Archive for July 8th, 2009
Ayeni Islahaat… by Irfan Siddiqui
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Na Qabil-e-Maafi… by Dr Abdul Qadeer Khan
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Americi Jang Sey… by Qazi Hussain Ahmad
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

ناصر چٹھہ کا بڑھاپا‘ کشمالہ اور عزیزی! by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ہمارے دوست عزیزی ناہنجار کی جملہ ذلالتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی ہر تیسری بات ذومعنی ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم اس کے شر سے پورا پورا مہینہ محفوظ رہتے مگر اب بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ہمیں ناہجار کو تقریباً ہر روز بھگتنا پڑتا ہے۔
آج صبح سویرے بی بی سی پر جنوبی امریکہ میں رونما ہونے والے ایک دردناک حادثے کی فٹیج دیکھی اور یقین کر لیا کہ آج کی تاریخ میں اس سے زیادہ اندوہناک مناظر اور اس سے زیادہ پریشان خبر شاید کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی‘ مگر دیگر خیالات کی طرح یہ بھی ہمارا خیال خام ہی تھا ہم دفتر میں بیٹھے اپنا تباہ حال موڈ درست کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اور اس نیک مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوگئے مگر عین اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا اورایک چہرہ نوید ذلت بن کر نمایاں ہوا۔ ہم نے فوراً سوچا کہ آخر ایسا کیا کر بیٹھے ہیں کہ آج ہمیں ایک ہی طرح کے مناظر بار بار دیکھنے پڑ رہے ہیں مگر پھر یاد آیا کہ بدقسمتی سے گذشتہ شام ہم اپنی نالائقی کے سبب والدہ محترمہ کو کچھ دیر کیلئے ناراض کر بیٹھے تھے گو کہ یہ ناراضی فقط ایک آدھ گھنٹے تک ہی رہی مگر عزیزی کی شکل دیکھتے ہی محسوس ہوا کہ یہ اسی کی سزا ہے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا ’’یہ حامد ناصر چٹھہ بھی ضرورت سے زیادہ ہی بوڑھا ہوگیا ہے‘‘۔ اور یہ کہتے ہی حسب روایت دھڑام سے صوفے پر آگرا۔
’’کیا تم مجھے صرف یہ اطلاع دینے اتنی دور سے یہاں آئے ہو کہ حامد ناصر چٹھہ صاحب ضرورت سے زیادہ ہی بوڑھے ہو چکے ہیں‘‘ ہم نے سخت بیچارگی کے ساتھ دریافت کیا۔ ’’تو کیا تمہارے خیال میں یہ کوئی اہم بات ہی نہیں ہے‘‘ اس نے عورتوں کی طرح انگلیاں نچاتے ہوئے انتہائی مضحکہ خیز انداز میں کہا۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ صرف ہمارا دفتر‘ بلکہ پوری عمارت نو سموکنگ ایریا ہے اس نے پوری شد و مد کے ساتھ سگریٹ سلگا لیا۔ ہم نے بوجوہ ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار نہیں کیا کیونکہ ہمارا یہی ردعمل اس کیلئے روحانی سکون کا باعث ہوتا ہے بلکہ جب اس کے پے درپے ’’سُوٹے‘‘ مارنے اور دھوئیں کے مرغولے چھوڑنے پر بھی ہم نے چنداں نوٹس نہ لیا تو وہ پریشان ہونے لگا۔ اس کی یہی پریشانی ہمارے سکون کا باعث بنتی ہے۔ کہنے لگا ’’تمہیں پتہ ہے کل چٹھہ صاحب نے بھری محفل میں بیچاری کشمالہ طارق کو ڈانٹ دیا؟‘‘
’’ہاں مگر اس کا ان کے بڑھاپے سے کیا تعلق ہے‘‘ ہم نے جھلا کر پوچھا اور ایش ٹرے اس کے آگے کر دی کیونکہ وہ کافی کے ایک استعمال شدہ مگ کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا گو کہ ہم نے ایش ٹرے اس کے آگے ناک تک سرکا ڈالی مگر اس بدذات نے وہی کیا جس کا خدشہ تھا‘ اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ سگریٹ کی راکھ کافی مگ کے اندر جھٹک دی۔ ’’یار تم خود سوچو کہ اس کرۂ ارض پر کوئی ایسا کم نصیب بھی ہوگا جو کشمالہ طارق کو یوں ڈانٹ ڈپٹ کرے‘ یہ کام صرف دو طرح کے مرد ہی کر سکتے ہیں ایک وہ جو دماغی طور پر ہلے ہوئے ہیں اور یا پھر رعشہ زدگی کی حد تک بوڑھے ہوں۔ چٹھہ صاحب کے بارے میں یہ بات تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اول الذکر میں سے نہیں البتہ بوڑھے ضرور ہیں۔ ورنہ کشمالہ جیسی خوش شکل خاتون کو ڈانٹنا کوئی معمولی بات نہیں‘‘۔
چونکہ عزیزی کی خرافات کا ہم نے نوٹس نہ لینے کا تہیہ کر رکھا تھا اس لئے ہم اپنے کام میں مگن رہے۔ یہ دیکھ کر اس کمبخت نے اپنا وہ سگریٹ جس کا وہ تقریباً نصف فلٹر بھی پی پلا گیا تھا کافی مگ میں بچی ایک آدھ گھونٹ کافی میں ڈبو کر بجھا ڈالا۔ ہم نے شدید غصے کے عالم میں چلانا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد ہمیں ہانپتا دیکھ کر ناہنجار اسی اطمینان اور سکون کے ساتھ بولا ’’آج میں تمہیں بتانے آیا تھا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت صدر آصف علی زرداری سے پوری طرح مایوس ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں ایک جامع قسم کا لائحہ عمل بھی تیار کر لیا گیا ہے اس لائحہ عمل میں ایک دو باتیں بڑی سنسنی خیز اور سبق آموز ہیں مگر تم جیسے ناشکرے شخص کو اس قدر قیمتی خبر دینا میں مناسب نہیں سمجھتا‘‘
ناہنجار نے مزید دو چار اعلیٰ پائے کی گستاخیاں کیں اور پھر موبائل فون پر کسی انتہائی اہم شخصیت کے ساتھ بات کرتا کرتا دفعان ہو گیا۔
Air Conditioner aur… by Asad ullah Ghalib
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


خطرہ بھارت کو پاکستان سے ہے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
برطانوی وزیر خارجہ نے ٹھیک کہا ہے کہ ’’پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں ہے۔‘‘ اصل میں بھارت کو پاکستان سے خطرہ ہے! یہ خطرہ ایک مستقل بزدلانہ فعل ہے۔ پاکستان کو امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور روس کی مدد سے آدھا کرنے کے باوجود بھارت پاکستان سے ڈرتا رہتا ہے۔ اب اسرائیل بھی پاکستان سے باقاعدہ ڈرنے لگا ہے۔ روس بھی کہ اسے شکست دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں پاکستان، پاک فوج اور آئی ایس آئی نے کمال کردیا۔ برطانیہ بھی ڈرتا ہے کہ قبائلی علاقے پاکستان میں ہیں جہاں اسے شکست فاش ہوئی تھی۔ امریکہ برطانیہ کے بعد عالمی طاقت بنا۔ سوویت یونین (روس) کے بعد اب تو وہ واحد عالمی طاقت ہے مگر روس کے پاس ہزاروں ایٹم بم موجود ہیں۔ چین مسلسل خاموش ہے اور امریکہ کی جانب اپنے خونخوار ارادوں سے بڑھتا جا رہا ہے مگر پاکستان سے امریکہ کو کیا خطرہ ہے؟ پاکستان چین کیلئے اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ پاکستان کو کمزور کر رہا ہے پاکستان کے معاشی حالات تباہ ہو چکے ہیں اور اس میں پاکستان کے سارے حکمرانوں کا حصہ امریکہ کی مرضی کے مطابق کافی ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان ایٹمی ملک ہے۔ یہ سارے عالم اسلام کیلئے حوصلے کا باعث ہے۔ ایٹمی طاقت تو روس بھی تھا۔ اسے معاشی خلفشار میں لا کے مارا گیا۔ پاک فوج کتنی دیر تک کمزور پاکستان کا دفاع کرے گی۔ یہی تو خوف امریکہ اور بھارت کا ہے کہ پاک فوج کو کمزور کرناممکن نہیں۔ آئی ایس آئی کے مقابلے میں بھارتی ’’را‘‘ ایک لونڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستانی خفیہ تنظیم بہترین تنظیم ہے۔ اسی لئے سب اس کیلئے چیختے چلاتے ہیں۔قبائلی علاقوں اور سوات وغیرہ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو الجھا کے تھکایا جا رہا ہے مگر امریکہ جان لے کہ وہ تھکیں گے نہیں اور بالآخر امریکہ کو یہاں سے نکلنا پڑے گا۔ شاید وہ بُری طرح یہاں پھنس جائے کہ نکل ہی نہ سکے۔ یہیں اس کا کچومر نکل جائے۔ سوات،مالاکنڈ میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کی کامیابیوں سے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت بہت خوفزدہ ہیں۔ چنانچہ یہ بات طے ہے کہ امریکہ بھی پاکستان سے بُری طرح ڈرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ دوسروں کیلئے ایسا خطرہ بن جائے گا جو انہیں تباہ کردے گا۔ ایٹم بم ہم نے یونہی تو نہیں بنایا۔ اگر ہمارے ایٹمی اثاثوں کو خطرہ ہوا یا ہمارے ملک کو خطرہ ہوا تو ہم ایٹم بم چلائیں گے۔ بھارت تو ہماری زد میں ہے۔ بھارت نے ہمارے خلاف اور ہم نے بھارت کے خلاف ایٹمی تجربات کئے۔ دنیا والے جانتے ہیں کہ ہمارے ایٹم بم بھارت سے بڑھ کر ہیں اور ہمارے میزائل بھی اس کیلئے عزرائیل بن جائیں گے۔ اب ہماری دسترس میں اسرائیل بھی ہے۔ اسرائیل کی تباہی امریکہ اور برطانیہ کیلئے ایک ایسا دکھ ہوگا جسے وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ ایران سے بھی یہی تکلیف انہیں ہے ورنہ میرا خیال ہے کہ ممکنہ لڑائیوں میں آخری لڑائی اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہوگی اور برطانیہ ان دونوں کے بیچ مارا جائے گا۔ اب بھارت بھی امریکہ اور برطانیہ کا اتنا ہی چہیتا ہے۔ اسرائیل کو فلسطین،اردن اور مشرق وسطیٰ کیلئے اور بھارت کو پاکستان چین اور روس کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ تو خطرہ پاکستان کو بھارت سے نہیں۔ بھارت کو پاکستان سے ہے اور اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور ان کے بقول پوری دنیا کو پاکستان سے ہے۔ ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ہر میدان میں ہم نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ کھیل کے میدان میں پاکستان بھارت کا مدمقابل ہے۔ ایٹمی میدان میں ہم آگے ہیں جبکہ ایٹمی تجربہ ہم نے بھارت کے بعد کیا ہے۔ میزائل ہمارے اس سے اچھے ہیں۔ فوجی ہمارے جانثار اور بہادر ہیں۔ دو قومی نظریہ ابھی اس کی ہڈیوں میں لرزتا ہے۔ اپنے ملک میں کئی پاکستان بننے سے وہ ڈرتا ہے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی اس سے بہت آگے ہے۔
تحریک آزادی کو لیں تو ہم نے دگنا کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی کے ساتھ تحریک پاکستان بھی ہمارے قائداعظم نے چلائی۔ پنڈت نہرو اور قائداعظم کا کیا موازنہ مگر سن لیں کہ پنڈت نہرو نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور قائداعظم نے پاکستان بنایا۔ اب فرق آپ خود دیکھ لیں۔ گاندھی کو ایک ہندو نے مار ڈالا۔ یہ اس کے فکر و فلسفے کے دھوکے کے خلاف اپنی شدت کا اظہار تھا۔ پاکستان میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو برطانوی اور امریکی سازش کے تحت قتل کر دیا گیا۔ یہ سازشیں اب تک ہو رہی ہیں اور ہمارے حکمران اس میں مکمل طور پر شریک ہیں۔ اب تک تین وزیراعظم قتل کر دیئے گئے۔ مگر اب تک سیاستدان وزیراعظم ہی بننا چاہتے ہیں۔ صدر تو ہمیشہ آمر بنے۔ سویلین زرداری کا صدر بننا اس کی اپنی خواہش اور سازش ہے۔ ایک ہندو کسی مسلمان کو گرا کر اس کے سینے پر بیٹھا تھا اور رو رہا تھا۔ پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ابھی یہ نیچے سے اٹھے گا اور مجھے مارے گا۔ یہ ہندو کی بزدلانہ نفسیات ہے تو یہ ٹھیک باجہ بجایا ہے ملی بینڈ نے کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو خطرہ انتہا پسندی سے ہے۔ پہلے تو یہ خطرہ امریکہ اور برطانیہ کو تھا۔ ان کے بقول پوری دنیا کو یعنی اسرائیل اور بھارت کو بھی ہے ان کی دنیا بس یہی ہے۔ ویتنام کیلئے امریکہ نے نجانے کیا بہانہ کیا تھا۔ ان نہتوں بہادروں نے امریکہ کو ذلیل و خوار کیا۔ مگر امریکہ کو نہ شرم آتی ہے نہ غیرت آتی ہے۔ افغانستان پر حملہ اس نے جھوٹ موٹ میں کیا اس کیلئے جنرل حمید گل نے خوب کہا ہے۔ امریکہ اور بھارت ایک ریٹائرڈ جنرل سے ڈرتے ہیں۔ نائن الیون بہانہ تھا۔ افغانستان ٹھکانہ تھا اور پاکستان نشانہ ہے۔ تو ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ ہم سے خطرہ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل کو بھی ہے۔ وہ بھارت کو بھی اسرائیل کی طرح کا ملک بنانے والے ہیں۔ بھارت کو اپنے لئے کچھ سوچنا چاہئے۔ اس کی بربادیوں کے دن قریب آرہے ہیں۔ ملی بینڈ کہتا ہے کہ بھارت خطے کا بڑا جمہوری ملک ہے۔ پاکستان میں 31 برس مارشل لا رہا ہے۔ تو اس مارشل لا کی حمایت کس نے کی۔ سیاسی حکومت تو دو تین سال کے بعد اجاڑ دی گئی اور مارشل لائوں کی سپورٹ دس دس سال تک کی گئی۔ صدر بش صدر مشرف کا دوست ہے۔ بش اور مش نے دنیا کا امن سکون لوٹ لیا ہے۔ اب مشرف کا حامی کون ہے؟ صدر زرداری تو مشرف سے چند قدم آگے امریکہ کی غلامی میں ہے۔ وہ بھارت کے قدموں میں بھی گرا ہوا ہے حدیہ ہے کہ اس توہین آمیز بیان کے فوراً بعد ملی بینڈ پاکستان آیا ہوا ہے!!
اس جنگل وچ ہر آمر لئی منگل اے by Rafeeq Dogar
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ہماری صبح کی چائے کی پیالیوں میں طوفان اُٹھنے ہی لگا تھا کہ حاجی صالح محمد صدیق (مرحوم) رپورٹنگ روم میں داخل ہوئے ’’فکر کی کوئی بات نہیں میں نظامی صاحب کو مبارکباد دے آیا ہوں‘‘ کیسی فکر اور کیسی مبارکباد مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ’’واپڈا کے چیئرمین نے تین کروڑ کا نوٹس بھیجا ہے میں مبارکباد دے آیا ہوں کہ ہمارے لئے اتنا بڑا نوٹس ایک اعزاز ہے‘‘ انہوں نے بتایا اور مسکراتے ہوئے نیوز روم کی طرف واپس چلے گئے۔ واپڈا کے وہ چیئرمین تھے فضل رازق اور ہم نے ان کی کچھ بے مثل خدمات کی تفصیلات شائع کر دی تھیں۔
1977ء کی انتخابی مہم زوروں پر تھی۔ پی این اے کے سیکرٹری جنرل رفیق باجوہ شہرت اور خطابت کی بلندیوں پر تھے ایک رات گئے کچھ لوگ ظہور عالم شہید مرحوم کا سفارشی مراسلہ لے کر آئے کہ رفیق باجوہ کی ذوالفقار علی بھٹو سے اسلام آباد میں خفیہ ملاقات کی خبر چھاپ دو اس مرحلے پر اتنے بڑے عہدیدار کی ذوالفقار علی بھٹو سے خفیہ ملاقات؟ بہت ہی بڑی خبر تھی بہت ہی بڑے سیاسی طوفان کی بنیاد بن سکتی تھی وہ مجھے رپورٹنگ روم سے باہر لے جا کر تفصیلات بتاتے رہے میں نے کہا فلائٹ نمبر اور سیٹ نمبر کا ثبوت لائو اگلے روز وہ ثبوت لے آئے ہم نے خبر چھاپ دی پورے ملک میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ رفیق باجوہ ہائیکورٹ میں ملے۔ آگ بگولہ ہو رہے تھے میں نے کہا اپنا مؤقف لکھ دیں انہوں نے لکھ دیا ہم نے ان کا مؤقف‘ سیٹ اور فلائٹ نمبر بقیہ تفصیلات کے ساتھ شائع کر دئیے۔ پھر جو ہوا تاریخ سیاست کا اہم باب ہے۔ فضل رازق کی خدمات کی فلائٹ کے اصل ثبوت بھی ہم نے محفوظ رکھے تھے کہ تڑپنے پھڑکنے کا مرحلہ تو آنا ہی ہوتا ہے اس کا ثبوت رکھنا لازم ہوتا ہے فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر۔ فضل رازق اپنے نوٹس سمیت واپڈا سے فارغ البال ہو گئے۔ ان کے چھوٹے بھائی جنرل فضل حق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے ڈپٹی اور صوبہ سرحد کے گورنر ہو چکے تھے کہ ایک مرحلہ پر فضل رازق کی خدمات کا معاملہ اٹھنے لگا جنرل فضل حق نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو دھمکی دی ’’ٹھیک ہے ہمارے پاس بھی آپ کی خدمات کا ریکارڈ ہے ہم بھی وہ عام کر دیں گے‘‘ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے جمائی لی اور مل کر خدمت ملک و قوم کرنے پر راضی ہو گئے۔
وردی شاہ کی جمہوریت کے عروج کے دنوں میں ان کی جمہوریت کے ایک بڑے چودھری نے قومی اسمبلی کے فلور پر حزب اختلاف کے ایک بڑے چودھری کی بعض خدمات کا ذکر کرنا چاہا تو اس نے کھڑے ہو کر کہا تھا ’’ٹھیک ہے تم نے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی تو میرے پاس بھی بہت کچھ ہے تمہاری خدمات کے بارے میں‘‘ اس کے بعد باوردی جمہوریت کے پورے دور میں ان دونوں چودھریوں نے کبھی ایک دوسرے کو بدنام کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی ایک دوسری کی دشمن پارٹیوں میں ہونے کے باوجود۔ آج کی حکمران پارٹیاں اگر مل جُل کر ملک اور قوم کی خدمت کر رہی ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ خفیہ ملاقاتیں اور خادمِ جمہوریت کی وارداتیں بھی کوئی نیا حادثہ نہیں۔ چودھری شجاعت حسین قبلۂ خادمانِ جمہوریت روزِ رفتہ ایک ’’میں تو خدمت ہی کروں گا‘‘ قسم کے انٹرویو میں این آر او کی حمایت پر اپنے چوہدریانہ انداز میں قوم سے معافی مانگتے سُنے گئے تھے ویسی ہی معافی جیسی ملا و قاضی 17ویں ترمیم کی حمایت پر اور بھٹو جمہوریت کی ٹوپی والے زردار زرداری نے بلوچستان والوں سے مانگی تھی کچھ عرصہ پہلے۔ بلوچستان میں بھٹو آپریشن کے کسی حوالہ کے بغیر مگر ان سیادت اور قیادت پیشہ ’’میں تو خدمت ہی کروں گا‘‘ والوں کی ان معافیوں سے کوئی اثر پڑ سکتا ہے یا پڑا ہے کبھی ہمارے ملک کو برباد کرنے والوں کی صحت اور صفائی پر۔ ہوا ہے اس سے نظم ریاست پاکستان کبھی درست ؟ آئی ہے کوئی کمی ان خادموں کے ملک اور قوم کو دئیے عذاب لاجواب میں۔ یہ ہمارے محبوب قائدین کرام تو شاعر کی ظالم محبوبہ سے بھی بڑے ظالم ہیں اس شاعر کی محبوبہ سے بڑے ظالم جس نے کہا تھا …ع
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
یہ معافی مانگ بھی لیں تو یہ کبھی جفا سے توبہ نہیں کرتے عوام کا قتل عام جاری رہتا ہے کہ پشیمان ہونا ان کی فطرتِ خادمانہ میں شامل ہی نہیں وہ جو آمریت کی سوکن قسم کی جمہوریت گرج اور برس رہی ہے بہ صورت عذاب لاجواب۔ کی ہے اس نے کوئی آزادانہ خارجہ پالیسی تیار؟ اس کی معصوم پارلیمنٹ نے کی ہے کوئی دہشت گردی کی بربادیوں کو محدود رکھنے کی کبھی کوشش؟ محترمہ جمہوریت اور اس کی ناک کی نتھ پارلیمینٹ بھی ڈیڑھ سال سے اپنے جھمکے ہی لشکاتی اور دکھاتی پھر رہی ہے اور شریف برداران اس نظامِ جمہوریت خوانی کے استحکام کے حلف لیتے پھر رہے ہیں قطر سے براستہ لندن تا دبئی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے عذابوں اور بربادیوں کا سبب ایسا خاموش تعاون پرانی روایت ہے تم جو چاہو کرو ہم نہیں بولتے‘ ہم جو چاہیں کریں تم خاموش رہو۔ ہے کوئی جس کی خدمات عالیہ کے ثبوت موجود نہیں؟ یہ الگ بات ہے کہ کوئی آنکھیں بند رکھے اپنی بدنامی کے خوف سے دوسروں کی نیک نامی کے چہرے سے پردہ نہ سرکائے۔ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو وہ تو ملک میں گوڈے گوڈے پائی جاتی ہے کر لو جو کر سکتے ہو۔ خادم تو خدمت ہی کریں گے۔ کچھ اور آتا بھی تو نہیں انہیں کرنا۔ کوئی نیکی کوئی بھلائی ۔ وہ تو کریں گے اپنا پیشہ۔ ؎
بلھیا آمراں دے گھر بھانڈے مانجئے دب کے
کھائیے پئیے مال بنائیے رج کے
ٹوپی آمر والی پا کے جمہوریت دا ڈھول وجائیے گج کے
اس جنگل وچ ہر آمر لئی منگل اے
Fedration Bechani Hai… by M. Amir Khakwani
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Goth Muhammad Esa…. by Munno Bhai
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Youm-e-Siaah by Tahir Server Mir
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook





