Archive for July 12th, 2009

شہر میں شور دل میں سناٹا؟… by Bushra Rehman

12 July, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

اس روز… میں اسلام آباد سے آدھی رات کے وقت اپنے گھر لاہور پہنچی، کمرے میں آتے ہی میں نے ٹی وی لگا دیا، ایک تو کمرے کو احساس دلانے کے لئے کہ میں آ گئی ہوں۔ دوسرا یہ کہ شام کی خبریں نہیں سن سکی تھی۔مگر ایک چینل سامنے آ گیا‘ جس پر مائیکل جیکسن کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں ۔اور ایک جم غفیر تھا جو بڑھتا جا رہا تھا… میں وہاں رک گئی۔
میں اس نسل میں سے نہیں ہوں۔ جو اس کی دیوانی تھی، میں پاپ میوزک کی شدھ بدھ بھی نہیں رکھتی مجھے اس کا کبھی کوئی انداز نہیں بھایا تھا۔ نہ کوئی تھرل شرل پیدا ہوتی تھی۔ ہاں یہ ایک جدت ضرور لگتی تھی اور جدت ہی زمانہ ہے۔ جو نئی اور اوریجنل چیز سامنے آتی ہے۔ وہ زمانہ بن جاتی ہے۔ سو مائیکل جیکسن نے ایک نیا زمانہ پیدا کر دیا۔ ایک نسل اس کی دیوانی ہو گئی۔ مشرق سے لے کر مغرب تک اس کی آواز گونجنے لگی یہ قدرت کا عطیہ تھا۔ قدرت فیاض ہے۔ اس نے بے شمار بہن بھائیوں میں سے مائیکل جیکسن کو چن لیا۔ جو سب سے چھوٹا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ سب سے بڑا بن گیا۔
پھر دولت، شہرت، عزت، محبت اور عقیدت اس کی باندیاں بنی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگیں۔ اسے کہتے ہیں؎
کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی!
ہماری نسل کو چاہے اس کا ہر انداز بے معنی اور مضحکہ خیز لگتا ہو۔ مگر اپنے ملک میں اس کے ملبوسات‘ اس کے انداز، اس کے گیتوں نے ہلچل مچا دی۔ اس میں غالباً بجلیاں بھری ہوئی تھیں۔ لگتا تھا۔ وہ محض زمانے سے لڑنے کے لئے آیا ہے۔ مگر سٹائل اس کا اپنا ہے۔ دنیا بھر میں خصوصیت سے اور مسلمان ملکوں میں بھی اس کے چرچے پیدا ہونے لگے… یوں زمانہ بھی کسی جنونی اور دیوانے کا انتظار کرتا رہتا ہے۔
مجھے اس کی ذات پر کوئی بات نہیں کرنی۔ میں اس کی آخری رسومات دیکھ کر سوچ رہی تھی۔ کہ آخر یہ شہرت ہے کیا: اور شہرت کا فلسفہ کیا ہے ۔اور کیا یہ دائمی ہوتی ہے؟۔
دنیا میں بہت سے لوگ شہرت کے پیچھے دیوانے ہو جاتے ہیں… شہرت حاصل بھی کر لیتے ہیں۔ پھر دفعتاً منظر سے ڈوب جاتے ہیں۔ کیوں:؟ صرف گیت اور سنگیت کی دنیا میں نہیں۔ اقتدار کی دنیا میں، فن اور آرٹ کی دنیا میں، سٹیج اور فلم کی دنیا میں، ادب اور شاعروں کی دنیا میں، جب تک سائل شہرت کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ تب تک وہ اس کی باندی بنی رہتی ہے ذرا سا وہ شہرت کو مزاج دکھائے، نخرہ دکھائے یا نخوت سے پیش آئے۔ اور کسی روز بھولے سے دل میں سوچ بیٹھے۔ کہ میں وقت کا سب سے زیادہ لاڈلا ہوں… تو شہرت پرچھائیں کی طرح ہولے ہولے اس سے دور ہونے لگتی ہے۔
اقتدار کا عرصہ بھی اتنا ہوتا ہے۔ اختیار کا دورانیہ بھی اتنا ہوتا ہے۔ بہت کم بندوں کو اس بات کا شعور ہوتا ہے ۔کہ شہرت یا اقتدار کے نصف النہار پر ہی خودبخود پسپائی اختیار کریں۔ دولت، شہرت، عزت… ان کا آخری سرا معدوم ہوتا ہے ۔عدم کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے۔ جسے میں تھوڑے سے تصرف کے ساتھ شہرت پر لاگو کر دیا کرتی ہوں۔ کہ جو یہ شہرت ہے نا؟
جو اہل دل ہیں بڑھاتی ہے آبرو ان کی
اور جو بے شعور ہیں ان کو خراب کرتی ہے!
ایسے میں دو ہی راستے ہیں۔ ایک میکدے کی طرف جاتا ہے۔ اور دوسرا مصلّے کی طرف…
محمد علی کلے مسلمان ہو گیا۔ ڈیانا کے بارے میں بڑی باتیں مشہور ہوئیں۔ ایک مسلمان ہونے والی بھی تھی۔ مائیکل جیکسن زندگی کے ان کربناک لمحات میں اسلام کی طرف مائل ہوا تھا۔ اس کے بھائی نے بتایا۔ اس لئے اپنے گھر میں قرآن خوانی کروائی۔ اتنا سب کچھ حاصل کر چکنے کے بعد اسے دل کے سکون کی تلاش تھی۔ دل کا سکون نشہ آور ادویات میں نہیں ہوتا۔ اور حد سے زیادہ شہرت آپ سے تاوان مانگتی ہے۔ تاوان میں آپ اپنی جان دیں گے کہ ایمان… دل کے اندر ایک حجرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان چیزوں سے خودبخود بے نیاز کر دے۔ اس نے جو چاہا وہ حاصل کر لیا۔ شاید بچپن میں کسی نے اسے کالا کہہ کر اس کی دل آزاری کی ہو۔ تبھی اپنی شہرت کی انتہا پر اس نے گورا بن کر دکھا دیا۔ یہ اس کی قدرت کے ساتھ پہلی ٹکر تھی۔ اور پھر وہ کیا جانتا تھا کہ اس کے ملک میں ایک رنگدار صدر بھی آ جائے گا… تو کیا بندہ قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں سے انحراف کر سکتا ہے… نہیں!
بہت مشہور آدمی کی زندگی اندر سے ایک گیس بھرے ہوئے غبارے کی طرح خالی ہوتی ہے۔
آسمان اونچا تو ہے لیکن بڑا تنہا بھی ہے:
لیکن آسمان تو اپنی تنہائی کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا۔ اسی لئے بندے کو بھی زمین پر ہی رہنا چاہئے چڑھتے سورج کو ڈھلنا ہوتا ہے۔ اندھیری گھنیری رات کو بدلنا ہوتا ہے۔ مگر وہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو اس زمانے کو کچھ دے کر گئے ہوں۔
گزشتہ کئی سالوں میں مائیکل جیکسن کیا کرتا رہا۔ کیسے رہا۔ اپنوں میں پرایا بن کے۔ یا ہجوم کے اندر سایا بن کے۔ جس کام کے لئے وہ آیا تھا۔ اسے وہ کر چکا تھا۔
اب اس کا بھیجا نکال کر رکھ لیا جائے۔ یا اس کی موت کے بارے میں روز نیا انکشاف کیا جائے۔ لاحاصل ہے۔
یاد رکھنے کے قابل اس کا آخری سفرہے۔ سنا ہے کہ پچھلے بیس سالوں میں امریکہ میں ایسا جنازہ کسی کا نہیں اٹھا۔ شاید وہ اپنے لوگوں کے دل میں رہتا تھا۔ ہمارے لئے بھلے وہ گّویا ہو۔ مغنی ہو یا ناچا لیکن اپنے ملک کے لئے وہ King of Pop تھا (کنگ آف پاپ) آج کل یہ موسیقی دنیا بھر میں رائج ہے۔ اور اہل امریکہ نے اس کی آخری رسومات بھی شاہانہ انداز میں ہی کیں۔ شیخ سعدیؒ نے کیا خوب کہا تھا؎
یادداری کہ وقت زاد تو ہمہ فندہ بو دند تو گریاں!
اے انسان! یاد کر جب تو پیدا ہوا تھا، تو تو رو رہا تھا اور تیرے اردگرد سارے لوگ خوشی سے ہنس رہے تھے۔ اب تو دنیا میں کچھ ایسا کر کے جا کہ تیرے اردگرد سب رو رہے ہوں۔ اور تو ہنس رہا ہو۔ معلوم نہیں :کسی نے اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ دیکھی ہو۔
مگر جس اعزاز اور افتخار کے ساتھ… لاس اینجلس میں اس کی آخری رسوم ادا کی گئیں اور جس محبت اور عقیدت سے اسے خراج پیش کیا گیا اور جس طرح اشکوں میں پرو کر خراج ادا کیا گیا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا…
لگتا ہے اس نے اللہ کے بندوں کے لئے کوئی اچھا کام ضرور کیا ہو گا؟

Categories : Bushra Rehman Tags : , , , , , , , , ,