اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ ایک شہر میں ہونے والے عوامی جلسوں کا موازنہ کرنے لگے ہیں۔ ملتان میں وزیراعظم مخدوم گیلانی اور چودھری پرویز الٰہی کے جلسے ہوئے۔ ملتان مخدوم صاحب کا اپنا شہر ہے اور وہ خود وزیراعظم ہیں۔ اس کے باوجود کئی لوگ کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ چودھری پرویز الٰہی کا جلسہ بڑا تھا۔ سکندر بوسن نے اچھا میلہ لگا لیا۔ اس بار پٹواریوں کو کیوں زحمت نہیں دی گئی۔ پارٹی کے جیالوں سے حساب لیا جائے کہ وہ بندوں کی صرف دو تین بسیں ہی لائے اور وہ بھی پوری بھری ہوئی نہ تھیں۔ جن کے پاس حکومت وغیرہ بھی نہیں۔ ان کے اچھے خاصے جلسے ہونا کس بات کی طرف اشارہ ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مخدوم صاحب کو مجبور کیا گیا کہ وہ جلسے میں آئیں۔ اپنے شہر کا فائدہ ہوتا ہے تو نقصان بھی ہوتا ہے۔ مخدوم صاحب کو تو نقصان ہی ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سیاسی ہے اور دوسری غیر سیاسی ہے۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ ملتان مخدوم شاہ محمود قریشی کا بھی شہر ہے؟ شہر تو یہ مخدوم جاوید ہاشمی کا بھی ہے مگر ان کا ڈیرہ ملتان سے تھوڑے فاصلے پر ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ مخدوم ہاشمی نے پنڈی والی نشست چھوڑ دی۔ وہ اپنے شہر کی نشست رکھنا چاہتے تھے۔ پنڈی والی سیٹ پر شیخ رشید کو ہرانے کیلئے شاید نوازشریف کے پاس ایک بہادر‘ سچے اور بہت مقبول آدمی مخدوم جاوید ہاشمی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ یہاں صرف نوازشریف کے نام پر ووٹ ملنے کی اتنی امید نہ تھی ورنہ شہباز شریف تو کہتے ہیں کہ اپنے علاقے سے بھی جیتنے والے ہمارے ٹکٹ پر جیتے ہیں یہ اچھی بات کہ جمہوریت میں جماعتی وابستگی بہت ضروری ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی والے آج بھی کہتے ہیں کہ ہمیں تو بھٹو کی وجہ سے ووٹ ملے۔ بینظیر بھٹو کی قربانی ہماری کامیابی کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا عنوان قائم رہنا چاہئے۔ اگر یہ بات تھی تو شیخ رشید کے مقابلے میں چودھری نثار کو کھڑا کر کے دیکھ لیا جاتا۔ اس پر بے پناہ نوازشات ہیں۔ یہ بندہ نوازی کیوں شامل نہیں کی گئی۔ حنیف عباسی تو خیر پنڈی کے تھے۔ پنڈی میں ان کی بہت عزت ہے۔ چودھری نثار واہ کینٹ سے ایم این اے ہوئے ہیں۔ یہاں وہ ’’آہ کینٹ‘‘ بن جاتے۔ ان کا تعلق کینٹ سے بڑا گہرا ہے۔ اسی لئے انہیں پسند کیا جاتا ہے۔ سینئر وزیر بھی انہیں بنایا جاتا ہے اور لیڈر آف اپوزیشن بھی انہیں بنایا جاتا ہے۔ ویسے بات ایک ہی ہے۔ یہ جو مسلم لیگ (ن) پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام آ رہا ہے تو اس کی حقیقت اور حکایت کیا ہے کہ چودھری نثار پیپلز پارٹی پر بہت تیز اور معنی خیز حد تک تنقید کرتے ہیں۔
چودھری نثار نے نوازشریف کو کہا تھا کہ جاوید ہاشمی پنڈی والی نشست اپنے پاس رکھیں جبکہ وہ آبائی حلقے مخدوم رشید سے ہارنے کے بعد اپنے شہر ملتان کے لوگوں کے ساتھ بے وفائی کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ یہ صورتحال چودھری نثار کیلئے بہت سازگار تھی۔ اس نے نوازشریف سے کہا کہ آپ لکھ کر جاوید ہاشمی کو ہدایت کریں۔ اس صورت میں بھی جاوید ہاشمی نے انکار کر دیا۔ جرأت انکار جرأت اظہار سے بڑی ہے۔ ان دونوں سے چودھری نثار واقف نہیں ہیں۔ وہ جس چیز سے واقف ہے۔ اس کے علاوہ اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ بات ملتان میں جلسوں کی ہو رہی تھی۔ ملتان میں ایک جلسہ میاں شہباز شریف کا بھی ہوا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ جلسہ کیسا تھا۔ مگر اس کی دو اہمیتیں بہرحال بہت ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور خطاب کے دوران شہباز شریف نے فرط جذبات میں مکا لہرایا اور سٹیج پر سے کئی مائیک نیچے جا گرے۔ صدر جنرل مشرف تو دو مکے لہرایا کرتا تھا اور کبھی سٹیج سے مائیک نہ گرا تھا۔ ثابت ہوا کہ سیاستدانوں کا مکا جرنیل کے مکے سے طاقتور ہوتا ہے۔ مگر سیاستدان یہ مکے بازی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے مکا بھارت کو دکھایا تھا۔ ہم پاکستان کو دکھاتے ہیں۔ سنا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ بیس پچیس منٹ سے زیادہ کا نہ تھا۔ جس میں مخدوم صاحب کی تقریر صرف چار پانچ منٹ کی تھی۔ اتنے قلیل وقت کیلئے جلسے پر کروڑوں روپے لگا دیئے گئے۔ مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ وزیراعظم ہماری دعوت سے انکار نہیں کر سکتا۔ وہ لوگ یعنی افسران جو ہمارے کام نہیں کرتے‘ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور آئندہ کیلئے خبردار ہو جائیں۔ احتیاطاً اس دوران مخدوم صاحب کے ساتھ تصویر بھی بنوا لی گئی اور تمام ٹی وی چینلز کے لوگوں سے کہہ دیا کہ اس سنہری موقعے کی وڈیو ہمیں دے کر منہ مانگے دام وصول کئے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ کتنے بے وقوف ہیں جو اس طرح ’’وزیر اعظموں اور وزیر اعلاؤں‘‘ کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔ اس تصویر سے اپنی تقدیر سنوارنے کے جو معاملات وابستہ ہیں۔ اس سے ہمارے جیسے بے عمل بدقسمت اور ناتجربہ کار واقف ہی نہیں۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ جتنی بار وزیراعظم مخدوم گیلانی لاہور آئے ہیں۔ بشیر ریاض کے بقول وہی چند ایک لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ اس طرح پارٹی کا تاثر اچھا نہیں پڑتا کہ پارٹی میں بھی یہی چند جیالے ہیں۔ ہمارے بھائی منیر احمد خان تو جیسے وزیراعظم کے ساتھ نتھی ہوئے ہیں۔ جیسے خان صاحب کے بغیر بے چارے وزیراعظم کو ڈر لگتا ہے۔ وزیراعظم نے خود رانا آفتاب احمد کو آگے بلایا۔
کسی نے چودھری پرویز الٰہی کو ملتان کے جلسے کی مبارکباد دی تو انہوں نے کہا کہ گجرات میں زمیندارہ کالج میں داخل ہو کے پولیس نے جس وحشیانہ اور بزدلانہ انداز میں تشدد کیا ہے۔ اس کا افسوس ہے۔ طلبہ کے ساتھ اساتذہ کو مارا پیٹا اور طالبات کے کمروں میں گھس گئے۔ یہ پولیس ہے جس کے ذریعے شہباز شریف گڈ گورننس کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ڈی آئی جی چیمہ صاحب کی پولیس ہے جس نے دہشت گردوں سے بڑے ڈاکو ننھو گورایہ کو راستے سے ہٹوایا۔ تو کیا پولیس ڈاکوؤں کے تعاقب میں کالج کے اندر گھس گئی تھی۔ ڈی ایس پی کو معطل کرنے سے کیا ہو گا۔ اصل ذمہ دار تو ڈی پی او گجرات ہے۔ جب سے وہ ایس پی سے ڈی پی او بنے ہیں بے لگام ہو گئے ہیں۔ لگام اور وردی میں فرق نہیں رہا۔