Archive for July 24th, 2009
Siah Raj Hens (1) by Mubashir Lucman
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


The Last Punch by Javaid Choudry
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Anjaam Ki Shuroaat by Abdulla Tariq Sohail
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Aur Pochey by Farooq Qaiser
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Uss Khet Key Her… by Dr Safdar Mehmood
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Jahangier Key Derbaar… by Hassan Nisar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

نیل کے ساحل سے… (آخری قسط by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
برصغیر میں بسنے والے ہم جیسے شرفا اور معصومین کی اکثریت دیگر بیشمار حماقتوں کی طرح دریائے نیل کے بارے میں بھی ان گنت غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ دریا کی وجہ تسمیہ اس کے پانیوں کا نیلا رنگ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یونانیوں نے اس علاقے کو نیلیوس (NELIOS) کہہ کر تاریخ کی کتابوں میں محفوظ کیا جس کا مطلب ہے ’’دریا کی وادی‘‘ چنانچہ لفظ ’’نائیل‘‘ (NILE) اسی یونانی لفظ نیلیوس سے نکلا ہے۔ جہاں تک اس کے رنگ کا تعلق ہے‘ تو یہ دو شاخوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ پہلی شاخ جو نیل ابیض یعنی ’’سفید نیل‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے‘ یوگنڈا کی جھیل وکٹوریہ سے نکلتی ہے۔ دوسری شاخ کو ’’نیل ازرق (نیلا)‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے پانی کی رنگت سبزی مائل نیلی ہے اور اس کا منبع جھیل تانا‘ ایتھوپیا ہے۔ چونکہ پانی کا بہاؤ اس شاخ میں زیادہ ہے اس لئے سمندر میں گرنے تک دریا کی رنگت سبزی مائل نیلی ہی رہتی ہے جس کی مناسبت سے ہندوستانی سیاحوں نے اسی رنگت کو اس دریا کی وجہ تسمیہ قرار دے ڈالا حالانکہ یہ غلط ہے۔
دریائے نیل اور اس کی شاخوں کا گزر نو مختلف ممالک میں سے ہوتا ہے جن میں یوگنڈا‘ سوڈان‘ مصر‘ ایتھوپیا‘ زائرے‘ کینیا‘ تنزانیہ‘ روانڈا اور برونڈی شامل ہیں۔ اس دریا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے منبع سے چار ہزار ایک سو چوراسی میل کا سفر جنوب سے شمال کی طرف کرتے ہوئے سکندریہ کے مقام پر بحیرہ روم یعنی ’’میڈیٹرنین سی‘‘ میں جا گرتا ہے۔ فطری اصول کے منافی یعنی جنوب سے شمال کی طرف بہنے کی چھوٹی موٹی مثالیں تو مل جاتی ہیں مگر ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر لمبی مثال اور کوئی نہیں۔ اس کے پیچھے کسی مافوق الفطرت قوت کا ہاتھ یا کسی پیر فقیر کا کرشمہ نہیں بلکہ سیدھی سی بات ہے کہ مذکورہ پہاڑی علاقے کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ نشیبی علاقہ جنوب کی بجائے شمال کی طرف پھیلتا چلا گیا ہے۔
مشہور زمانہ اسوان سمیت اس دریا کے اوپر چار بڑے اور اہم ڈیم تعمیر کئے گئے ہیں۔ اس سے متعلق دوسری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے بیشتر قدیم مؤرخین کی چشم تصور بیچارے فرعون رعمسیس کو نیل میں ہی غرقاب ہوتا دیکھتی ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دریا دنیا کا طویل ترین دریا ہے مگر اس کا پاٹ اور گہرائی کسی ایک مقام پر بھی ایسے نہیں کہ کسی بڑے لشکر کو جس میں باآسانی ڈبویا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ بحیرہ احمر میں پیش آیا تھا!
شرم الشیخ میں قیام کے دوران ہمیں جن دلچسپ باتوں کا پتہ چلا ان میں ایک تو یہ تھی کہ یہ علاقہ مشہور زمانہ ایمن الظواہری کا علاقہ ہے۔ الظواہری کو اس کے اپنے لوگ قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں البتہ امریکہ نے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی ہے۔
دوسری دلچسپ بات یہی تھی کہ فرعون رعمسیس بحیرہ احمر میں ڈوب کر مرا تھا۔ بائیس سو کلومیٹر طویل یہ سمندر ایک طویل تنگ درے کی شکل میں موجود ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کو براعظم افریقہ سے جدا کرتا ہے۔ پچھلی سے پچھلی صدی میں مصر کے شہر سویز کے مقام پر خشکی کا سینہ چاک کرکے ایک نہر کھودی گئی جس سے بحیرہ احمر کو بحیرہ روم کے ساتھ ملا کر یورپ اور ایشیا کے فاصلے کم کر دئیے گئے۔ بحیرہ احمر کی وجہ تسمیہ بارے دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی سطح پر سرخ رنگ کی ایک مچھلی لاکھوں کی تعداد میں تیرتی نظر آتی ہے جس کے سبب اسے بحیرہ احمر کہا جاتا ہے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بعض مقامات پر اس سمندر کی رنگت قدرتی طور پر لال ہے چنانچہ اسے بحیرہ احمر کہا جاتا ہے۔ اس کا پاٹ سب سے چوڑے مقام پر تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر وسیع ہے۔ گہرائی کا عالم یہ ہے کہ بحیرہ احمر اوسطاً سولہ سو فٹ گہرا ہے جبکہ بعض مقامات پر یہ گہرائی تقریباً دو ہزار فٹ سے بھی تجاوز کرتی ہے۔ اس کے دو ایک انتہائی گہرے مقامات دیکھ کر خیال آتا ہے کہ فرعون رعمسیس کا ڈوبنا بنتا تو واقعی یہیں تھا۔ اس سمندر میں شرفِ تیراکی حاصل کرنے کے بعد ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس کا پانی گرم اور کھارا ہونے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
Sherm-ul-Shiekh… by Asad ullah Ghalib
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Iraq Jang… by Mirza Ishtiaq Baig
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

ہلیری کلنٹن ہم سے معافی مانگے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
پاکستانی حکومت کو باضابطہ احتجاج کرنا چاہئے۔ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ بلائو اور اس سے پوچھو کہ امریکہ کا غیر سفارتی رویہ اب غیر انسانی اور غیر اخلاقی ہوتا جا رہا ہے۔ ہلیری کا شوہر کلنٹن بھی بھارت آیا تھا اور اس نے ایٹمی معاہدہ کیا تھا۔ وہ تو پاکستانی حکمرانوں کی منت سماجت سے چند لمحوں کے لئے پاکستان آ گیا تھا مگر اس نے مشرف سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ پھر اسی مشرف کو 9 سال تک امریکہ لاڈ پیار سے استعمال کرتا رہا۔ یہ سب کچھ اب جو پاکستان میں ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار صدر مشرف ہے اور امریکہ ہے۔ ہلیری بھی چند لمحوں کے لئے پاکستان آ گئی ہوتی۔ بے شک صدر زرداری کو نہ ملتی مگر پاکستانی حکومت کی شرم تو رکھتی۔ کسی امریکی نے بھول کر بھی پاکستان میں بھارت کے خلاف بات نہیں کی کہیں بھی کبھی نہیں کی۔ مگر پاکستان جو امریکہ کے لئے بربادی اور بدنامی کے آخری کنارے پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے خلاف ہر کہیں ہر وقت باتیں کی جاتی ہیں۔ امریکی میڈیا کا رویہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہلیری کی باتوں سے دکھ ہوا ہے پاکستانی لیڈی ڈیانا کے بعد سب سے زیادہ پسندیدگی ہلیری کے لئے رکھتے ہیں۔ انہیں صدر اوباما کے صدر ہونے کی خوشی ہے مگر جب ہلیری کے ساتھ اس کا مقابلہ تھا تو بہت پاکستانی ہلیری کے ساتھ تھے۔ اب دونوں نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔ بش سفید اور رائس کالی۔ اب اوباما کالا اور ہلیری سفید ہے۔ کچھ فرق نہیں ان چاروں میں۔ امریکی حکمران پاکستانی حکمرانوں جیسے تو نہیں کہ اپنے ملک و قوم کی عزت اور مفاد کو قربان کر دیں۔ مگر امریکی حکام پاکستانی عوام کو کیوں نظرانداز کر رہے ہیں۔ یہ بات انہیں بھی بالآخر ذلیل کر دے گی۔ ان کا حشر بھی پاکستانی حکام جیسا ہو گا۔ یہ حشر بھارتی حکام کا بھی ہونے والا ہے۔ امریکہ جس کا دوست ہوا۔ اُسے ذلیل کیا۔ ہلیری کی بے مروتی اور بے پروائی نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔ جب صدر کلنٹن نے خوبصورت اور شاندار ہلیری کو نظرانداز کر کے مونیکا سے عشق و عاشقی کی پینگیں بڑھائیں امریکی عوام صدر کلنٹن کے خلاف ہوئے۔ وہ نسبتاً اچھا صدر تھا۔ اس نے عالم اسلام کو خاک و خون کی دلدل نہیں بنایا۔ امریکہ ایک ’’سیکس فری‘‘ یعنی آزاد خیال بلکہ جنسی طور پر بہت بے غیرتی کی حد تک لبرل معاشرہ ہے۔ لبرل ہونا چاہئے مگر ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ امریکیوں نے کہا کہ ہمارے صدر کو ایک باوقار اور شاندار آدمی ہونا چاہئے۔ تب ہلیری نے ایک مشرقی بیوی کی طرح ضبط و تحمل کا ثبوت دیا۔ اس نے اپنے بے وفا شوہر کو برباد اور بدنام نہ ہونے دیا۔ اس کا ذرا سا غم و غصہ سب کچھ خاک میں ملا دیتا۔ اس کی یہ ادا پسند آئی۔ اب بھی اُسے ایک اچھی عورت کا سا سیاسی سٹائل اختیار کرنا چاہئے۔ جو اس کے لائف سٹائل سے ملتا جلتا ہے۔ اُسے کنڈولیزا رائس سے تو مختلف ہونا چاہئے۔ ہمارے خودغرض مفاد پرست اور بے حمیت حکمران تو احتجاج نہیں کریں گے مگر وہ خود پاکستانیوں سے معافی مانگے۔ پاکستانی لوگ امریکی حکام کو اچھا نہیں سمجھتے مگر ہلیری کے لئے ان کا خیال ابھی تک اچھا ہے۔



