Archive for July 22nd, 2009
Khawahishaat Ki Tekmeel by Dr Abdul Qadeer Khan
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Hamesha Hamesha Ke Liye by Irfan Siddiqui
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Go… America Go by Dr Babar Awan
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Phulgeriyan by Attaul Haq Qasmi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


نیل کے ساحل سے …(4 by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
کامیابی کی جملہ وجوہات
بھارتی وزیراعظم کے ساتھ گیلانی کے انتہائی کامیاب مذاکرات کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ خود من موہن سنگھ پر پوری بھارتی بزنس برادری کا بڑا پریشر تھا۔ پورے ملک کی فیڈریشن برائے چیمبرز آف کامرس نے سردار جی کو یہ بات باور کروا کر بھیجی تھی کہ حضرت صاحب اس وقت تقریباً ایک سو دو ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہماری دہلیز پر محض اس وجہ سے رکی ہوئی ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں اور جب تک یہ صورتحال قائم رہی مزید سرمایہ کاری تو درکنار، ایک ایک کرکے سابقہ سرمایہ کار بھی آگے پیچھے ہوتے رہیں گے۔ دوسری اہم وجہ پاکستانی وزیراعظم کا ایک نرم خو اور سمجھدار سیاستدان ہونا تھا۔ نرم خوئی میں توخیر من موہن گیلانی صاحب سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں مگر گیلانی کا ایک تجربہ کار اور منجھا ہوا سیاستدان ہونا انہیں اپنے بھارتی ہم منصب پر فوقیت دلواتا ہے کہ سردار جی بنیادی طور پر ٹیکنو کریٹ ہی ہیں چنانچہ جو ملاقات محض تیس منٹ کیلئے شیڈول ہوئی تھی تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی۔ اس قسم کی ملاقاتیں خاصی اعصاب شکن ہوا کرتی ہیں اور بائی پاس آپریشن کے بعد تو من موہن سنگھ کی کیفیت گیلانی کی نسبت اور زیادہ نرم تھی۔ تیسرا کریڈٹ دفتر خارجہ کے چند افسران کو دینا بے حد ضروری ہے کہ ان کی کارکردگی دیکھ کر پہلی مرتبہ ہمارے قلم سے ان احباب کیلئے کلمہ خیر نکل رہا ہے۔ سلمان بشر‘ سیکرٹری خارجہ اور بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک کی محنت نے اپنا رنگ خوب جمائے رکھا اور اگر جامع امن مذاکرات کا سلسلہ باردیگر شروع ہوجاتا ہے جس کے امکانات کافی روشن ہوتے جارہے ہیں تو پھر حکومت پاکستان ان دونوں سینئر افسران کو تمغۂ حسن کارکردگی سے نواز کر ایک اچھی مثال قائم کرسکتی ہے۔ تاہم اس ابتدائی کامیابی میں مذکورہ دو سینئر افسران کے ساتھ ساتھ ان کے دو عدد جونیئر معاونین کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ یہ دونوں ہونہار ’’شکرے‘‘ سہیل احمد‘ ڈائریکٹر جنرل فارن سیکرٹریز آفس اور افراسیاب مہدی ہاشمی‘ ڈائریکٹر جنرل سائوتھ ایشیا ہیں جن کا پیپر ورک اور شبانہ روز محنت یقینا پاکستان کے بہت کام آئے ہوں گے۔
بیٹھ کر کرنے والا کام!
پاک بھارت مذاکرات کی طویل و عریض رپورٹنگ کرتے کرتے جب بیچاری میڈیا ٹیم تھکاوٹ اور بوریت سے بلبلا اٹھی تو سب نے باہر نکلنے او رونق میلہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ہوٹل کے گردونواح کئی کئی کلومیٹر تک صحرائے سینائی پھیلا ہوا تھا۔ دوسری طرف بحیرہ احمر تھا اور یار لوگوں کی اکثریت تو اپنے ’’کچھے‘‘ بھی ہمراہ نہیں لائی ہوئی تھی چنانچہ مصر میں پاکستانی سفارتخانے کے ڈائریکٹر انفارمیشن ڈاکٹر نجیب صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں اور اللہ کے اس نیک اور انتہائی پیارے بندے نے ہمارے لیے کوچ کا بندوبست کردیا۔ تقریباً 20 منٹ کی مسافت پر خلیج نامہ کا نہایت چھوٹا مگر پرہجوم اور بارونق بازار تھا۔ ہم میں سے ایک تھکا ٹُٹا صحافی دوست جو واقعی پچھلے 24 گھنٹے سے کام پر جتا ہوا تھا، بار بار ایک ہی بات کرتے چلا جارہا تھا کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس میں چلنا پھرنا نہ پڑے اور بس جو کچھ کیا جائے بیٹھ کر ہی کیا جائے۔ ظاہر ہے اس کی مراد کیبرے وغیرہ میں جاکر تسلی کے ساتھ بیٹھ کر ڈانس وانس دیکھنے سے تھی مگر ڈاکٹر نجیب بوجوہ بار بار غچہ دے کر ان کی بات سنی ان سنی کردیتے لیکن وہ بھی لگاتار ’’بیٹھ کر کچھ کرنے‘‘ کی تکرار سے باز نہ آیا۔ بالآخر مجیب الرحمن شامی صاحب نے جھلا کر کہا ’’یار بیٹھ کر تو پھر پیشاب ہی کیا جاسکتا ہے، جائو کوچ کی اوٹ میں بیٹھ کر کرلو!‘‘ ایک چھت شگاف نعرہ بلند ہوا اور ہمارے اس انتہائی پیارے صحافی دوست کی خواہش پر بھی اوس پڑ گئی اور اس نے کیبرے ڈانس وغیرہ کے تصور پر لعنت بھیج کر نہایت اطمینان کے ساتھ بیوی بچوں کیلئے شاپنگ شروع کردی کہ اس کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی چارہ کار تھا ہی نہیں۔
اہرام مصر
دل کو دہلا دینے اور ہوش اڑا دینے کا کام مصری قوم پچھلے چار ہزار چھ سو چھتیس سال سے ان تین عدد اہراموں سے لیتی چلی آرہی ہے جو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مضافاتی علاقے میں عین صحرا کے سرے پر واقع ہیں۔ سینکڑوں فٹ بلند ان اہراموں میں ایک بے حد اونچا ہے جس کو اس وقت کے فرعون نے اپنی آخری آرام گاہ قرار دیا۔ دو اہرام نسبتاً کم بلند ہیں۔ ان میں سے ایک کو بادشاہ کی بیشمار ملکائوں کے مقبرے کیلئے مختص کیا گیا تھا۔ اہرام مصر کے سامنے کھڑے ہوکر دھیان جن باتوں سے ہٹنے کا نام نہیں لیتا ان میں سرفہرست یہ ہے کہ بغیر مشینوں کے استعمال کے‘ اس قدر عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہو کیسے گئیں کیونکہ انسانی ہاتھوں سے یہ معجزہ ممکن ہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ فرعون کو کیا سوجھی کہ اس نے ہزاروں انسانی جانیں ضائع کرکے پتھر کے یہ پہاڑ تعمیر کرڈالے۔ دھاک بٹھانے کے اور بھی کئی طریقے موجود ہوں گے، آخر اس قدر مشکل طریقہ ہی کیوں اپنایا گیا اور یہ کہ اس حجم کے لاکھوں پتھر آخر لائے کس جگہ سے گئے۔
قاہرہ دنیا کے غلط ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی ساخت کراچی سے بہت ملتی جلتی ہے البتہ کراچی عمومی طور پر اس سے بہتر اور صاف ستھرا ہے۔ اب آپ خود ہی بیچارے قاہرہ کی حالت زار کا اندازہ کرلیں۔ دریائے نیل کا تذکرہ کل یعنی آخری قسط میں!
Insaan Ka Sefer… by Hassan Nisar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Islamabad Kitna… by Tanveer Qaisar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Kahan Gey Wo loog? by Munno Bhai
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

اسلام آباد میں پاکستان کا جھنڈا by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
چودھری شجاعت اور مشاہد حسین کو بلامقابلہ منتخب ہونے پر وزیر اعظم مخدوم گیلانی نے مبارکباد دی ہے۔ مگر مسلم لیگ ق کے کئی ناراض دوستوں کو بلامقابلہ پر اعتراض ہے اگر یہ بات ہے تو وہ مقابلے میں کھڑے ہو جاتے۔ ان کی ناامیدی کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس کوئی امیدوار ہی نہیں۔ ان میں یہ جرات نہ تھی مگر مقابلے کے لئے ہارنے کی جرات بھی ہونی چاہئے۔ جرات شکست جرات انکار جیسی ہوتی ہے اور وہ شکست خوردگی سے بچاتی ہے۔ یہ بتایا جائے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی سیاسی جماعت میں صدارتی انتخاب کے لئے کوئی مقابلہ ہوا ہے۔ کوئی شریف برادران کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ بھٹو خاندان تو خیر ان باتوں سے ماوریٰ ہے۔ کوئی بلاول یا زرداری صاحب کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ اسفند یار ولی‘ مولانا فضل الرحمان‘ پیر پگارا‘ حتیٰ کہ ائرمارشل اصغر خان جن کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بلامقابلہ بھی کوئی الیکشن لڑیں تو ان کی ضمانت ضبط ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی میں بھی قاضی حسین احمد نے خود انکار کیا ہے۔ ہمارے ہاں اب تو سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر سینٹ کے الیکشن بھی بلامقابلہ کروا لئے ہیں۔ فاروڈ بلاک مسلم لیگ ق کی ایک شاخ ہے اور مسلم لیگ کشمالہ بھی اس کی ایک ٹہنی ہے۔ فارورڈ بلاک تو بیک ورڈ بلاک ہو گیا ہے اس میں سے یونیفیکشن بلاک نکلا اور اس میں سے ڈاکٹر طاہر علی‘ جاوید نکل آیا۔ میرا خیال ہے کہ ابھی تک نیویارک والوں کی رپورٹیں شہباز شریف تک نہیں پہنچیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے کس کے کہنے پر اسے وزیر بنایا؟ عطا مانیکا اپنے بلاک میں تو خود کو بچا نہیں سکے۔ وہ آجکل یونیفکیشن بلاک میں اپوزیشن لیڈر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تبدیل ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں پارٹی کے سربراہ کی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ تو اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیسے ہو سکتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے تین وزیر اعظم تبدیل کئے مگر اپوزیشن لیڈر تبدیل نہیں کر سکے۔ چودھری نثار بھی مولانا فضل الرحمن جیسا اپوزیشن لیڈر ہے۔ وہ تبدیل نہیں ہو گا۔ اسے سینئر وزیر بھی بنوایا گیا۔ اب پھر امید ہے۔ جاوید ہاشمی کو اپوزیشن لیڈر نہ بنانے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے جنرل مشرف کا وزیر بننے سے انکار کر دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ مخدوم امین فہیم اپوزیشن لیڈر ہوتا۔ مگر وہ جس طرح صدر زرداری کی حکومت میں مخدوم گیلانی کا وزیر بن گیا ہے شکر ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر نہیں بنا۔ بہرحال اپوزیشن لیڈر کے طور پر چودھری پرویز الٰہی ٹھیک تھے کہ ان کی حکومت تو پنجاب میں نہ تھی کوئی کہے کہ قومی اسمبلی میں اسفند یار ولی یا ڈاکٹر فاروق ستار کو اپوزیشن لیڈر بنا دیں۔ پنجاب اسمبلی میں چودھری ظہیرالدین کا بھی دو کشتیوں میں پاؤں نہیں۔ ہمارے ہاں ایسی کشتی ڈوبتی نہیں اور مسافروں کو فکر بھی نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین بار بار کہتے ہیں کہ ہم جینوئن اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ صدر نہیں بن سکتے مگر وہ ایک زبردست صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ یہ بھی اپوزیشن کو زندہ رکھنے والی بات ہوتی ہے۔ مسلم لیگ کے پرانے اور نئے صدر چودھری شجاعت نے بھی کہا کہ سیاسی پارٹیاں‘ سیاستدان اور لیڈر تو اپوزیشن میں ہی بنتے ہیں۔ اس وقت جتنے بھی سیاستدان ہیں وہ اپوزیشن میں سے نکلے ہیں۔ حکومت میں لوگوں کے خلاف لطیفے بنتے ہیں۔ بھٹو صدر ایوب کے وزیر تھے مگر جب ان کی اپوزیشن میں گئے تو لیڈر بنے۔ بے نظیر بھٹو کو جنرل ضیاء الحق کی نفرت نے لیڈر بنایا۔ چودھری ظہور الٰہی نواب کالا باغ اور بھٹو کی مخالفت میں لیڈر بنے۔ نواز شریف جرنیل کی اشیرباد سے سیاست میں آئے۔ سیاستدان‘ جرنیل کے ساتھ مقابلے میں بنے۔ ولی خان‘ مفتی محمود کے علاوہ نواب زادہ نصراللہ خان بھی اپوزیشن میں بابائے جمہوریت ہوئے۔ مخدوم گیلانی جیل میں رہے۔ جیل میں صدر زرداری بھی رہے۔ بہرحال جیل میں جس طرح بھی کوئی رہے کریڈٹ کی بات تو ہے۔ کریڈٹ جاوید ہاشمی کا ہے۔
چودھری شجاعت نے کہا کہ این آر او کی حمایت غلطی تھی۔ یہ اعتراف معافی سے بڑھ کر ہے جبکہ وہ حکومت میں اختلاف بھی کرتے رہے۔ معافی تو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی مانگی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ غلطیاں ان سے بھی ہوئی ہیں۔ غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش میں دوسروں کو معاف کرنا بھی شامل ہے۔ عمران خان معافی مانگ کر جنرل مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی غلطی سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں تو سب کو موقعہ دیا جائے تاکہ اچھے زمانے کی پوری امید رکھی جائے۔ چودھری شجاعت کہتے ہیں کہ 2007ء کے الیکشن کی دھاندلی میں مشرف بھی شامل ہے۔ جو لوگ پارٹی کے اندر چودھری برادران کے خلاف ہوئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو نواز شریف کی مسلم لیگ میں تھے اور انہیں چھوڑ کے چودھری شجاعت کے پاس چلے گئے تھے۔
اسلام آباد میں بڑی رونقیں تھیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے چودھر صاحب کو فون کیا کہ پچھلے دو سالوں میں پہلی بار محسوس ہوا کہ اسلام آباد جاگ اٹھا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ اب تو حکومت کا پریشر نہیں نہ اقتدار کا لالچ ہے مگر لوگ والہانہ پن سے خود بخود آئے ہیں وہ لوگ بھی ہیں جو ہم خیال گروپ میں تھے اور فارورڈ بلاک میں تھے۔ چاروں صوبوں کی بھرپور نمائندگی تھی۔ ممبران اسمبلی بھی بہت تھے اور سینٹرز بھی تھے۔ سینٹ میں مخالف گروپ کی لیڈر نیلوفر بختیار کا کہنا تھا کہ میں تو ہمیشہ سے چودھری صاحبان کے ساتھ ہوں۔ اکرم ذکی نے خوب بات کی کہ مسلم لیگیں کئی سیاستدانوں کے نام سے معروف ہیں لیکن ہم تو قائد اعظم مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ اسلام آباد پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے بھرا ہوا ہے۔ پاکستان کا جھنڈا یہاں دیکھا جہاں مسلم لیگ قائد اعظم کا الیکشن ہو رہا تھا۔ ہم خیال گروپ میاں اظہر نے نوازشریف کے خلاف بنایا تھا تو کیا یہ لوگ کسی کے حق میں ہمخیال نہیں ہو سکتے۔ جن کے پاس خیال نہیں وہ سیاستدان بن کے ہم خیال ہو گئے ہیں۔ نعیم چٹھہ اور مہناز رفیع مجھے اپنے ہم خیال لگے کہ میں نے انہیں اکثر نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں دیکھا ہے۔ وہ مجید نظامی کو اپنی دعاؤں میں یاد کر رہے تھے اعجاز الحق نے فون پر چودھری صاحب کو مکہ مکرمہ سے دعائیں بھجوائی ہیں۔ اس نے الیکشن میں آنے کا وعدہ کیا تھا مگر ایک دن پہلے عمرے پر چلا گیا وہ کبھی اپنے لئے بھی دعا کرے۔
موج اڈاندے نیں by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
قومی اسمبلی کو ملک کے مفادات کی محافظ سمجھا جاتا ہے اس کا سپیکر اس کا یا جملہ ارکان اسمبلی کا چودھری ہوتا ہے ارکان کو ضوابط اور اصولوں کا پابند رکھنے کا ذمہ دار چودھری۔ بہت بڑا عہدہ ہے فرائض کے حوالے سے قومی اسمبلی کے سپیکر کا۔ اس سے بڑا عہدہ تو کوئی تھا ہی نہیں شاید وردی شاہ کی جمہوریت کی شہنشاہی کے دور میں۔ چودھری امیر حسین صاحب قبلۂ اہل جمہوریت اس باوردی شاہی کے عروج میں طویل عرصہ تک اس باعزت بامشاہرہ اور بااختیار منصب پر فائز رہے ہیں اور اب فرماتے ہیں کہ ’’پرویز مشرف جمہوریت کا قاتل تھا اس کے دور میں سب فیصلے ایوان میں ہوتے تھے اس نے امریکہ کے کہنے پر بے گناہ لوگوں کو مارا ملک کو جن حالات کا سامنا ہے اس کا ذمہ دار مشرف ہے‘‘ اگر ایسا ہے اور ایسا ہی ہوگا کہ موقعہ کا گواہ انکشاف فرما رہا ہے تو کیا ان چودھری صاحب سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ آپ اس قاتل کے ساتھ اتنا طویل عرصہ شریک جرائم کیوں رہے تھے؟ اتنے بڑے بڑے قومی جرائم میں جو ملک اور قوم کا اب بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہے ان کے دست و بازو کیوں بنے رہے تھے؟ اس وقت ان کے ایسے گھناؤنے جرائم آپ کو نظر کیوں نہیں آئے تھے؟۔ وہ کنڈی ڈال کر اختیار اور اقتدار چراتا رہا اور آپ اس کی اس چوری پر خاموش ہی رہے۔ بامشاہرہ اور بامنصب اس خاموشی کو کیا کہا جائے؟ آپ تو اتنے بڑے منصب پر فائز تھے آپ کی آئینی‘ اخلاقی اور تنخواہ داری کی اتنی ذمہ داریاں تھیں آپ پھر بھی اس کنڈا چوری میں تعاون کیوں کرتے رہے تھے اس کے ساتھ؟ واپڈا کا کوئی لائن مین کسی کے ساتھ ایسی چوری میں شریک ہوا اور وہ چوری پکڑی جائے تو اس کو کڑی سزا دی جاتی ہے آپ اتنے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہوئے بھی اس چوری اور سینہ زوری میں اس کے ساتھ تعاون کرتے رہے تھے آپ کے اس اعتراف کے بعد آپ ہی بتائیں آپ کی سزا کیا ہے؟ اس قاتل جمہوریت کے ساتھ شریک جرائم رہنے کے قومی جرم کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں۔ اس ملک کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اتنا عرصہ مراعات کے مزے لوٹنے والے امیر حسین چودھری صاحب؟ اگر اس کا دور ایسا تھا وہ ایسا ہی حکمران تھا جیسا آپ نے بتایا تھا تو آپ نے اس کے ایسے گھناؤنے جرائم میں شریک ہونے سے انکار کیوں نہیں کر دیا تھا؟ اللہ نے معلوم نہیں اس قوم کے کن گناہوں کی سزا کے لئے اس پر ایسے امیر حسین اور چودھری مسلط کر دئیے ہیں۔وہ جو ایسے امیر حسین چودھریوں کے شجاعت حسین چودھری ہیں پڑھتے ہیں کہ انہوں نے تو این آر او میں تعاون کے اپنے جرم عظیم کے لئے کوئی معافی نامہ بھی جاری فرما دیا ہے۔ صوبہ سرحد کے ایک ایسے ہی تعاون پیشہ خادم قوم نے معافی نامہ جاری کیا تو اس کے بعد سے اسے ہر جگہ ’’معافی خان‘‘ ہی لکھا اور پڑھا جاتا رہا تھا اس کی ساری زندگی میں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پرویز مشرف کے شریک جرائم کو اب چودھری معافی حسین ہی لکھا پڑھا جائے وہ اتنی بڑی ملک گیر ق لیگ کے منتخب صدر ہیں ہم تو ان کی اور جمہوریت کی شان میں ایسی کسی گستاخی کی جرات نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی پھر تو ہمیں مولانا معافی قاضی معافی وغیرہ بھی پڑھنا پڑے گا مگر سوال وہی ہے کہ ان مجرموں کے معافی مانگ لینے سے اور اپنے اپنے قومی جرائم کے اعتراف سے کیا حاصل ہوگا اس ملک اور قوم کو؟ کیا اپنے ایسے جرائم اور گناہوں کے اعتراف کے بعد وہ قوم کو مزید خدمت سے معاف کر دیں گے؟ الگ ہو جائیں گے خدمت بزنس سے کہ معاف کر دیں پچھلا کیا کرایا کھایا پیا اب ہم آپ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ایسا ہوتا تو دکھائی نہیں دے رہا۔ تو کیا مان لیں کہ آئندہ وہ ایسا کوئی جرم تعاون نہیں کریں گے؟ ان کی فطرت کی جنس تبدیل ہو جائے گی؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ ’’مردے اور بہرے کچھ نہیں سنتے‘‘ ہماری کون سنے گا اس جنگل میں؟ ہاں وہ لوگ جنہوں نے اپنے ووٹوں کی قوت سے ایسے لوگوں کو اقتدار کے ایوان تک پہنچایا تھا ایسے اعترافات سے ان کی عزت میں کتنا اضافہ کیا ہے ان خادم حضرات نے؟ کیا وہ اپنے کو ان کے ایسے جرائم سے بری الذمہ سمجھتے ہیں؟ جس بھی کسی کے ووٹ سے کوئی فرد بشر اقتدار اور اختیار کے کسی منصب پر فائز ہوتا ہے اس کے ہر قسم کے اعمال میں وہ ووٹ دینے والا بھی شریک ہوتا ہے۔ قیادت کے معیار سے قوموں کی اور منتخب نمائندوں کے اخلاق و کردار سے ان کے ووٹروں اور سپورٹروں کی شناخت متعین ہوتی ہے۔ خواہ وہ بنیادی اور نچلے درجہ کے ووٹر ہوں یا اس سے اوپر کے ادنیٰ و اعلیٰ اہل منصب کو منتخب کرنے والے ہوں۔ مگر خیر ہم کیا کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’مردے اور بہرے کچھ نہیں سنتے‘‘ پسینہ پونچھیں اور سو جائیں؎
بلھیا ہر مجرم نال جپھیاں پا کے
مل ملا کے کھا کھوا کے
لوکاں دے نال للیاں لاکے
للّْو موج اڈاندے نیں



