہے اگر وہ ایسا فرماتے ہیں تو یقیناً ایسا ہی ہو گا لیکن کیا اس سازش اور اس کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنا وکلاء لیڈر شپ کی ذمہ داری نہیں ہے جو تادم تحریر اس موضوع پر لب کشائی سے اجتناب فرما رہے ہیں جس کی وجہ اندرون خانہ راز داروں کے مطابق بعض ایسی مجبوریاں ہیں جس کو پاکستان میں عدالتی زبان میں حالات کے جبر کے تحت Doctrine of necessity کہتے ہیں جو آج بھی کسی نہ کسی رنگ میں ہر سطح پر اور سیاسی پارٹی کے اندرون خانہ جاری و ساری ہے۔
Categories : Kernel Akraam Ullah Tags : , , , , , ,