Web Hosting
Web Hosting Instructions
Recommend

بھارتی جنگی عزائم اور ہماری موثر جوابی تیاریاں

2 February, 2009
(0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook  |  

بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجہ ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت برسراقتدارآگئی تو وہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو تباہ کرنے کیلئے سرجیکل سٹرائیکس کرے گی انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ فوج پاکستان پر حملے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور حملے کیلئے سیاسی قیادت کے اشارے کی منتظر ہے۔ معاملات مذاکرات سے طے نہ ہوئے تو جنگ آخری آپشن ہے۔ اس وقت 800 مجاہدین کشمیر میں داخل ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ کے دبائو اور پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں میں ملوث نہ ہونے کے درست موقف کی وجہ سے کانگریس حکومت اگرچہ پاکستان کی حکومت اور اس کے کسی ادارے کو بری الذمہ قرار دے چکی ہے اور اب اس نے مطلوبہ افراد حوالے کرنے کا مطالبہ بھی چھوڑ دیا ہے لیکن پاکستان کے خلاف الزام تراشی جاری ہے اور گزشتہ روز وزیرخارجہ پرناب مکرجی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان نے دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سامنے لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا جس کے بعد ہم دیگر آپشنز پر غور کرسکتے ہیں۔ پرناب مکرجی نے تو وزیراعظم من موہن سنگھ کی علالت کاذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دیا کیونکہ ان کے بقول پاکستان کی طرف سے عدم تعاون کی بنا پر ڈاکٹر من موہن کی ٹینشن میں اضافہ ہوا اور نوبت بائی پاس تک پہنچی۔ شکر ہے بھگوان کی دیا سے وہ زندہ ہیں ورنہ انکی مرتیو بھی ہمارے کھاتے میں پڑتی۔ بی جے پی ماضی میں دو بار اقتدار میں آچکی ہے اور آئندہ الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور مہم چلا رہی ہے جس میں پاکستان مخالفت کا عنصر سب سے نمایاں ہے بی جے پی موجودہ کانگریسی حکومت پر بھی دبائو بڑھا رہی ہے کہ وہ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کرکے ممبئی حملوں کا بدلہ لے جبکہ بھارتی آرمی چیف دیپک کپور کے بیان سے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کی سوچ بھی اس سے مختلف نہیں۔ آخر اس نے بھی الیکشن لڑنا ہے۔
بھارت پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا کم ازکم اسے ایک خطے کے دیگر چھوٹے ممالک کی طرح اپنی زیردست ریاست بنانے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور اس نے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کو پروپیگنڈا مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے پاکستان میں میریٹ ہوٹل کا بم دھماکہ کہیں زیادہ شدید‘ سنگین اور افسوس ناک تھا جس میں نہ صرف ہوٹل تباہ ہوا بلکہ درجنوں افراد جاں بحق ہوئے مگر پاکستان نے اسے بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا عالمی برادری نے بھی اس واقعہ پر ہمدردی کا وہ مظاہرہ نہیں کیا جو ممبئی حملوں کے حوالے سے دیکھنے کو ملا حالانکہ واقعہ کے فوراً بعد یہ اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ بھارت اس میں ملوث ہے اور دھماکہ میں استعمال ہونے والا ٹرک ایک ملک کے سفارت خانے سے نکلا‘ معلوم نہیں حکومت پاکستان نے کیوں اور کس کے دبائو میں پر چپ سادھ لی اور اس نے ممبئی حملوں کے بعد معذرت خواہانہ لب و لہجہ اختیار کرکے بھارت کو سر پر چڑھا لیا اب بھی ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ممبئی حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر پاک بھارت کشیدگی کم ہوگی اور جامع مذاکرات کا عمل شروع ہو جائیگا۔
گزشتہ روز لندن میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن نے یہ بیان دیا کہ ہماری تحقیقات میں کوئی پاکستانی شہری ملوث نہیں پایا گیا تو وزیراعظم نے اس بیان کو جلد بازی قرار دیا جبکہ بھارتی جنتا پارٹی کے سربراہ کے بیان کو محض انتخابی مہم کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی دھمکی تو ہر لحاظ سے سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے کہ فوج پاکستان پر حملے کیلئے تیار ہے اور سیاسی حکومت کے اشارے پر جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ اگر بھارت جنگ سے بچنے کا خواہش مند ہوتا تو فوج کو مکمل تیاری کی ضرورت نہیں تھی اور اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود کہ نہ تو جنگ سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ ایک ایٹمی قوت سے جنگ اتنی آسان ہے جنگ کی تیاری کا مطلب ہے کہ بھارت کے عزائم شرپسندانہ ہیں اور وہ موقع ملتے ہی مکمل جنگ نہ سہی سرجیکل سٹرائیکس کرسکتا ہے لہٰذا کسی قسم کی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں اور امریکہ و برطانیہ کی یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے کی بھی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ماضی میں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں بھی انہی دونوں ممالک کی یقین دہانیوں کی وجہ سے ہم نے نقصان اٹھایا۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ عالمی سطح پر سفارت کاری کو مزید تیز کیا جائے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی اداروں اور برادری کو فراہم کئے جائیں۔ دو روز قبل لاہور میں جو بھارتی جاسوس گرفتار ہوئے ہیں انہیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے لا کر بھارتی سازشوں کا پردہ چاک کیا جائے اورقومی اتحاد و یکجہتی کیلئے تمام اقدامات کرکے جنگی تیاریوں پر توجہ مرکو ز کی جائے کیونکہ بھارت کسی بھی وقت شرارت کرسکتا ہے اور ہمیں بھی تیاری مکمل رکھنی چاہئے تاکہ بھارت کو منہ توڑجواب دینے میں آسانی ہو۔ حکومت اپنی صفوں میں بھی اتحاد پیداکرے اور انتشار و اختلاف کی جو کیفیت نظر آتی ہے اس پر قابو پائے جبکہ قوم کو بھی دفاع وطن کیلئے تیار کیا جائے بھارت میں وار ہسٹیریا کم نہیںہوا اس لئے ہمیں بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مضبوط اور موثر دفاعی تیاریاں ہی بھارت کو حملے سے باز رکھ سکتی ہیں۔ بی جے پی کے سربراہ راجہ ناتھ سنگھ اور بھارتی آرمی چیف دیپک کپور کے تازہ بیانات کو سیاسی اور عسکری قیادت کسی صورت نظر انداز نہ کرے۔
یہ وقت محاذ آرائی کا نہیں
بھارت کے عزائم کے پیش نظر ملک میں سیاسی استحکام اور اتحاد و یکجہتی از بس ضروری ہے اور ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکمران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین ڈیڈ لاک توڑنے اور معاملات کے سیاسی حل کے لئے بعض غیر سیاسی حلقے سرگرم ہو گئے ہیں جو دونوں جماعتوں کے ذمہ داران کو باور کرا رہے ہیں کہ اگر اس مرحلہ پر سیاسی قیادت نے ذمہ داری کا ثبوت نہ دیا اور اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہ کی تو اس کے مضر اثرات مرکزی اور پنجاب حکومت پر پڑ سکتے ہیں جبکہ یہ صورتحال جمہوری سسٹم کے علاوہ ملک کے لئے بھی اچھی نہیں ہو گی۔ یہ غیر سیاسی حلقے دونوں جماعتوں کے قائدین کو اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں بالواسطہ مذاکراتی عمل شروع کر لیا جائے اور بعد ازاں طے شدہ امور پر دونوں جماعتوں کے ذمہ داران فیصلوں کی توثیق کر دیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کی جرنیلی آمریت کے دوران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جس اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور آزاد و خود مختار عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی تحریک کا ساتھ دیا اس کی بنیاد پر ہی قوم نے 18 فروری کے انتخابات میں انہیں قومی مفادات کے منافی مشرف کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا مینڈیٹ دیا جس کا تقاضہ یہی تھا کہ بہترین قومی مفادات اور جمہوریت کے استحکام کی خاطر قومی سیاسی جماعتوں میں پیدا ہونے والے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھا جاتا اور اس مقصد کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور طے کئے گئے معاہدوں کی پاسداری کی جاتی مگر حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کے طرزعمل اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اصولی مؤقف برقرار رکھنے پر اصرار نے حکومتی اتحاد میں ان دونوں جماعتوں کے مابین فاصلوں کی خلیج کھڑی کردی جو اب بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے کے ساتھ عدم برداشت والی محاذ آرائی تک جا پہنچی ہے جس سے ایک تو سیاسی جمہوری استحکام کی فضا نہیں بن پائی اور دوسرے ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تاک میں بیٹھے ہمارے مکار دشمن بھارت کو بھی ہماری سالمیت پر وار کرنے کے لئے شہہ مل رہی ہے۔ یقیناً اسی پس منظر میں ملک کی مسلح افواج کے سربراہوں نے اپنے اجلاس میں ملک کی سلامتی کے حوالے سے قومی، علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کی موجودہ نازک صورتحال اپنے قومی سیاسی قائدین بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں سے بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کا پہلے والا جذبہ پیدا کریں اور وسعت نظری اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے اصولی مؤّقف اور مجبوریوں سے بالاتر ہو کر ملکی و قومی مفاد کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ افہام و تفہیم سے کام لیں اور باہمی محاذ آرائی کو انتہا تک پہنچا کر وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام اور ملک کے لئے خطرات پیدا نہ کریں۔ اگر قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمران پیپلز پارٹی معزول ججوں کی بحالی، عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے طے پانے والے میثاق جمہوریت معاہدہ بھوربن اور گذشتہ سال 5 اگست کے معاہدہ اسلام آباد کو عملی جامہ پہنا دے تو سیاسی محاذ آرائی کی صورتحال ازخود ختم ہو جائے گی جبکہ میاں نوازشریف کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے سخت گیر مؤّقف میں نرمی پیدا کریں۔ شرائط اور مطالبات میں مثبت پیش رفت کی گنجائش نکالیں تاکہ تاک میں بیٹھے ہمارے شاطر دشمن کو ہماری جانب سے قومی اتحاد و یکجہتی کا پیغام جا سکے۔ اگر ہماری سیاسی قیادتوں نے اب بھی فہم و ادراک سے کام نہ لیا تو وہ سسٹم اور ملک کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری سے خود کو نہیں بچا سکیں گے۔ 
سٹیٹ بنک کی نئی مانیٹری پالیسی
سٹیٹ بنک نے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی کیلئے شرح سود 15 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں گورنر سٹیٹ بنک سلیم رضا نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں افراط زر کو معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ معیشت پر افراط زر کا دبائو ابھی تک برقرار ہے۔ ان کے بقول گزشتہ تین چار ماہ کے دوران مہنگائی کے تمام اعشاریوں میں کمی آئی ہے تاہم مہنگائی میں اضافہ کرنے والے عوامل اب بھی موجود ہیں۔
تاجر برادری اور اقتصادی ماہرین نے سٹیٹ بنک کی جاری کردہ اس نئی مانیٹری پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ملک میں بیروزگاری بڑھے گی۔ سٹیٹ بنک کی پالیسی کے تحت اس وقت قومی بنکوں کی جانب سے اپنے کھاتہ داروں کیلئے جو حوصلہ شکن حالات پیدا کئے جا رہے ہیں اس کے پیش نظر لوگوں میں مختلف بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے اور بنک اکائونٹس میں اپنی رقوم منتقل کرنے کے رحجان میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ اگر سٹیٹ بنک کی یہی پالیسی برقرار رکھی گئی تو ملک میں ایک نیا مالیاتی بحران پیدا ہوسکتا ہے جبکہ اس وقت قومی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا موقع دینے کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاروں‘ تاجروں‘ کسانوں کیلئے بنکوں کی جانب سے مختلف سہولتوں کی فراہمی بشمول فراہم کردہ قرضوں پر شرح سود میں کمی کے اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔ 
یہ طرفہ تماشا ہے کہ قومی بنک اپنے کھاتہ داروں سے تو تمام سہولتیں واپس لے رہے ہیں۔ چیک بک تک کے حصول کیلئے انہیں بنکوں کے ہیڈ آفس کراچی کا مرہون منت بنا رہے ہیں‘ ان کے بنک اکائونٹس پر منافع اور سود کی شرح میںمسلسل کمی کر رہے ہیں جبکہ اپنے فراہم کردہ قرضوں کی شرح سود میں اضافہ در اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بنکوں کے کھاتہ داروں اور بنکوں کے قرض پر سرمایہ کاری کرنے والے کاروباری طبقات دونوں کیلئے حوصلہ شکن ہے جس سے قومی معیشت میں ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ جبکہ سٹیٹ بنک کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ کرنے والے عوامل اب بھی موجود ہیں۔
اندریں حالات سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی قومی معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے اور افراط زرپر قابو پا کر اقتصادی ترقی کا پہیہ رواں کیا جاسکے۔


Categories : Other,Urdu Columnists Tags :

Comments

No comments yet.


Leave a comment

(required)

(required)


*
To prove that you're not a bot, enter this code
Anti-Spam Image