لیجئے‘ عدنان سمیع خان نے حالیہ بیوی کو بھی پھینٹی لگا کر اپنی سابقہ ازدواجی روایات کو دوام بخش دیا ہے۔ ہمیں اس بات پر زیادہ حیرت نہیں ہوتی کہ یہ گنہگار حد تک موٹا شخص اپنی ہر خوش شکل زوجہ کی لتریشن کیوں کرتا ہے۔ البتہ ہمیں حیرانی ہوتی ہے تو اس بات پر کہ ان خوشنما خواتین کی عقل کیا اس وقت گھاس چرنے چلی جاتی ہے جب یہ اس ہیبت ناک حجم کے حامل شخص کے ساتھ شادی کا ارتکاب کرتی ہیں۔
میڈیا کے مطابق اس انتہائی موٹے گوئیے نے اپنی انتہائی سمارٹ اور خوبصورت بیوی کو تھپڑوں‘ لاتوں اور گھونسوں سے اس بری طرح ’’سرفراز‘‘ کیا کہ وہ بیچاری چیختی چلاتی‘ روتی ہکلاتی تھانے جا پہنچی۔ اس نے اپنے شکایتی بیان میں بتایا ہے کہ اس کا شوہر نشے کا عادی اور نیم پاگل ہے۔ تھانیدار نے اسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مشورہ تو دیا ہے مگر یہ بھی یقیناً پوچھا ہو گا کہ بی بی جب تم اس پونے پانچ من کی مصیبت کو گلے ڈال رہی تھیں‘ تو کیا اس وقت تمہیں عارضہ چشم لاحق تھا یا تم خود اذیتی کے مرض میں مبتلا تھیں۔ یہ بات اتنے وثوق کے ساتھ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تقریباً اسی قسم کا سوال ہم نے آج سے تقریباً آٹھ سال ادھر زیبا بختیار سے پوچھا تھا۔ زیبا کو عدنان سمیع خان کی پہلی بیوی ہونے کا ’’شرف‘‘ حاصل ہے۔ ہم اور ہمارے چند صاحب نظر دوست (ہمارے ایک دو دوست اس قماش کے بھی موجود ہیں) زیبا کا شمار ان انتہائی خوش نما خواتین میں کرتے ہیں جو بہت کچھ (یعنی انتہائی تعلیم یافتہ‘ امیر اور خوبصورت) ہوتے ہوئے بھی بلا کی بدنصیب واقع ہوئی ہیں۔ ہمارے یہی دوست ایک زمانے میں انبساط خان کو بھی اسی فہرست میں شامل کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے مگر پھر اچانک اس خاتون نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر ق لیگ کو اپنا لیا اور وزارت کی آس لگا لی‘ مگر چودھری پرویز الہٰی چونکہ خوش شکل خواتین کی سیاست میں دلچسپی کے سخت خلاف ہیں‘ اس لئے انہوں نے آخری وقت تک جس طرح کشمالہ طارق کو ترسائے رکھا‘ اسی طرح انبساط خان کو بھی وزارتی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھگائے رکھا۔ نتیجتاً بیچاری انبساط فرط غم میں موٹی ہونے لگی اور یوں ہمارے دوستوں نے اسے مذکورہ فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
زیبا بختیار کے ساتھ ہم ایک مختصر مدت کے پراجیکٹ پر کام کرنے کی غرض سے کراچی گئے تو ہمارے اندر تحریک یہی تھی کہ اس سے عدنان سمیع خان والے ازدواجی حادثے کے جملہ اغراض و مقاصد معلوم کریں گے۔ چنانچہ ہم نے چھٹتے ہی یہ سوال داغ دیا۔ اس وقت یہ بی بی اداکار سعود کے ساتھ اپنی کوئی عجیب الخلقت سی فلم بنانے میں بری طرح مصروف تھیں۔ ہم سے فلم بارے رائے طلب کی گئی اور ہم نے عرض کیا کہ جس حد تک ہم کہانی اور دیگر معاملات کو سمجھ پائے ہیں‘ یہ فلم باکس آفس پر صرف بارہ گھنٹے ہی نکال پائے گی۔ ہماری اس بدشگونی کی سزا یہ رہی کہ موصوفہ کے ساتھ وہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ بہرحال‘ ہمارا اندازہ کافی حد تک غلط ثابت ہوا کیونکہ فلم نے باکس آفس میں بارہ گھنٹے تو درکنار شائد بارہ منٹ بھی نہیں نکالے اور ایک دردناک انجام سے دوچار ہوئی۔ زیبا اس کے بعد فلموں سے غالباً ہمیشہ کے لئے کنارہ کش ہو گئی اور ہماری اطلاع کے مطابق اس نے اپنی زندگی میں روحانیت کے رنگ بھر لئے ہیں اور علم و فضل کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ وہ علامہ جاوید احمد غامدی کے ادارے المورد سے اپنی علمی پیاس بجھاتی ہے۔ چنانچہ ہم نے ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر اس اطلاع پر یقین کر لیا کہ وہ جتنی خوش و خرم آج ہے‘ اتنی شاید پہلے کبھی نہ تھی۔
بالی وڈ کی تازہ اطلاعات کے مطابق ایک تیسری خاتون جو شومئی قسمت سے عدنان سمیع کے ساتھ ’’راہ و رسم‘‘ بڑھا چکی تھی‘ اس واقعے کے بعد کافی پرتشویش نظر آنے لگی ہے۔ اغلب یہی ہے کہ حالیہ بیگم اب مزید زدوکوب ہونا برداشت نہ کرے اور بذریعہ عدالت طلاق حاصل کر لے۔ تاہم اس بات کا امکان بھی خاصا روشن ہے کہ مذکورہ تیسری خاتون بھی مستقبل کے فیصلوں پر نظرثانی کر کے اپنے آپ کو عبرتناک انجام سے بچا لے کہ اسے اب سمجھ لینا چاہئے کہ یہ حرکت اس حیرت انگیز حد تک عجیب الخلقت فنکار کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ ہمارے یہی صاحب نظر دوست چودھری پرویز الہٰی کو بھی یہی مشورہ دینا چاہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرنے سے اجتناب ہی برتیں تو بہتر ہے کہ آپ کو پرویز مشرف اور نواز لیگ دونوں کے انجام سے ڈرنا چاہئے۔ زرداری صاحب مشرف سے ملنے والے این آر او کے بل پر آج کہاں سے کہاں جا پہنچے اور بیچارا پرویز مشرف آج امریکہ میں غزلیں گا گا کر زندگی کے دن پورے کرتا پھر رہا ہے۔ وہاں پر موجود پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں پرانے جوتے لئے اس کم نصیب کی تلاش میں ہے۔
میاں نواز شریف نہ تو جج بحال کروا سکے اور نہ ہی ایوان صدر کو زرداری کی دست برد سے بچا سکے۔ سترھویں ترمیم ان کے دل میں آج بھی کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے جبکہ نااہلی کی تلوار دونوں بھائیوں کے سر پر الگ سے لٹک رہی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ زرداری صاحب پنجاب کو نواز لیگ کے ہاتھ سے چھین لیں گے اور یہ سانحہ بہت جلد رونما ہو جائے گا۔ چنانچہ ہمارے فکرمند دوستوں کا چودھری پرویز الہٰی کے لئے متفکر ہونا بنتا ضرور ہے کیونکہ عدنان سمیع خان اپنی حرکتوں سے کبھی باز نہیں آئے گا!!
بالآخر عدنان سمیع کا انجام کیا ہوتا ہے اس سے ہمیں غرض نہیں!