Archive for July 15th, 2009
Dost by Dr Shahid Masood
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Kia Riyasteyen Itni… by Irfan Siddiqui
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Khawahishaat Ki Tekmeel by Dr Abdul Qadeer Khan
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Ney Maali Saal Per… by Ahmed Sabzwari
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Ehtamalia 2009 – 2010 by Fazal Haq
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Mian Chenoo Ka Chen by Tanveer Qaisar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


ڈھکنے چور چرا کے لے گئے by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
خوابوں کی دنیا میں خیالوں کی پریڈ شروع ہو گئی ہے۔ کیا گیلانی نے بھی کیانی جیسے کسی آپریشن کلین اپ کی تیاریاں مکمل تو نہیں کر لیں؟ آئین کی بحالی کے اس آپریشن کلین اپ میں انہیں کون کون سی فورسز کا تعاون حاصل ہے؟ صدر مکرم تو فرماتے ہیں ’’ہم نے انہیں پارٹی سے وفاداری کے صلے میں وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا ہوا ہے‘‘ کیا وہی وزیراعظم کرسی پر بٹھانے والے پارٹی کے مالک و مختار کو آئین سے وفاداری میں چودھری فضل الٰہی والی کرسی پر بٹھا سکیں گے؟ 1973ء کے آئین کی بحالی سترھویں ترمیم کا خاتمہ اور 58 ٹو بی کے تحت صدر مکرم کے قبضہ قدرت میں مشرف شاہی اختیارات کا خاتمہ کس کس کا خواب نہیں تھا؟ ملک کے عوام تو خیر ہیں ہی ان کے بے دام غلام‘ یہ تو ان کی یعنی صدر مکرم کی پی پی پی کا بھی خواب بتایا جاتا ہے۔ اس خواب کو پورا کرنے کیلئے محترمہ نے شریف برادران کے ساتھ جو ایک میثاق جمہوریت کیا ہوا ہے اس سے وفا کے حوالے سے شریف برادران کا بھی خواب و خیال ہے اور وزیراعظم فرماتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بھی سوچ یہی تھی کہ پارلیمنٹ بالادست ہو۔ انہوں نے حضرت قائداعظمؒ کا بھی نام لیا تھا اس خواب کو پورا کرنے کے حوالے سے مگر ہمارے خیال میں تو وہ کسی آپریشن کے معاملے میں حضرت قائداعظمؒ کا نام نہ ہی لیا کریں تو بہتر ہے کیا ان کے لئے ذوالفقار علی بھٹو ہی کافی نہیں جس نے قائداعظمؒ کا پاکستان ٹوٹ جانے یعنی شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ ’’اِدھر ہم اُدھر تم‘‘ ہو جانے کے بعد اس پاکستان کے لئے 1973ء کا آئین بنوایا تھا جس کی وردی شاہ والی گدی پر ان کے داماد جلوہ افروز ہیں۔ قائداعظمؒ کا تو ایسے ناموں کے ساتھ نام لینا توہین دیانت و امانت کے زمرے میں آتا ہے۔ تو ہاں بات چلی تھی خیالات کی پریڈ اور کیانی آپریشن کے طرز پر کسی گیلانی آپریشن کلین اپ کی۔ وردی شاہ کا چھوڑا ہوا گند اتنا تکلیف دہ ہے کہ اب چودھری شجاعت حسین کو بھی اس سے اور اپنے اس تعاون خدمات سے بدبو آنے لگی ہے ملا و قاضی بھی باوضو ہو کر اپنے اس ماضی اور تعاون کے ملک اور قوم کے حال اور مستقبل کے لئے خطرناک ہونے کے درس دیتے دیتے ادھ موئے ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے انکشاف فرمایا ہے کہ موجودہ نظام جس کے تحت ان کی پارٹی کے مالک و مختار وردی شاہ والے اختیارات سے مسلح ہیں اور وہ خود ذوالفقار علی بھٹو والی کرسی پر بھی شوکت غریب ہی بنے بیٹھے ہیں چوں چوں کا مربہ ہے۔ اس نظام کو جوانیاں مانتے کتنا عرصہ ہو گیا ہے مگر اب تک صدر مکرم کی جمہوریت شاہی کے سامنے کوئی چوں نہیں کر سکتا تھا۔ کبھی کسی طرف سے کوئی چاں چاں کی آواز آتی تھی تو صدر مکرم اس چاں چاں کرنے والے کے منہ میں مفادات کا سیب کا مربہ ڈال دیتے تھے۔ بعض ملا و حضرت قسم کے اہل چاں چاں کے لئے تو گاجر کا مربہ ہی کافی اور شافی چلا آ رہا تھا اور اب وزیراعظم نے اس چوں چوں کے مربہ کے خلاف آپریشن کلین اپ کی ضرورت پر لیکچر دے ڈالا ہے۔ اللہ انہیں ہمت اور توفیق عطا فرمائے تو وہ فورسز کون کون سی ہیں جو ان سے تعاون کرنے جا رہی ہیں۔ اس آپریشن میں بارک حسین اوباما کو تو وردی شاہ کے گدی نشین نے یعنی وزیراعظم صاحب کو وزیراعظم بنانے والے آصف علی زرداری نے اپنے فرینڈز میں شامل کر لینے کا اعلان فرما دیا ہے ان کے برادران بھی ان کے فرینڈز ہی چلے آ رہے ہیں وہ نام تو لے لیتے ہیں کبھی کبھار میثاق جمہوریت کا مگر اس پر عملدرآمد کے معاملے میں انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کبھی ایسی چستی اور پھرتی نہیں دکھائی جیسی عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں دکھاتے ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ اگر وزیراعظم محترم کو اس کلین اپ آپریشن میں ملی بینڈ کا تعاون حاصل نہ ہوا تو شریفین بھی اپنے برادر خورد کو آمرانہ اختیارات کی آلودگیوں سے بالکل ہی کلین کر دینے میں ان کا ساتھ اس انداز میں دیں گے جیسا عدلیہ کو آزاد کرنے کے معاملے والی تحریک والوں کا دیا کرتے تھے۔ صدر مکرم یعنی بھٹو وارث کے مالک و مختار کو ہرقسم کے الزامات اور مقدمات کی آلودگیوں سے دھو ڈالنے والے آپریشن این آر او میں تو انہیں امریکہ اور برطانیہ کا مکمل تعاون حاصل تھا کیا پاکستانی جمہوریت کا ساتھ دینے کے اپنے وعدوں کو پورا کر دکھانے کیلئے امریکہ‘ برطانیہ اور اس کے اتحادی اپنے اس ’’مسٹر کلین‘‘ کو غیرآئینی آمرانہ آلودگیوں سے پاک صاف کرنے میں بھی آپریشن گیلانی میں تعاون کریں گے؟ ایک اور خیال یہ بھی ہے کہ اگر آصف علی زرداری نے مزید کلین ہونے سے اتفاق نہ کیا تو گیلانی آپریشن کسی میدان میں دم خم توڑ بھی سکتا ہے وہ جو پارلیمانی کمیٹی بنائی ہوئی ہے اس سے کیا کروا لیا ہے اس نے اور شریفین نے۔ معلوم نہیں قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان اس آپریشن کے بارے میں اپنے اپنے یعنی اپنے اپنے پارٹی مالکان کے اس بارے میں خیالات کا اظہار کب کرنے جا رہے ہیں ورنہ اس پریڈ سے بھی کچھ تو اندازہ ہو ہی سکتا ہے کہ کون کس کے ساتھ تعاون کی بیلٹ باندھے ہوئے ہے۔ ہم عوام تو یہی کہہ سکتے ہیں ’’گیلانی جی زرداری ہمت دے‘‘
بلھیا گٹر ابلدے پانی دے
دانش تے حکمرانی دے
ڈھکنے چور چرا لے گئے نیں
بھٹو دی کرسی تے گیلانی بہہ گئے نیں ؟
Genius Sey Denger… by Yasir Peer Zada
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Shaheed-e-Hijaab…. by Mirza Ishtiaq Baig
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Aik Column Shaheed Key… by Mukhtar Ahmad Butt
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook




