Archive for July 13th, 2009
نواز لیگ کے برے دن by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ہم نے میاں شہباز شریف کو تقریباً دس بار یہ قیمتی مشورہ دیا ہے کہ اپنی پارٹی کو کوئی دم درود کروائیں یا کسی اچھے اور نامی گرامی پیر سے کوئی تعویذ دھاگہ ہی کروا لیں کیونکہ آپ کے ممبران اسمبلی کا جو حشر آجکل رنگ برنگے سکینڈل کر رہے ہیں‘ عین ممکن ہے کہ نواز لیگ کو سرکاری طور پر آفت زدہ جماعت ہی قرار دیدیا جائے مگر وزیراعلیٰ ہمارے دیگر قیمتی مشوروں کی طرح اس حکیمانہ بات کو بھی ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔
صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو ویسے تو آجکل افاقہ ہے کیونکہ موصوف نے پچھلے دو ہفتوں سے ایسی کوئی حرکت نہیں کی کہ جس سے انکی پارٹی کو شرمندہ ہونا پڑے البتہ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے یہ بات بلاتامل کہی جا سکتی ہے کہ عنقریب انکی طرف سے تازہ ’’واردات‘‘ کی خبر آنے والی ہے۔
یہ سلسلہ راولپنڈی والے‘ حاجی پرویز ایم این اے سے شروع ہوا جنہیں اپنی جگہ کسی اور کو امتحان دلوانے کے الزام میں فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد عارفوالہ کے رانا زاہد کی باری آئی۔ پھر جھنگ کے ایک بلوچؔ صاحب‘ کلثوم نامی اپنی ایک عزیزہ کے کیس میں کافی خوار ہوئے۔ پھر منور گِل صاحب کی ایک ’’گم گشتہ‘‘ داستان سامنے آئی اور آج یہ نیا قصہ شروع ہو گیا ہے شمائلہ انجم رانا ایم پی اے کا۔ رپورٹ کے مطابق یہ محترمہ بیدیاں روڈ لاہور کی رہنے والی ہیں۔ لاہور کے ایک جم میں ورزش فرماتی ہیں۔ ٹی وی فٹج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اپنا زیادہ تر وقت جم میں ورزش کرتے ہی گزارنا چاہئے۔ اسی جم کی ایک اور خاتون ممبر زارا ملک نے 7جولائی کو اپنے کریڈٹ کارڈز کی گمشدگی کی رپورٹ کی۔ اُسی دن شمائلہ انجم صاحبہ نے ایک جیولری شاپ پر شاپنگ کی اور مذکورہ کریڈٹ کارڈ پیش کردیئے۔ رسید پر دستخط بھی آپ نے زارا ملک ہی کے کئے چنانچہ اس بات کو تو خارج از امکان ہی سمجھئے کہ یہ سب کچھ کسی غلط فہمی یا حماقت کے نتیجے میں ہوا۔ اس واردات کی ساری فٹیج تمام ٹی وی چینل دن میں دس دس دفعہ چلا کر بیچاری نواز لیگ کی نیک نامی کا ستیاناس کر رہے ہیں۔
حکومت پنجاب نے شمائلہ انجم کے خلاف پرچہ درج کرنے کی ہدایت کر دی ہے مگر تاحال کسی کو اندر کی بات معلوم نہیں ہو سکی۔ ہم ذاتی طور پر بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ اس محترمہ کو یہ علم ہی نہ ہو کہ بغیر اجازت کسی کا کریڈٹ کارڈ اور وہ بھی چوری شدہ‘ استعمال کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ محض ایک مفروضے کے تحت ہمارا دماغ صرف اسی نکتے پر مرکوز ہوتا چلا جا رہا ہے کہ یہ کارڈ چوری شدہ نہیں تھے بلکہ عین ممکن ہے کہ زارا ملک صاحبہ نے برضا و رغبت یہ کارڈ ایم پی اے صاحبہ کی خدمت میں پیش کئے ہوں کہ میرا ایک کام حکومت پنجاب میں پھنسا ہوا ہے‘ آپ براہ کرم وزیراعلیٰ سے کہہ کر کروادیں۔ ایم پی اے صاحبہ نے جو رقم ڈیمانڈ کی ہو وہ زارا ملک کے پاس فی الوقت دستیاب نہ ہو اور اس نے یہ کہہ کر کارڈ دے دیئے ہوں کہ آپ مطلوبہ رقم کے مساوی شاپنگ کر لیں! تاہم جب ایم پی اے صاحبہ مذکورہ کام کروانے میں لگاتار ناکام چلی آ رہی ہوں اور اپنی تمام تر توجہ صرف ورزش وغیرہ پر ہی مرکوز رکھے ہوئے ہوں تو پھر یہ بھی تو ممکن ہے کہ زارا ملک کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہو اور اس نے اپنی رقم معہ کریڈٹ کارڈ واپس مانگ لئے ہوں مگر جیسا کہ اکثر مرتشی افسران و سیاسی لیڈران کے ہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ کام بھی نہیں کرتے اور رشوت کی رقم بھی ڈکار جاتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہمارا یہ مفروضہ غلط ہو اور یہ سارا معاملہ محض کسی غلط فہمی کا ہی نتیجہ ہو مگر لگتا یہی ہے کہ شمائلہ انجم رانا صاحبہ پھنسی بہت بری ہیں۔
اگلا کالم جب قارئین کی نظر سے گزرے گا‘ ہم اس وقت انشاء اللہ نیلؔ کے ساحل پر پائے جا رہے ہوں گے کہ وزیراعظم کے دورۂ مصر کی کوریج کے لئے ہم کل روانہ ہو رہے ہیں۔ بذریعہ کالم وہاں سے ملاقات ہوتی رہے گی۔ غیر وابستہ ممالک کی اس کانفرنس کا اہم ترین پہلو گیلانیؔ منموہن ملاقات ہے اور ہماری توجہ کا مرکز بھی بھارتی وزیراعظم ہی رہیں گے مصری بیلے ڈانسرز ہرگز نہیں!!
Ye Deres Hikmet… by Irfan Siddiqui
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Sedareti Fermaan by Amaar Choudry
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


وزیراعظم کی خوشی پھر خفگی؟ by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
بہبود آبادی کی ایک تقریب میں خاتون وزیر فردوس عاشق اعوان نے ناچ گانے کا بھرپور انتظام کیا ہوا تھا۔ وہ آجکل بہبود آبادی کے لئے بڑی فکرمند ہیں اور آبادی بڑھنے کو ترقی نہ ہونے کا ایک سبب سمجھتی ہیں۔ اس سے پہلے اور اب بھی حکومت اس حوالے سے بہت مستعد ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ آبادی میں اضافہ پچھلی حکومت کا ورثہ ہے جو ہمیں ملا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے برعکس یہ ’’اوورشیڈنگ‘‘ بھی پچھلی حکومت کا تحفہ ہے۔ انہیں دل ہی دل میں ان باتوں کی خوشی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی پچھلی حکومت کا تحفہ ہے۔ وہ یہاں شہید بی بی کو نہیں بھولتے۔ بی بی شہید اور زندہ جنرل مشرف دونوں کے ممنون ہیں کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت انہی کی بدولت ملی ہے اور تھوک کے حساب سے ملی ہے۔ ان کے علاوہ اصل ’’داتا‘‘ تو امریکہ ہے اور امریکہ کہتا ہے کہ بھارت بھی ہے۔ چنانچہ سارے جیالے اور جیالیاں بھارت کے بھی بہت شکرگزار ہیں۔ جس طرح ہر حکومت کی طرف سے بے تحاشا اقدامات کے باوجود آبادی میں بے محابا اضافہ ہوتا رہا ہے‘ آجکل بھی ہو رہا ہے تو یہ تسلسل ہے ہماری حکومتوں کی بے حساب کارکردگی کا اور ناچ گانے کی تقریب بھی پرانی حکومت اور پرانی حکومتوں کا تسلسل ہے جن میں دو ادھوری حکومتیں پیپلز پارٹی کی بھی شامل ہیں۔ ناچ گانے سے ترقی ہوتی تو صدر مشرف کا دور حکومت مثالی تھا کہ روز وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر مشرف ان محفلوں میں شریک ہوتے بلکہ باقاعدہ شریک ہوتے تھے۔ ایسی ایک محفل میں ایک بڈھا بیوروکریٹ ناچ ناچ کے تھکتا نہ تھا۔ اس کو تالیاں بجا بجا کر داد خود صدر اور وزیراعظم دے رہے تھے۔ اچھا ہوا کہ دونوں تھک گئے ورنہ بے چارہ سینئر بیوروکریٹ اپنی جان دے دیتا۔ جب بہبود آبادی کے اس آئٹم کا اعلان ہوا تو وزیراعظم مخدوم گیلانی نے تالیاں بجائیں۔ بڑی دلچسپی سے ناچنے والیوں کی پرفارمنس دیکھتے رہے۔ بہبود آبادی کے لئے اس سے زیادہ کیا کارکردگی ہو سکتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کو مبارک ہو اس دوران شاباش لینے کے لئے وہ مخدوم گیلانی کے پاس گئیں اور پاس ہو کر آئیں۔ جونہی ناچ ختم ہوا وزیراعظم نے اس پر خفگی کا اظہار کر دیا۔ رقص کے دوران مخدوم گیلانی نے محو تماشا خواتین و حضرات اور رقاصائوں کا دل توڑنا اچھا نہیں سمجھا۔ وہ بہت دھیمے مزاج کے اہل دل آدمی ہیں۔ وہ خود بھی فنکار ہیں کہ ایک کتاب کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب اڈیالہ جیل کی ایک یاد ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایسی کتابیں وہ اور بھی لکھیں۔ اس کے لئے اڈیالہ جیل جانا ضروری نہیں۔ وزیراعظم ہائوس کی قید ہی کافی ہے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل اور وزیراعظم ہائوس میں زیادہ فاصلہ نہیں۔ یہ فاصلہ اڈیالہ جیل سے وزیراعظم ہائوس تک کم ہے مگر وزیراعظم سے اڈیالہ جیل تک ابھی خاصا زیادہ ہے۔ ناچ گانے کی ایک تقریب اڈیالہ جیل میں بھی ہونا چاہئے۔ اس کی ذمہ داری بھی فردوس عاشق اعوان کو سونپی جائے۔ بہبود آباد کے لئے بھی یہ بڑا ضروری اقدام ہے مگر ان اقدامات سے برعکس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ جو چیز کم کرنا ہوتی ہے وہ ’’بہترین کارکردگی‘‘ کے نتیجے میں بڑھتی رہتی ہے۔ بڑھانے کے لئے اقدامات سے کمی واقع ہوتی ہے۔ شہر میں پولیس والوں نے ناکے لگا لگا کے خواتین و حضرات کے ناک میں دم کر دیا ہے مگر شہر میں ڈاکے بڑھتے جاتے ہیں۔ پولیس والوں اور ڈاکوئوں میں فرق نہیں۔ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ جب سے بہبود آبادی کے محکمے کا الگ وزیر یا وزیرنی بنی ہے‘ آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے لئے اخراجات اور مراعات بھی بڑھتی جاتی ہیں ؎
اِدھر ناکے پہ ناکہ چل رہا ہے
اُدھر ڈاکے پہ ڈاکہ چل رہا ہے
اِدھر منصوبہ بندی کے ہیں چرچے
اُدھر کاکے پہ کاکا چل رہا ہے
تقریب میں مذہبی امور کے وزیر حامد سعید کاظمی بھی بقائمی ہوش و حواس اپنی ساری خوبصورتی اور میک اپ کے ساتھ پوری طرح موجود تھے۔ کہا گیا ہے کہ وہ آنکھیں بند کئے بیٹھے رہے اور تسبیح پڑھتے رہے۔ع
منکے تے منکا ٹھاہ منکا
میں دوسرا مصرع نہیں پڑھوں گا کہ نجانے کاظمی صاحب کیا پڑھتے رہے۔ ماشاء اللہ اور انشاء اللہ۔ کہتے ہیں کہ پہلی نگاہ پڑ جائے تو خیر ہوتی ہے۔ آنکھیں بند کرنے کے بعد پھر کھولی جائیں تو یہ نگاہ بھی پہلی نگاہ تصور کی جاتی ہے ؎
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو اِک ادا میں رضامند کر گئی
وزیراعظم نے تقریب کے آخر میں کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے یاد آیا کہ ایک پٹھان دوست لندن گیا۔ دوران پرواز سور کے گوشت کے بنے ہوئے کباب بڑے مزے سے کھائے۔ پھر ائرہوسٹس سے اظہار ناراضگی کیا۔ ساتھ والے نے پوچھا کہ خان صاحب کباب کیسے تھے۔ اس نے کہا کہ سور کے بچے تھے تو بڑے مزیدار… خان صاحب نے لندن میں ہدایت کی ہوئی تھی کہ کھانے کے بعد بتایا جائے کہ یہ سور کے گوشت کے کباب تھے تاکہ میں اس وقت اظہار ناراضگی کر سکوں۔
مجھے مرزا غالب بھی یاد آ گیا ہے۔ جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ایک کرنل کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ غالب نے کہا صاحب میں آدھا مسلمان… کرنل حیران ہوا تو غالب نے کہا کہ صاحب میں شراب پیتا ہوں سور نہیں کھاتا۔ ہم سب اب تک آدھے ادھورے ادھ موئے مسلمان ہیں۔ ہمارے اکثر امیر کبیر وزیر شذیر اور کئی لوگ شراب پی لیتے ہیں مگر سور کے گوشت سے پرہیز کرتے ہیں۔ آدھا مسلمان ہونے سے مسلمان نہ ہونا بہتر ہے۔ ہم نجانے منافقت کے کس مقام پر ہیں۔ تبھی تو دنیا میں صرف ہم ہی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ دہشت گرد بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ورنہ دنیا والے ہر دہشت گرد کو مسلمان کہتے ہیں۔
Dono Mien Koi Fereq Nahi by Hamid Mir
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Wiko Jekoo (1) by Abdulla Tariq Sohail
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Ik Zara Seber Key… by Haroon ur Rashed
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Chief Saab… by Sikandar Lodhi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Ham Mien “Jozey Marti”… by Ali Masood Syed
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

کوے ہیں سب دیکھے بھالے by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
آئو کچھ ’’حسن یار‘‘ کی باتیں کریں۔ ’’میں نے آج سابق چیف جسٹس آف پاکستان چودھری یعقوب علی سے پوچھا کہ حمودالرحمن کمشن کی رپورٹ ضائع کر دی گئی ہے یا موجود ہے؟‘‘ چودھری صاحب نے کہا ’’رپورٹ موجود ہے اور میں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ اسے شائع کر دیا جائے مگر وہ مانے نہیں تھے۔‘‘ ’’کیوں نہیں مانے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا ’’وہ کہتے ہیں اس جنگ میں ایک ایسے ملک نے پاکستان کی مدد کی تھی جس کا علم ہو جانے سے مسلم ممالک کے ناراض ہو جانے کا خدشہ ہے اور اس کی تفصیل کمشن کی رپورٹ میں موجود ہے‘‘ چودھری صاحب کے جواب پر میں نے پوچھا ’’وہ کونسا ملک ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’ظاہر ہے وہ کونسا ملک ہے جس سے سارے مسلم ممالک ناراض ہو جاتے ہیں‘‘ میں نے کہا ’’ہم تو یہ سنتے آئے ہیں کہ اس نے بھارت کی مدد کی تھی‘‘ میرا اشارہ اسرائیل کی طرف تھا۔ چودھری صاحب نے کہا ’’وہ بھی ٹھیک ہو گا مگر چونکہ امریکی اسلحہ اسی کے پاس تھا اور وہ تو تاجر ہے اسے تو پیسے لینا ہوتے ہیں تاجر قوم ہے جس کے پاس چیز بکے گی بیچ دیں گے‘‘ میں نے کہا ’’ہو سکتا ہے ہم نے اس سے کوئی فالتو پرزے وغیرہ خریدے ہوں‘‘ کہنے لگے ’’ہاں ہو سکتا ہے وہ کہتا ہے کچھ خریدا تھا‘‘ میں نے کہا ’’یہ تو امداد نہ ہوئی‘‘ کہنے لگے ’’ہاں جو بھی کہہ لیں۔ میں نے بھٹو صاحب سے کہا تھا کہ آپ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دیں وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے گی اور اس حصے کو قومی مفاد کے منافی قرار دے کر رپورٹ سے نکال دے گی اور باقی رپورٹ شائع کر دے گی اس سے آپ پر کوئی حرف نہیں آئے گا مگر وہ مانے نہیں تھے کہتے تھے کہ لوگ کہیں گے بھٹو نے اپنے بارے میں چیزیں نکلوا دی ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ اس کی ذمہ داری ہم جج اپنے اوپر لے رہے ہیں مگر وہ پھر بھی نہیں مانا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’بھٹو کے بارے میں اس رپورٹ میں کچھ ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’زیادہ نہیں میں کمشن کا رکن بھی نہیں تھا اور میں نے وہ رپورٹ دیکھی بھی نہیں۔ وہی کچھ جانتا ہوں جو حمودالرحمن نے خود مجھے بتایا تھا‘‘ (چوبیس مئی 1983ئ)۔ تحقیق لازم تھی آج میں نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان شیخ انوارالحق سے پوچھا ’’کیا 1971ء کی جنگ کے دوران اسرائیل نے پاکستان کی کوئی مدد کی تھی؟‘‘ ’’رپورٹ میں تو ایسی کوئی بات نہیں‘‘ ان کا جواب تھا ’’کیا کسی گواہ نے کوئی ایسی بات کہی تھی کہ پاکستان نے اسرائیل سے کوئی سامان خریدا تھا؟‘‘ کہنے لگے ’’رپورٹ مکمل ہونے پر بھٹو نے ہمیں لکھا تھا کہ آپ اس بارے میں ہر قسم کے ریکارڈ اپنے نوٹس اور کاغذات ہمارے حوالے کر دیں ہم نے میٹنگ کی میں نے حمودالرحمن نے اور طفیل علی نے۔ ہم تینوں کمشن کے ارکان تھے۔ طفیل علی نے کہا ’’یہ بہت بُرا آدمی ہے کل کو سرکاری رازوں کی چوری کا مقدمہ ہم پر کھڑا کرا دے گا ہم نے سب چیزیں اسے بھجوا دی تھیں میرے پاس کوئی چیز نہیں لیکن مجھے نہیں یاد کہ کوئی ایسی گواہی آئی تھی‘‘۔ میں نے پوچھا بھٹو کہاں تک ملوث تھا سانحہ 1971ء میں؟‘‘
شیخ صاحب کا جواب تھا ’’بھٹو نے کمشن کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ میں نے ’’ادھر ہم ادھر تم‘‘ کہا تھا اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والا جو بھی رکن قومی اسمبلی ڈھاکہ میں بلائے گئے اجلاس میں شرکت کرے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی جس کو جواز بنا کر اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا کمشن نے بھٹو سے یہ بھی پوچھا تھا اپنی ساری انتخابی مہم کے دوران آپ نے شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کی مخالفت کیوں نہیں کی تھی اور اس بارے میں واضح موقف کیوں اختیار نہیں کیا تھا؟ جس کے جواب میں اس نے کہا تھا کہ ’’میں نے ایک دو تقریروں میں اس کا ذکر کیا تھا‘‘ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کہہ سکا تھا مگر بھٹو کی طرف سے چھ نکات کے بارے میں آخری لمحوں میں اتنی شدید مخالفت اور انتخابی مہم کے دوران ایسی خاموشی بڑی اہم ہے اس معاملے میں مگر اصل ذمہ دار تو وہ تھا جس کے پاس اقتدار تھا اس وقت بھٹو کا حصہ تو سیاسی تھا جسے اس کی کوتاہی بھی کہا جا سکتا ہے۔ میں نے پوچھا ’’آپ نے نیازی کا کورٹ مارشل کرنے کی بھی تو سفارش کی تھی اس پر عمل کیوں نہ ہوا؟‘‘ شیخ صاحب نے گردن اٹھائی ’’تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’یہ رپورٹ کے صفحہ 194 پر لکھا ہوا ہے‘‘ شیخ صاحب کھل کر بتانے لگے ’’ہم نے تو جنرل رحیم کا کورٹ مارشل کرنے کی بھی سفارش کی تھی جو بھی بنگالی گواہ آتا تھا جنرل بھگوڑا جنرل بھگوڑا کہتا تھا ہم نے پوچھا وہ کون ہے تو انہوں نے جنرل رحیم کا نام بتایا کہ وہ بھگوڑا ہے اس کا کورٹ مارشل بہت ضروری تھا پھر خود ہی بتایا کہ جب جنرل پیرزادہ کے ماتحت جی ایچ کیوں میں ہوتا تھا رحیم‘ تو وہ اور اس کا ایک ساتھی بنگالی بریگیڈئر کریم‘ بھٹو کو جی ایچ کیو کی سوچ اور منصوبوں سے آگاہ رکھتے تھے جس کے صلے میں بھٹو نے اس کا کورٹ مارشل کرنے کی بجائے پہلے اسے گل حسن کی جگہ سی جی ایس لگایا اور جب فوج میں احتجاج ہوا کہ وہ تو کمان چھوڑ کر بھاگ آیا تھا تو اسے ملٹری کالج کا پرنسپل لگا دیا اور پھر سفیر بنا دیا تھا۔ بریگیڈئر تجمل جس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا اور آخری وقت تک لڑتا رہا تھا وہ کچھ بڑبولا تھا اس کا کورٹ مارشل کر کے اسے بیس سال قید سنا دی گئی۔ شیخ صاحب نے بتایا کہ کمشن کے قیام کے وقت جسٹس حمود الرحمٰن نے بھٹو سے کہا تھا کہ ’’میں اگرچہ پاکستان میں رہنا پسند کرتا ہوں مگر بنگالی ہوں اگر آپ نے کمشن بٹھانا ہے تو اس کی رپورٹ شائع کرنا لازم ہے۔ بھٹو نے کہا ’’ہاں ہاں کیوں نہیں اسی لئے تو کمشن بٹھایا جا رہا ہے‘‘ رپورٹ مکمل ہو گئی تو جسٹس حمود الرحمٰن نے بھٹو سے ملاقات کی جس میں خود میں بھی موجود تھا اور رپورٹ شائع کرنے کا وعدہ یاد دلایا مگر بھٹو آنے بہانے کر کے بات ٹالتا رہا تھا‘‘ (یکم جون 1983ئ) یہ تو ہے اس ذوالفقار علی بھٹو کا سپریم کورٹ کے بارے میں رویہ جس کی سیاسی گدی کے صدر مکرم وارث ہیں۔ ان کا اپنا رویہ؟ کچھ دیکھ لیا ہے باقی دیکھ لیں گے اور وہ جو سقوط ڈھاکہ کے سیاسی اسباب تھے؟ کوئی کرے گا ان کی تحقیق و تفتیش کے بارے میں کوئی کمشن قائم کہ حمود الرحمٰن کمیشن تو فوجی اسباب کے بارے میں تھا۔ سینتیس سال کے سفر میں اس کی کیوں کسی نے کبھی ضرورت محسوس نہیں کی؟ اس حوالے سے تو ’’کوے ہیں سب دیکھے بھالے چونچ بھی کالی پر بھی کالے‘‘!!



